مضامین ومقالات

جذباتی موضوعات آخر کب تک؟ 

عبدالرحمن صدیقی
(نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
مودی حکومت نہ مسلمانوں کی ہمدرد ہے نہ ہندوئوں کی نہ ہندوستانیوں کی ، مختلف ہتھکنڈے اپناکر یہ حکومت اقتدار میں آئی اور اسے پورا یقین ہے کہ ملک کے عوام دوسری مرتبہ اسے منتخب نہیں کریں گے یقینی شکست کو فتح میں بدلنے کےلیے پارٹی شعبدہ بازیوں کاسہارا لے رہی ہے ان شعبدہ بازیوں میں ایک ہے طلاق ثلاثہ کا مسئلہ دوسرا رام مندر کا ۔ مودی حکومت ایک عرصہ سے اس نان ایشو کو ایشو بنائے ہوئے ہے ایک عرصہ تک بیان بازی چلی پھر پارلیمنٹ میںلانے کا شوشہ چھوڑا گیا پھر لوک سبھا میں بل پیش کرکے اسے منظور بھی کرالیاگیا اور راجیہ سبھا میں جب حکومت کومنہ کی کھانی پڑی تو آر ڈیننس کا سہارا لیاگیا اور ایک مرتبہ پھر لوک سبھا میں بل پیش کرکے اسے منظور بھی کرالیاگیا اور راجیہ سبھا میںمعاملہ آج ایک مرتبہ پھر لٹک گیا ۔ اب بدھ کے روز اجلاس میں پھر سے شروع ہوگا اور اس قانون کا کیا حشر ہوگا کسی کو نہیں پتہ۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ حکومت خود اس بل کو منظور نہیں کراناچاہتی تھی اس کا مقصد صرف اور صرف ایشو کو زندہ رکھنا تھا حکومت اگر مخلص ہوتی تو اس قانون کو بنانا ہی ہوتا تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے بل کو قانونی شکل دے دی گئی ہوتی، ماضی میں بھی وہ قوانین جو حکومت ہرحال میں منظور کرانا چاہتی تھی اس طرح کا راستہ اختیار کیاگیا ہے۔ دراصل حکومت کی منشاء یہ ہے کہ ایک طرف ہندو مسلم ایشو کو زندہ رکھا جائے دوسرا مقصد مسلمانوں میں تفریق پیدا کیا جائے اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی ۹۹فیصد اکثریت کسی بھی حال میں شریعت کے خلاف نہیں جانا چاہتی لیکن میڈیا کےایک طبقہ کے ذریعے پھیلائے گئے بھرم کی وجہ سے مسلم مخالفین اس قسم کے معاملہ کا سیاسی فائدہ اُٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
دوسرا ایشو ہے رام مندر کا معاملہ، سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ہندو تو وادیوں کی طرف سے بیان بازیوں کا سلسلہ جاری ہے ، کوئی قانون بنانے کا مشورہ دے رہا ہے تو کوئی مسلمانوں کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ بابری مسجد سے دستبردار ہوجائیں ، کوئی مندر کی تعمیر کےلیے تاریخ کا اعلان کررہا ہے ایک خبر یہ بھی اخبارات کےذریعہ پھیلائی گئی کہ حکومت رام مندر کی تعمیر کےلیے آرڈیننس لاناچاہتی ہے یہ بھی خبریں آئیں کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیاجاسکتاہے لیکن اس دوران ایک قابل ذکر بات یہ ہوئی کہ وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو ان کے آئینی منصب کے خلاف ہو ان لوگوں نے سوالوں کے جواب براہ راست دینے کے بجائے گول مول بات کہی ہے۔ شری شری روی شنکر ، وسیم رضوی اور مغلیہ خاندان کے جس وارث کو پتہ نہیں کہاں سے ڈھونڈ کر لایاگیا تھا سب خاموش ہیں۔ ادھو ٹھاکرے بی جے پی کو نیچا دکھانے کےلیے ایودھیا کاد ورہ ضرور کیا لیکن کسی بھی مرحلہ میں ان کی زبان بے قابو نہیں ہوئی لیکن دیگر ہندو تو وادی اپنی زبانوں کو قابو میں نہیں رکھ سکے اور ان کی صفوں میںموجود انتشار بھی کھل کر سامنے آگیا۔
۲۰۱۴ میںاقتدار میں آنے کے بعد سے مودی حکومت ہر وہ کام کررہی ہے جس سے ملک کے عوام کے اندر تفرقہ پیدا ہو، گھر واپسی ، گائے کے نام پر حملے، بابری مسجد، ٹرپل طلاق اس طرح کے معاملے میں گئو کشی کے نام پر ماب لنچنگ کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اب حکومت کے قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے جس وقت قارئین یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے اس وقت پرانا سال اپنے دامن میں تمام خوشگوار اور ناخوشگوار یادیں لے کر کلینڈر سے رخصت ہوچکاہوگا اورنیا سال تمام تر توانائیوں کے سا تھ سب کے سامنے جلوہ گرہوگا سال ۲۰۱۸ میں سب سے خوشگوار بات یہ ہوئی کہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے چناوئوں میں بی جے پی کی ذلت آمیز شکست ہوئی جیسا کہ بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے بی جے پی کا غرور توڑ دیا ہے اور مستقبل کےلیے نہایت خوشگوار اشارے دئے ہیں امید کی جانی چاہئے کہ سال ۲۰۱۹ فرقہ پرستی کی شکست کا سال ہوگا اور جذباتی حساس موضوعات کو اچھال کر سیاسی روٹی سیکنے وا لوں رائے عامہ کی عدالت تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گی۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker