ہندوستان

طلاق ثلاثہ بل کو دونوں ایوانوں کے سلیکٹ کمیٹی کے سپرد کیا جائے: ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

نئی دہلی ۔۲۹؍دسمبر: ( پریس ریلیز)۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ( SDPI)نے مسلم خواتین (شادی کے حق کے تحفظ ) بل 2018 جس میں ایک مرتبہ تین طلاق دینے کو جرم قرار دیا گیا ہے اس کو لوک سبھا میں منظور کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نظر ثانی شدہ طلاق ثلاثہ بل کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ جبکہ سپریم کورٹ نے فوری طلاق ثلاثہ کو باطل قرار دیا ہے اور فوری طلاق دینے سے نکاح فسخ نہیں ہوتا ہے۔اس کے باوجود اس کو دوبارہ پارلیمان میں لا کر اس بل پر بحث و مباحثہ کرنے سے صرف عوام کا پیسہ او ر وقت برباد ہوا ہے۔ ایم کے فیضی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کیوں بے روزگاری،کسانوں کے مسائل،غربت اور اقتصادی بحران جیسے اہم مسائل پر اتنی ہی سنجیدگی سے بحث نہیں کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر نے اس قانون کے تحت شوہر کو طلاق دینے پر تین سال کی سزا کی اصطلاح پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کسی دوسرے مذہب میں اس طرح کرنے ایسی سزا نہیں ہے۔ بل میں اس بات کی وضاحت بھی نہیں کی گئی ہے کہ جب شوہر جیل چلا جائے گا تو متاثرہ بیوی کی دیکھ بھال کون کرے گا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس طرح کے سخت حکمت عملی سے کیا ایک خاندان کو ساتھ لانے میں مدد ملے گی ؟۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے پہلے ہی مستند اعدادو شمار جمع کیا ہے جس کے تحت 90فیصد مسلم خواتین اس بل کے خلاف ہیں۔ ایم کے فیضی نے سوال اٹھا تے ہوئے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ طلاق ثلاثہ کے عمل کو روکنے اور ہم جنس پرستی کو غیر مجرمانہ جرم قرار دینے کے پیچھے حکومت کا منطق کیا ہے۔ایم کے فیضی نے اس بل کو مسلمانوں کو آئین میں حاصل حقوق کی حق تلفی قرار دیا ہے۔انہوںنے کہا کہ روایت کے نام پر ایک عورت سبر ی ملا کی مذہبی مقام داخل نہیں ہوسکتی ،جبکہ سپریم کورٹ نے ہندو عورتوں کو ان کے حقوق سے انکار کرنے کو غیر قانونی قرارد یا ہے۔لیکن وہیں اسلام کی مذہبی روایتی عمل کو قبول نہیں ہے ۔حکومت اس طرح کا دوہر ا رویہ کیوں اختیار کررہی ہے ؟۔ایم کے فیضی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت قانون سازی کے ذریعے مسلم عورت کو طلاق طلب کرنے کا حق دے سکتی ہے؟۔انہوںنے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں جہیز پر پابندی عائد ہے کیا ہم کئی دہائیوں کے بعد بھی اس قانون کو نافذ کرنے میں کامیا ب ہوئے ہیں ؟۔ایم کے فیضی نے حکومت کے اس اقدام کو ووٹ بینک کی سیاست قرار دیا ہے۔ایم کے فیضی نے مرکزی وزیر قانون پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر قانون نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط پڑھا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ فوری طلاق دینے والوں کو فوجداری سزا دینا چاہئے۔طلاق ثلاثہ بل مسلم خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے نہیں بلکہ مسلم مردوں کو سزا دینے کیلئے بنایا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker