جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

’بتانِ رنگ وخوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا‘

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست بصیرت آن لائن)
لوک سبھا میں مودی سرکار کے ذریعے طلاق ثلاثہ مخالف بل کی منظوری مسلمانوں کو ’جسدواحد‘ میں ڈھالنے کی بجائے ’منتشر‘ کرگئی۔ مولانا بدرالدین اجمل نے بل کی مخالفت میںبولتے ہوئے ’سلفیت‘ کو ’دہشت گردی‘ سے جوڑدیا اور پھر ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ مولانا موصوف کا بیان ’قابل افسوس‘ ہے او رکوئی بھی مسلمان اس کی ’حمایت‘ نہیں کرسکتا، یہ ایک روشن حقیقت ہے لیکن ایک بڑا ٹولہ ایسا ہے جس نے مولانا موصوف کے بیان کو لپک لیاہے اور اسے مسلمانوں کو مزید منتشر کرنے کےلیے ہوا دے رہا ہے۔ سلفیوں کی طرف سے اعتراض، مذمت اور غصے کا اظہار قطعاً جائز ہے مگر دیکھا جارہا ہے۔۔۔۔بالخصوص سوشل میڈیا میں ۔۔۔کہ اعتراض، مذمت اور غصے کے اظہار کے ساتھ ’مغلظات‘ کا ایک سلسلہ بھی شروع ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں کے مختلف مسالک لڑتے جھگڑتے رہیں۔۔۔یہ مسلک مسلک کا جو کھیل ہے انتہائی خطرناک ہے، لیکن اس پر بات کرنے سے پہلے ’وہاٹس ایپ‘ پر ابھی کچھ دن قبل ملنے والی ایک پوسٹ پر نظر ڈال لیں۔ یہ پاکستانی پوسٹ ہے اور اس کا عنوان ہے ’’دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ہیں‘‘؟
’’(۱) ہٹلر: آپ جانتے ہیں وہ کون تھا؟ وہ عیسائی تھا ، لیکن میڈیا نی کبھی اسکو عیسائی دہشت گرد نہیں کہا۔ (۲) جوزف اسٹالن: اس نے بیس ملین (ایک ملین -دس لاکھ کے برابر) انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ،جس میں سے ساڑھے چودہ ملین بھوک سے مرے کیا وہ مسلم تھا؟ (۳) ماوزے تنگ: اس نے چودہ سے بیس ملین انسانوں کو مارا أ کیا وہ مسلم تھا؟ (۴) مسولینی : چار لاکھ انسانوں کا قاتل ہے کیا یہ مسلم تھا؟ ۔ (۵) اشوکا : اس نے کلنگا کی جنگ میں ایک لاکھ انسانوں کو مارا۔کیا وہ مسلم تھا؟ ۔ (۶) جارج بش : اس کی تجارتی پابندیوں کے نتیجے میں صرف عراق میں پانچ لاکھ بچے مرے۔ اسے بھی میڈیا کبھی دہشت گرد نہیں کہتا۔ آج جہاد کا لفظ سن کر غیر مسلم تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، جبکہ جہاد کا مطلب معصوموں کو مارنا نہیں، بلکہ برائی کے خلاف اور انصاف کے حصول کی کوشش کا نام جہاد ہے ۔ چند اور حقائق : پہلی جنگ عظیم میں 17 ملین لوگ مرے اور جنگ کا سبب غیر مسلم تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں 50-55 ملین لوگ مارے گئے اور سبب؟ غیرمسلم ۔ ناگاساکی پر ایٹمی حملے میں 2 لاکھ لوگ مرے اور اسکا سبب؟ غیر مسلم ۔ ویتنام کی جنگ میں 500000 اموات کا سبب بھی غیر مسلم۔بوسنیا کی جنگ میں بھی پانچ لاکھ اموات ہوئیں ، سبب غیرمسلم ۔عراقی جنگ میں اب تک ایک کروڑ بیس لاکھ موت ہوچکی ہیں اس کا سبب بھی غیر مسلم۔افغانستان ،فلسطین اور برما میں خانہ جنگی کا سبب؟غیرمسلم ۔ کمبوڈیا میں تقریبا 300000 موتوں کا سبب بھی غیر مسلم ۔خلاصہ یہ کہ کوئی بھی دہشت گرد مسلمان نہیں، اور کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ بڑی تباہی پھیلانے والے کسی بھی ہتھیار کے موجد مسلمان نہیں اور آج مبینہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں جو ہتھیار ہیں وہ کسی ’اسلامی فیکٹری ‘ میں نہیں بنے ۔ دنیا ہوش کے ناخن لے اور میڈیا سے بھی کہتا ہوں بے غیرتی چھوڑ دو ورنہ مٹ جاو گے‘‘۔
مذکورہ پوسٹ کی باتوں پر چلیے ہم خوش ہولیتے ہیں مگر پوسٹ کے آخر میں جو بات کہی گئی ہے کہ کوئی بھی دہشت گرد مسلمان نہیں، کیا اسے سچ مانا جاسکتا ہے؟ قطعی نہیں۔ ایک دوسرے کو مسلکوں کے نام پر قتل کرنا، ایک دوسرے کی عبادت گاہوں میں بم دھماکے کرنا، ایک دوسرے کے مسلکی مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنانا، کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے؟ یہ سب سے بڑی دہشت گردی ہے اور آج سعودی عربیہ سے لے کر افغانستان، پاکستان، عراق، ایران، یمن، اور شام تک ہم اسی دہشت گردی کے شکار ہیں۔ اس دہشت گردی نے بھلے عالمی جنگوں جتنی جانیں نہ لی ہوں پر مرنے والے لاکھوں میں ہیں۔ اگر اس دہشت گردی کوہم مسلمانوں نے ترک نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب طلاق ثلاثہ پر پابندی چھوڑئیے، روزہ، نماز، حج، سب پر پابندی لگے گی۔ لہذا، کوشش کرکے ’ملت واحدہ‘میں مسلمان ڈھل جائیں۔ مولانا بدرالدین اجمل نے اب معافی بھی مانگ لی ہے، لہذا انہوں نے جو کہا اسے بھول کر اس حقیقت پر نظر رکھیں کہ ساری دنیا مسلمانوں ہی کو دہشت گرد سمجھتی ہے۔تمام ہی مسالک کے مسلمانوں کو۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker