جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

جھوٹوں کو جنتا پہچان گئی ہے! 

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
پانچ ریاستوں کی اسمبلیوں میں ہار کےبعد بی جے پی میں ’مہابھارت‘ شروع ہوگئی ہے۔ آواز اُٹھنے لگی ہے کہ نریندر مودی کی جگہ نتن گڈکری کو دی جائے ۔ ویسے آج یا کل یہ تو ہونا ہی تھا۔ ہونا اس لیے تھا کہ نریندر مودی کا وزیراعظم بنایا جانا آر ایس ایس اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کےلیے ایک طرح سے ’سمجھوتے کا معاملہ‘ تھا ’پسند‘ کا نہیں۔ ۲۰۱۴ ءکے پارلیمانی انتخابات کی مہم شروع ہونے سے قبل بھگوا قیادت کو یہ پوری طرح سے اندازہ ہوچکا تھا کہ اگر اسے ملک میں اپنی حکومت بنانی ہے تو مودی کو ’قبول‘ کرنا ہی پڑے گا۔ مودی کی ان دنوں ’لہر‘ تھی۔ ’لہر‘ صرف اس لیے نہیں تھی کہ ۲۰۰۲ ءمیں گجرات مسلم کش فسادات سے جل اُٹھا تھا۔ اگر گجرات کے فسادات کو ہی مودی اور بی جے پی کی کامیابی کی ’بنیادی وجہ‘ قرار دے دیاجائے تویہ سوال اُٹھے گا کہ پھر ۲۰۰۴ ءمیں کیوں بی جے پی اقتدار میں نہیںآئی جبکہ فسادات کو دوسال مکمل ہوچکے تھے اور مودی کے نام کے ڈنکے بج رہے تھے!
ہاں یہ ضرور ہے کہ اُس موقعے پر مودی کو لوک سبھا الیکشن کی انتخابی مہم کی ذمے داری نہیں سونپی گئی تھی۔ لیکن ان کا ایک ’بت‘ تراشا گیاتھا ۔ ’بت سازی‘ میں گجرات فسادات کا کردار تھا لیکن ساتھ ہی ایک اور وجہ تھی۔مودی اور بی جے پی کی کامیابی میں اس پروپیگنڈے کا بھی بڑا دخل تھا کہ مودی ’وکاس پرش‘ ہیں انہوں نے گجرات کو ترقی کی چوٹی پر پہنچادیا ہے۔ اور منموہن سنگھ کی سرکار ایک کرپٹ ، راشی او ربدعنوان سرکار ہے لہذا اس ملک کو ’وکاس‘ کی ڈگر پر چلنا ہے تو مودی کی کامیابی ضروری ہے۔ اس وقت گجرات کا ’وکاس ماڈل‘ لوگوں کے سامنے تھا۔ حالانکہ بعد میں پتہ چلا کہ گجرات کی ترقی کا سارا پروپیگنڈہ اتنا ہی پھسپھسا تھا جس قدر کہ آج ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کا نعرہ ہے۔ سنگھ اور بی جے پی کی قیادت نےیہ جو مودی کا ’مسلم دشمن‘ او ر’وکاس پرش‘ والا بت تراشا تھا اس کے نتیجے میں ہی مودی ۲۰۱۴ میں وزیر اعظم کے امیدوار بنائے گئے اور پھر بی جے پی کی حیران کن کامیابی نے انہیں واقعی وزیر اعظم بنادیا۔ سنگھ اور خود بی جے پی کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ مودی کی ’لہر‘ ایسی چل جائے گی! کامیابی کا سہرا مودی ہی کے سر بندھا ۔ اور بندھنا بھی تھا۔ اب یہ آواز اُٹھ رہی ہے کہ پانچ ریاستوں کی اسمبلیوں میں بی جے پی کی ناکامی کے ذمے دار مودی اور ان کے دست راست بھاجپائی صدر امیت شاہ ہیں۔ اگر ’کامیابی‘ کا سہرا انہوں نے اپنے سر باندھا ہے تو اب ’ناکامی‘ کی ذمے داری بھی انہیں قبول کرنا چاہئے۔
ایک کسان لیڈر کشور تیواری نے تو آر ایس ایس کو خط لکھ کر مودی اور امیت شاہ دونوں کو ہٹانے اور ۲۰۱۹ ءکے لوک سبھا الیکشن کی کمان نتن گڈکری کو سونپنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تیواری نے یہ بھی لکھا ہے کہ گڈکری کو وزیر اعظم کےعہدے کا امیدواربھی بنایاجائے۔ اس سے قبل مرکزی وزیر نتن گڈکری نے جو سنگھ کی آنکھ کے تارے ہیں، مودی اور امیت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے صاف صاف وزیر اعظم اور بی جے پی صدر پر تنقید کی تھی کہ ’’کامیابی کے تو کئی والد (دعوےدار) ہوتے ہیں لیکن ناکامی ’یتیم‘ ہوتی ہے۔ جہاں کامیابی ہے وہاں سہرا لینے والوں کی بھیڑ لگی ہوتی ہے لیکن شکست میں ہر کوئی ایک دوسرے پر انگلی اُٹھانے لگتا ہے‘‘۔ گڈکری کا یہ جملہ تو امیت شاہ کی طرف صاف صاف اشارہ تھا کہ ’’اگر میں پارٹی صدر ہوتا تو ہار کی ذمے داری قبول کرلیتا‘‘۔ گڈکری اس سے قبل یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بھی ہنومان کو ’دلت‘بولنے کےلیے نکتہ چینی کرچکے ہیں۔ گڈکری کے بیان کو ان کا اپناانہیں بلکہ آر ایس ایس کا بیان مانا جارہا ہے۔ سنگھ پریوار پانچ ریاستوں کی ہار سے ناخوش ہے اور اسے لگ رہا ہے کہ مودی اور شاہ کی جوڑی لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی نیا پار نہیں لگاسکتی۔ مودی اور شاہ کی جوڑی کے ’آمرانہ برتائو‘ کے خلاف کل تک جو زبانیں نہیں کھل رہی تھیں وہ اب کھلنے لگی ہیں۔ ویسے بھی مودی اور شاہ نے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سمیت پارٹی میں اپنے بے شمار حریف بنا رکھے ہیں۔ یشونت سنہا، شتروگھن سنہا اور ارون شوری نے پہلے ہی ایک محاذ کھول رہا ہے۔ بی جے پی کے رہنما جس ’ڈسپلن‘ کا ذکر فخر سے کرتے تھے صرف پانچ اسمبلیوں کی شکست سے ’ٹائیں ٹائیں فش‘ ثابت ہوگیا ہے۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کو غور وفکر کرنا ہوگا ،اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ جنتا جھوٹ کے بل پر قیادت کرنے والوں کو پہچان بھی چکی ہے او رناکام بھی کرچکی ہے؛ لہذا ۲۰۱۹ ءکے لوک سبھا الیکشن میں ’جھوٹ کے بل پر قیادت کے حصول کی کوشش اب کامیاب نہیں ہوگی‘۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker