مضامین ومقالات

کرکٹ اور سیاست: کل کی کسے خبر ہے کدھر کی ہوا چلے

ڈاکٹر سلیم خان
الیکشن ایک ایسا کھیل ہے جس میں جیت ہار کا فیصلہ کھلاڑی نہیں بلکہ شائقین کرتے ہیں ۔ اس فقرے کا مفہوم سمجھنے کے لیے کسی پانچ گھنٹوں کے کرکٹ میچ کا تصور کریں جس میں ایک ٹیم بلہ بازی کررہی ہو اور دوسری گیند بازی میں مصروف ہو۔ بیٹنگ کرنے والوں کے سارے کھلاڑی آوٹ ہوجائیں تو وہ گیند بازی کرنے لگے اور بالنگ کرنے والے بلہ لے کر یکے بعد دیگرے میدان میں اترنے لگیں۔ناظرین ہر چوکے اور چھکے پر جم کر شور و غوغا کریں اور کھلاڑی ہر وکٹ کے گرنے پرخوب اچھلیں کودیں جیسا کہ آج کل ہوتا ہے ۔ اس ہنگامہ میں جو کمی رہ جائے اسے کرائے کی نیم برہنہ دوشیزاوں (cheer girls) سے پورا کردیا جائے لیکن رنوں اور وکٹوں کا باقائدہ حساب نہ رکھا جائے۔ کھیل کی تکمیل پراسٹیڈیم اور ٹیلی ویژن پر کھیل دیکھنے والے ناظرین کو دس منٹ کا وقت دیا جائے تاکہ وہ ایس ایم ایس پر جس ٹیم کو چاہیں فاتح قراردیں یاشکست سے دوچار کردیں ۔ اس رائے دہندگی کوکمپیوٹرسے گن کر فیصلے کااعلان کردیا جائے۔
جمہوری نظام سیاست میں نتیجے کا اختیار کھلاڑیوں کی کارکردگی کے بجائے ناظرین کی صوابدید پر ہوتا ہے۔ جو کھلاڑی انہیں سب سے زیادہ تفریح فراہم کرتا ہے اس کی ٹیم کو وہ کامیاب قرار دے دیتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ عصر حاضر کا سب سے دلچسپ، مقبول اور مہنگا کھیل الیکشن ہے ۔ اس کھیل میں پختہ کار کھلاڑیوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا کام صرف کھیلنا ہے۔ ہار یا جیت ہمارے اختیار میں نہیں ہے اس لیے وہ نہ تو جیتنے پرمودی جی کی طرح بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں اور نہ ہار کے بعد منموہن سنگھ کی مانند بالکل بھی غمگین ہوتے ہیں ۔ کرکٹ میں رنوں اور وکٹوں کا تعلق صرف بلہ بازوں اور گیند بازوں کی مہارت پر نہیں ہوتا بلکہ موسم کا بھی اہم کردار ادا ہوتا ہے۔ کب ہوا تیز ہوجائے یہ کوئی گیندبازنہیں جانتا۔ ہوا کا رخ موافق ہویا مخالف ہونا بھی اس کے وہم گمان سے پرے ہوتا ہے۔ بادلوں کے نمودار ہوکر برس جانے پر بھی کسی بلہ باز کا زور نہیں چلتا ۔ بارش کے بعد کھیل منسوخ ہوجائے گا یا پھر گیلی پچ پر بیٹنگ کرنے کی نوبت آئے گی اس کی پیشنگوئی نہ کھلاڑیوں کے لیے ممکن ہے اور نہ شائقین کرسکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موسم کی تبدیلی بڑےسے بڑے کھلاڑی کے اچھے سے اچھے کارکردگی کو لے ڈوبتی ہے اور نتیجہ یکسر بدل جاتا ہے۔ ۲۰۱۴؁ کے اندر ہندوستان میں اور ۲۰۱۶؁ کے امریکی انتخابات میں ایسا ہی کچھ ہوا ۔ جمہوری سیاستدانوں کے لیے مولانا حالی کی نصیحتکیا خوب ہے ؎
ہے آج رخ ہوا کا موافق تو چل نکل کل کی کسے خبر ہے کدھر کی ہوا چلے
۲۰۱۹؁ کے بادل چھانے لگے ہیں اور عوام میدان کودیکھ رہے ہیں لیکن کھلاڑیوں کی نظر آسمان پر ہے ۔ وہ ہوا کا رخ دیکھ رہے ہیں اور دعا کررہے ہیں کہ جب بجلی کڑکےاور بادل برسیں تو ان کے ہاتھ میں بلہ نہیں بلکہ گیند ہو۔ تین صوبوں کے انتخابی نتائج کو سوشیل میڈیا کےمہارتھی سنگھ کی چال اور بی جے پی کے ذریعہ کانگریس کو غفلت میں مبتلا کرنے کی سازش قرار دے رہے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہےکہ کانگریس کو خوش فہمی کا شکار کرنے اورای وی ایم پر عوام کااعتماد بحال کرنےکی یہ ایک سازش ہے تاکہ ۲۰۱۹؁ کا انتخاب بہ آسانی جیتا جاسکے ۔ بڑے صحافی متفق ہیں کہ اس بار ۲۰۱۴؁ کی لہر نہیں ہے۔ بی جے پی اگر ۲۲۰ سے زیادہ نشستوں پر کامیاب ہوجاتی ہے تو مودی جی پھر سے وزیر اعظم بن جائیں گےاور ۱۸۰ سے کم کی صورت میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوجائے گی۔ ۲۲۰ سے کم نشستوں پر بی جے پی کی کامیابی مودی جی کی ناکامی بن جائے گی اور پارٹی کو ان کا متبادل تلاش کرنا پڑے گا۔
بی جے پی کی حکومت سازی کے باوجود مودی جی کے اقتدار سے محرومی کی وجہ صاف ہے۔ اپنی مدت کار کے دوران انہوں نے نہ صرف حامی جماعتوں بلکہ پارٹی کے لوگوں کے ساتھ بڑا تضحیک آمیز سلوک کیا ۔ بی جے پی کی سیٹوں کے کم ہوتے ہی سارے دشمنوں کو دل بھڑاس نکالنے کا نادر موقع ہاتھ آجائے گا۔ انتخابی نتائج کے بعد تو اس مہابھارت کا امکان تھا لیکن الیکشن سے پہلے ہی خانہ جنگی کا آغاز ہوجائے گا اس کا گمان کسی کو نہیں تھاکیونکہ اپنے خلاف اٹھنے والی آنکھ کو پھوڑنے کے لیے مودی جی نے شاہ جی کو متعین کررکھا ہے ۔ ہرین پنڈیا کے کامیاب تجربے کے بعدہی انہیں دہلی لایا گیا ہے۔ اسی لیے شاید مودی جی کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے پہلا تیر شاہ جی اور یوگی جی کی طرف چھوڑا گیا۔
سابق خارجہ سکریٹری شیام سرن اور سجاتا سنگھ، پلاننگ کمیشن کے سابق سکریٹری این سی سکسینہ، ارونا رائے، رومانیا میں ہندوستان کے سابق سفیر جولیو ربیرو، دہلی کے سابق نائب گورنر نجیب جنگ اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندار،جے ایل بجاج سمیت کل ۸۳سابق اعلیٰ سرکاری افسران نے بلند شہر کے تناظر میں اپنا احتجاج درج کراتے ہوئےایک کھلا خط لکھا ہے۔ ان لوگوں نے اس تشویشناک صورت حال میں تمام شہریوں کو نفرت کی سیاست اور تقسیم کے خلاف متحد ہوکر مسلمانوں، خواتین، آدیواسیوں اور دلتوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لئے عوامی تحریک چلانے کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ آئین کے عہد کی پاسداری میں ناکام وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا استعفیٰ مانگا ہے۔
بی جے پی اب بھی سنگھ کی گود میں کھیلنے والے بچہ کی نفسیات سے نہیں ابھر پائی ہے اس لیے جب بھی کوئی دوسرا بچہ اسے مارتا ہے یا وہ خود کہیں گرپڑ جاتی ہے تو وہ ماں کی آغوش میں دبک جاتی ہے ۔ بی جے پی کے سابق نائب صدر سنگھ پریہ گوتم نےآر ایس ایس کے سینئرذمہ داروں سے اپیل کرکے اس مفروضے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے تین ریاستوں میں پارٹی کی شکست کو مرکزی قیادت کی شکست قرار دیے کرامتت شاہ جگہ شیوراج سنگھ چوہان کو قومی صدر بنانے اور یوگی آدتیہ ناتھ کو ہٹا کر راجناتھ سنگھ کو یوپی کی کمان سونپنے کی وکالت کی ہے۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ثابت ہور ہے ہیں، جرائم اور بدعنوانی میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ عوامی مسائل کا انبار لگا ہے اور سرکاری ملازمین کے بے لگام ہونے کے سبب کارکنان بےاطمینانی کا شکار ہیں۔
بی جے پی کی لاش فی الحال آٹو رکشا میں شمسان گھاٹ کی جانب رواں دواں ہے۔ مودی جی اسے چلا رہے ہیں اور پیچھے یوگی جی اور شاہ جی اس ارتھی کو گود میں لیے بیٹھے ہیں ۔ سنگھ پریہ گوتم نے اپنے حملہ میں مودی جی کو بخش دیا مگر گئورکشک اور پکش (پارٹی) رکشک کوایک ساتھ لپیٹ لیا۔ پریہ گوتم کے خیال میں ان کے مشورے پر عمل کرنے سے کارکنوں اور عوام میں اچھا پیغام جائے گانیز۲۰۱۹؁ کے عام انتخابات کے اندرمودی جی پارٹی کوکامیابی سے ہمکنار کریں گے ۔ یہ بیان یوپی کے لوگوں کے غم و غصے کا اظہار ہے کہ جہاں پارٹی کے گجراتی صدر نے اتراکھنڈ سے لاکر ایک یوگی کو وزیراعلیٰ بنادیا۔
اتر پردیش کے سنگھ پریہ گوتم نے جس مروت کا مظاہرہ کیا مہاراشٹر حکومت کے پینل ’وسنت راؤ نائک شیٹی شوالمبن مشن‘ کے چیئرمین کشور تیواری نے اس کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔انہوں نے تو آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو خط لکھ کر باضابطہ پی ایم مودی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ۔کشور تیواری خود مہاراشٹر حکومت کے وزارتی عہدے پر فائز ہیں ۔ انہوں کمال جرأتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی جی اور شاہ جی پر مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ حکومتوں کے ذریعہ کیے گئے اچھے کاموں پر پانی پھیرنے کا الزام عائد کردیا ہے۔ تیواری لکھتے ہیں ’’مودی-شاہ صرف بلیٹ ٹرین اور میٹرو پروجیکٹ کو ہی بڑھانے چڑھانے میں لگے ہیں‘‘۔یہ حسن اتفاق ہے کہ ۱۲ دسمبر کو لکھا ہوا خط اس دن منظر عام پر آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی مہاراشٹر میں ہی پونے اور تھانےکے درمیان میٹرو پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ رہے تھے۔ اسے کہتے ہیں بی جے پی کے نہلے پر آر ایس ایس کا دہلا۔ اب یہ سبز ور زعفرانی تنازعہ نہیں بلکہ زعفرانی بمقابلہ جنگ بن گیا ہے۔
سرسنگھ چالک موہن بھاگوت اور آر ایس ایس جنرل سکریٹری بھیا جی جوشی کو تیواری نے لکھا کہ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی شکست کی وجہ ان بی جے پی لیڈروں کی انا ہے جنھوں نے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، تیل کی بڑھتی بے قابو قیمت جیسی عوام مخالف حکمت عملی اختیار کر رکھی ہیں۔ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر تیواری لکھتے ہیں ’’تاریخ شاہد ہے مغرور اور استبدادی رہنما پارٹی اور حکومت کے علاوہ سماج اور ملک کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ اس لیےاگر تاریخ کو دہرائے جانے سے روکنا ہے تو ۲۰۱۹؁ کے انتخاب سے پہلے نتن گڈکری کو وزیر اعظم بنایا جائے‘‘۔ اپنے موقف کی وضاحت انہوں نے اس طرح کی کہ ’’مودی-شاہ جوڑی کے تاناشاہی رویہ کی وجہ سے ملک میں خوف کا ماحول بنا ہے، ایسے میں نتن گڈکری جیسے شریف اور عوام میں مقبول شخص کو ذمہ داری دینا لازمی ہے‘‘۔ نتن گڈکری نے بومبے ٹو گوا فلم میں بچہ کے منہ میں کپڑا ٹھونسنے کا حوالہ دے کر ضرورت سے زیادہ بولنے والے بی جے پی رہنماوں کو منھ پر کپڑا باندھ لینے کا مشورہ دیا تھا لیکن کشور تیواری کا خط ان آنکھوں کا تارہ بنا ہوا ہے۔
بی جے پی کے اندر جاری اس گھمسان کے تناظر میں پارٹی کی پارلمادنی پارٹی کا ایوان کے جی ایم سی بال یوگی آڈیٹوریممیں ایک ہفتہ وارنشستراجناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقد ہوئی کیونکہ وزیراعظم اور بی جے پی کے صدردونوں ہی شہر کے باہر تھے۔ ان دونوں کا اس اہم نشست سے غائب رہنا خاص اشارے کرتا ہے۔ مٹنگ کے اختتام پر راجناتھ سنگھ کی تقریرکے دوران کچھ اراکند پارلاہرن نے پوچھا اجودھاب مں مندرکی تعمرک کے سلسلے مں حکومت کاا کرنے جا رہی ہےکیونکہ عوامکا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے اس کاگھسا پٹا جواب دیا’’یناً مندر بننا چاہئے اور ضرور بنے گااور تقریر ختم کردی‘‘۔ سچ تو یہ ہے کہ اس جملہ پر فی الحال سنگھ کے اندر اور باہر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔ پارلماہنی پارٹی کی مٹنگ مںی اپنے ہی ارکان کو گمراہ کرنے کی ذمہ داری قانون اورانصاف کے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد کو سونپی گئی ۔ انہوں کسی بنیادی مسئلہ پر گفتگو کرنے کے بجائے رافلا ، طلاق ثلاثہ اور دہلی سکھ مخالف فسادات کے عدالتی فصلے پر روشنی ڈالی ۔
بی جے پی ارکان پارلیمان کی مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ہندورائے دہندگان مندر مانگتے ہیں تو انہیں طلاق ثلاثہ جھنجھنا پکڑا دیا جاتا ہے۔مسلمان گجرات کے فسادیوں کو سزا دلوانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان سکھوں کے خلاف ہونے والے فسادات میں سجن کمار کی سزا کا حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ اس فیصلے میں مسلم کش فسادات کا بھی احاطہ ہے۔کسان فصلوں کی کم قیمتوں یا شہری تیل کی مہنگائی کا شکوہ کرتے ہیں تو ان پر رافیل کی بمباری کی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت عوام کو دھوکہ دینے میںاس قدر طاق ہوگئی ہے کہ اس نے سپریم کے آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنے حق میں رافیل کا فیصلہ کروا لیا۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں حکومت کے جھوٹ کا حوالہ دے حزب اختلاف کو ایسا ہنٹر پکڑا دیا کہ سرکار کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اس کو جشن منانے کے بجائے عدالت سے درخواست کرنی پڑی کہ ٹائپنگ کی غلطی کے سبب بات کو ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا اور الٹا مطلب نکل آیا ۔ اس کے معنیٰ ہیں کہ جب سیدھا مطلب لیا جائے گا تو فیصلہ متضاد آئے گا اور نام نہادکلین چٹ ازخود بری طرح پٹ جائے گی۔
مسلم خواتنا کے مبنہ حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کلئے طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا مںق پشف کائ گار اورہنگامے کے بعد ووٹنگ کے ذریعے بل پر تمام اعتراضات کومسترد کردیا گیا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر قانون روی شنکر نے کہا کہ بل کی منظوری سے ایسا قانون بن جائے گا جو مسلم خواتنپ کے حقوق کو تحفظ دے گاجبکہ مجلس اتحاد المسلمنض، ترنمول کانگریس، راشٹریہ جنتادل اور بجوا جنتادل کے ارکان نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس بل سے مسلم خواتند کے حقوق چھن جائںل گے۔حزب اختلاف کو شکایت تھی کہ طلاق ثلاثہ بل پر مسلمانوں سے کوئی صلاح مشورہ نہںگ کاےگاب۔ کانگریس ، بائںک بازو کی جماعتوں اورراشٹریہ جنتادل کے علاوہ متعدد پارٹوہ ں نے بل کے مجوزہ سزا کی سختی سے مخالفت کی۔ اب ۲۷ دسمبر کواس پر بحث کرنے کے لیے کانگریس تیار ہوگئی ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ تاریخ کے متعین ہوتے ہی ذہنی معذور لوگوں کے بل پر بحث کا آغاز ہوگیا۔ جن کے اپنے قلب و ذہن معذور ہیں وہ بھلا دوسروں کی معذوری کیسےدور کریں گے؟ بی جے پی جب بھی مصیبت میں گھرتی ہے اسے پہلے تو پاکستان پھر مسلمان اور بالآخر رام للاکی یاد آتی لیکن اب تو شیوسینا ایوان میں سوال کررہی ہے آخر رام کے اچھے دن کب آئیں گے؟
بہار سے جس وقت خشواہا کی خوش کن خبریں آرہی تھیں اور چراغ پاسوان این ڈی اے کےخیمہ میں روشنی پھیلانے کے بجائے آگ لگانے کی کوشش کررہے تھے راجستھان سے ایک دلچسپ خبر آگئی ۔ یہ کسانوں کے قرض معافی خبر نہیں ہے اس لیے کہ وہ تو مدھیہ پردیش اور چھتیس گڈھ سے بھی آچکی ہے ۔ کسی زمانے میں کانگریس کچھوے کی رفتار سے چلتی تھی لیکن بھلا ہو بی جے پی کے دباو کا اور انتخابات کی قربت کا کہ وہ خرگوش کی طرح اچھلنے کودنے لگی ہے۔ جئے پور کے اندر آئی پی ایل کی آٹھ ٹیموں نے ۱۸ دسمبر کوسوئمبر رچایا اور بڑھ چڑھ کے بولی لگاکر اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو خریدا۔ اس نیلامی میں کنگس الیون پنجاب نے ورون چکرورتی کو ۴ء۸ کروڈ میں خریدا جبکہ اس کی بیس پرائس صرف۲۰ لاکھ روپے تھی۔
اس موقع پر ورون نے اعلان کیا ’’میں ساتویں آسمان پر ہوں۔ کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اس قیمت پر خریدا جاؤں گا۔ مجھے لگا تھا کہ کوئی بیس پرائس پر خریدے گا۔ میرے لیے یہ بڑا موقع ہے۔ میں اپنی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا‘‘۔کپل دیو پرجب میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگا تو وہ ٹیلی ویژن پر روپڑا تھا۔ آج کل کرکٹ کھلاڑی ہنستے ہوئے اپنی نیلامی پر اظہار مسرت کرتے ہیں ۔ اس زمانے میں کھلاڑی اپنے وطن کے لیے کھیلتے تھے آج کل اپنی ذات اور مالک کے لیے کھیلتے ہیں۔ سیاست اور کرکٹ میں کوئی کسی کا وفادار نہیں ہے۔ نہ اپنے دین کا ،نہ نظریہ کا ۔ نہ وطن کا اور نہ ملت کا ۔ سب کچھ بکاو ہے ۔ الا ماشاءاللہ۔ موجودہ سیاستدانوں اور کھلاڑیوں کے لیے بسمل کے اس شعر میں ترمیم لازم ہوجاتی ہے؎
خود فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے دیکھنا ہے نوٹ کتنا بٹوئے گاہک میں ہے
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker