شمع فروزاںمضامین ومقالات

عبرت وموعظت کے کچھ پھول

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
سکریٹری وآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ماہ نومبر دسمبر۲۰۱۸ء میں اندرون ملک کے علاوہ چار اسفار بیرون ملک کے بھی ہوئے، سفر میں انسان نہ صرف نئی نئی جگہوں کو دیکھتا ہے اورنئے مناظر سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے؛ بلکہ بہت سے سبق آموز پہلو بھی اس کے سامنے آتے ہیں اور آدمی گلہائے عبرت وموعظت سے اپنے دامن کو بھر سکتا ہے، تو ایسے ہی کچھ پھول قارئین کے لئے پیش ہیں:
۲؍نومبر سے تقریباََ ایک ہفتہ کے لئے ترکی کا سفر ہوا، اس سے پہلے بھی دو بار مسلمانوں کے اس عظیم ملک میں جانے کی سعادت حاصل ہوئی، اس کی عظمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے سب سے طویل عرصہ یعنی تقریباََ چھ سو سال عالم اسلام اور اسلامی مقدسات کی حفاظت کی ہے، مجھے ترکی کے شہر استنبول جانے کا موقع ملا ،جو طویل عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ رہا ہے، اچھا خاصا زمانہ ایسا گزرا ہے کہ یہیں سے ایشیاء ،افریقہ اور یوروپ کے اکثر ملکوں کی قسمت لکھی جاتی تھی، اور ان کے نام سے دنیا کے بڑے بڑے ایوان شاہی لرزہ بن اندام ہو جاتے تھے، ترکی کے سفر کا ایک خوشگوار پہلو یہ ہے کہ آپ کا جہاز جیسے ہی استنبول میں داخل ہوتاہے، ہر طرف مسجدوں کے بلند مینارے آپ کے دیدۂ دماغ ودل کواپنی طرف کھینچتے ہیں، ایک مسلمان کو یہ منظر اس قدر بھاتا ہے کہ گویا یہیں سے ترکی کا سفر وصول ہو جاتا ہے۔
کانفرنس سے وقت بچا کر بلکہ چُرا کر پچھلے اسفار کی طرح اس بار بھی ترکی کے مشہور عالَم’’ میوزیم توپ کاپی‘‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، انبیاء کرام، اہل بیت اور اصحاب رسول کے آثار دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی، اور میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مبارک خواب گاہ کی زیارت سے بھی شرف یاب ہوا؛ لیکن چند باتیں خاص طور پر متأثر کن تھیں، ان میں ایک خوش آئند بات اسلام کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے،ایک زمانہ میں تو وہاں داڑھی، نقاب ، عربی لباس اور مسلمانوں کی روایتی ٹوپیوں پر پابندی تھی، پھر جب یہ پابندی ختم ہوئی تو خال خال ایسے لوگ نظر آتے تھے، اب ما شاء اللہ پہلے سے کہیں بڑھ کر داڑھی کا رواج ہے، خواتین عام طور پر اسکارف کا استعمال کرتی ہیں، اورکہیںکہیں برقعہ کا استعمال بھی نظر آتا ہے، پہلے بہت کم اذان کی آواز سننے میں آتی تھی، اب نماز کا وقت شروع ہوتے ہی ہر طرف فضاء میں اذاں کی آواز گونجتی ہے، اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے عثمانی سلاطین کو، کہ انہوں نے قصورومحلات تعمیر کرنے کی بجائے دیدہ زیب، خوبصورت اور پُر شکوہ مسجدیں تعمیر کیں، تاریخی آثار کے اعتبار سے یہ مسجدیں نمازیوں کے علاوہ تفریح کرنے والوں کے لئے بھی قابل دید یادگاریں ہیں، ترکی سلاطین جب بھی کوئی ملک فتح کرتے تو کوئی مسجد تعمیر کرایا کرتے تھے، موجودہ صدر جناب طیب اردگان (اللہ تعالیٰ اپنوں اور بیگانوں کے شرور سے ان کی حفاظت فرمائے) نے بھی ماضی قریب میں ہونے والی بغاوت فرو ہونے کے بعد ایک بہت بڑی مسجد استنبول کی ایک بلند پہاڑی پر بنائی ہے، جو رات کے وقت بقعۂ نور بنی رہتی ہے، تعمیرِ مسجد کا یہ ذوق بھی اسلامی ماحول کو فروغ دینے میںاہم کردار ادا کرتا ہے۔
حکومت نے نئی نسل میں دینی مزاج پیدا کرنے کے لئے بہت حکیمانہ طریقہ اختیار کیا ہے،جیسے حفظ کرنے والے طلبہ وطالبات کو خصوصی انعامات اور سہولتیں دی جاتی ہیں، فجر کی نماز میں پابندی کے ساتھ شریک ہونے والے بچوں کو حکومت نے خوبصورت سائیکلیں تقسیم کی ہیں، نمازوں میں بھی حاضری بڑھ رہی ہے اور پولس کے جبرودباؤ کے بغیر لوگ اپنے طور پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں، دینی تعلیم کا ذوق ترقی پا رہا ہے، اور یہ دینی تعلیم عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے، وہاں ایک تاریخی ادارہ دارالحدیث سلیمانیہ تھا، جس کی بنیاد غالباََ سلطان سلیمان قانونی ؒ نے رکھی تھی، وہاں اپنے زمانہ کے بڑے بڑے اساتذہ ومحدثین حدیث کا درس دیا کرتے تھے، موجودہ صدر نے پھر سے اس درسگاہ کو زندہ کیا ہے، اور محدث العصر شیخ محمد محمد عوامہ کو اس کا رئیس بنایا ہے۔
دینی ترقی کے ساتھ ساتھ تعلیمی وصنعتی ترقی میں بھی ترکی ایک نمونہ ہے، حالیہ عرصہ میں اس کی ترقی اس مقام کو پہنچ گئی ہے کہ یورپ میں فروخت ہونے والی الکٹرانک اشیاء میں ہر تیسری چیز ترکی کی بنی ہوئی ملتی ہے، بڑے پیمانہ پر ہر شعبۂ علم سے متعلق تحقیقی ادارے قائم کئے جا رہے ہیں، حکومت کا عزم ہے کہ وہ بہت بڑی تعداد میں سائنسداں اور اسکالرس پیدا کرے گی، مجھے بھی بحث وتحقیق کے ایک ادارہ میں جانے کا اتفاق ہوا، جس میں بہت بڑی لائبریری، اسکالرس کے لئے اچھی سہولتیں اوربہترین ماحول مہیا کیا گیا ہے اور کافی وسیع عمارت ہے ،ادارہ کے ڈائیرکٹر بڑی خوش اخلاقی سے پیش آئے،وہاں اسلام پر جو علمی کام ہو رہا ہے، ان میں ایک اہم کام ترکی زبان میں اسلامی انسائیکلوپیڈیا کی ترتیب واشاعت ہے، جس کی چالیس سے زیادہ جلدیں طبع ہو چکی ہیں، اور ابھی کام جاری ہے۔
میں نے دریافت کیا کہ یہ مستشرقین کی مرتب کردہ انسائیکلوپیڈیا کا ترکی ترجمہ تو نہیں ہے؛ کیوں کہ اس میں اسلام کے خلاف بہت سارا میٹھا زہر شامل کر دیا گیا ہے؟ تو ڈائریکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ انسائیکلوپیڈیامستقل طور پر مرتب کی گئی ہے اور اس میں مستشرقین کی زہر افشانی کو پیش نظر رکھا گیا ہے، وہ عربی بولنے پر تو قادر نہیں تھے، ایک صاحب ان کی ترجمانی کر رہے تھے؛ لیکن اندازہ ہوا کہ ان کا ذہن صاف ہے اور اسلام کے بارے میں ان کی معلومات گہری اور وسیع ہیں۔
یہ ایک خوش آئند واقعہ بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے سبق آموز صورت حال بھی، مسلمانوں کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ایک طرف ان کا تعلق دین سے ہو ،اور دوسری طرف جدید ٹکنالوجی میں بھی ان کا حصہ ہو، مادی ترقی کتنی بھی ہو جائے، اگرآدمی دین سے بے بہرہ ہو تو مسلمانوں کے لئے یہ ایک نقصان کا سودا ہے، اور دین کی معرفت تو حاصل ہو اور عمل کا جذبہ بھی ہو؛ لیکن اسباب ووسائل کی دنیا میں دوسروں کی محتاجی ہو تو ایسی قوم دنیا میں کوئی باعزت مقام حاصل نہیں کر سکتی، کامیابی کا یہی راستہ مسلم ملکوں کے لئے بھی ہے اور مسلم اقلیتوں کے لئے بھی۔
یہاں’’ الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین‘‘ کے تحت علماء کا پانچ روزہ اجتماع منعقدہوا، جس میں ایشیاء، یورپ، افریقہ وامریکہ اور دور دراز علاقوں کے ایک ہزار سے زائد علماء نے شرکت کی،یہی اس سفر کا محرک تھا، ممتاز فقیہ وداعی شیخ یوسف قرضاوی حفظہ اللہ اپنی پیرانہ سالی اور علالت کے باوجود تشریف لائے، لوگ انہیں وہیل چئیر پر بٹھا کر اور اپنے کاندھوں پر اُٹھا کر ڈائس پر لائے، علماء کی ان سے محبت قابل دید تھی، انہوں نے بہت ہی مؤثر خطاب کیا، شرکاء محفل میں شاید ہی کوئی آنکھ ہو، جو نم نہ ہوئی ہو، انہوں نے اپنے خطاب میں اتحاد، عزیمت اور فریضۂ دعوت کی طرف خاص طور پر متوجہ کیا، اور عرب حکمرانوں نے جس طرح علماء ربانیین کو گرفتار کر رکھا ہے، اور پورے ملک میں زبان بندی کا قانون نافذ کیا ہواہے، اس پس منظر میں اپیل کی کہ وہ اس طرز عمل سے باز آجائیں، شیخ قرضاوی نے اپنی علالت کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ مغرب کے مشہور مصنف، عالم اور داعی ڈاکٹررئیسونی –جو علم المقاصد کے معروف عالم ہیں– نے باتفاق رائے منصب صدارت سنبھالا، یہ بات بہت اچھی نظر آئی کہ تمام عہدہ داروں کا انتخاب حاضرین کے خفیہ ووٹ کے ذریعہ ہوا۔
اتحاد عالمی کے بیان میں مسلم حکومتوں سے بھی اور علماء سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اسلام کے دفاع، نئی نسل کی دینی تربیت اور امت میں اتحاد کے لئے خصوصی جدوجہد کریں، اور مغربی قوتوں نے جس طرح خوفزدہ کر رکھا ہے، اس سے گھبرائیں نہیں؛ بلکہ دین پر ثابت قدم رہیں، اور اپنی صفوں میں اتحاد کو برقرار رکھیں؛ حالاں کہ یہ حقیر عموماََ ایسے پروگراموں کی تمام نشستوں میں پوری پابندی اور اہتمام کے ساتھ شریک ہوتا ہے؛ لیکن اس بار علالت کی وجہ سے کئی نشستوں میں شرکت نہیں ہو پائی، بہر حال ایک نشست جس کا موضوع ’’اتحاد امت‘‘ تھا، میں چند منٹ میں اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دیا گیا، میں نے اس موقع پر عرض کیا کہ یوں تو اختلاف مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں؛ لیکن جس اختلاف کی جڑیں سب سے زیادہ گہری ہوتی ہیں، اور جس کو لوگ جھگڑے کی شکل دے دیتے ہیں، وہ ہے: مذہبی اختلاف، امت کو اس اختلاف سے بچانے کے لئے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ تین باتوں کا لحاظ رکھیں: اول یہ کہ سلف صالحین کی ہدایت کے مطابق کسی فرد یا گروہ کو کافر کہنے میں احتیاط سے کام لیں، دوسروں کو کافر ، فاسق اور مشرک قرار دینے میں جو غلو کیا جاتا ہے، اس کی وجہ سے نفرتیں بڑھ جاتی ہیں، دوسرے: ہمیشہ اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ دعوت صرف دین کی ہے نہ کہ مسلک ومشرب کی، ہر عالم دین کو حق ہے کہ وہ جس رائے کو راجح سمجھتا ہے، اس پر عمل کرے، اور حسب ضرورت اس کے دلائل پیش کرے؛ لیکن یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس کی دعوت کرے، تیسرے :برائی سے روکنے کے مختلف درجات ہیں، ہر درجہ کی نکیر ہر شخص کے لئے نہیں ہے، قوت کے استعمال کے ذریعہ کسی برائی کو روکنا اولی الأمر یعنی حکومت کی ذمہ دار ی ہے، علماء یا عوام کو اس کا حق حاصل نہیں ہے، جب عوام اس ذمہ داری کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں تو یہ ابتداء میں تشدد اور پھر دہشت گردی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، کئی حضرات نے اس مختصر گزارش پر پسندیدگی کا اظہار کیا، خاص کر ڈاکٹر خالد مذکور(کویت) اور مشہور عالم ومصنف ڈاکٹر وصفی عاشور نے ملاقات کر کے حوصلہ افزائی کے کلمات فرمائے، یہاں اس کے تذکرہ کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے ماحول میں بھی یہ بات اسی قدر اہم ہے، جتنی اہم عالم اسلام میں ہے۔
ترکی کے سفر کی حصولیابیوں میں ایک محدث عصر شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ سے ملاقات بھی ہے، شیخ کے صاحبزادہ ڈاکٹر محی الدین آکرساتھ لے گئے، شیخ اصل میں شام کے رہنے والے ہیں، حافظ الاسد کے زمانہ میں ہی سعودی عرب آگئے تھے اور مدینہ منورہ میں مقیم تھے، اب وہ ترکی آچکے ہیں، سعودی عرب میں تومدتوں مقیم رہنے کے باوجود وہاں کی شہریت حاصل نہیں ہو سکی؛ لیکن ترکی نے کھلے دل سے ان کا استقبال کیا، ان کو ملک کی شہریت بھی دی اور کھل کر خدمت کرنے کا موقع بھی دیا، ما شاء اللہ یہ حضرات بہت مطمئن ہیں، اور یکسوئی کے ساتھ علمی کام کر رہے ہیں، آج کل شیخ بہت تفصیل کے سات’’ نصب الرایہ‘‘نامی کتاب پر تحقیق وتعلیق کی خدمت انجام دے رہے ہیں، ان شاء اللہ یہ فقہاء احناف کے حدیثی دلائل کا بہت بڑا ماخذ بن جائے گا، اور غلط فہمیوں کے دور کرنے میں ممدومعاون ہوگا، شیخ اور ان کے صاحب زادہ نے ڈھیر ساری کتابیں ہدیہ میںعنایت فرمائیں، منتخب کتابیں ساتھ رکھ لی گئیں؛ کیوں کہ ہوائی سفر میں زیادہ کتابیں بوجھ بن جاتی ہیں، میرے لڑکے عزیزی مولانا محمد عمر عابدین قاسمی مدنی سلمہ اللہ تعالیٰ جو خود بھی اتحادعالمی کے رکن ہیں، کی رفاقت نے اس سفر میں بہت سہولت پہنچائی؛ کیوں کہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں پر قدرت کی وجہ سے مشکلات کو حل کرنے میں سہولت ہوتی ہے، الاتحاد العالمی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محی الدین علی قرہ داغی نے مجھ سے خواہش کی کہ میں چاہتا ہوں کہ تنظیم کے سکریٹریز میں آپ کا نام شامل ہواور آپ اس عہدہ کے امیدوار ہو جائیں، برصغیر سے شریک ہونے والے کچھ اور اہل علم نے بھی یہ بات کہی؛ لیکن میں نے معذرت کر دی، ایک تو اپنی صحت کی وجہ سے، دوسرے: کسی عہدہ کے لئے امیدوار بننا اور اس کا طالب ہونا اچھی بات نہیں ہے، یہ شریعت کے مزاج کے خلاف ہے
دوسرا سفر افریقہ میں فرانس کے زیر اقتدار ایک خوبصورت جزیرہ ’’ری یونین ‘‘کا ہوا، یہاں کا اس سے پہلے بھی سفر ہو چکا ہے اور اس حقیر کو جن مقامات پر جانے کا موقع ملا ہے، ان میں قدرتی مناظر کے اعتبار سے سب سے زیادہ یہ جگہ فائق نظر آئی؛ اسی لئے یہاں دنیا کے تمام علاقوں سے سیاح آتے ہیں، یہاںکا امن ومان مثالی ہے، مختلف رنگ ونسل کے لوگ آباد ہیں؛ لیکن شاذونادر ہی کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے، فرانس میں چوں کہ ہمارے ملک کی طرح سیکولرزم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ نجی زندگی میں اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد ہیں؛ البتہ حکومت کا کوئی مذہب نہیں؛ بلکہ وہاں سیکولرزم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی مذہبی پہچان ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس بنیاد پر مسلمان خواتین بھی اپنے چہرہ پر پردہ نہیں رکھ سکتیں۔
یہ عجیب بات ہے کہ مغربی اقوام ایک طرف شخصی آزادی کے احترام کا نعرہ لگاتی ہیں، اور اس میں اس قدر غلو کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص بے لباس رہنا چاہے اور خلاف فطرت طریقوں پر جنسی لذت حاصل کرنا چاہے تو اس پر بھی کوئی روک نہیں ہے؛ لیکن اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے اپنے چہرہ پر نقاب رکھے تو یہ سیکولرزم کے خلاف ہے، گویا دو الگ پیمانے ہیں، ایک لادین اور لا مذہب لوگوں کے لئے، اور دوسرا اہل مذہب کے لئے، اس صورت حال کو دیکھ کر ہمارے گزشتہ اکابر علماء کی بصیرت سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں جنگ آزادی میں قائدانہ رول ادا کیا اور تمام مذہبی اکائیوں کے ساتھ مل کر ایسا بھائی چارہ کا ماحول پیدا کیا کہ یہاں کے دستور میں سیکولرزم کو مذہب مخالف نہیں بنایا گیا؛ بلکہ یہ بات مان لی گئی کہ اگرچہ حکومت کا اپنا کوئی اپنا مذہب نہیں ہوگا؛ لیکن ہر شہری کو نجی زندگی میں اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہوگی۔
یہاں اس زمانہ میں احتجاج ہو رہا تھا، اور احتجاج کے طور پر راستے بند کئے جا رہے تھے؛ لیکن وہاں احتجاج میں بھی تہذیب وانسانیت کا پہلو نظر آیا کہ احتجاجیوں نے مریضوں، بوڑھوں اور خواتین کو اس سے مستثنیٰ رکھا تھا؛ اس لئے ان کے لئے راستے کھول دیے جاتے تھے۔
میرا یہ سفر دراصل دارالعلوم ری یونین کی دعوت پر ہوا تھا،جس کے مہتمم مولانا زکریا صاحب اور شیوخ حدیث مولانا انس لالا اور مولانا عثمان صاحب ہیں، یہاں تمام ہی حضرات بڑی محبت واکرام کے ساتھ پیش آئے، میزبانوں نے راحت رسانی کا پورا خیال رکھا، میں نے تو زیادہ تر مختصر خطاب کیا؛ لیکن مولانا محمد عمر عابدین سلمہ نے حسب موقع وضرورت عربی وانگریزی میں خطاب کیا اور اس کا بہت اچھا اثر پڑا۔
ری یونین کے بعد سفر کی دوسری منزل ماریشش تھی، اس کو’’ لٹل انڈیا‘‘ بھی کہا جاتاہے، یہ واقعی ایک چھوٹا موٹا ہندوستان ہے، یہاں ہندو بھائیوں کی اکثریت ہے، جن کی آبادی تقریباََ پچاس فیصد ہے، بیس سے تیس فیصد مسلمان ہیں، بقیہ عیسائی اور چائنیز وغیرہ ہیں، ری یونین اور ماریشش دونوں جزیروں میں مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر ہے، خاص کر ری یونین میں بڑی بڑی تجار تیں مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں،اور اس کی وجہ سے مقامی آبادی میں تیزی سے اپنے محرومی کا احساس اور اہل ثروت کے خلاف نفرت کے جذبات ابھر رہے ہیں،معاشی تفاوت کی وجہ سے ری یونین کے احتجاج میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور خاص کر بعض بڑے مسلمان تاجروں کے خلاف بھی تنقید کی جا رہی تھی، اور باشعور اور سمجھدار لوگ اس سے سراسیمہ تھے، یہ واقعی لمحۂ فکریہ ہے ، بعض علاقوں میں مسلمانوں نے محنت کر کے اپنے کاروبار کو ترقی دی ہے اور وہاں مسلمانوں کی معاشی حالت اچھی ہے، جیسے جنوبی افریقہ اور اس کے ہمسایہ ممالک، یا جیسے ہندوستان میں گجرات، ماشاء اللہ ان علاقوں کے مسلمان دینی کاموں میں اچھا تعاون بھی کرتے ہیں، اور ہر طرح کے کارِ خیر میں پیش پیش رہتے ہیں؛ لیکن ایک کمی یہ ہے کہ برادران وطن کی غریب آبادیوں کے ساتھ بہتر رابطہ پر توجہ نہیں دی جاتی،اور حُسن سلوک کا یہ جذبہ اکثر مساجد ومدارس یا مسلمانوں تک محدود رہتا ہے، اس سے برادران وطن کے اندر احساس محرومی پیدا ہوتا ہے، اور فرقہ پرست عناصر کو وہ ہتھیار ہاتھ آجاتا ہے جس کو وہ آسانی کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف استعمال کر لیتے ہیں، گجرات فساد ۲۰۰۲ء کے بارے میں بھی بعض حضرات کا تجزیہ ہے کہ اس کے محرکات میں یہ بات بھی شامل ہے۔
اس لئے مسلمان اصحاب ثروت کو اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جہاں وہ زکوٰۃ کی رقم سے اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی مدد کرتے ہیں، وہیں اپنی آمدنی کا ایک حصہ غریب برادران وطن پر بھی خرچ کریں، کہ یہ بھی اجروثواب کا کام ہے، قرآن مجید میں اس کی ترغیب دی گئی ہے (ممتحنہ: ۸)اور یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اسوہ ہے ، یہ نہ صرف کارِ ثواب ہے؛ بلکہ اس سے دنیا میں بھی ہمارا تحفظ متعلق ہے،میں نے ری یونین اور ماریشش دونوں جگہ علماء وخواص سے خطاب کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہندوستا ن میں مسلمانوں نے برادران وطن کے ساتھ جو بے گانگی برتی اس کی سزا ہم لوگ چکھ رہے ہیں، یہی بات زیادہ بدتر طریقہ پر برما میں پیش آئی تھی؛ اس لئے آپ لوگ ہندوستان ، برما، سری لنکا اور اس طرح کے ملکوں سے سبق حاصل کریں،اور اِس وقت جو مہلت ملی ہوئی ہے، اس سے فائدہ اُٹھائیں، اللہ کرے یہ اپیل رائیگاں نہ جائے؛ کیوں کہ وہاں یہ غفلت اور زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگی۔
اس سفر کی آخری منزل متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی تھی، جہاں میرے لڑکے حافظ ظفر عابدین ندوی سلمہ (اسکالر اسلامک فائنانس انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا) اسلامک بینک میں خدمت کر رہے ہیں، اور ماشاء اللہ اس اہم موضوع پر ان کی پیش رفت بہت اچھی ہے۔
بہر حال اس سفر میں جہاں ترکی کی دینی اُٹھان اور صنعتی ترقی کو دیکھ کر دل خوش ہوا، وہیں ری یونین اور ماریشش جیسے ملکوں میں علماء کی آپسی کشاکش اور حقیقی مسائل جیسے برادران وطن سے تعلقات میں استواری ، دعوت اسلام سے بے توجہی اور دفاع دین سے غفلت کو دیکھ کر بڑا فسوس ہوا؛ کیوں کہ کسی قوم کی محرومی کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ جڑ کو چھوڑ کر پتوں پر پانی ڈالنے لگے اور اصل مسائل کو چھوڑکر کم اہم مسائل کو اپنی فکر اور جدوجہد کا محور بنا لے،وبا اللہ التوفیق۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker