مضامین ومقالات

ہیپی نیو ائیر جیسے غیر اسلامی تہوار اور مسلمان

ابو حمران

 

ایک دفعہ مدینہ میں دو گروہ آپس میں جھگڑنے لگے… دونوں ہی آسمانی کتاب اور اللہ کے نبی کے ماننے والے تھے… ایک گروہ دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ:”تم ہر گز جنت میں نہیں جاؤگے جنت تو ہم نے اپنے نام رجسٹرڈ کروالی ہے” …. دوسرے گروہ نےکہا : “اونہہ… جنت میں صرف ہم ہی جائیں گے … تمارے لیے جنت میں کوئی جگہ نہیں”…اللہ تعالی سب سن رہا  تھا اس نے اپنے نبیﷺ سے کہا: “ان پاگلوں سے کہہ دو کہ زیادہ ڈینگیں نہ ماریں… جنت صرف ان لوگوں کا حق ہے جو دل سے ایمانِ کامل اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے بتلائے ہوئے احکام پر ظاہراً بھی عمل پیرا رہتے ہیں(بلی من أسلم وجهه إلى الله وهو محسن فله أجره عند ربه ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون)

 

پتہ چلا کہ جنت میں جانے کے لیے صرف مسلمانوں والے نام رکھ لینا یا کسی نبی کی امت میں ہوجانا کافی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد ان کے حکموں پر بھی عمل کرنا ضروری ہے … جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس کلمہ پڑھ لینا کافی ہوگیا اب ہمیں جنت میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ..  وہ صریح غلطی پر ہیں… صرف مؤمن ہونا اور چیز ہے اور صرف مسلم ہونا اور چیز … اور پکا مؤمن اور مسلم ہونا اور چیز ہے…

 

اللہ اور اس کے رسول کی دل سے تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کا نام اسلام … دونوں کا محل ایک ہی ہے”دل”…

 

ایمان اور اسلام میں ایسا زبردست تعلق ہے کہ ایمان بغیر اسلام کے اور اسلام بغیر ایمان کے غیر معتبر ہے … یعنی اگر کوئی صرف اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرے اور عمل کے ذریعے اطاعت و فرماں برداری کا ثبوت نہ دے تو یہ مؤمن تو کہلائے گا لیکن ایمان غیر معتبر ہوگا…اسی طرح اگر کوئی عمل کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری دکھاتا ہے لیکن دل سے ان کی تصدیق نہیں کرتا تو یہ مسلم کہلائے گا لیکن اس کا اسلام غیر معتبر ہوگا …. اسی کو قرآن نے کہا ہے”قالت الاعراب: آمنا،قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا” دیہاتیوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے، اے نبیﷺ! کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو بلکہ یہ کہو کہ ہم صرف ظاہرا اطاعت و فرماں برداری کر رہے ہیں…چونکہ ایمان نہیں تھا اس لیے اللہ نے ان کا اسلام غیر معتبر بتایا …اللہ نے کامیاب اور جنت میں جانے والا بتایا تو اسی کو بتایا جو پکا مؤمن بھی ہو اور پکا مسلم بھی” بلی من أسلم وجهه إلى الله وهو محسن “اللہ کہہ رہا کہ جنت کے حق دار صرف وہی لوگ ہیں جو اپنا رخ اللہ تعالی کی طرف کردیں یعنی عقائد و اعمال میں فرماں برداری اختیار کر چکے ہوں اور ساتھ ساتھ میں اپنی اس فرماں برداری میں مخلص بھی ہوں یعنی فرماں برداری دل سے اختیار کی ہو ان دیہاتیوں کی طرح کسی مقصد سے صرف ظاہر داری نہ ہو ..

 

اگر ہم نجات چاہتے ہیں اور اللہ کے مقرب بننا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس کے احکام کو بجالائیں…جس کے کرنے کا حکم دیا ہے اسے کریں اور جس سے منع کیا ہے اس سے کوسوں دور رہیں…اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی سے بچیں….اگر ہم یہ کام کرتے ہیں تو اللہ سے پوری پوری امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمیں جنت میں ضرور جگہ عطا فرمائے گا…

 

لیکن آج ہمارا یہ حال ہوگیا ہے کہ جو کرنے کے کام تھے انہیں ہم نے چھوڑ دیا اور جن سے منع کیا گیا تھا انہیں گلے سے لگا بیٹھے! … اس کے بعد بھی دلوں میں یہ امید کے ہم جنت میں ضرور جائیں گے… مسلمان جو ہیں …!

 

ان سب باتوں کے پیچھے بس ایک سبب ہے وہ یہ کہ ہم اپنا مقصد بھول چکے ہیں … ہمیں اپنی منزل تو یاد ہے لیکن راستہ بھٹک چکے ہیں …ہاتھ میں کتابِ ہدایت تو ہے لیکن پڑھنا بھول گئے ہیں … ایمان کی حلاوت ہمارے دلوں سے نکل چکی ہے … نبیﷺ کی محبت ہمارے دلوں سے روٹھ کر جا چکی ہے … اللہ کا خوف نہیں رہا … اپنے حقیقی ابدی گھر کو بھلاکر فانی دنیا سے دل لگا بیٹھے … ناچ گانوں میں ایسا الجھے کہ نہ قرآن کی تلاوت یاد رہی اور نہ نمازوں کی حلاوت محسوس ہوتی ہے….

 

ہمیں اگر دنیا میں پھر سے کھڑا ہونا ہے.. اپنی چودہ سو سال پہلے کی تاریخ لوٹانا ہے تو ہمیں اپنا مقصد یاد کرنا ہوگا …. اور ہمارا مقصد وہی ہے جو ربعی بن عامر نے رستم سے کہا تھا:”اللہ ابتعثنا؛لنخرج من شاء من عبادة العباد الی عبادة الله وحده” کہ اللہ نے ہمیں مبعوث فرمایا ہے تاکہ ہم اللہ کی مشیئت سے اللہ کے بندوں کو انسانوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت میں لگائیں”…

 

انہوں نے یہ نہیں کہا کہ “اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے” یا “اس کام کے لیے ہم خود کھڑے ہوئے ہیں”بلکہ کہا کہ”اللہ نے ہمیں مبعوث فرمایا ہے”یعنی اللہ نے ہمیں ذمہ داری بخشی ہے کہ ہم اللہ کے بندوں کو تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لائیں …اور یہ وہ حقیقت ہے جس سے آج کے مسلمان غافل ہیں…وہ جانتے ہی نہیں کہ ہمارے نبی کی بعثت دو مرتبہ ہوئی ہے ایک مرتبہ خود آپﷺ  کی ذات کی شکل میں اور ایک مرتبہ اس امت کی شکل میں جس کی اطلاع آپﷺ نے اپنے اس جملے سے اپنی امت کو دی تھی”بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین”کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہو تنگی پیدا کرنے کے لیے نہیں…

 

یہ ہے ہمارا مقصد اور اسی پر اس امت کی کامیابی موقوف ہے جب تک یہ امت اپنی اس ذمہ داری کو دوبارہ نہیں سنبھالتی ہے تب تک یہ اسی طرح دوسری قوموں کے سامنے خائب و خاسر رہے گی…

 

آج ہم اپنے معاشرے پر نظر کریں تو ہمیں ہر ایک اونگھتا ہوا نطر آتا ہے سبھی نے اپنی اس ذمہ داری کو فراموش کردیا ہے وہ بھول چکے ہیں کہ  اللہ نے ان کے کاندھے پر یہ ذمہ داری ڈال کر وارننگ دے دی تھی کہ “وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین”اگر دنیا میں سرخرو رہنا چاہتے ہو تو تمہیں اُس ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانا ہوگا جو نبیﷺ نے اپنے بعد تمہارے کاندھوں پر ڈالی ہے….

 

مگر افسوس جنہیں اللہ نے دنیا کا قائد و رہنما بنا کر بھیجا تھا وہ آج دنیا کی روایات میں الجھ کر دنیا کے غلام بن گئے… جنہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کو تاریکی سے نکالنا تھا وہ آج خود اس تاریکی میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں …

 

“کلکم راعٍ وکلکم مسؤلون عن رعیتہ” احساسِ ذمہ داری …. نبیﷺ نے چودہ سو سال پہلے ہی ہمیں تاکید کردی تھی کہ احساسِ ذمہ داری کو مردہ مت ہونے دینا ورنہ پوری قوم مردہ ہوجائے گی…

 

“کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ”ہم صرف اپنے بچوں کی اچھی دینی تربیت کے سلسلے میں بیدار ہوجائیں …گھروں کا ماحول دینی بنادیں تو بھی امت کا مستقبل سنورنے کی امید ہے..حیرت ہوتی ہے کہ عیسائیوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ مسلمانوں کے بچوں کی ذہنیت بدل دو پوری امتِ مسلمہ تباہ ہوجائے گی … لیکن مسلمانوں کو اتنی بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ہمیں اپنا مستقبل سنوارنا ہے تو اپنے بچوں کا مزاج دینی بنانا ہوگا…

 

بچے ہی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں جیسی تربیت ہوگی ویسا ہماری قوم کا مستقبل ہوگا… ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اللہ نے بچوں کو فطرتِ اسلام پر پیدا کیا ہے تو ہم ان کی اس فطرت کو ضائع نہ ہونے دیں…ہم صحابہ کے رتبے کو نہیں پاسکتے تو کیا ہم میں سے ہر ایک باپ “نور الدین زنگی” اور ہر بیٹا “صلاح الدین ایوبی”اور “محمد ابن قاسم” نہیں ہوسکتا؟؟!

 

اللہ کی عطا کی ہوئی فطرتِ اسلام کی حفاظت ہر ماں میں حضرتِ خنساء رضی اللہ عنھا اور نور الدین زنگی کی بیوہ کے جذبے اور بہادری کو بھی پیدا کرسکتی ہے…

 

اگر ہم نے اپنے مسقبل کی حفاظت نہیں کی اور اپنے بچوں میں اللہ کی عطا کی ہوئی فطرتِ اسلام کو ضائع ہونے سے نہیں بچایا تو پھر وہ دن بھی دور نہیں ہوگا جس کی پیش گوئی آپﷺ نے بہت پہلے فرمادی تھی”سوف تداعى عليكم الامم كما تداعي الأكلة إلى قصعتها” کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جیسے لوگ کھانا کھانے کے لیے ایک دوسرے کو بلاتے ہیں…اور یہ اس لیے ہوگا کیونکہ مسلمانوں نے اپنے مسقبل کی فکر نہیں کی اور فطرتِ اسلام کو ضائع کرکے دنیا کی محبت میں ڈوب گئے … اللہ کے راستے میں جان کی بازی لگانے کو ناپسند کرنے لگے …

 

دنیا کی محبت میں مسلمان ایسے ڈوبے کہ انہیں اسلام اور غیرِ اسلام میں امتیاز کرنا بھی مشکل ہوگیا…

اب یہی دیکھ لیجیے انگریزی سال اختتام پذیر ہے … تھرٹی فرسٹ میں کچھ دن رہ گئے ہیں.. اس وقت مسلمان یہ دیکھنے کی بجائے کہ شریعت کا اس بارے میں کیا حکم ہے وہ دنیا داروں کو دیکھتی ہے کہ “آقاؤں” کا کیا عمل ہے … ایمان کا ضعف اتنا بڑھا کہ سارے جائز نا جائز تہواروں کو اپنا تہوار بنالیا اور غافل ہوکر ان تہواروں کو دھوم دھام سے منانے لگے… حالانکہ شریعت نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ مسلمانوں کے صرف دو تہوار ہیں عید اور عیدالاضحی ان کے علاوہ سارے تہوار خرافات ہیں ان کا منانا کسی مؤمن کے لیے جائز نہیں.

 

سیدنا انس بن مالک بیان فرماتے ہیں :

 

كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمْ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى

 

[سنن النسائي , كتاب صلاة العيدين بابٌ (1556)]

 

اہل جاہلیت کے دو دن ایسے تھے جن میں وہ کھیلا کرتے تھے تو جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا ” تمہارے دو دن تھے جن میں تم کھیلا کرتے تھے اور اب اللہ تعالى نے تمہیں ان کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن عطاء فرمائے ہیں یعنی عید الفطر اور عید الاضحى کا دن” ۔

 

ان دو عیدوں کے علاوہ جتنے تہوار یا رسومات ہیں خواہ وہ عید میلاد ہو تھرٹی فرسٹ ہو ویلینٹائن ہو یا ان جیسے دوسرے تہوار ….

 

اگر ہم یہ تہوار اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے مناتے ہیں تو یہ سنگین بدعت ہے؛کیونکہ اسلامی دو تہواروں کو چھوڑ کر ہم نے تیسرے تہوار کی بنیاد ڈال دی ہے اور اگر یہ تہوار دوسروں کی دیکھا دیکھی مناتے ہیں تو لازما یہ تہوار کسی نہ کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص ہوگا…. تو جس قوم کا بھی یہ تہوار ہوگا ان کے ساتھ شرکت کی وجہ سے ہماری ان کے ساتھ مشابہت پائی جائے گی اور حدیث میں ہے”من تشبہ بقوم فھو منھم” جو کسی قوم “کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہیں میں شمار کیا جائے گا … اور غیر مسلموں کے تہوار میں ہماری شرکت کی وجہ سے ان کی اکثریت میں اضافہ ہوتا ہے یہ بھی ہمارے لیے خطرناک ہے کیونکہ اس سے غیر مسلموں کو تقویت ملتی ہے اس لیے نبیﷺ نے فرما دیا تھا”من کثر سواد قوم فھو منھم”یعنی جس نے کسی قوم کے تہوار وغیرہ میں شرکت کرکے ان کی اکثریت میں اضافہ کیا اس کا حشر انہیں کے ساتھ ہوگا۔۔اللھم احفظنا منہ

 

نیا سال نیا سال … آخر نیا سال آنے سے خوشی کس بات کی منائی جاتی ہے …ایسا کیا پالیا ہم نے اپنے گذشتہ سالوں میں جس کی اس نئے سال میں بھی امید ہے…کتنے اچھے کام کیے ہم نے اس سال … کتنے غریبوں کی مدد کی…کتنے بھوکوں کو کھانا کھلایا کتنی بیواؤں کو سہارا دیا …کتنے یتیموں کے سر پر دست شفقت پھیرا؟؟؟؟

 

گزشتہ سال بھی تو ہم نے تھرٹی فرسٹ منایا تھا؟لیکن نہ جانے کتنوں پر ہم نے ظلم کیا … کتنوں کو دھوکا دیا … کتنوں کے حق کو دبایا …شاید نئے سال کی خوشی اس لیے منائی جاتی ہے کہ ہمیں ایک سال اور اپنی من مانی کرنے کا مل رہا ہے؟؟

 

دھوکہ….ہر انسان خود کو دھوکہ دے رہا ہے … یہ انسان اندر سے اتنا ٹوٹ چکا ہے کہ حقیقی خوشیوں سے محروم ہونے کی وجہ سے مصنوعی خوشیوں سے دل بہلانے لگا…انسان چاہے جتنی خوشیاں منالے لیکن حقیقی خوشی اور دل کا سکون اسی وقت نصیب ہوگا جب ہر طرف عدل و انصاف اور سلامتی کا بول بالا ہو… اور یہ تبھی ممکن ہے جب دلوں سے لالچ اور بے جا آرزوئیں نکل جائیں …حقدار اپنے حقوق کو پہچانیں اور اللہ نے جنہیں جتنا دیا ہے اس پر قناعت کرلیں…نہ کوئ غریب امیر سے حسد کرے نہ کمزور طاقت ور سے نہ نوکر آقا سے نہ جاہل عالم سے … اور دلوں میں الفت و رحمت کا ایسا جذبہ موجزن ہو کہ ملک میں نہ کوئی ننگا دکھے نہ بھوکا نہ سڑکوں پر بیوائیں اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی مانگتی ملیں نہ جنگل میں کوئ مردہ لڑکی ہوس کی شکار ملے…نہ بچے کوڑے دان میں پھینکے ملیں…نہ کوئی بھوک سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا ہوا ملے … جرائم کے جراثیم معاشرے سے ایسے ناپید ہوجائیں کہ معصوم لوگوں کو نہ کوئی دین و مذہب کے نام پر لوٹ سکے اور نہ وطن کے نام پر… یہ ڈاکٹرز یہ وکلاء یہ تاجر یہ رائٹر یہ قائد، انسانیت کا خون چوسنا چھوڑ کر انسانوں کی زندگی کو صحیح رخ پر لگانا شروع کردیں … ہر طرف حقیقی امن و امان اور سکون قائم ہوجائے اور ہر آنے والا سال گذشتہ سالوں کی بنسبت بہتر اور خوشیوں والا ہوجائے تو بے شک ہمیں ایسے ہر سال کا انتظار رہنا چاہیے…

 

لیکن امن و سکون کیا happy new yer سے ملے گا؟ نہیں ہمیں امن و سکون چاہیے تو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا…”واعتصموا بحبل الله جمیعا ولاتفرقوا “ایک دوسرے کا تعاون کرنا ہوگا “وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر”…نظریاتی اختلاف کو ذہن تک ہی محدود رکھنا ہوگا…فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہونے سے گریز کرنا ہوگا…

 

امن و امان اور حقیقی خوشی چاہیے تو ہمیں اسلام کے لیے ایسے جانثار تیار کرنے پڑیں گے جو وقت پڑنے پر اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار ہوجائیں …بچوں کے ذہنوں سے عیسائیت کے گندے کیڑے نکال کر انہیں اللہ کی عطا کی ہوئی فطرتِ اسلام پر واپس لانا ہوگا…

 

حقیقی مسرت چاہیے تو اللہ کے آگے رونا گڑگڑانا پڑے گا…دلوں میں امت کے لیے درد پیدا کرنا ہوگا…گھروں کا ماحول اسلامی بنانا ہوگا…نماز با جماعت کی پابندی کرنی ہوگی…امت میں “فکرِ امت “کو جگانا پڑے گا…تلاوتِ قرآن کی کثرت کرنی ہوگی…اُن سب برائیوں سے دور رہنا ہوگا جن سے شریعت نے منع کیا ہے …آپﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا ہوگا…

 

ورنہ اگر یہی حالت رہی تو خدانخواستہ آج ہم غیرمسلموں کے تہواروں میں شرکت کر رہے ہیں کل ہماری اولاد اور ہمارا مستقبل عیسائیوں کے چرچ یا ہندؤوں کے مندر میں جا کھڑا ہوگا !! اور اس کے ذمے دار صرف ہم ہوں گے!

 

سچے مسلمان کو تھرٹی فرسٹ،ویلینٹائین ڈے اور اپریل فول جیسے تہواروں کی تاریخ اور ان کی قباحتیں بتانا ضروری نہیں انہیں تو بس یہ معلوم ہوجائے کہ یہ سب اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مرضی کے خلاف اور ان کے دشمنوں کے تہوار ہیں تو وہ ایسے تہواروں کو دور سے دیکھنا بھی گوارا نہیں کریں گے چہ جائیکہ اس میں شرکت کریں…اور جنہیں ماننا ہی نہ ہو… اپنے من کی کرنا ہو تو ایسوں کے لیے ہزار دلیلیں بھی بے کار ہیں…ایسے لوگ اگر کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں تو سن لیں:

 

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ۔’’اور جس نے میرے ذکر (یعنی میرے اور میرے نبیﷺ کے حکم ) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے‘‘۔طہ، 20 : 124

 

أعاذنا الله منه!

 

آخر میں ایک اصول بتاتا چلوں،جس سے صحیح راستے پر چلنے میں آسانی ہوگی اور اللہ کے غصے کو دعوت دینے سے محفوظ رہیں گے:

 

دنیا میں پتہ نہیں کتنے تہوار ہیں …خود مسلمانوں نے اتنے تہوار ایجاد کرلیے ہیں کہ ان کی گنتی بھی مشکل ہے…ایسے وقت ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس  تہوار کو ہم ثواب سمجھ کر منارہے ہیں یا دوسری قوموں کی نقل کر رہے ہیں اگر ثواب سمجھ کر منارہے ہیں تو دیکھیں کہ یہ تہوار قرآن و حدیث یا صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے ثابت ہے یا نہیں اگر ثابت ہے تو ضرور ثواب ملے گا…اور اگر ثابت نہیں تو بدعت ہوگا اور بدعت بہت بڑی گمراہی ہے انسان کو جہنم تک پہونچا دیتی ہے…

 

اور اگر دوسری قوموں کی دیکھا دیکھی منا رہے ہیں تو ان کے تہوار میں شریک ہوکر ان کی اکثریت میں اضافہ کر رہے ہیں اور غیر مسلموں کی اکثریت میں اضافہ کرنے والوں کے لیے بہت سخت وعید آئی ہے”من کثر سواد قوم فھو منھم”کہ ایسے لوگوں کا حشر انہیں غیر مسلموں کے ساتھ ہوگا…نعوز باللہ منہ

 

اسلام میں بس دو تہوار ہیں ۱)عید ۲)عید الاضحٰی، ان کے علاوہ سب تہوار مسلمانوں کے لیے جہنم کی تلوار ہیں جس کا جی چاہے اس پر چل کر اپنی عاقبت خراب کرلے اور جس کا جی چاہے اس سے بچ کر اللہ اور اس کے رسولﷺ کو راضی کرلے!”فمن شاء فلیؤمن و من شاء فلیکفر”!

(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker