جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

ہم اس بل کو ریجیکٹ کرتے ہیں

طلاق ثلاثہ مخالف بل پر لوک سبھا میں اسدالدین اویسی کی قابل تحسین تقریر کا ایک جائزہ
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
خراجِ تحسین اب اسدالدین اویسی کا حق ہے !
یہ حق صرف اس لئے ہی نہیں ہے کہ انہوں نے لوک سبھا میں مودی اور بی جے پی کے ’ طلاقِ ثلاثہ مخالف بِل‘ کی مخالفت میں بے حد پرجوش تقریر کی ، بلکہ یہ حق اس لئے بھی ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر سے وہ سوالات کھڑے کئے جو سارے فرقہ پرستوں کو آئینہ تو دکھاتے ہی ہیں، برادرانِ وطن کو حقائق تک یا ’طلاقِ ثلاثہ مخالف بِل‘ کی پیشی اور اس کی منظوری کے ’ بنیادی مقصد‘ تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھاتے ہیں ۔ باالفاظ دیگر اویسی کی تقریر برادرانِ وطن کے سامنے وزیراعظم نریندر مودی ، بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اور سنگھ پریوار کے اصلی چہرے کو اُجاگر کرنے کے ساتھ اس ملک کی اقلیتوں ، بالخصوص مسلم اقلیت کے تئیں ان کی جانبداری اور ان کے متعصبانہ روئے کو بھی عیاں کردیتی ہے ۔ اور یہ خوب خوب واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ایک طرح کا گھناؤنا سیاسی ڈھونگ ، اور ’ غلیظ سیاسی کھیل‘ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
سچ کہوں تو اویسی کی تقریر نے ایک پرانے فلمی مکالمے کی یادتازہ کردی ۔ ’ تمہارا خون خون ہے اور ہمارا خون پانی ہے !‘ ۔۔۔ اویسی نے اپنی تقریر سے یہ حقیقت ثابت کردی ہے کہ اس ملک کے حکمراں طبقے کو نہ ہی تو اس ملک کی خواتین سے محبت ہے اور نہ ہی اسے مطلقہ مسلم خواتین کا کوئی غم ہے ، بلکہ لوک سبھا میں منظور کیا گیا ’ طلاقِ ثلاثہ مخالف بِل‘ ۔۔۔۔ جسے ’ مسلم خواتین (تحفظ ازدواجی حقوق) بِل‘ کہا جاتا ہے ۔۔۔ صرف اس لئے منظور کیا گیا کہ اس کا استعمال مسلمانوں کے خلاف کیا جائے ۔ اویسی کے اپنے الفاظ میں ’’ تاکہ اس کا استعمال ہمارے خلاف کیا جائے ‘‘۔۔۔ اویسی نے اپنی تقریر میں بے حد صاف لفظوں میں یہ سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ہندو طلاق دے تو اسے ایک سال کی سزا دی جاتی ہے ، تو طلاق دینے پر کسی مسلمان کو تین سال کی سزا کیوں؟ یہ ایک اہم سوال ہے ۔ یہ سوال ’ تمہیدِ آئینِ ہند‘ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ ’ طلاقِ ثلاثہ مخالف بِل‘ آئین مخالف بھی ہے ۔ ’ تمہیدِ آئین ہند‘ میں اس ’عہد‘ کے ساتھ کہ ’’ معاشرتی ، معاشی اور سیاسی عدل فراہم کرے ‘‘ یہ عہد بھی کیا گیا ہے کہ ’’اور فکر، اظہار، عقیدے ، ایمان اور عبادت کی آزادی فراہم کرے ،اور حیثیت اور مواقع میں مساوات فراہم کرے اور تمام شہریوں کے درمیان اخوت کا فروغ کرے۔‘‘
اگر ایک ہی جیسے’ معاملے‘ میں ملک کے دو مختلف مذاہب کے افراد کو دی جانے والی سزاؤں میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتو اسے آئین کی خلاف ورزی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے ! بی جے پی اور مودی سرکار کے ذریعے منظور کئے گئے بِل سے ’ تمہید آئین ہند‘ میں کئے گئے ’عہد‘ کی نہ صرف خلاف ورزی ہوتی ہےبلکہ یہ خوب عیاں ہوکر سامنے آجاتا ہےکہ ’ مسلم اقلیت‘ سے اس کے ’عقائد اور عبادات‘ سے متعلق حقوق چھیننے کی دانستہ غیرآئینی کوشش کی گئی ہے ۔
اویسی نے اپنی تقریر کی ابتدا میں ہی ’ آئین ہند‘ کےچار آرٹیکل کاتذکرہ کیا ہے ،آرٹیکل ۱۴،۱۵،۲۶ اور ۲۹۔ یہ وہ آرٹیکل ہیں جن کے ذریعے ملک کے ہر شہری کو بلا لحاظ مذہب ذات پات ، مساوات کی ، عبادت کی ، برابری کی اور عقائد ‘ اظہار خیال وبیان کی آزادی دی گئی ہے ۔ جو بِل لوک سبھا میں منظور کیا گیا اویسی کا کہنا ہے کہ وہ آئین کے تمام مذکورہ آرٹیکل کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ لہٰذا بِل ’غیر آئینی‘ ہے اور ایک ’ غیر آئینی بِل‘ قبول نہیں کیا جانا چاہئیے۔
اویسی کے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو یہ انتہائی خطرناک صورتحال سامنے آتی ہے کہ ملک کی بھگوا سرکار اس ملک کے ’ آئین‘ سے کھلواڑ کررہی ہے ۔ اقلیتوں کے ’ آئینی حقوق‘ سے چشم پوشی کرنا یا ان کی خلاف ورزی کرنا ’ آئین‘ سے کھلواڑ ہی ہے ! اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ بِل کے مخالفین ’ آئین‘ پر یقین رکھتے ہیں ، انہیں ’ آئین‘ کے ذریعے دیئے گئے حقوق پر پورا یقین ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ’ آئین‘ کے فریم ورک میں رہ کر ہی اس ملک کی عوام کے تعلق سے کوئی بِل یاتو منظور کیا جاسکتا ہے یا نامنظور ۔۔۔ اب رہے وہ لوگ جو بِل کے حامی ہیں ، تو وہ چونکہ بِل کی ان شقوں کے حامی ہیں جو ’ آئین‘ کے فریم ورک سے باہر ہیں ، مثلاً شریعت میں یادوسروں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی ، اس لئے وہ ’آئین مخالف‘ ہیں ۔ لہٰذا ’ طلاقِ ثلاثہ بِل‘ کی منظوری اور اس کی مخالفت کے لئے آوازیں اٹھانے والوں کو دوگروپوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے ، ایک وہ جو ’ آئین پر بھروسہ اور یقین رکھتے ہیں ‘ اور دوسرے وہ جو’ آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنا جائز مانتے ہیں ۔ ‘ اویسی نے اپنی تقریر سے دونوں ہی گروپوں کے چہروں کو عیاں کردیا ہے ۔اور ’ برادرانِ وطن‘ نے اگر اویسی کی تقریر سنی ہوگی تو انہیں یہ اندازہ خود ہوگیا ہوگا کہ وہ بِل جو لوک سبھا سے منظور کیا گیا ہے اپنی اصل میں ’غیر آئینی ‘ ہے ۔ ۔۔ اویسی چونکہ قانون داں بھی ہیں اس لئے انہوں نے اپنے دلائل قانون اور آئین کی بنیاد پر ہی دیئے ہیں ، اسی لئے ان کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات کے جواب اس جمہوری وسیکولر ملک کے لئے بے حد ضروری ہیں۔
ایک مزید اہم بات جو اویسی نے کی وہ ’ طلاقِ ثلاثہ مخالف بِل‘ کی اس شق کے تعلق سے ہے جس میں طلاق دینے والے شخص کے لئے تین سال کی سزا طئے کی گئی ہے ۔ اویسی نے دومثالیں پیش کی ہیں، ایک مثال سپریم کورٹ کے ذریعے دفعہ 377 میں ترمیم کی ہے ، یہ ہم جنسی سے متعلق دفعہ ہے اور ہم جنسی میں خواتین اور مرد دونوں ہی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کا بھی اور سرکار کا بھی یہ ماننا ہے کہ ہم جنسوں کا تعلق ایک طرح کی ’ جنسی اقلیت‘ سے ہے ۔ پہلے ہم جنسی کو ’ جرم‘ مانا جاتا تھا اور اس ’عّلت‘ میں مبتلا افراد کو سزائیں سنائی جاتی تھیں ، اب سپریم کورٹ نے ہم جنسی کو ’ جرم‘ کے زمرے سے باہر کردیا ہے ۔ باالفاظ دیگر اب ہم جنسی کا عمل ’ جرم‘ نہیں رہا ہے ۔۔۔ دوسری مثال انہوں نے ازدواجی رشتے سے باہر جنسی تعلقات یعنی Adultery کی پیش کی ہے پہلے یہ ’ جرم‘ تھا، لیکن اب یہ ’ جرم‘ نہیں رہا ۔ کوئی شادی شدہ عورت یا کوئی شادی شدہ مرد اپنی مرضی سے کسی ’ غیر‘ کے ساتھ ’ جنسی رشتہ‘ بنانے کے لئے آزاد ہے ۔
اویسی نے یہ اہم سوال اٹھایا ہے کہ جب ہم جنسی جائز اور شادی سے باہر جنسی تعلق’جرم‘ نہیں رہا اور ’ جنسی اقلیت یا صنفی اقلیت‘ کو حقوق فراہم کئے جارہے ہیں تو ’ مذہبی اقلیت‘ کو کیوں نہیں؟ یہ سوال کرکے اویسی نے مودی سرکار کے دوغلے رویّے کو پوری طرح سے اُجاگر کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’طلاقِ ثلاثہ‘ کے ایک ایسے عمل کو جس سے سپریم کورٹ کے بقول ’’ طلاق ہوتی ہی نہیں ہے ‘‘’ مجرمانہ عمل ‘ قرار دیا جارہا ہے ، اور ہم جنسی وشادی شدہ ہونے کے باوجود جنسی تعلق کے عمل کو ’ جرم‘ کے زمرے سے باہر کیا جارہا ہے ، تو اگر ’ مذہبی اقلیت‘ یہ سوال دریافت کرے کہ اسے اپنی پسند کا حق کیوں نہیں ہے ، تو اس میں کیا غلط ہے ؟ یہ سرا سر مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہے ۔ اویسی زوردے کر مودی سرکار سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ’’ کون سی مجبوری ہے یہ بِل منظور کرانے کی ؟‘‘ اور پھر وہ اس کا جواب بھی دے دیتے ہیں کہ ’’ کیونکہ اس کا استعمال ہمارے خلاف کرنا ہے‘ ‘ ۔۔۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، اویسی کے سامنے ’ پوٹا‘ اور ’ مکوکا‘ سے لے کر یو اے پی اے جیسے قوانین کی مثالیں ہیں ، ان قوانین کے نفاذ سے مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا گیا تھا اور اب بھی بنایا جارہا ہے ۔ اویسی مثالیں دیتے ہوئے بھگوا سرکار کی جانبداری کو اجاگر کرتے ہیں ، قانون ہے کہ کم عمر بچیوں کی شادیاں نہ ہونے پائیں ، مگر دس دس سال کی ہندو بچیاں بیاہی جارہی ہیں، سابری مالا مندر میں خواتین کے داخلے کی سپریم کورٹ اجازت اور حکم دیتا ہے ، مودی سرکار ’ سیاسی مفادات‘ کے لئے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہے بلکہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ کھلے لفظوں سپریم کورٹ کو دھمکاتے ہیں ! اویسی اپنی تقریر میں بیس لاکھ چھوڑی ہوئی ہندوعورتوں کا مسئلہ بھی سامنے لاتے ہیں ‘ جن کے لئے کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہے ۔ چھوڑی ہوئی عورتوں میں ایک عورت نریندر مودی کی دھرم پتنی جسودھا بین بھی ہیں۔
اویسی کی اس تقریر کی تحسین اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہوں نے لوک سبھا میں وہ بات بھی کہی جوعام طور پر کوئی مسلم لیڈر کہنے سے جھجھکتا ہے ۔ اویسی نے کہا ’’ جب طلاقِ ثلاثہ سے سپریم کورٹ کے بقول شادی ٹوٹتی ہی نہیں ہے توسزا کا ہے کی؟ تمہارا ایمان وعقیدہ ، ایمان اور عقیدہ ہے اور ہمارا ایمان اور عقیدہ نہیں!‘‘ یہ وہ جملہ تھا جس پر فلمی مکالمہ یاد آیا تھا’’تمہارا خون خون ہے اور ہمارا خون پانی ہے ‘‘۔ اور سچ یہی ہے کہ بھگوا سرکار مسلم اقلیت کے خون کو پانی ہی سمجھ رہی ہے ۔ یہ ’طلاقِ ثلاثہ مخالف بِل‘ لاکرشریعت میں دخل اندازی کررہی ہے ، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگارہی ہے لیکن یہ ’ لنچنگ مخالف بِل‘ لانے کو ضروری نہیں سمجھتی، یہ ’ فسادات مخالف بِل‘ لانا نہیں چاہتی ، شاید اس لئے کہ کہیں خون کو پانی کرنے کے مواقع ہاتھ سے نکل نہ جائیں! اویسی نے اس ملک کی تمام صدفی صد مسلم خواتین کی ، ایک باپ، بھائی ، چچا اور بیٹے کی حیثیت سے نمائندگی کی ہے ، یہ وہ خواتین ہیں جو سڑکوں پر اترکر ’طلاقِ ثلاثہ بِل‘ کی مخالفت کرتی رہی ہیں ، یہ سائر ہ بانو نہیں ہیں کہ ’بِل‘ کی حمایت کرکے بی جے پی میں شامل ہوجائیں ، پھر بھی ’خالی ہاتھ‘ رہ جائیں ۔۔۔ اویسی کے یہ آخری جملے ان کی تقریر کا لب لباب ہیں ، تمام مسلمان اس جملے کو اپنے دل میں جگہ دے دیں۔’’آپ کے جبرسے ہم اپنے مذہب کو Forbid (ترک) نہیں کریں گے ؟ جب تک دنیا ہے شریعت پر عمل کریں گے ، ہم اس بِل کو Reject(مسترد) کرتے ہیں ۔ ‘‘
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker