مسلم دنیا

بنگلہ دیش عام انتخابات میں شیخ حسینہ کی پارٹی نے درج کی بڑی کامیابی

بنگلہ دیش عام انتخابات:بر سر اقتدار عوامی لیگ نے درج کی شاندارجیت، شیخ حسینہ بنیں تیسری باروزیراعظم، اپوزیشن نے اٹھائے سوال
ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی نے عام انتخابات کے نتائج کو خارج کردیا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عوامی لیگ کی جیت کا اعلان کردیا ہے۔
ڈھاکہ : 31 دسمبر
بنگلہ دیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ نے عام انتخابات میں شاندارجیت درج کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی اہم اپوزیشن پارٹی نےعام انتخابات کے نتائج کوخارج کردیا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عوامی لیگ کی جیت کا اعلان کردیا ہے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات کی جانچ بھی شروع کردی ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ گزششتہ اتوارکوگوپال گنج -3 انتخابی حلقے سے ایک طرح سے بلامقابلہ الیکشن جیت گئیں۔ انہیں 2,29,539 ووٹ ملے جبکہ اہم حریف بی این پی کے امیدوارکومحض 123 ووٹ ملے۔ برسراقتدارعوامی لیگ کی قیادت والے اتحاد نے 300 رکنی ایوان میں 260 سے زیادہ سیٹوں پرجیت درج کی ہے۔ پرائیویٹ ڈی بی سی ٹی وی نے 300 میں سے 299 سیٹوں کے نتائج کا اعلان کیا۔

برسراقتدارعوامی لیگ کی قیادت والے اتحاد کو266 سیٹیں ملیں اوراس کی معاون کنزرویٹیو جاتیہ پارٹی کو21 سیٹیں ملیں۔ جبکہ اہم اپوزیشن قومی ایکتا محاذ (یواین ایف) کوبی این پی کے ساتھ صرف 7 سیٹیں ملیں۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ دوسیٹوں پرآزاد امیدوارفاتح قراردیئے گئے ہیں۔ ایک امیدوارکی فطری موت کی وجہ سے اس سیٹ پرالیکشن ملتوی کردیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے شام کو باضابطہ طورپرشیخ حسینہ کی جیت کا اعلان کیا۔ وہیں الیکشن سے متعلق تشدد میں کم ازکم 17 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ اپوزیشن نے دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے پھرسے الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ابھی تک صرف ایک سیٹ گوپال گنج کے نتائج کا اعلان کیا ہے، جہاں سے شیخ حسینہ کو2,29,539 ووٹ ملے۔ جبکہ اہم حریف بی این پی کے امیدوارکومحض 123 ووٹ ملے۔

شکست کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش کی اہم اپوزیشن این یوایف اتحاد نےعام الیکشن کے نتائج کوخارج کردیا ہے اورمنصفانہ کام کرنے والی حکومت کے ماتحت پھرسے الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ این یوایف میں اپوزیشن جماعت بی این پی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 300 پارلیمانی سیٹوں میں سے 299 سیٹوں پرالیکشن ہوا ہے۔ اس کے لئے 1848 امیدوارمیدان میں تھے۔ الیکشن کے لئے 40,183 ووٹنگ مراکزبنائے گئے تھے۔ ایک امیدوارکے انتقال کے سبب ایک سیٹ پرالیکشن نہیں ہوا۔

خالدہ ضیا کامستقبل خطرے میں

شیخ حسینہ تیسری باروزیراعظم بننے کے لئے الیکشن لڑرہی تھیں جبکہ ڈھاکہ جیل میں بند ان کی اہم حریف اوربنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا کا مستقبل خطرے میں لٹکتا ہوا نظرآرہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 8 گھنٹے تک چلنے والے ووٹنگ عمل اپنے طے پروگرام کے مطابق اختتام تک پہنچا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن جماعت کی طرف سے عائد کئے گئے دھاندلی کے الزامات کی بھی الیکشن کمیشن نے جانچ شروع کردی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker