شخصیاتمضامین ومقالات

درویش صفت سیاست داں اٹھ گئے

ابومعاویہ معین الدین ندوی قاسمی

دارالعلوم پالی باندرہ ویسٹ ممبئی

دین و ملت کے بلا شک تھے حقیقی پاسباں

تا ابد اونچا رہے گا ان کی عظمت کا نشاں

آج ٧ دسمبر ٢٠١٨روز جمعہ، دل غم سے پھٹا جارہا ہے آنکھیں پرنم ہیں جسم ساکت ہے کہ آہ شب جمعہ وقت تہجد سر زمین ہند کے ایک مرد آہن اچانک اپنے ہزاروں پروانوں کو روتے بلکتے چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے،صبح تقریبا آٹھ بجے جب واٹس ایپ کے پیغام پر نگاہ پڑی تو چونک سا گیا. ہکا بکا رہ گیا، سانس خشک ہوگئی انگ انگ کانپ اٹھا درو دیوار ہلتے معلوم ہوئے اور قلب و جگر پر گویا کہ بجلی کی ضرب لگی، ایک ایسی جاں گسل خبر زیر بصارت آئی کہ طبیعت قبول ہی نہیں کررہی تھی کہ پیغام صحیح ہو اور دل کی صدا یہی تھی کہ اللہ کرے خبر غلط ہو، لیکن ایک ہی گروپ یا ایک ہی صدیق کی جانب سے خبر ہوتی تب تو دل کو کچھ تسلی ہو تی یہاں تو واٹس ایپ و ٹیلی گرام کے ہر گروپ اور کئی احباب کے میسج میں یہی اندوہناک وکربناک خبر تھی کہ آج شب ملک ہندوستان کے جرنیل مرد مجاہد، بیباک مشہور و معروف کالم نگار، وقت کے درویش صفت سیاست داں، ملک و ملت کے عظیم رہنما حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی ممبر آف پارلیمنٹ اس جہان فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرگئے،زبان سے بے ساختہ کلمات قرآن جاری ہوئے، إنا لله وإنا إليه راجعون.

یکایک جو چھاگئ ہیں غم ودرد کی گھٹائیں

گیا کون اس جہاں سے کہ بدل گئی ہیں فضائیں

اٹھا سائبان شفقت بڑی تیز دھوپ دیکھی

نہیں دور دور چھاءوں کہاں اپنا سر چھپائیں

حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی رحمہ اللہ کی اچانک رحلت سے جو صدمہ جانکاہ دل و دماغ کو پہنچا ہے وہ مدتوں بھلایا نہ جاسکے گا، یہ ایک ایسا کاری زخم ہے جس کا اندمال جلد ممکن نہیں، کیونکہ حضرت مولانا رحمہ اللہ کی شخصیت ہمہ گیر اور ہشت پہلو کی جا مع تھی آپ بیک وقت عالم باعمل، مفکر مدبر، کامیاب مقرر، مایہ ناز قلم کار، معروف کالم نگار، درویش سیاست داں، دردمند خادم خلق، دین اسلام اور ملک و ملت کے بے مثل رہنما،خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ذات عالی،پیکر ایثار اور اتحاد قومی کے علمبردار، دارالعلوم دیوبند کے فرزند ارجمند، دارالعلوم دیوبند کے رکن شوری، آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ کے رکن، امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ جھارکھنڈ کے رکن اساسی، ملی کونسل کے نائب صدر، آزادی ہند کے عظیم تنظیم جمیعة علماء ہند کے سابق جنرل سکریٹری، مسلم علی گڈھ یونیورسٹی کورٹ کے رکن، ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن کے بانی، سادگی جن کا حسن ذاتی. خوبئ اخلاق اور پاکیزگئ عمل ان کا اسوہ حسنہ،صحیح فکر اور اصابت رائے ان کی دانش وبینش، ان کی زندگی اکابرین علماء دیوبند کی زندگیوں کا عکس جمیل،تصنع اور بناوٹ سے پاک صاف،نمائش اور ریا سے آزاد.اور ان تمام خصوصیات سے بڑھ کر ولی کامل اور زمینی قائد تھے

آتی ہی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو

گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

حضرت مولانا رحمہ اللہ کے نام سے بچپن سے ہی آشنا تھا کیونکہ آپ کے رشتہ کا ایک نواسہ سرزمین بہار کے معروف بزرگ عالم دین طریقت و تصوف کے نبض شناس حضرت مولانا منور حسین مظاہری رحمہ اللہ( خلیفہ خاص شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ )کے بھتیجا حضرت قاری ندیم سرور صاحب جو درجہ حفظ میں راقم کے سینئر ساتھی رہے ہیں ان سے ہی بارہا حضرت مولانا رحمہ اللہ کا تذکرہ سننے کو ملا البتہ زیارت کی شرفیابی ٢٨/ستمبر/ ٢٠١٤ کو پٹنہ حج ہاؤس میں ہوئی

اور اس کی تقریب کچھ اس طرح ہوئی کہ ٢٨/ستمبر/٢٠١٤ بعد نماز عصر ذمہ داران پٹنہ حج ہاوس کی جانب سے سفر حج پر جانے والوں کے لئے مبارک بادی کے طور پر ایک مختصر پروگرام کا انعقاد کیا گیا. مہمان خصوصی حضرت مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی رحمہ اللہ ہی تھے حضرت نے خطاب فرمایا موضوع فضائل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تھا. حضرت والا نے مولد و مدفن رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و محبت میں سرشار ہوکر تقریبا بیس منٹ اس انداز سے خطاب فرمایا کہ ہم سامعین کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ حضرت رحمہ اللہ ہندوستان میں ہی حجاز کا سیر کرادیئے.

حضرت مولانا رحمہ اللہ کے بے شمار مضامین پڑھنے کو ملا تھا مگر خطاب سننے کا یہ پہلا موقع تھا جس سے معلوم ہوا کہ حضرت مولانا صرف قلم کے ہی دھنی نہیں بلکہ خطابت کے بھی شہسوار ہیں. حضرت والا جماعت علماء کرام کی جانب سے حالات حاضرہ پر بے شمار اخبارات کے کالم نگاری میں فرض کفایہ کے فریضہ انجام دے رہے تھے

آپ بے شمار تنظیموں سے جڑے تھے ایک دہائی سے ممبر آف پارلیمنٹ بھی تھے اس کے باوجود آپ کا قلم سے سیل رواں کبھی نہیں تھما.

آہ! آج سے وہ قلم ہمیشہ ہمیش کے لئے خاموش ہوگیا.

حضرت مولانا رحمہ اللہ دنیا کے سے سب سے بڑا جمہوری ملک ہندوستان کے ممبر آف پارلیمنٹ تھے لیکن سادگی دیکھئے کہ وفات کے بعد آپ کا جو آبائی وطن و مسکن ہے اس کی چند تصاویر دیکھنے کو ملا. دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور کیوں نہ ہوتیں کہ راقم السطور دوسرے اراکین کے حویلی کو بھی دیکھ چکا ہے، ہمارے گاوں سے متصل ہی ایک غیر مسلم ایم ایل اے اور اسی طرح پندرہ کیلومیٹر کے فاصلے پر ایک مسلم. ایم ایل اے کا کافی رقبہ پر شاندار پرشکوہ بنگلہ ہے حالانکہ یہ حضرات صرف. ایم ایل اے ہی رہے ہیں

جب کہ حضرت مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی رحمہ اللہ ایک دہائی سے ممبر آف پارلیمنٹ رہے لیکن اپنے لئے کچھ نہیں بنائے. ہاں دوسروں کے لئے سب کچھ کر گئے. سال گذشتہ ہی کی تو بات ہے سیماانچل میں ہلاکت خیز سیلاب آیا تھا جس نے کتنے مالداروں کو راستے پر لاکر کھڑا کردیا. کتنے ہی اہل ثروت دانے دانے کو ترس گئے. کتنے ہی لوگ بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہوگئے ایسی صورت میں حضرت مولانا رحمہ اللہ ان تمام کا مسیحا بن کر سامنے آئے اور ان کی دادرسی کی اس وقت بھی چند ایسی تصاویر دیکھنے کو ملیں کہ یقین نہیں آتا تھا کہ اتنے بڑے قد آور شخصیت پائینچے اٹھا کر کیچڑ سے گذر رہے ہیں. پریشان حال انسانوں کے غم کے مداوا میں لگے ہوئے ہیں. اپنے آرام وراحت کو چھوڑ کر دوسروں کے آسرا بنے ہوئے ہیں. ہزاروں آنکھوں کے آنسو پونچھ کر ان کے غم کو ہلکا کررہے ہیں.

یقینا حضرت مولانا رحمہ اللہ سچے زمینی قائد تھے.

امیروں سے یہ بے پرواہ شہنشاہوں سے مستغنی

فقیروں سے مروت انکساری دیکھتے جاؤ

سال گذشتہ ہی پارلیمنٹ میں طلاق کے سلسلہ میں ایک معاملہ اٹھا تھا اتفاق ہی کہئیے کہ حضرت مولانا رحمہ اللہ باہر کسی کام سے گئے ہوئے تھے جیسا کہ بعد میں مولانا نے وضاحتی بیان دیا تھا لیکن آہ ہمارے بعض قائد قسم کے حضرات اور بعض واٹس ایپ کے مفکرین حضرت پر اس طرح برسے تھے کہ الامان والحفیظ

پھر وہی طلاق بل جب راجیہ سبھا میں پیش ہوا تو مولانا رحمہ اللہ نے مکمل طور پر اس کی مخالفت کی. حضرت مولانا محمود صاحب دریا آبادی (رکن آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ )لکھتے ہیں

مگر چند دنوں بعد وہی طلاق بل راجیہ سبھا میں پیش ہوا. پیش ہونے سے قبل پرسنل لا بورڈ کے اکابر کے ساتھ حضرت مولانا نے تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہان سے ملاقات کی. اپنی پارٹی کے ہائی کمان کے سامنے جس طرح سے بے باک انداز میں مسلمانوں کا موقف پیش کیا اور لوک سبھا میں انہیں جو تقریر کا موقع نہیں دیا گیا تھا اس پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی ممبری چھوڑ نے تک کی بات کی اس سے اندازہ ہوا کہ مولانا نے اپنے وضاحتی بیان میں جو عذر پیش کیا تھا وہ معقول تھا.

حضرت مولانا رحمہ اللہ ہندی مسلمانوں کے لئے ڈھارس اور قوم و ملت کے سچے خادم و قائد تھے آپ ایک عرصہ تک ملک کے سب سے قدیم و فعال تنظیم جمیعة علماء ہند کے اعلی عہدہ پر فائز رہے اور فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی رحمہ اللہ کے شانہ بشانہ رہ کر مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کی. مولانا جب تک جمعیة سے جڑے رہے ہندی مسلمانوں کی ہمہ گیر خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے اپنی ساحرانہ صلاحیت اور عدیم المثال لیاقت کے ذریعے لوگوں کو قریب سے قریب تر کردئیے. کہ اچانک ١٩٩٢/میں حضرت مولانا آٹھ نو آدمی سمیت جمعیة علماء ہند سے مستعفی ہوگئے.

علحیدگی کے کچھ عرصہ بعد ہی حضرت رحمہ اللہ نے *ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن* قائم کی جو اس وقت سے آج تک ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے تعمیری و تعلیمی میدانوں میں اعلی سطح پر مصروف عمل ہے. لیکن آہ آج اس چمن کا باغباں جاتا رہا.

رات دن محنت سے جس کو اس جہاں میں کام تھا

ہرگھڑی جہد و مشقت جس کا شغل عام تھا

زندگی میں اپنی جو وقف غم و الام تھا

چین سے سوتا نہ تھا بے گانہ آرام تھا

وہ گیا ہے عالم برزخ میں سونے کے لئے

رہ گئے ہم اس جہاں میں آج رونے کے لئے

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker