برجستہمضامین ومقالات

منصور ِہندصوفی سرمد شہیدؒ : کتاب ِ زیست کے چندگم شدہ اوراق


از: افتخاررحمانی، نئی دہلی
سرمدؔ غمِ عشق بولہوس را نہ دہند
سوزِ غمِ پروانہ مگس را نہ دہند
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
ایں دولتِ ’سرمد‘ ہمہ کس را نہ دہند
دلی کے بائیس خواجہ نامی ایک کتاب نظر سے گزری یا قدرتاً نظر سی گزاری گئی ۔ اس میں پڑھا تھا کہ جامع مسجد سے متصل منصور ہند صوفی سرمد کی قبر ہے جن کاسر حضرت اورنگ زیبؒ نے ’’اناالحق‘‘ کی صدا کے جرم میں قلم کروایا تھا۔تاریخی حوالہ جات میں جس طرح سرمدؔ کا ذکر ملتا ہے وہ حقیقت کم افسانوی صورت کچھ زیادہ ہی اختیار کرگیا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ واقعہ نگاروں نے اپنی طرف سے اس میں کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے،جس کے باعث اصل حقائق گم ہوکر افسانہ بن گئے۔ جب دہلی کی جامع مسجد گیا تو ازراہ محبت’عشق ‘کی اس لامثال نشانی کو دور سے ہی دیکھتا رہا؛کیوں کہ اپنی تعلیم و پرورش کی وجہ سے چاہ کر بھی قریب نہ جاسکا (ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ ان جیسے صوفیا کہ جن کی قبروں پر نام نہاد مکار مولوی نما لوگوں نے قبضہ جما کر ہندؤں اور مشرکوں کی طرح، ان کی قبر کو سجدہ گا ہ بنالیا ہے، ان کی سوانح حیات، ملفوظات میرے مطالعہ میں رہا کرتے ہیں۔ میں خود حضرت نظام الدین اولیاء کا دل سے قدرداں اور ان کی عظمت کا قائل ہوں؛لیکن ان کے مزار ہونے والی خرافات کا سخت مخالف بھی ہوں) یوں بھی سرمدؔ کو سرمدی زندگی ملی تھی، وہ جو بھی ہو؛لیکن اس کے پس پردہ ’عشق ‘کی شورش اور’ افتاد‘کی گرانی کار فرما تھی، جس کی وجہ سے وہ مرکے بھی جاوداں ہوگیا اورگیتی ٔ عشق میں اس کی قلمرو اب بھی قائم ہے۔ اس کے تذکرے میں عشق مجازی، ابھے چند (محبوب)، برہنگی،کلمۂ طیبہ کے اثبات ونفی میں اثبات(الا اللہ) کے بجائے صرف نفی(لا الٰہ) کا ذکر ملتا ہے ،جس کے باعث طبیعت میں تکدر پیدا ہوا ؛لیکن یہ تکدر وقتی چیز تھا۔یہ سچ ہے کہ اس کے محبوب کا نام ابھے چند تھا، وہ ایرانی النسل تھا،غیر مسلم بھی تھا، غالباً وہ آرمینائی نسل سے تعلق رکھتا تھا،یعنی ایرانی یہودی تھا۔اسلام کی دولت اِس کو اْس وقت نصیب ہوئی جب ابھے چند نے نگاہِ کشتہ نے جگر کو خوں فشاں بنادیا تھا ،(ابھے چند کا ذکر میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا ،کیوں کہ میرا وہ مقصودبالذکر بھی نہیں ہے)تذکرہ کے مطابق ابھے چند سے نظریں اس وقت چار ہوئی تھیں جب وہ اسلام کی دو لت سے بہر ہ ور نہیں ہوا تھا ،یعنی وہ غیر مسلم ہی تھا۔الغرض سرمدؔ کی قبرخونیں نما مکان پر نظر پڑی ، جس پر جلی حرفوں میں ’صوفی سرمد شہید‘لکھا ہوا تھا۔ صوفی سرمد شہید کا مزار عین جامع مسجد کے جنوب میں ہے۔مولانا آزاد نے بھی اسی کا ذکرکیا ہے۔ آج ٹھیک امام الہند مولانا آزادؒ سرمد شہید کی قبر سے بمشکل دس قدم کی دوری پرشمال میں دائیں جانب واقع باغ میں محوخواب ہیں(اللہ تعالیٰ ان کی قبر کروڑوں رحمت نازل فرمائے، آمین)۔یہ بھی قدرت کی ستم ظریفی ہے کہ سرمدؔ ایران سے تجارت کے لیے چلا تھا،مگر یہاں ابھے چند (برہمن) کی نگاہ کشتہ نے سرمد کو حیات سرمدی کی راہ کا رہرو بنادیا ، یہ بھی سچ ہے کہ عجمی صوفیاء جن میں حافظ شیرازی، مولانا رومی ، شیخ سعدی جیسے صوفیاء ہیں ، نے عشق مجازی کو عشق حقیقی کے لیے زینہ تصور کیاہے ، جس پر علماء عرب نے سخت نکیر کی ہے ،حتیٰ کہ علامہ ابن الجوزی نے اپنی کتاب ’’تلبیس ابلیس ‘‘ میں اس کو بیان کرتے ہوئے شیطانی امورمیں شمار کرتے ہیں ، اسلام سے ’سوا‘ قرار دیا ہے ۔خیر!سرمدؔ تجارت کی غرض سے ہندوستان آ یا تھا؛لیکن اس کو دل کے سودے کرنے پڑگئے۔ یہ بھی پتہ نہ تھا کہ وہ کسی مقتل کی طرف بڑھ ر ہاہے ۔جہاں پہلے ان کا دل کسی اور کا ہوگا، پھر وہ خود اس کا ہوکر رہ جا ئے گا۔ا س کے عشق پر دنیا ہنسے گی،طعنہ دے گی، اس پر کوڑے بر سائے جائیں گے، علماء ظاہر؛بلکہ درباری ملا جن میں’ ملا قوی‘ سرفہرست ہیں ، ان پر فتاویٰ لگائیں گے، صاحب اقتدار کے سامنے ان کی پرسش ہوگی اور پھر یہ بھی ہوگا کہ اسے عین دہلی کی جامع مسجد سے متصل تختہ دار پر لٹکادیاجائے گاکہ اس کی لاش پر کوئی اشک فشانی کرنے والا بھی نہ ہوگا۔اگر اسے یہ علم ہوتاتو شاید کبھی بھی بغرضِ تجارت ہندوستان کا رخت سفر نہ باند ھتا؛لیکن سرمدؔ کی قسمت میں آبلہ پائی، ریگستاں نوردی، ٹھٹھہ کی ریت میں جلنا بھننا، گولکنڈہ کی خاک چھاننا اور پھر مقتل(دہلی) میں قیام پذیر ہوکر دہلی گیٹ کے قریب میں دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوکر نیم برہنہ یا برہنگی کے عالم میں جذب و کیف کی مستی میں ’استغراق‘ لکھا ہوا تھا ؛اس لیے کشاں کشاں ایران سے ٹھٹھہ آیا،پہلے تو اس کادل اپنے قبضہ سے گیا، ٹھٹھہ میں قیام پذیر ہو ا، مال و اسباب دوسرے لوگوں نے مالِ غنیمت سمجھ کر کے لوٹ لے گئے۔ کوئی عجیب نہیں کہ وہ اس صحرا نوردی میں حافظ کی غزل کا یہ مطلع گنگنا رہا ہو ؎
اگر آن ترک شیرازی بہ دست آرد دل ما را
بہ خال ہندویش بخشم سمرقند و بخارا را
ؒ بنظر انصاف دیکھیں تو حافظؔ سرمدؔ کی ترجمانی کررہے ہیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ سرمدؔ ٹھٹھہ کی گرم ریتیلی سرزمین میں ننگے پاؤں معشوق کی یاد اور جستجو میں وصال کی آرزو پر سمرقند و بخارا نثار کربیٹھتے،تاہم حافظؔ کے بیان سے بھی سرمد کا یہ جنون اورسرمستی بلند اور برتر تھی کہ سرمدؔ نے اپنا وجود اور اپنا مذہب اس کشتہ ٔ جاں کی نذر کردیا تھا۔حافظؔ کا یہ شعر مبنی بر تعلی ہے۔ واضح ہو کہ ٹھٹھہ سندھ میں واقع ہے اور سندھ میں ریگستان بھی ہے! کوئی بعید نہیں کہ ٹھٹھہ سے نکالے جانے کے بعد سرمد ؔ نے تھر میں صحرا نوردی بھی کی ہو۔مولانا ناآزاد نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ:
’’اس زمانے میں ایرانی سیاح عموما سندھ ہو کر ہندوستان آتے تھے، سندھ کے شہروں میں ٹھٹھہ ایک مشہور شہر تھا جس کو اب نئے جغرافیہ میں گمنامی کا خانہ نصیب ہوا ہے۔ یہی ٹھٹھہ وہ سینائے مقدس تھا جو سرمد ؔ کے لیے تجلی گاہ ایمن بنا اور اور لیلائے حسن نے اول ا ول اپنے چہرے سے نقاب الٹی۔ کہتے ہیں کہ ایک ہندو لڑ کا تھا۔ جس کی چشم کافر نے یہ افسوں طرازی کی اور ایسا ہونا کچھ مستعبد نہیں؛کیوں کہ عشق خیزدلوں کو ’’وا نیم‘‘ کرنے میں بخیہ گر کی سوئی اور جلا د کی تیغ دونوں برابر ہیں۔ یہاں تجارت میں خریدار عموماً بے پرواہ و بے نیاز۔ پھر جو لوگ اپنے دلوں کو ہا تھوں پر بطرز نذر رکھے ہوئے خریدار ڈھونڈتے ہوں انہیں تو حق ہی نہیں کہ خریدار میں خاص اوصاف کے طالب ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سادہ لوح ایرانی تاجر بھی متاع دل کی کسمپرسی سے تنگ آگیا تھا اور خود خریدار کو بے تابانہ ڈھونڈ رہا تھا۔ جب خریدار مل گیا تو نظر اٹھا کے دیکھا تک نہیں کہ کون ہے اور کیا لے کے آیا ہے۔ اسی کو غنیمت سمجھا کہ دل جیسی متاع ارزاں کی ایک چشم سحر کار طالب ہے اور بلا تامل یہ سودامنظور کرلیا۔‘‘
ایک دوسری جگہ مولانا آزادؒ یہ بھی لکھتے ہیں کہ:
’’سرمدؔ کے لیلیٰ کا زیادہ سے یادہ حال جو معلوم ہوتا ہے یہی کہ ایک ہندو لڑکا تھا اور غور کیجئے تو یہ بھی بہت ہے؛کیوں گہ بازار عشق میں جب سودا چکایا جاتا ہے تو یہ کب دیکھا جاتا ہے کہ خریدار کون ہے۔ اور کیا قیمت مل رہی ہے ؎
’مرا فروخت محبت ولے نمی دانم
کہ مشتری چہ کس ست و بہائے ما چند ست‘‘
چند تذکرہ نگاروں نے اس درمیان یہ بھی نقل کیا ہے کہ سرمد ان ہی دنوں مشرف بہ اسلام ہو چکا تھا؛ لیکن دل میں عشق کی جو چنگاری ابھے چند برہمن نے لگائی تھی، وہ چنگاری بجھنا تو کجا، مزید شعلہ نوا ہوچکی تھی۔کچھ تذکرہ نگاروں نے یہ بھی کہا کہ جو کہ محض مبالغہ آرائی پر ہی محمول ہے،یہ کہ ابھے چند کو ایک ہی شب میں قرآن کی تعلیم بھی دی، دوسری شب میں حدیث کی، تیسری شب میں انجیل کی، چوتھی شب میں زبور کی۔خدا بہتر جانے سرمد ؔ نے اپنے معشوق (ابھے چند) کو کس کس فن کی تعلیم دی،البتہ یہ ضرور تھا کہ ٹھٹھہ میں سرمدؔکا وصال ابھے چند سے ہوا تھا۔خلوت میں بھی اور جلوت میں بھی،دونوں ساتھ رہتے۔ ابھے چند نے جب یہ دیکھا کہ سرمد میرے لیے اپنا مذہب،وطن، سب کچھ ترک کرچکا ہے تو پھر ابھے چند کا دل بھی پگھل گیا اور وہ بھی سرمدؔ کے رنگ میں رنگ گیا۔ جس سے اہل محلہ بھی نالاں ہوئے، حتیٰ کہ سرمدؔ کو اس عشق کی وجہ سے شہر بدر بھی کردیا گیا اور ابھے چند جو کہ کسی امیر برہمن زادہ تھا، اس پر بھی پہرے بٹھا دیئے گئے۔مولانا آزاد ؒ نے سرمدؔ کی صحرا نوردی کا یوں ذکر کیا ہے:
’’سرمدؔ کوآئندہ جس صحرا میں بادیہ پیمائی کرنی تھی،یہ اس کی طرف پہلا قدم تھا۔اور کچھ سرمد ہی کی خصوصیت نہیں، عشق خواہ کسی(کوئی) عنوان ہو منزل حقیقت کا ہمیشہ سے پہلا قدم ہے؛بلکہ یہ کہنا بھی مشکل ہے۔ منزل حقیقت کا کیا ذکر، عشق تو وہ دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر انسان انسان نہیں ہوسکتا، جس کے دل و جگر میں ٹیس اور آنکھوں میں تری نہیں، اس کو معنی ٔ انسانیت سے کیا واسطہ؟ تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ زاہد معتکف بھی بایں ہمہ تقشف، جب اپنے زاویہ عبادت میں سر بہ زانو ہوتا ہے تو حور و غلماں کی مسکراہٹ سے لطف لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یعنی جو خشک دماغ مسجد کے گوشوں اور حجروں میں دوست کو ڈھونڈتے ہیں انہیں بھی اس تصور کے بغیر چارہ نہیں ؎
حوروجنت جلوہ بر زاہددہد در راہ دوست
اندک اندک عشق در کار آورد بیگانہ را‘‘
یہی وجہ ہے کہ جوسودازدگان حقیقت شاہد ازلی کے جاں دادہ ہیں، انہیں بھی مجازی کوچوں میں درو دیوار سے سر ٹکراتے دیکھا گیا ہے؛کیوں کہ دل جب تک لذت آشنائے درد نہ ہو برف کا ایک ٹکڑا ہے جس کو پانی بنتے دیکھا ہے، مگر برف آگ میںجلتے ہوئے کبھی نظر نہ آئی۔ حالانکہ انسانیت کا مفہو م یکسر سوز و گداز ہے۔ اور عشق کاکلیسا آتش کدہ ہے، یہاں وہی آتش طلب قدم رکھ سکتے ہیں جو اپنے دلوں کو اس آتش کدہ پر نذر چڑھادیں اور پھر دامن سے ہوا دیتے جائیں کہ کہیں شعلوں کی بھڑک کم نہ ہوجائے‘‘
سرمد ؔنے راہ عشق کے ان تمام سلوک کو اپنا یا تھا، اُس ماہ رو کی تلاش میں مجازی کوچوں سے سردیواروں سے ٹکرایا ہی نہیں تھا؛ بلکہ آبلہ پائی بھی کی ،بلکہ اس آبلہ پائی کو متاع زیست بھی تصور کیا۔ دل کو عشق کے آتش کدہ میں نذر کرکے دامن سے جلتے ہوئے شعلوں کو ہوا بھی دیا تھا کہ کہیں مبادا اس کی آگ سرد نہ ہوجائے۔ سرمدؔ نے ان کلیوں کو بحسن خوبی اپنایا، اسے نبھایا اورپھر محبوب کا وصال نصیب نہ ہوسکا تو خود کو کنج تنہائی میں خود کو ڈال دیا۔دنیا و مافیہاسے بے خبر، ہجر و فراق کی اصلی تصویر بنے، سرپر تھر کی خاک ڈا ل کر خلق سے بیگانے ہوگیا، اس کی ایک ہی دھن تھی اور وہ دھن محبوب کی یاد تھی،محبوب کے روئے تاباں کا دیدار تھی۔ ضعیف قول کے مطابق تقریباً آٹھ سے دس سال تک ٹھٹھہ اور لاہور میں گزارد یئے،اسی عالم ہجر میں سرمد ؔ نے اپنی رباعیات بھی مرتب کی۔کاتب تقدیر نے نگاہ کشتہ کا شہید ہوکر حقیقی معنوں میں بھی شہید ہونا لکھا تھا اور پھر یہ بھی طے ہے کہ خود سرمدؔ کو بھی اس کا یقین تھا کہ چشم کافر نے جو آگ لگائی ہے اس کا انجام تختہ ٔ دار ہی ہے۔
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر تختہ ٔ دار ہی سرمد ؔ کا مقد رتھا یا پھر سیاست کی بے رخی، عناد اور حسد بھی اس کے قتل کی وجہوں میں شامل تھا،یا مخالف کوخاموش کرنے کے لیے شریعت کا سہارا لیا گیا تاکہ مخالفین یک زبان ہوکر صدائے احتجاج بلندنہ کرسکیں۔ کئی امور اس کے تحت تشنہ طلب ہیں جس کا تشفی بخش جواب نہیں دیا جاسکا ہے۔البتہ اس تعلق سے من گھڑت باتیں اور بیہودہ عقیدے ضرورشامل کئے گئے ہیں، سینہ بہ سینہ حکایات خوب بڑھ چڑھ کر شائع کی گئیں، جس سے سرمدؔ کا اصلی منظر نامہ چھپ کر رہ گیا، اور جس کے لیے وہ اس دنیاسے ’لاتعلق‘ ہوا تھا وہ مقصد ہی فوت ہوکر رہ گیااور اس سے سرمدؔ کا اصلی رو پ اس مفروضات میں گم ہوکر رہ گیا۔ جب کہ لازم تو یہ تھا کہ سرمد ؔ کے متعلق تحقیق ومباحثہ کئے جاتے ہیں، اس کی زندگی کے پہلوؤں کو انصاف پسندانہ نظر سے عوام کے سامنے لائے جاتے، اس کو تاریخی حیثیت و رتبہ فراہم کیا جاتا ہے، مگر ستم ظریفی یہ کہہ لیں کہ تاریخ میں اس کا کہیں ذکر ِ خیر تو کجا ’ذکر شر‘ بھی نہیں ہے؛بلکہ مکمل طور پر پراسرار خاموشی ہے۔مولاناآزادنے بھی اس تعلق سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جزبز ہوکرلکھا کہ :
’’عہد عالمگیری میں اور اس کے بعد جس قدر فارسی تذکرے لکھے گئے ہیں ، ان میں بالعموم سرمدؔ کے عنوان سے چند سطریں ملتی ہیں ؛لیکن اول تو قدیم تذکروں کے حالات اس قدر مختصر اور ناکافی ہوتے ہیں کہ اگر زندگی میں ان کے نام خطوط لکھے جاتے تو لفافہ کے لیے پورا پتہ بھی نہ میسر آتا اور پھر جو کچھ ہوں ، وقت یہ ہے کہ اس وقت سامنے نہیں ۔ میں نے عہد ِ عالمگیری کی تاریخوں کو دیکھا کہ شاید حوادث و واقعات کے ضمن مین کچھ حالات مل جائیں ؛لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پولیٹکل عاقبت اندیشوں نے قلم کو روک لیا تھا ۔ مرزا محمد کاظم نے عالمگیر کے حکم سے تمام سوانح و حالات بقید ِسنین قلم بندکرنے شروع کئے ؛ لیکن صرف دس سال ہی کے حالات لکھے کہ حکماً یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔ اس کے بعد شاہ عالم کے عہدمیں نواب عنایت اللہ کو خیال تکمیل ہوا ، اس کے اشارے سے مستعد خان نے بقیہ چالیس سال کے سوانح قلم بند کئے اور ابتدائی دہ مجموعہ کا انتخاب شامل کرکے ’’مآثر عالمگیری ‘‘ نام رکھا ۔ میں نے ۱۰۷۰؁ھ کے حالات کی ورق گردانی کی کہ یہی سرمدؔ کی شہادت کا سن ہے ، مگر حالات کا ملنا تو ایک طرف ، معلوم ہوتا ہے کہ پوری مستعدی کے ساتھ تاریخ کے صفحوں کو بچایا گیا کہ اس شہید عشق کے جامہ ٔ خونچکاں کے قطرہ افشانی سے حاشیہ پر کہیں دھبہ نہ پڑجائیں ۔لطف یہ کہ اسی سال شاہ عباس ثانی اور حسین پاشارومی (غالباً والی ٔ حجاز ) کے سفراء آئے تھے ،ان کے حالات کی سطریں صفحے کی انتہا تک پہنچ کر بھی آگے بڑھنے سے نہیں رکتیں۔‘‘
کوئی عجب نہیں کہ عالم بالا میں دنیا کی ناانصافی پر سرمدؔ سرپیٹتے ہوں اور حافظؔ کی زبان میں کہتے ہوں ؎
’’ز رقیب دیوسیرت بہ خدائے خود پناہم
مگر آن شہاب ثاقب مددے دہد خدا را‘‘
الغرض! جب ٹھٹھہ کی سرزمین سرمد کے لیے تنگ کردی گئی اوریا بلفظ دیگر یو ں کہہ لیں کہ عشق کی طرب انگیزنواؤں نے اپنے انجام کے لیے دعوت دی تو ٹھٹھہ چھوڑ کر وہ گولکنڈہ پہنچا، کاتب تقدیر نے سرمد ؔکو دہلی کے لیے منتخب کیا تھا، سرمدؔدیوانہ وار گولکنڈہ چھوڑ کر دہلی آیا اور یہیں گلی کوچوں میں’فناگشتم من فنا گشتم‘کا نعرۂ عشق بلند کرنے لگ گیا۔ خود سرمدؔ نے بھی بڑی دیدہ دلیری،جوان مردی کے ساتھ دیوانہ وارکہاہے ؎
’’بیہودہ چرا در طلبش می گردی؟
بنشیں! اگر او خدا ست خود می آید‘‘
اس حلف ِ عشق کے بعد وہ خود دہلی کے کوچہ و گلی کا اسیر بن کر رہ گیا، کیوں کہ اس نے ٹھان لیا تھا کہ ’بنشیں! اگر او خدا است خود می آید‘ اس قیام کے دنوں اس کی ذات سے بہت بڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ شاہجہاں کے فرزندداراشکوہ جو طبعی طور پر صوفیوں اور ولیوں سے تعلق خاطر رکھتا تھا؛بلکہ سرمدؔسے بڑی محبت بھی کرتا تھا، کا ہم نوا ہوگیااور سلطنت و بادشاہت کی دعا دے بیٹھا۔ مولانا آزادعلیہ الرحمہ داراشکوہ کے احوال لکھتے ہوئے داراشکوہ کو سوز طلبی کا ایک متلاشی انسان قر ار دیا ہے، ایک ایسا انسان کہ جس کو ’تلاش سوز ِ طلبی‘میں دیروحرم کی تمیز بھی تھی، مولاناآزاد لکھتے ہیں:
’’یہ وہ زمانہ تھا کہ عنقریب بساط ہند پر عالم گیر ؒ ایک نئی چال چلنے والا تھا اور شاہ جہانی حکومت کا عہد آخری اور شاہزادہ دارا شکوہ ولی عہد سلطنت تھا۔سلسلۂ مغلیہ میں دار شکوہ ایک عجیب طبیعت و دماغ کا شخص گزرا ہے۔اور ہمیشہ افسوس کرنا چاہیے کہ تاریخ ہند کے قلم پر،کہ اس کے دشمن کا قبضہ رہا؛ اس لیے اصلی تصویر ’پولیٹکل چالوں‘ کے گرد و غبار میں چھپ گئی، وہ ابتداء سے درویش داشت اور صوفیانہ دل و ماغ کا شخص تھا اور ہمیشہ فقراء اور ارباب تصوف کی صحبت میں رہتا تھا،اس کے متعلق بعض تحریرات جو دست برد ِحوادث سے بچ گئی ہیں، بتلاتی ہیں کہ ان کا لکھنے والا بھی ذوق و کیفیت سے خالی نہیں، اس کے صاحب ذوق ہونے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ تلاش مقصد میں دیر و حرم کی تمیز اٹھادی تھی اور جس نیاز کیشی کے ساتھ مسلمان فقراء کے آگے سرجھکاتا تھا، ویسی ہی عقیدت ہندو رشیوں سے بھی رکھتا تھا۔ اس اصول سے کون صاحب حال اختلاف کرسکتا ہے؛کیوں کہ اگر اس عالم میں بھی کفر واسلام کی تمیر ہوتو پھر اعمیٰ اور بصیر میں کیافرق باقی رہ گیا؟ پروانہ کو تو شمع ڈھونڈھنی چاہیے،اگر صرف شمع حرم ہی کا شیدا ہے توسوز طلبی میں کامل نہیں ؎
’’عاشق ہم از اسلام خرابست وہم از کفر
پروانہ چراغ حرم و دیر نداند‘‘
سرمدؔاور داراشکوہ کے تعلقات کے تناظر میں مولانا آزاد نے جولکھا ہے وہ افراط و تفریط اور ’’لغو‘‘ سے پاک و مبرا بھی ہے۔ مولانا سرمدؔ اور داراشکوہ کے تعلقات کے باب میں رقم طراز ہیں:
’’سرمدؔ جوش جنوں میں پھرتا ہوا جب شاہ جہان آباد (دہلی) پہنچا تو قضانے اشارہ کیا کہ قدم روک لئے جائیں؛کیوں کہ جس جام کی تلاش ہے وہ اسی میخانہ میں ملے گا۔ مصنف مرا ۃ الخیال جو عالمگیر پرستی کے معبد میں صف اولیں کاطالب ہے، لکھتا ہے:’’چوں خاطر سلطاں داراشکوہ بجانب مجانین میل داشت صحبت بہ وے در گرفت‘‘۔بیچارہ علی شیر بھی ہوشیاری و دیوانگی کی بحث میں سرمار رہا ہے، اسے کیا خبر کہ دنیا میں ایسے ترازو بھی ہیں جن کے ایک پلّے میں اگر دیوانگی رکھ دی جائے تو دوسرا پلّہ تمام عالم کی ہوشیاری رکھ دینے سے بھی نہیں جھک سکتا اور پھر ایسے خریدار بھی ہیںجن کو اگر ہوش وحواس کا تمام سرمایہ دے دینے سے ایک ذرہ جنون مل سکتا ہو تو بازار یوسف کی طرح ہر طرف سے ہجوم کریں۔ بہر کیف خواہ کچھ ہو،عالمگیر ؒ کی ہوشیاری سے تو ہمیں داراشکوہ کی دیوانگی اور جنون دوستی پسند آتی ہے کہ وہاں تو تیغِ ہوشیاری کشتگان حسرت کے خون سے رنگین ہے اور یہاں خود اپنے جسم کے رگہائے گردان سے خون کی نالیاں بہہ رہی ہیں۔ شاید داراشکوہ بھی عالمگیر جیسے ہوشیاروں کی ہوشیاری سے تنگ آگیا تھا؛اس لئے اس نے سرمدؔ جیسے مجانین کی صحبت کو ہوش والوں کی مجلس پر ترجیح دی۔ غرض کہ سرمدؔ دارا شکوہ کی صحبت میں رہنے لگا اور اسے بھی سرمد سے کمال عقیدت تھی۔اس زمانہ میں عشق کی شورش انگیزیاں کبھی کبھی اسے باہر نکلنے پر مجبور کرتیں؛لیکن چوں کہ معلوم ہوچکا تھا کہ آخری امتحان گاہ یہی ہے؛ اس لیے شاہجہان آباد سے نکل نہیں سکتا تھا، یہاں تک کہ شاہجہاں کی علالت اور داراشکوہ کی نیابت نے عالمگیری ارادوں کے ظہور کا سامان کردیااور ایک عرصہ کی شورش و خو ن ریزی کے بعد ۹۶۰۱ھ ؁ میں عالمگیر اورنگ زیب تخت نشیں حکومت ہوا۔ یہ زمانہ دارا شکوہ کے ساتھیوں اور ہم نشینوں کے لیے (بلکہ) خود داراشکوہ کے لیے کم مصیبت انگیز نہ تھا۔ بہت سے لوگ تو داراشکوہ کے ساتھ نکل گئے اور جو رہ گئے انہوں نے اپنے آپ کو ’کشتی ٔ طوفان‘ میں پایا؛لیکن اس رہین بے خبری (سرمد)کو اپنے استغرا ق میں اس کی فرصت کہاں ملتی تھی کہ دنیا کو نظر اٹھا کے دیکھے اور اگر دیکھتا بھی تو وہاں سے کیوں کر نکلتا؛کیوں کہ بایں ہمہ بے خبری اس سے بے خبر نہ تھا کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے۔ عشق کی ابتدائی منزلیں تھیں، آخری منزل طے کرنی باقی ہے اور وہ یہیں پیش آنے والی ہے ؎
’’بیک دہ زخم کہ خوردن ز عشق امن مباش
کہ در کمیں گہ ابرو کمان کش ست ہنوز‘‘
مولانا آزاد کے اس بیان میں صداقت بھی نظر آتی ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے تخت نشیں ہوتے ہی داراشکوہ کے محبین و متوسلین اوردارا شکوہ کو’خسرویٔ شاہانہ‘ کی دعا دینے والوں پر عتاب نازل ہوگیا تھا، چن چن کر سیاسی حکمت عملی کے تحت پس زنداں کئے جاتے رہیں یا پھر ان کو تختۂ دار پر لٹکایا جاتا رہا۔اس کے تئیں کئی دلائل ہیں جو کہ تاریخی سے تعلق رکھتی ہیں؛لیکن یہ بحث ایسی گنجلک، متضاد، غیر واضح اورمبہم ہے کہ کوئی تاریخ نویس اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش میں حوصلہ ہار جائے اور اس کی سانس پھول جائے؛کیوں کہ اس سلسلے میں کوئی واضح تاریخ ہی موجود نہیں ہے،گرچہ سرمدؔ کے واقعات بیان نہ کرنے کے سیاسی مقاصد ہیں، جن کو سمجھنا لازمی ہے۔میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ جو کہ عیاں ہوتی ہے وہ یہ کہ سرمدؔکو تختہ دار پر لٹکایا جانا اورنگ زیب عالمگیر ؒ کی سیاسی حکمت عملی اور شرعی امور پرپابندی کی واضح نشانی ہے۔ اورنگ زیب ؒ نے سرمد ؔ کو تختہ دار پرکیوں لٹکایا۔ مولانا آزاد سرمدؔ کی شہادت متعلق یوں لکھتے ہیں:
’’سرمدؔ کی شہادت کے اسباب تذکرہ نویسوں نے مختلف بتائے ہیں۔ تذکرۃ الخیال میں ہے کہ سرمدؔ کی اس رباعی پر جبہ پوشان شرع کے کان کھڑے ہوئے اور انہوں نے اسے کفر قرار دیا کہ معراج جسمانی سے انکار لازم آتا ہے:
’’ہر کس کہ سر حقیقتش پا در شد
او پہن تر از سپہر پہنا در شد
ملا گوید کہ بر فلک شد احمد
سرمدؔ گوید فلک بہ احمد در شد‘‘
مگر اس ترک سادہ کو فقیہانہ جنگ و جدال سے کیا سروکار تھا، اس نے نظر اٹھا کے دیکھا تک نہیں کیہ کور بصر کیا شور و غوغا کر رہے ہیں؟ وہ تو اس عالم میں تھاکہ جہاں ان اقرار و انکار کی بحثوں کی آواز بھی نہیں پہنچ سکتی ؎
’’در عجائبہائے طور عشق حکمتہاکم ست
عقل را با مصلحت اندیشی ٔ مجنوں چہ کار
لیکن اصل بات یہ ہے کہ عالمگیر کی نظروں میں تو سرمد ؔ کا سب سے بڑا جرم داراشکوہ کی معیت تھی۔ اور وہ کسی نہ کسی بہانے قتل کرنا چاہتا تھا۔ایشیا میں ہمیشہ سے پالٹیکس مذہب کی آڑ میں رہا ہے اور ہزاروں خوں ریزیاں جو پولیٹیکل اسباب سے ہوئی ہیں انہیں مذہب کی چادر اوڑھاکر چھپایا گیا ہے‘‘۔
مولانا آزاد مزید لکھتے ہیں:
’’جب کوئی اور بہانہ نہ ملا تو عریانی و برہنگی کو خلاف رسم شرع ہے، بنیاد قرار دیا اور مذکورہ بالا رباعی سے نتیجہ نکالا کہ معراج جسمانی کا منکر ہے۔ ملا قوی اس زمانہ میں قاضی القضاہ تھے، عالمگیر نے انہیں سرمدؔ کے پاس بھیجا کہ برہنگی کی وجہ دریافت کریں، ملاصاحب نے کہا ہے کہ باوجود کمال علم و فضل برہنہ و مکشوف العورۃ کس عذر پر مبنی ہے؟ سرمدؔ نے کہا کیاکروں شیطان قوی ہے اور فی البدیہ یہ رباعی پڑھی ؎
’’خوش بالائے کردہ چنیں پست مرا
چشمے بدو جام بردہ از دست مرا
او در بغل من ست و من در طلبش
دزدے عجبے برہنہ کردہ است مرا‘‘
ملا صاحب برہم ہوئے اور برہم ہونے کی بات ہی تھی؛کیوں کہ اسلام کی توہین نہیں کی گئی،مگر خود ان کے وجود اسلام عبارت کی سخت اہانت ہوئی، یعنی ان کا اسم سامی ابلیس لعین کا وصف قرار پایا۔ بہر کیف انہوں نے عالمگیر سے آکر کہا کہ کفر کا کافی مواد ہاتھ آگیا ہے اور قلمدان کھولناچاہا کہ علمائے ظاہر کی تیغ خوں آشام اسی نیام میں رہتی ہے؛لیکن عالمگیر کی عاقبت اندیشیوں نے صرف اس بہانے کو کافی نہ سمجھا، وہ خوب سمجھتا تھا کہ سرمدؔ کوئی معمولی شخص نہیں ہے جس کا قتل ایک عامۃ الورود واقعہ سمجھا جائے گا، علم و وفضل کے لحاظ سے کوئی اس کا ہمتا نہیں اور رجوع خلائق کایہ حال ہے کہ سارا شاہجہان آباد اس کا معتقد اور ہوا خواہ ہے؛اس لیے جب تک کوئی بہانہ قوی ہاتھ نہ آئے،اس ارادے کو ملتوی رکھنا چاہیے۔‘‘
سرمدؔ کے متعلق ظاہر پرست قاضیوں کی جور ائے تھی، اس رائے کے خلاف مولانا نے لکھا ہے کہ قاضیوں نے ہمیشہ باطن پرست اہل دل کو مشق ستم کانشانہ بنایا ہے۔جن اہل دل نے اسرار حقیقت سے قربت حاصل کی، انہیں اپنا سر دے کر نجات حاصل کرنا پڑی۔ اس ضمن مین مولانا آزاد لکھتے ہیں:
’’اسلام کے تیرہ سو برس کے عرصہ میں فقہاء کاقلم ہمیشہ تیغ بے نیام رہا ہے۔ اور ہزاروں حق پرستوں کا خون ان کے فتووں کا دامن گیر ہے۔ اسلام کی تاریخ کو کہیں سے پڑھو، سینکڑوں مثالیں کہتی ہیںکہ بادشاہ جب خون ریزی پر آتا تھا تو دارالافتاء کاقلم اور سپہ سالار کی تیغ دونوں یکساں طور پر کام دیتے تھے۔ صوفیہ اور ارباب وطن پر منخصر نہیں،علمائے شریعت میں سے بھی جو نکتہ بیں اسرار حقیقت کے قریب ہوئے فقہاء کے ہاتھوں انہیں مصیبت اٹھانی پڑی اور بالآخر سردے کر نجات پائی۔ سرمدؔ بھی اسی تیغ کا شہید ہے ؎
چوں میرد و نظیریؔ خونیں کفن بہ حشر
خلقے فغاں کنند کہ ایں داد خواہ کیست‘‘
سرمدؔ کی تقدیر میں جنون عشق کے ہاتھوں شہید ہونا لکھا تھا اور پھر خود سرمدؔ نے اس کی طلب بھی کی تھی۔ بالآخر اتفاق رائے سے یہ تجویز طے ہوئی کہ سرمدؔ کو مجلس میں بلایا جائے اور اس سے کشف العورۃ کے متعلق سوال کیا جائے؟ الغرض سرمدؔ کو مجلس میں طلب کی گئی اور کشف العورۃ (برہنگی) کے متعلق سوال و جواب کیا گیا، مجلس طلبی اور پھر سوال و جواب کو مولانا آزاد ؔ کی زبانی سنیں، مولانا آزاد لکھتے ہیں:
’’آخر الامر یہ قرار پایا کہ سرمدؔ کو علماء و فضلائے عصر کے مجمع میں طلب کیا جائے اور تمام علماء کی جو رائے ہو قائم اس کے مطابق فیصلہ کیاجائے؛چناں چہ مجلس منعقد ہوئی اور سرمدؔ کو بلایا گیا۔ سب سے پہلے خود عالمگیر مخاطب ہوا اور پوچھالوگ کہتے ہیں کہ سرمدؔ نے دارا شکوہ کو مژدۂ سلطنت دیا تھا، کیا یہ سچ ہے؟ سرمدؔ نے کہا:’’ ہاں‘‘! اور وہ مژدہ درست نکلا کہ اسے ابدی سلطنت کی تاج پوشی نصیب ہوئی۔ عمامہ بندوں نے کہا کہ برہنگی شرع کے خلاف ہے اور اس کے لیے صاحب عقل و تمیز کا کوئی عذر مسموع نہیں، اس کا جواب تو سرمدؔ نے پہلے ہی دے چکا تھا کہ ع
’’دزدے عجبے برہنہ کردہ است مرا‘‘
مولانا آزاد مجمع عام کی مزید تفصیل والہ داغستانی کی روایت سے نقل کرتے ہوئے لکھا کہ:
’والہ داغستانی انہیں(ایک معروف صوفی)بزرگ سے روایت کرتا ہے کہ جب مجمع علماء میں سرمدؔ کو لباس پہننے کے لیے کہا گیا اور مسموع نہ ہوا تو بادشاہ نے علماء سے کہا کہ محض برہنگی وجہ قتل نہیں ہوسکتی، اس سے کہا جائے کہ کلمہ طیبہ پڑھے۔ اور یہ اس لیے کہا کہ بادشاہ سن چکا تھا کہ سرمدؔ کی عادات عجیبہ میں سے ایک یہ عادت بھی ہے کہ کلمہ طیبہ جب پڑھتا ہے تو لاالٰہ سے زیادہ نہیں کہتا، علماء نے سرمدؔ سے کلمہ پڑھنے کی خواہش کی تو اپنی عادت کے مطابق صرف ’لا الٰہ‘ پڑھا کہ جملہ نفی ہے، اس پر علماء نے شور مچایا تو کہا ’’ابھی تک میں نفی میں مستغرق ہوں، مرتبہ ٔ اثبات تک نہیں پہنچا،اگر’ الااللہ‘ کہوں گا تو جھوٹ ہوگا اور جو دل میں نہ ہو وہ زبان پر کیسے آئے؟ علماء نے کہا ایسا کہنا کفر صریح ہے۔ اگر توبہ نہ کرے تو مستحقِ قتل ہے۔ یہ ظاہر پرست نہیں جانتے تھے کہ سرمدؔ اس سے بہت اونچا ہے کہ کفر و ایمان کی بحثیں سنائی جائیں اور وہ قتل و خون کے احکام سے مرعوب ہو۔ کفر ساز تو اپنے مدرسہ و مسجد کے صحن میں کھڑے ہوکر سوچتے تھے کہ اس کی کرسی کتنی اونچی ہے اور وہ اس منار عشق پر تھا جہاں کعبہ اور مندر بالمقابل نظر آتے ہیں اور جہاں کفر و ایمان کے علم ایک ساتھ لہراتے ہیں ؎
’’کشورے ہست کہ در وے وہ و از کفر سخن
ہمہ جا گفت و شنو برسرایمان نہ رود
اور سرمدؔ نے تو اپنی اصلی حالت بے کم و کاست بیان کردی تھی۔ ایمان بالغیب پر جو لوگ قانع نہیں ہوتے اور اس عدم قناعت ہی کا نام ’تلاشِ حقیقت‘ ہے وہ اپنے اقرار کو مشاہدۂ غیبی سے استوار کرنا چاہتے ہیں۔ اورشاہد حقیقت کی رونمائی نقد شہادت ہے جو ابھی سرمد ؔ کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔پس جس چیز کو دیکھا نہ تھا کیوں کر کہہ دیتا کہ ’’ہے‘‘۔ اس ملک میں جتنے رہرو ہیں سب ہی کو اس منزل سے دو چار ہونا پڑتا ہے؛لیکن سرمدؔ کا جرم یہ تھا کہ وہ جس جام کو چھپ کر پیتے ہیں، سرمدؔ نے اعلانیہ منھ سے لگایا اور درۂ محتسب کا مستحق ٹھہرا۔‘‘
اب جب کہ دربار عالمگیری میں وجۂ قتل پختہ ہوچکی تھی، عمامہ اور خرقہ پوش اور دربارِ عالمگیری کے پرستان اکبر کو تختۂ دار پر لٹکائے جانے کی مضبوط دلیل ہاتھ لگ گئی تھی۔ شاید ظاہر پرست علماء کے دامن پر کاتب تقدیر نے سرمدؔ کا خون لکھا تھا،کیوں کہ سرمدؔ اس کی آمدکی دیرینہ خواہش کا بڑی شدت سے کیا تھا، اْس نے اِس خواہش کو سن لیا تھا،مگر اپنے محبوب کی شہادت کا خون اپنے ذمہ نے لے کر اوروں پر کندھے پر ڈال دیا۔ آگے کی داستان مولانا آزادؒ کی زبانی ہی سنیں، مولانا لکھتے ہیں:
’’غرض کہ جب سرمدؔ نے تو بہ نہ کی تو علماء نے بلا تامل فتوائے قتل صادر کیا اورد وسرے دن قتل گاہ میں لے گئے، بموجب بیان مراۃ الخیال یہ واقعہ ۲۷۰۱؁ھ میں ہوا کہ عالم گیر کی تخت نشینی کو تین سال سے زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا ؎
’’مو بمویم دوست شد ترسم کہ استیلائے عشق
یک انا الحق گوئے دیگر برسر دار آورد‘‘
شاہ اسد اللہ نامی ایک مرد درویش وحق آگاہ راوی ہیں کہ:
’’مجھے سرمدؔ کی خدمت میں کمال خصوصیت حاصل تھی۔ جب شورش و ہنگامہ شروع ہوا تو مجھ سے نہ رہا گیا۔ ایک دن موقع پاکر عرض کیا کہ اگر اپنی وضع وحالت بدل لیں تو بندگان الٰہی کی منت و سماجت دیکھتے ہوئے بظاہر کوئی نقصان نہیں‘‘ یہ سن کر نظر اٹھائی اور اپنا شعر پڑھ دیا ؎
’’عمریست کہ آوازۂ منصور کہن شد

من از سرنو جلوہ وہم دار و رسن را‘‘
آخر الامر سرمدؔ کو تختہ ٔ دار پر لٹکائے جانے کا دن اور وقت مقرر ہوا اور پھر ایک صوفی ٔحال مست، مجذوب اور فنا فی العشق کو شرعی امور کے تحت ظاہر بینوں کے ہاتھوں ازقلم فقہ و فتاویٰ سولی دے دی گئی۔ آگے کی تفصیل مولانا آزاد کی زبانی سنئے! مولانا آزاد لکھتے ہیں:
’’جب سرمدؔ کو شہادت گاہ لے چلے تو بیان کیا جاتا ہے کہ تمام شہر ٹوٹ پڑا تھا اور اس قدر ہجوم تھا کہ راہ چلنا دشوار ہوگیا تھا۔ عشق کی نیرنگیوں کو کیا کہیے؟ جہاں کا عام پسند تماشا خوں ریزی ہے، جہاں قربانی سے بڑھ کر کوئی د ل پسند کھیل نہیں ہے، جب کوئی سردادہ سر بکف بڑھتا ہے تو معلوم ہوتا دولہاکی سوار جارہی ہے اور براتیوں کا ہجوم ہے کہ شانے سے شانہ چھلتا ہے ؎
’’بہ جرم عشق تو ام، می کشند و غوغائے ست
تو نیز برسربام آ، کہ خوش تماشائے ست ‘‘
مگر یہ عشق مجازی تھا کہ سربام آنے کی خواہش کی گئی ورنہ سرمدؔ کو سر اٹھانے کی بھی ضرورت نہ ہوئی۔‘‘
یہ کیسی عشق کی افتادگی اور سرخیزی تھی کہ دار و رسن سے انسان خوف زدہ ہوتاہے؛لیکن سرمدؔ اس سے خوش ہورہا ہے، یہ کیسا جنون تھا کہ سرِدار بھی مسکرار ہا ہے۔ انسان موت سے ڈرتا ہے؛لیکن سرمدؔ خوشی سے جھوم رہا ہے،نغمہ زن ہے اوروصل کی شادکامیوں کے تصور سے محظوظ ہورہا ہے۔ یہ عشق کی سرمدیت اور اس کی جاودانی تھی ورنہ توعامۃ الخلق موت سے لرزاں ہوا کرتی ہے۔ سرمد کی سرمدیت ہی تھی کہ وہ عشق کی مئے ہلاہل پی کر گمنام نہ ہوا؛بلکہ ’جاوداں‘ ہوگیا۔جلاد آیاتو سرمدؔ یہ کہ ٹھٹھرتا بجائے اس کے،و ہ مسرور ہوا اس کی مسرت بھی مطلوبہ تھی؛کیوں کہ اس نے تو ابتدا ہی میں کہہ دیا تھا کہ ؎
’’بیہودہ چرا در طلبش می گردی؟
بنشیں! اگر او خدا ست خود می آید‘‘
اور قضا کا پروانہ لیے اس کا محبوب اس کے سامنے کھڑا تھا، جلاد جب قریب آیا تو سرمدؔ نے جھومتے ہوئے کہا ’’فدائے تو شوم، بیا بیاکہ تو بہر صورتے کہ می آئی، من ترا خوب می شناسم‘‘۔ اور یہ نعرۂ فنا لگاتا بھی کیوں نہیں؛کیوں کہ اس کا یہی مسلک جو ٹھہرا۔ مولانا آزاد آگے لکھتے ہیں:
’’جب جلاد تلوار چمکاتا ہوا آگے بڑھا تو مسکرا کے نظر ملائی اور کہا: ’’فدائے تو شوم، بیا بیاکہ تو بہر صورتے کہ می آئی، من ترا خوب می شناسم‘‘ صاحب مراۃ الخیال راوی ہے کہ اس جملے کے کہنے کے بعد یہ شعر پڑھا اور مردانہ وار تلوار کے نیچے سررکھ کر جان دے دی ؎
’’شورے شد و از خوا ب عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقی ست شب فتنہ غنودیم‘‘
جس خاک(سرمد) میں ایک برہمن زادہ(ابھے چند) نے آتش فروزاں کی تھی،وہ خاک (سرمد) مجازکی راہوں کو ٹھکراتا ہوا حقیقت سے یوں ہم عنان ہوا گویا تقسیم ازل کے ہجر کو وصل کی شادکامیابیاں نصیب ہوئی ہوں۔ سرمدؔ خاک و خون میں تڑپتا رہااور یوں جان دے دی کہ جان دینا بھی اسی کافر عشق کے رہین منت ہو ؎
’’بنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیدن
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را‘‘
سرمدؔ نے ہنستے،مسکراتے اور وصل کی شادکامیوں کے نغمے گاتا ہوا دار و رسن کو چوم لیا، سرمد ؔ کا کون تھا جو آہ و بکاکرتا، نہ اولاد، نہ ماں باپ، نہ کوئی رشتہ دار، اور پھر اس پردیسی تاجر کا اِس پردیس میں کوئی کیوں کر ہوگا کہ جس نے متاع دنیوی کے عوض متاع ابدی اور سرمدی کا سودا کرلیا ہو۔ کوئی اس کا تھا بھی نہیں جو اس قتل کے خلاف آواز بلند کرتا،عوام اور اس صوفی ٔ حال مست کے معتقدین اقتدار کے خوف سے آواز بلند بھی نہیں کرسکتے تھے، ایک اس کا معتقد تھا، داراشکوہ ۔وہ بھی اپنے بھائی کے خلاف جنگ کرکے ابدی نیند سو چکا تھا۔ اور کوئی بعید نہیں کہ تاریخ نویسوں نے بھی سرمد ؔ کے متعلق حق بیانی یا اس کے احوال کے تئیں خامہ فرسائی نہیں کی؛کیوں کہ عتاب ِعالمگیری کا خدشہ ان کے روح کو لرزاں کردیتا ہو اور پھر50سال تک اورنگ زیب اقتدار پر متمکن بھی رہے، بنا بریں یہ بھی گمان غالب ہے کہ تاریخ نویسوں کو اقتدار کے خوف نے پچاس سال تک زبان بندی پر مجبور رکھا۔ اس لیے بھی سرمدؔ نصف صدی تک کے لیے گوشتہ گمنامی میں چلے گئے اور پھر رفتہ رفتہ منظر نامہ سے ہی غائب ہوکر رہ گئے۔ ہاں البتہ ان کی قبر جامع مسجد کے پائیں مشرقی جانب عشق کی یاد کو ہر زائر اور مسافر کو یاد دلاتی رہتی ہے بقول حافظ شیرازی ؎
ہرگز نہ میرد آں کہ دلش زندہ شد بہ عشق
ثبت است برجریدہ ٔعالم دوام ما
صاحب مراۃ الخیال کی عالمگیر کی خوشامد کی تنقیدکرتے ہوئے مولانا آزاد نے لکھا ہے کہ:
’’صاحب مراۃ الخیال کو عالمگیر کی خوشامد سے اتنی فرصت کہاں تھی کہ سرمد ؔ کی نعش خون آلود پراشک افشانی کرتا؛لیکن ستم یہ ہے کہ اس سنگین دلی پر قانع نہ ہو کر چاہتا ہے کہ کسی طرح یہ خون ریزی بھی عالمگیر کے دفتر مناقب و فضائل میں جگہ پائے، حالاں کہ اس دفتر میں تو پہلے ہی سے ہر صفحہ رنگین ہے۔ اس کو بھی عشق ہی کی شیوہ گری سمجھئے کہ یہاں کی قربانیوں سے جن کے ہاتھ خو ن آلود ہوتے ہیں وہ مجرم و خونی ہو نے کی جگہ تحسین و ثواب کا صلہ مانگتے ہیں۔ گویا میدان عشق بھی قربان گاہ ”منیٰ” ہے کہ جس قدر بھی خون بہائے، عین ثواب ہے ؎
’’یہ عجیب رسم دیکھی کہ بروز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے وہی لے ثواب الٹا‘‘
مولانا آزادؔ نے سرمد ؔ کی قبر کے متعلق جو بیان کیا ہے او رلوگوں کے درمیان پھیلی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی ہے۔تاہم یہ بھی قدرت کا ہی کرشمہ کہہ لیں کہ سرمدؔ کے متعلق اس طرح افراط و تفریط سے پاک مفصل احوال قلم بند کرنے والے کا بھی مزار اسی سرمدؔ کے مزار سے متصل دس قدم کی دوری پر واقع ہے۔ مولانا آزاد ؔ باغ میں محو ِ استراحت ہیں جب کہ سرمدؔ فقیر اصلی بن کر یوں ہی سرِ راہ خاک ڈالے خونیں رنگ کے بنے ہوئے خونیں مزار میں سویا ہے۔ مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ:
’’بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سرمدؔ کی جہاں قبر سمجھی جاتی ہے یہ اس کا مدفن نہیں صرف مشہد ہے؛لیکن والہ داغستانی نے تصریح کردی ہے کہ: ’’در جنب مسجد جامع گردن او را زدند و در ہماں جا دفن کردند‘‘ یہ مقام موجودہ مقام (مزار) کے سوا اور کون سا ہوسکتا ہے؟ پھر لکھتے ہیں کہ: ’’راقم حروف بہ زیارت مزار وے مکرر مشرف شدہ ام، در چہار فصل سبزہ از تربتش کم نہ می شود۔ والحق فیض عجیبے و زیارت آں منصور ثانی ہست‘‘۔ والہ داغستانی عہد محمد شاہی میں تھا اور اس کے تذکرے کاسال تصنیف ۰۶۱۱ھ ؁ ہے؛لیکن آج بھی مشہد زیارت گاہ عوام و خواص ہے اور ہمیشہ فاتحہ کے ہاتھ اس کے آگے روبہ آسمان رہتے ہیں ؎
’’بہ سرتربت حافظؔ چوں گزری ہمت خواہ
کہ زیارت گہہ رندان جہاں خواہد بود‘‘
مولاناآزاد نے والہ داغستانی کے قول کے بموجب مزار سرمد ؔ کی نشان دہی کی ہے آج جب کہ سرمد کو شہید ہوئے کئی صدی گزرچکی ہے، مغلیہ سلطنت کو زیر و زبر ہوئے بھی ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے، اب اس کے کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں، جن پر ہندو روسیاہ و لعین اقتدار کے نشہ میں دھت ہو کر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں؛لیکن قدرت کی یہ بھی کاریگری دیکھ لیں کہ جس طرح اس نے اپنے گھر(جامع مسجد) کی حفاظت کر رکھی ہے، اسی طرح اپنے عاشق زار کی تربت ِ ناز کو بھی زمانہ کے حوادث سے باقی و محفوظ رکھا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مخلوق کی بیہودہ عقیدت مندی نے سرمدؔ کے مزار کو کسی’’شوالہ‘‘ سے زیادہ کا رتبہ دے رکھا ہے، لال دھاگے اس کے مزار کی کھڑکیوں سے جا بجا بندھے ہوئے ہیں، پیر و جواں، مرد و خواتین بلاتفریق سرمدؔ کے محبوب حقیقی کا سجدہ و کورنش بجا لانے کے سرمد ؔ کے مزار کا ہی سجدہ کر رہے ہیںجو کم از کم میرے لیے یہ بات سخت ناگوار ہے اور شاید اسی توحش کی وجہ سے اس کے مزار کے قریب نہ جاسکا۔ دل نے چاہا کہ قریب جاؤں؛لیکن طبیعت کے تصلب اور تربیت کے تقشف نے مجھے قریب جانے سے باز رکھا،ہاں البتہ دور سے ہی مزارِ ناز پر فاتحہ پڑھ لینا غنیمت سمجھا۔ مجاور نے جب شکلاًدو’ دیوبندیوں ‘کو مزارِ سرمد کو عقیدت کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اور اس کے متعلق آپس میں گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے اندر آنے کی خواہش کی؛لیکن معذرت کے ساتھ ’شکریہ‘ کہہ دینا پڑا۔دراصل ہماری ابتدائی تعلیم و تربیت جس ماحول میں ہوئی ہے، اس ماحول میں اولیاء کو بس ولی تک ہی سمجھا گیا، کبھی حاجت روا نہ سمجھایا گیا، فقیر کو فقر و فاقہ مستی کی صورت تک ہی مناسب سمجھا۔ تصوف کے لیے ایسے رہنما خطوط متعین کئے ہیں کہ اگر کوئی بھی اس سے سرمو بھی انحراف کرے تو وہ شریعت کے خلاف نفس پرستی پر عمل پیرا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی و اضح مثال حکیم الامت حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کی مجددانہ ہستی ہے کہ جن کی خانقاہ (تھانہ بھون )میں تمام مکروہات کا گزر نہیں تھا؛بلکہ اخلاق و آداب کے تئیں بھی وہ سختی کے ساتھ پابندی کے قائل تھے ۔یہی وجہ ہے کہ ان بزرگوں کے مزارات شرک و عبادات کی کثافتوں سے الحمدللہ پاک ہے ۔ سماع،رقص اور دیگر عجمی صوفیاء کے لوازمات کو حرام تصور کیا گیا جس کے مثبت نتیجے سامنے آئے ۔الغرض اہل دل سے رشتہ اور ان سے مناسبت و ارادت رشتہ ٔ اسلام کا تقاضا ہے،اس لیے بھی مجھے ان فقیروں اور درویشوں سے قلبی لگاؤ ہے۔ اور یہ بھی کہہ لیجئے کہ کم از کم برصغیر کے مسلمانوں کی خوش قسمتی کے ساتھ بد نصیبی بھی ہے کہ انہیں صوفیا ء کے ذریعہ اسلام کی معرفت ہوئی، بنابریں وہ صوفیا ء سے تعلق، عقیدت اور محبت ایمان کی حد تک رکھتے ہیں۔ پھر ابلیس کی تلبیس نے اپنا کام کر دکھایا کہ ولیوں اور فقیروں کے مزار ات کا سجدہ کراکر ہی دم لیا۔ عقیدت کی شدت؛بلکہ حد درجہ کور مغزی اور جہالت کہہ لیں کہ اگر کسی نے ان خلاف شرع امور پر نکیر کی تو وہ ’منافق‘،’ زندیق‘، ’کافر‘ ،’ مرتد‘ قرار پایا ،جب کہ ولیوں سے عقیدت کا یہ تقاضا ہرگز نہیں ہے۔
خیر، بات کہیں اور نکل گئی۔ دم ِ آخریں عشق کی شورشوں میں گم رہنے والے، دیدار ِشاہد ِازلی میں مستغرق کوکیا اس محبوب کا کلمہ پڑھنا نصیب ہوا تھا یا نہیں؟ وہی کلمہ جس کو نہ پڑھنے کی پاداش میں کندھے کو گردن کے بوجھ سے ہلکاکئے جانے کا فتویٰ ظاہر پرستوں نے دیا تھا؟ کیا یہ مشکل ہے؟ شاید نہیں، جس محبوب نے اپنی ’لگی‘ کسی کو لگادی ہو،جس نے نگاہ ازل سے جگر کو ہمیشہ کے لیے خوں فشاں کردیا ہو اور جس معشوق نے عاشق کا امتحان دل کے بجائے گردن لے کر کیا ہو ،کیاوہ معشوق اسے اب بھی دنیا کے سامنے شرمندہ کرسکتا ہے؟ اس کا جواب مولاناآزادنے یوں دیا ہے، مولانا آزاد لکھتے ہیں:
’’خلیفہ ابراہیم جن کے حالات اوپر گزر چکے ہیں، راوی ہیں کہ سرمدؔ نے زندگی میں کلمہ طیبہ’’لا الٰہ‘‘ سے زیادہ نہیں پڑھا؛لیکن جب شہادت پائی تو لوگوں نے سنا کہ سرکشتہ سے تین بار ’’الا اللہ‘‘کی صدا بلند ہوئی، اس کے علاوہ والہ داغستانی لکھتے ہیں کہ: ’’ایک ثقہ جماعت سے سنا گیا ہے کہ سرمدؔ کا سرمقتول کلمہ طیبہ پڑھتا رہا اور اتنا ہی نہیں؛بلکہ کچھ دیر مصروف حمد ِ الٰہی بھی رہا‘‘۔ موجودہ زمانے میں ایسی روایتوں پر لوگ بمشکل یقین لائیں گے اور سوانح نگار کا فرض ہے کہ وہ خوش اعتقادی کی روایات اور تاریخ کو الگ الگ رکھے؛لیکن ہمیں تو یہ بیان پڑھ کر کچھ بھی تعجب نہ ہوا؛کیوں کہ اگر خوش اعتقادی کے کان نہیں ہیں تو کیا حقیقت بینی کی آنکھوں سے بھی محروم ہوجانا چاہیے؟۔ ہم نے بہار میں شگفتہ و شاداب پھولوں اور خزاں میں افسردہ اور خشک شاخوں کو باتیں کرتے دیکھا ہے، پھر اگر ایک شہید عشق کے سرمقتول کے لب ہلتے نظر آئیں تو کیوں تعجب ہو؟ ممکن ہے کہ سرمدؔ کے بے جان سر سے آواز نکلی، مگر ارباب بصیرت نے اس کی زبان حال کو تو ضرور متکلم دیکھا اور ڈھائی سو برس سے زیادہ گزر گئے، ہمارے کانوں میں تو اب تک مشہد سرمدؔ سے صدا آرہی ہے کہ ؎
’’کس چہ داند مردن ہائے عشق
منت ایں مرگ بر جان من است‘‘
الغرض سرمدؔ نے جس آگ سے کھیلنے کی کوشش سندھ اور ٹھٹھہ میں کی تھی؛بلکہ اسے تو کھیلنے کی دعوت دی گئی تھی،اور وہ نتائج سے بے پرواہ ہوکر اس سے کھیلتا بھی چلا گیا، آخرش اس کا خمیازہ اسے اپنی گردن نچھاور کرکے بھگتنا پڑا۔ اور عشق کا یہی دستوربھی ہے کہ اولاًاس کی آگ لگتی ہے، پھر یہ آگ چنگاری کی شکل اختیار کرتی ہے پھر یہی آگ اپنے سوا تمام خس و خاشاک کو خاکستر بناکر ہی دم لیتی ہے۔ یہی سرمدؔ کے ساتھ بھی ہوا۔ عشق اور عقل کی جنگ میں عشق ہمیشہ شکست خوردہ ہوا ہے۔ عشق چاہتا ہے کہ آگ نمرود میں بے خطر کود پڑے، عقل عیار ہے ،سو سو بہانے تراش لیتی ہے۔ سرمد بھی اسی راہ کا رہرو تھا، اس کی کامیابی اپنی جان گنوانے میں ہی تھی، اور پھر سرمدؔ نے بصد اشتیاق کہا بھی تھا کہ ؎
’’بیہودہ چرا در طلبش می گردی؟
بنشیں! اگر او خدا ست خود می آید‘‘
اورپھر اس کا محبوب اسی شکل میں آیا تو پھر شکوہ کس کا اور شکوہ کیوں؟ اس کی افتادگی اور رستخیزی عشق کی یہی معراج بھی تھی کہ وہ کشتہ معشوق ہوکر درجہ شہادت کے عظیم رتبہ کو پہنچے۔حافظؔ کی زبان میں یہ شکوہ درست نہیں ہے ؎
’’برق عشق آتش غم در دل حافظ ؔزد و سوخت
یار دیرینہ بہ بیند کہ با یار چہ کرد‘‘
یہاں خود سرمدؔ کے اس رباعی کو اصل سمجھنا چاہیے کہ جس میں بصد اعتراف حقیقت خود اپنی حالت بیان کی ہے، اور اسی عشق پر قانع ہوکر دلیری ؛بلکہ پختگی کے ساتھ سرمدؔ اپنی رباعی میں کہتا ہے ؎
سرمدؔ غم ِ عشق بوالہوس را نہ دہند
سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند
عمرے باید کہ یار آید بہ کنار
ایں دولتِ ’’سرمد‘‘ ہمہ کس را نہ دہند
آ خری بات:
عشق اور عقل میں ہمیشہ آویزش اور حسد کی روایت برسوں سے چلی آرہی ہے؛بلکہ تخلیق آدم سے ہی یہ کشاکش ٹھنی ہے۔عشق کہتا ہے کہ آتش نمرودمیں بے خطر کود پڑے، عقل کہتی ہے کہ آگ ہے۔ عشق کہتا ہے کہ دشت و صحرا کی خاک چھانی جائے، عقل کہتی ہے دشت انسانوں کے لیے زیب نہیں۔ عشق کہتا ہے کہ گریباں چاک کرلیاجائے، عقل کہتی ہے کہ کشف العورۃ حرام ہے۔ عشق کا مطالبہ ہے کہ پہاڑوں کا سینہ چاک کرکے دودھ کی نہر نکال لی جائے، عقل کہتی ہے کہ دودھ کا یوں ضائع کرنا ازر وئے شرع ممنوع ہے۔ عشق کہتا ہے کہ سمندر کے لطمات ِ پیہم میں غرق ہوا جائے، عقل کہتی ہے کہ یوں جان کا گنوانا انسانی تخلیق کے منافی ہے۔عشق کہتا ہے کہ جب تک صورت محبوب کو نہ دیکھے، اس کا کلمہ نہ پڑھو، عقل منھ زور ہو کر کہتی ہے کہ’ پڑھو‘۔ پھر اس کشاکش میں ظاہراً عاشق ناکام ہوجاتا ہے، اس کی ناکامی کا ظاہری سراپا’ سرمدؔ‘ ہے۔ کیا معشوق کی فتنہ انگیزی نہیں ہے کہ وہ ایک ایسے ولی کامل، فقیہ العصر،خدا ترس، تصلب فی الدین میں کامل و اکمل بادشاہ حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے دامن پر سرمدؔ کے خون کا دھبہ لگادیتا ہے کہ جس نے بیجاکبھی کسی دشمن پر تیر و سنان تو کجا انگلی بھی نہ اٹھائی ہو۔جس نے سانس بھی اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے میدان کارزار میں لیا ہو۔ جس نے انتظام ِسلطنت و رعایا کو اس خوش اسلوبی سے انجام دیا کہ خلافت راشدہ کی یاد تازہ ہوگئی ہو۔خود اورنگ زیب عالگیر ؒٹوپی سی کر اور قرآن پاک کی کتابت سے دو وقت کی روٹی کماتے تھے؛لیکن ملکی خزانہ سے ایک پائی بھی لینا گوارہ نہ کیا ہو۔شریک حیات دن رات چکی پیستی تھی، ہاتھ چھل گئے، بادشاہ سے شکایت کی تو بادشاہ دینادار نہیں تھا ،فوراً حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سنت یاد دلاتے ہوئے صبر کی تلقین کی۔اس شخص کے دامن پر ایک بے ضرر انسان کے خون کا دھبہ لگادیا، یہ بھی کسی معمہ سے کم نہیں۔ یہ عشق و عقل کی آویزش کا نتیجہ ہے اس جنگ میں عشق تو کامیاب ہوگیا؛لیکن عقل (اورنگ زیب عالمگیر) جس کو ظاہر ی احکامات پر عمل کرنا تھا وہ عوام کی نظروں میں مطعون و رسوا ٹھہرے۔اس جگہ یعنی عشق و عقل کی کشاکش میں نہ تو انسانی عقل کام کرتی ہے اور نہ ہی نقل و روایت سود مند ثابت ہوتی ہے۔آخر اس قتل کا ذمہ دار کون ہے یہ سوال ہمیشہ برقرار رہے گا۔ اس کے تئیں غور و خوض کے بعد کئی نتائج نکالے جاسکتے ہیں۔ تاہم جوش جذبات میں آکر جس اورنگ زیب ؒکو مولانا آزاد نے مطعون قرار دیا تھا،تاہم اسی ذکر کے آخری پیراگراف میں حضرت اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ کا دفاع بھی کیا ہے، مولانا آزاد علیہ الرحمہ پہلے تو جذبات کی رو میں بہتے ہوئے بہت ’’کچھ ‘‘ کہا ہے ، پھر دانش مندی سے اورنگ زیب کادفاع بھی کیا ہے ،لکھتے ہیں:
’’یہ سرمدؔ کے خون ہی کی نیرنگیاں تھیں کہ اس تمام مدت میں عالمگیر کو کبھی راحت و اطمینان کے دن نصیب نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ پیغام اجل بھی آیا تو عالم غربت و پریشانی میں، مگر سوانح نویس کے قلم سے ایسے جملے نہیں نکل سکتے۔ ہمارے لیے تو یہی بہتر ہے کہ ہوسکے تو عالمگیر کو بھی اس معاملہ میں معذور سمجھیں۔ تاریخ قیاس،ظنون، اور شخصی آراء کے مجموعہ کا نام ہے۔ آج چند میلوں کے فاصلہ پر ایک حادثہ گزرتا ہے تو اخباروں کے دو نامہ نگار متفق البیان نہیں ہوتے۔ کسی کو معلوم ہے کہ اس وقت کی اصلی حالت کیا تھی اور عالمگیر ؒ کے گرد و پیش کن حالات و اسباب کا ہجوم تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ خون رفتگان عشق جب اپنے قاتلوں سے گلہ مند جفا نہیں تو ہمیں کیا حق ہے کہ ان کی شکایت سے قلم آلودہ ہوں۔ جب سرمدؔ نے جلاد سے کہا کہ ’’تو بہر صورتے کہ می آئی من ترا خوب می شناسم‘‘ تو اسے عالمگیر اور عالمگیری علماء سے کیا شکایت ہوگی؟ بات یہ ہے کہ دیار محبت میں انتقام و دعوے کی شنوائی نہیں اور عشق کے مذہب میں کینہ و عداوت سے بڑھ کر کوئی شی حرام نہیں۔ یہاں سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ قاتل تیغ لے کر آئے تو سر جھکا دیجئے اور ہوسکے تو اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیجئے ؎
’’شدست سینہ ظہوری پر از محبت یار
برائے کینہ اغیار در دلم جا نیست‘‘
تاہم میری نظر میں:’’کشتۂ معشوق ہونا عشق کا عین تقاضا ہے، سرمدؔ نے جان دے کر اس تقاضا کو بھی پورا کردیا۔سرمد کی شہادت کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے؛بلکہ اس شہادت کا ذمہ دار خود سرمدؔ اوراس کی افتادگی ہے‘‘۔ بقول جگر ؔ ؎
جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا
سرمد سردے کر سرفراز ہوگیا اور اسے یقین بھی تھا کہ اسے ایک دن سردے کر ہی سرفراز ہونا ہے، اسی لیے تو ٹھٹھہ کے دشت وصحراکو پامال کرتا ہوا گولکنڈہ پہنچاتھا، جب اسے کسی جہت سے گولکنڈہ میں’’سردینے‘‘کا معمہ حل ہوتا ہوا نظر نہ آیا تو بے اختیار کشاں کشاں شاہجہان آباد د(دہلی) آگیا۔اسے یہاں اپنی سرفرازی نظر آگئی تھی، دارا شکوہ اپنے بھائی کے ساتھ معرکہ میں قتل ہوچکا تھا، لیکن پھر بھی اس نے یہاں سے ٹلنا گوارہ نہ کیا،گرچہ دارا شکوہ کے کئی مقربین دہلی سے کوچ کرچکے تھے ؛لیکن سرمدؔ دہلی سے ٹلا نہیں ؛کیوں کہ اس نے اپنی سرفرازی اسی خاک میں محسوس کرلی تھی، سرمدؔ والہانہ انداز میں کہتا ہے اور اس کا یہ بانکپن دیدنی بھی ہے ؎
از منصبِ عشق سرفرازَم کردند
وز منّتِ خلق بے نیازَم کردند
چو شمع در ایں بزم گدازم کردند
از سوختگی محرمِ رازم کردند
حافظ نے اس تعلق سے بہت ہی عمدہ ترکیب بیان کی ہے،عشق کیجئے، مگر مئے عشق چھپ کر پیجئے! ورنہ ظاہر پرستوں کے کفر کے گولے تعاقب کریں گے؛ کیوں کہ مئے عشق چھپ کر ہی پی جاتی ہے اور پھر جب اس کا نشہ چڑھ جاتا ہے تو کمال ہوشیاری سے اسے ضبط بھی کرنا پڑتا ہے اورسرمدؔ سے ہی چوک ہوگئی تھی کہ اس نے سرعام مئے عشق پینے کی خطا کی تھی اور پھر جب اس کا نشہ سر چڑھا تو گردن نچھاور کرکے ہی اس کافری سے نجات پائی۔حافظؔ نے کیا خوب کہا ہے ؎
دانی کہ چنگ وعود چہ تقریر می کنند
پنہاں خورید با کہ تکفیر می کنند
ختم شد
(نوٹ : یہ مکمل مضمون ’حیات سرمدؔ مؤلفہ مولانا ابو الکلام آزاد‘ نامی کتابچہ کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے ،تمام حوالہ جات اسی کتابچہ سے ماخوذ ہیں )
٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker