جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

خون سے سنے ہاتھ! 

۱۹۸۴ کے سکھ مخالف فسادات، سجن کمار کی عمر قید اور کانگریس کے جرائم!
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
راہل گاندھی اورنریندرمودی میں زمین آسمان کافرق ہے!
مثلاًمودی وزیراعظم ہیں اورراہل گاندھی وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل….. دونوں کی عمروں میں بھی تقریباً دوہائیوں کافرق ہے۔لیکن ایک بات دونوں میں مشترک ہے،دونوں ہی اپنی خامیوں،غلطیو ںاورکوتاہیوں کو نہیں مانتے اورنہ ہی یہ ماننے کو تیارہیں کہ ان کی پارٹیاں……کانگریس اوربی جے پی….. اوران کے ورکر وقائدین کسی طرح کی غیرآئینی ،غیر قانونی یا غیرجمہور ی حرکتیں کرسکتے ہیں۔اسی لیے جب بھی 1984ء میں ہوئے سکھوں کے قتل عام کی با ت چلتی ہے راہل گاندھی اوران کی پارٹی یہ ثابت کرنےکی پوری کوشش کرتے ہیں کہ سکھوں کےقتل عام میں کوئی کانگریسی شامل نہیں تھا۔اورجب بات2002ءکے گجرات مسلم کش فسادات کی ہوتی ہے توساری بی جے پی بلکہ ساراسنگھ پریوار اس میں وزیر اعظم نریندرمودی اوربی جے پی کے دیگر لیڈروں کے ملوث ہونے کی بات نہیں مانتا۔یہ وہ بات کہہ جاتے ہیں جو’حقیقت ‘سے اتنی ہی دور ہوتی ہےجس قدرکہ چاند،زمین سے۔راہل گاندھی کی مثال لے لیں‘ کچھ عرصہ قبل لندن کادورہ کرتے ہوئے ان کی زبان سے نکلاتھا’’آپ لوگوں کاکہناہے کہ کانگریس سکھ مخالف فسادات میں ملوث تھی ،میں یہ بات نہیں مانتا۔‘‘راہل گاندھی کا حقائق سے آنکھیں پھیرلینا شرم ناک بھی ہے اورافسوسناک بھی۔’دی وائر‘کے ایڈیٹر سدھارتھ وردھاراجن نے راہل گاندھی کی اس کوشش کو،جسے ہم’حقیقت سے آنکھیں پھیر لینا ،قرار دیتے ہیں ، ’مایوس کن‘کہاہے۔انہوں نے راہل گاندھی کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ 1984ءکے سچ کو قبول کرنے کی ہمت دکھائیں،لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہاہےکہ انہیں لگتانہیں ہے کہ راہل گاندھی سچ کو قبول کرنے کی ہمت کرسکیں گے۔
پرراہل گاندھی مانیں یا نہ مانیں یہ بہرحال سچ ہے کہ 1984ءمیں سکھوں کے قتل عام میں کانگریسی ملوث تھے۔اوراب کانگریس کے ایک انتہائی سینئرلیڈرسجن کمارکو دہلی ہائی کورٹ سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث ہونے کے جرم میں عمرقیدکی سزا سنائے جانے کے بعدتوگویا قانون نے اس’سچ‘کی تصدیق یاتوثیق کردی ہے جسے نہ راہل گاندھی ماننے کو تیا رہیں اورنہ ہی کانگریس پارٹی اورکانگریس کے لیڈر ان۔سجن کمار1984سے قانون کی گرفت سےدورتھے لیکن قانون نے ان پر اس وقت گرفت کی جب وہ عمر کی ۸۴ویں منزل میں ہیں۔۳۴سال قبل 1984ءمیں وہ چالیس برس کے تھے…..جب اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کوامرتسرکے گولڈن ٹمپل پر فوج کشی اورجرنل سنگھ بھنڈران والا کی سرکوبی سے ناراض ان ہی کے دوسکھ محافظوں نے گولیوں سے بھون دیاتھا تب دہلی میں ’سکھ مخالف فسادات‘شروع ہوئے تھے۔وہ 31؍اکتوبر1984ءکادن تھا۔فسادات صرف دہلی تک ہی محدودنہیں تھے سارے ملک میں پھیل گئے تھے اورسرکاری اعداد وشمار کے مطابق ان میں تین ہزارکے قریب سکھ مارے گئے تھے۔اتنی بڑی تعداد میں سکھوں کے مارے جانے کی وجہ سے اسے’سکھوں کاقتل عام ‘بھی کہا جاتاہے۔فسادات کے دوران‘ جو پورے چارروز تک نہیں تھمے‘سجن کمار دہلی کےراج نگرکے علاقے میں ایک مشتعل ہجوم کی قیادت کرتے ہوئے نظرآئے تھے۔سجن کمارہجوم کواشتعال دلا رہے تھے ،وہ کہہ رہے تھے ’سکھوںکومارڈالواورجو ہندوانہیں پناہ دے اسے بھی مارڈالو۔‘اس سارے معاملے کی چشم دید گواہ جگدیش کورآج بھی زند ہ ہیں۔کورکی گواہی پرسجن کمارکوسزائے عمرقیدملی ہے۔کورنے عدالت کو جو بیان دیا ہے وہ 2002ءکے گجرات کے مسلم کش فسادات کی کسی بھی متاثرہ اورمظلومہ کابیان ہو سکتا ہے۔کورکے مطابق وہ 2؍نومبر1984ءکی رات ۹بجے کاوقت تھا جب وہ پولس چوکی فریاد لے کر پہنچی تھیں،تب انہوں نے سجن کمار کو صاف لفظوں میں مشتعل ہجوم کو یہ ہدایت دیتے ہوئے سناتھاکہ سکھوں اورانہیں پناہ دینے والے ہندوؤں کوچھوڑنا نہیں‘دونوں ہی کو ماردینا ۔اسی روز دوپہر کے دوبجے کے قریب ایک مسلح مشتعل ہجوم جگدیش کو ر کے گھر میں داخل ہواتھا،جس نے پہلے توکورکے بیٹے گرپریت سنگھ کوپھر شوہر کیہر سنگھ کو دھردبوچا تھا،گرپریت زخمی حالت میں کچھ دورتک بھاگا لیکن اس پرقابوپا لیاگیا اوراسے زند ہ جلادیاگیا،کورکے شوہر کیہر سنگھ سرپر شدید زخموں کی وجہ سے جانبر نہیں ہوسکے،جگدیش کور کے تین کزن بھی فسادیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔جگدیش کورکی نظروں کے سامنے بھرا پُرا خاندان دیکھتے ہی دیکھتے صا ف ہوگیا۔جگدیش کورکاعدالت میں کہا گیا یہ جملہ 2002ءکے گجرات کے مسلم کش فسادات کے کسی بھی مظلوم کا ہو سکتا ہے کہ ’’جب چوکی انچارج نے مشتعل بھیڑسے دریافت کیاکہ کتنے مرغے بھون دئیے،تومجھے لگا جیسے کہ انسانیت پر سے میرا بھروسہ اٹھ گیا ہے۔‘‘گواہی صرف جگدیش کورہی کی نہیں تھی جس نے سجن کمارکو’ملزم‘سے’مجرم‘میں تبدیل کیا‘نرپریت کو ر بھی گواہ کے کٹہرے میں کھڑی تھی۔یکم نومبر1984ءکو صبح کے ساڑھے پانچ بجے نرپریت کور نے ایک مشتعل ہجوم کو گردوارے پرحملہ کرتے ہوئے دیکھا‘جس نے اس کے والد نرمل سنگھ کو‘جو گرودوارہ کے صدرتھے،پکڑا‘ایشورشرابی نے نرمل سنگھ پرمٹی کاتیل انڈیلا،کوشک نامی ایک پولس اہلکارنے کشن کھوکھرنامی شخص کو ماچس کی ڈبیہ تھمائی جس نےنرمل سنگھ کو شعلوں کے حوالے کردیا۔نرپریت سنگھ نے بتایاکہ والد خودکو بچانے کے لیے قریبی نالے میں کودگئے لیکن بھیڑنے انہیں واپس کھینچ لیا اورپھر سے آگ کے حوالے کردیا۔ایک تیسرا گواہ بھی تھا جگیشرسنگھ۔یکم نومبرکو شب میں دس اورگیارہ بجے کے درمیان ،شیومندرمارگ پر‘سنگھ کی گلی میں ایک گاڑی آکر رکی جس میں سے کوئی چالیس افراد اترے،رکن پارلیمنٹ سجن کمار اپنی کارسے آئے تھے،وہ بھی اترے اوربھیڑ سے دریافت کیاکہ کیاکام کرلیا؟بھیڑنے یہ کہتے ہوئے مجبوری کااظہار کیاکہ ہندوؤں نے سکھوں کو پناہ دے رکھی ہے‘تب جگیشرسنگھ نے سجن کمارکوکہتے سنا کہ ان ہندوؤں کو مارکر ان کے بھی گھر جلادو….جگیشرسنگھ کی قسمت کہ وہ بچ نکلا‘ اس نے بال کٹوا رکھے تھے اوروہ سکھوں کی طرح پگڑی نہیں پہنتاتھا لیکن ا س کے بھائیوں کی تقدیر میں موت لکھی تھی‘اس کی نظروں کے سامنے ا س کے تین بھائی نریندرپال سنگھ،راگھویندرسنگھ اورکلدیپ سنگھ تہہ تیغ کردئیے گئے۔بالکل اسی طرح جیسے گجرات میں ماؤں اوربہنوں کے سامنے ہجوم نے بھائیوں،بیٹوں اوربزرگوں کو قتل کیاتھا۔
کانگریس 1984ءکے سکھ مخالف فسادات میں گلے گلے تک دھنسی ہوئی ہے۔آنجہانی وزیر اعظم راجیوگاندھی نے اپنی والدہ کی موت کے بعدسکھوں کے قتل عام پر جن لفظوں میں ردّ عمل کااظہارکیاتھا‘وہ کبھی فراموش نہیں کیے جاسکتے۔انہوں نے کہاتھا’’جب ایک بڑا پیڑگرتا ہےتوزمین لرز اٹھتی ہے۔‘‘راجیوگاندھی کایہ متنازعہ جملہ آج بھی مظلوم سکھوں کے کانوں میں گونجتاہوگا۔اسے سکھوں کے قتل عام کوجائز ٹہرانے اورکانگریسیوںکو‘اندرا گاندھی کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اکسانے کے سوا اورکیاکہاجاسکتاہے…..اوراگر1984ء کے واقعات پر نظرڈالی جائے توکانگریسیوں کی ایک لمبی فہرست‘تقریباًاتنی ہی لمبی جتنی کہ گجرات کے’سیاسی فسادیوں‘کی ہے،دیکھی جاسکتی ہے۔فہرست میں ایچ کے ایل بھگت(اب آنجہانی)،دھرم داس شاستری(آنجہانی)،برہم یادو،جگدیش ٹیٹلراورسجن کمارسمیت متعددنام ہیں۔1984ء کے’سکھ مخالف تشدد‘کو’فسادات‘کانام دنیا حقیقت سے منہ چراناہے،یہ’قتل عام ‘ہی تھا۔اس وقت کے صدرجمہوریہ گیانی ذیل سنگھ جو ایک سکھ تھے، کے قافلے تک پر حملہ کیاگیاتھا۔ان کے ایک ایسکرٹ افسر نے خودکو بچانے کے لیے اپنے سر سے پگڑی اتارلی تھی اوران کے پریس افسرترلوچن سنگھ نے لاٹھیوں سے بچنے کے لیے اپنی کارکی سیٹ کھینچ کر اپنے چہرے کوڈھانپ لیاتھا۔چاردنوں تک تشدد،لوٹ پاٹ اورریپ کاگھناؤنا کھیل جاری رہا۔دہلی پولس خاموش تماشائی رہی بلکہ گجرات پولس نے جس طرح فسادات میں حصہ لے کر گودھرا کا انتقام لیا تھا‘اسی طرح اندرا گاندھی کے قتل کی’انتقامی کارروائی‘میں شامل رہی!
اندرا گاندھی کے قتل کی کہانی خالصتان تحریک اورگولڈن ٹیمپل پر فوج کشی وجرنیل سنگھ بھنڈران والا اوردیگرخالصتانی سکھوں کے قتل سے جڑی ہوئی ہے۔سکھوں نے اپنے گرووارے پر فوج کشی برداشت نہیں کی اوراندراگاندھی کوان کے دوسکھ محافظوں نے بھون دیا۔اس سارے معاملے کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب اندراگاندھی سے یہ کہاگیاتھا کہ سکھ محافظوں کوہٹادیں کیونکہ انہیں خطرہ ہو سکتا ہے تواندرا گاندھی نے کہتے ہوئے انکارکردیاتھا کہ وہ سکھوں کویہ تاثردینانہیں چاہتیں کہ ان پر اعتمادنہیں کیاجاسکتا……لیکن اپنی جان دے کر اندرا گاندھی نے سکھوں کا اعتماد جیتنے کی جو کوشش کی تھی اسے کانگریسیوں نے ناکام بنادیا اوراس میں راجیو گاندھی کابڑا ہاتھ تھا۔جس طرح 2002ء میں گجرات میں مسلمانوں کے ٹھکانوں کاپتہ چلانے کے لیے سرکار ی دستاویزات کا استعمال کیاگیاتھا اسی طرح سے ’ووٹرلسٹوں،راشن کارڈوں اوراسکول رجسٹریشن فارموں‘سے سکھوں کے ٹھکانے اورپتے تلاش کیے گئے تھے۔اس وقت کی حکومت یاباالفاظ دیگرراجیوگاندھی پرالزام ہے کہ فسادیوں اورپولس اہلکاروں کو بچانے کے لیے انہوں نے ہر طرح کی سعی کی۔لیکن سکھ ڈٹے رہے،انصاف کے لیے گہارلگاتے رہے۔کئی کمیشنوں اورکمیٹیوں کاقیام عمل میں آیا۔سکھ قتل عام کی تفتیش چلتی رہی……امریکہ کے شہرنیویارک تک میں سول کیسزدائر کیے گئے۔کئی کانگریسی’کلین چٹ‘پاگئے۔سجن کماراورجگدیش ٹیٹلربھی’کلین چٹ‘پانے والوں میں شامل تھے لیکن عدالتوں کے سامنے جیسے جیسے شہادتیں آتی گئیں بند معاملے کھلتے گئے۔سجن کمارکا کیس کھلااورانہیں عمرقیدکی سزا سنائی گئی۔عمر قیدتوبڑی چھوٹی سزا ہے،انہیں سزائے موت ملنی تھی۔جگدیش ٹیٹلرکے خلاف بندمعاملہ ابھی بھی عدالت میں’زیرالتواء‘ہے۔اتنے سارے کانگریسی’سکھ مخالف قتل عام‘میں ملوث ہیں اورراہل گاندھی کانگریس کے’ملوث ‘ہونے سے انکارکررہے ہیں!سجن کمارکو سزائے عمر قیدسنائی گئی توکانگریس کاردّ عمل عجیب وغریب تھا‘اس نے کہا’سجن کمارکی سزا سے کانگریس پارٹی کاکچھ لینادینانہیں ہے!‘جب کہ حقیقت یہی ہے کہ کانگریسی سجن کمارنے اپنی کانگریسی قائد اندرا گاندھی کے قتل کابدلہ لینے کے لیے مشتعل بھیڑکی قیادت کی تھی اورکانگریسی راجیوگاندھی نے یہ کہہ کر کانگریسیوں کو اکسایااورسکھوں کے قتل عام کو جائزٹہرایاتھاکہ’جب ایک بڑا پیڑگرتا ہےتوزمین لرزاٹھتی ہے۔‘یہ’ہاتھ‘خون سے سنے ہوئے ہیں۔
اورصرف سکھوں کے ہی نہیں مسلمانوں اوردیگر اقلیتوں کے خون سے بھی۔میرٹھ،ملیانہ،ہاشم پورہ،مرادآباد،جمشیدپور،بھاگلپور،سورت وغیرہ کبھی بھلائے نہیں جاسکتے۔خون سے سنے یہ ’ہاتھ‘قابل بھروسہ نہیں ہیں۔اب توصورت حال یہ ہے کہ کانگریس نے’ہندوتوادی‘روپ دھارن کرلیاہے۔یہ تین ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن میں کامیاب ہوئی ہے اوریقیناًمسلمانوں نے اسے کامیاب کرانے میں اہم کردار ادا کیاہے مگریہ مسلمانوں کے لیے کچھ کرے گی اس کی قطعی اُمید نہیں کی جاسکتی۔دہلی میں ’ایک دھکا اوردوجامع مسجدتوڑدو‘کے نعرے لگے‘کانگریسی خاموش رہے….کیوں؟کیااس کاسیدھا مطلب یہ نہیں کہ وہ بھی’سنگھ پریوار‘کی طرح یہ چاہتے ہیں کہ صرف بابری مسجدہی نہیں ساری مسجدیں’منہدم‘کردی جائیں۔مظفرنگرپرکانگریسی خاموش رہے،دادری پر خاموش رہے، بھوپال میں ’سیمی‘کے قیدیوں کے ’مڈبھیڑ‘کی انکوائری پر وزیر اعلٰی کمل ناتھ خاموش ہیں…..یہ حافظ جنید کے لنچنگ پر خاموش رہے……خاموشی کا دورانیہ بڑا طویل ہے…..خیر،بات سکھوں کے قتل عام کی ہو رہی تھی،اس قتل عام میں کانگریس ملوث تھی‘ اب عدالت نے ا س کی توثیق اورتصدیق کردی ہے۔بی جے پی سجن کمارکی سزا پر بہت خوش ہے،لیکن اسے پتہ ہوناچاہیے کہ اس کے سامنے گجرات2002ء ہے،گجرات کے فسادیوں کو بھی سکھوں کے قاتلوں ہی کی طرح سرکاری پشت پناہی حاصل ہے۔یہ بات سجن کمارکو عمرقیدکی سزا سنانے والے فاضل جج صاحبان جسٹس ایس مرلی دھر اورجسٹس ونود گوئل نے اپنے فیصلے میں کہی ہے‘فیصلے کی یہ سطریں سنہری حروف سے لکھی جانی چاہیے:’’سکھ فسادات کی ہی طرح 1993 ممبئی میں ،2002 گجرات میں،2008میں اڑیسہ کے کندھمال میں،2013میں اترپردیش کے مظفرنگرمیں فسادا ت ہوئے ،ان سبھی اجتماعی جرائم کے واقعات میں یہ یکسانیت ہے کہ سبھی فسادات میں اقلیتوں کونشانہ بنایاگیا اورقانونی ایجنسیوں کے تعاون سے سیاسی رہنماؤں کے ذریعے حملے کرائے گئے۔‘‘
بی جے پی سُن لے‘آج ان کی توکل تمہاری باری ہے!
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker