شمع فروزاں

خاندانی نظام کا بکھراؤ اور اس کے مضر اثرات

شمع فروزاں:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
ترجمان وسکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ * جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین تخلیقی ڈھانچہ سے نوازا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (التین: ۴) اور اس کو شرافت و کرامت کا تاج پہنایا ہے :وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ (الاسراء: ۷۰) اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی توقیر و تکریم کا اوج کمال یہ ہے کہ اسے فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا اور شیطان کو صرف اسی لئے عالم بالا سے اتار پھینکا گیا کہ اس نے انسان کو حقیر سمجھ کر سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور اللہ کے حکم سے سرتابی کی راہ اختیار کی، (البقرۃ: ۳۴، الاعراف: ۱۱، الاسراء: ۶۱، الکہف: ۵۰، طہٰ: ۱۱۶) اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر یہ احسان بھی کیاہے کہ اس کو قوت تسخیر سے نوازا ہے، وہ سمندر کی تہوں کو ٹٹول رہا ہے، وہ حد نظر سے دور سیاروں پر اپنی کمندیں پھینک رہا ہے، وہ ہوا کے دوش اور سمندر کی متلاطم موجوں کی پشت پر سوار ہوکر ہزاروں میل کا سفر طے کرتا ہے، ہر صبح جب طلوع ہوتی ہے تو کائنات کی چھپی ہوئی حقیقتوں کے انکشافات اور نئے نئے آلات کے اختراع میں انسان کی فتح مندی کا مژدہ سناتی ہے؛ لیکن جہاں اس کی عقل و دانش کی سحر طرازیوں کے آگے کائنات دم بخود ہے، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ جسمانی اعتبار سے بے حد کمزور،نحیف اور محتاج و ضرورت مند ہے، دنیا میں جتنے جاندار ہیں، وہ بمقابلہ نومولود انسان کے جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجاتے ہیں، بعض جانور چند گھنٹوں میں چلنے پھرنے لگتے ہیں اور اپنی غذائی ضرورت خود پوری کرلیتے ہیں، بعض چند دنوں میں اور بعض چند مہینوں میں؛ لیکن انسان کو صرف آنکھ کھولنے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں، مہینوں میں وہ بولنا شروع کرتا ہے اور سالوں میں چلنا پھرنا، بلوغ و شباب کی منزل کو پہنچنے میں اسے پندرہ سولہ سال لگ جاتے ہیں،پھر شعور کی پختگی، جذبات میں اعتدال، فکر میں گہرائی وغیرہ کے لئے بھی سالہا سال مطلوب ہوتے ہیں؛ اس لئے وہ طویل عرصہ تک اپنے والدین کا، بزرگوں اور دوستوں کا، اساتذہ اور مربیوں کا، بہتر مشورہ دینے والے اور بہی خواہی کا جذبہ رکھنے والے رہنماؤں کا محتاج ہوتا ہے۔
اسی لئے انسان کو سب سے زیادہ خاندان کی ضرورت پڑتی ہے، اگر ماں باپ کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جائے تو وہ ایک خزاں رسیدہ درخت کی طرح اپنے آپ کو بے سایہ اور بے سہارا محسوس کرتا ہے، اگر وہ بھائی بہن سے محروم ہے تب بھی اسے اپنی تنہائی کا احساس ہوتا ہے، اگر کچھ اور بزرگ رشتہ دار — دادا، دادی اورنانا، نانی — نہ ہوں تو وہ غیر معمولی خلا محسوس کرتا ہے، اگر چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ سے محروم ہوتو اسے لگتا ہے کہ جیسے اس کے ارد گرد اپنے خاندان کا حفاظتی حصار موجود نہیں ہے، پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد جب تک شریک حیات کا ساتھ حاصل نہ ہوجائے، اس کی زندگی بے سکون اورناآسودہ ہوتی ہے، اب آگے خود اس کے گھر میں پھول کھلتے ہیں اوروہ صاحب اولاد ہوتا ہے تو اس سے غیر معمولی نفسیاتی مسرت اسے حاصل ہوتی ہے اور بیٹوں اور بیٹیوں کے بغیر اسے اپنی تگ و دو اور جد و جہد بے معنی اور بے مقصد نظر آتی ہے، پھر سسرالی خاندان کے ذریعہ وہ اپنے آپ میں مزید توانائی محسوس کرتا ہے، غرض کہ انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ ایک خاندان کا حصہ بن کر رہے۔
خاندان کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ اس کے لئے حفاظتی حصار ہوتا ہے، اگر کوئی شخص اس پر زیادتی کرے تو انسان یہ سمجھ کر اپنا دفاع کرتا ہے کہ اس کی پشت پر اس کا پورا خاندان ہے اور خود زیادتی کرنے والے کو بھی یہ خیال ہوتا ہے کہ ہمیں تنہا ایک شخص کا نہیں؛ بلکہ پورے خاندان کا مقابلہ کرنا ہوگا؛ اسی لئے شریعت نے قتل کی دیت (خون بہا) قاتل کے قریب ترین رشتہ داروں کے ذمہ رکھی ہے، جس کو ’’عاقلہ‘‘کہا جاتا ہے؛ تاکہ ایک طرف قاتل پر عائد ہونے والی اس بڑی مالی سزا کو رشتہ داروں پر تقسیم کردیا جائے اور وہ اس کے لئے قابل برداشت ہوسکے، دوسری طرف جو اعزہ و اقارب ہیں، وہ بھی محسوس کریں کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو جرم سے باز رکھنے کے لئے سبھی ذمہ دار ہیں، ورنہ جرمانہ میں ہمیں بھی شریک ہونا پڑے گا، اسلام سے پہلے عربوں میں یہ خاندانی نظام ہی تھا، جس کے ذریعہ لوگوں کا تحفظ ہوتا تھا، اور آج بھی قبائلی علاقوں میں یہی نظام لوگوں کی جان و مال کا محافظ ہے۔
خاندان کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کمزوروں، غریبوں، معذوروں، بوڑھوں، یتیموں، بیواؤں اور خواتین کی کفالت کا نظم ہوجاتاہے؛ کیوںکہ ہر شخص اپنے خاندان کے مجبور و نادار لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے، والدین کو اولاد کی اور اولاد کو والدین کی، شوہر و بیوی، بھائیوں، بہنوں کی ایک دوسرے کو، اسی طرح خاندان کے نادار اوربے سہارا لوگوں کی خاندان کے مرفہ الحال لوگوں کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے، اسلام میں نفقہ، کفالت اور میراث کے پورے قانون کی اساس یہی ہے کہ انسان پر صرف اسی کی ذمہ داری نہیں ہے؛ بلکہ وہ خاندان کا ایک حصہ ہے، وہ ایک کل کا جزو اور ایک عمارت کی اینٹ ہے، اس کے لئے درست نہیں ہے کہ وہ دوسروں سے بالکل بے تعلق ہوجائے۔
خاندان کا تیسرا اہم مقصد خوشی اور مسرت کو دوبالا کرنا اور مصائب و آلام کو تقسیم کرنا اور ہلکا کرنا ہے، کتنی بھی خوشی کی بات ہوجائے، اگر اس خوشی میں ماں باپ کی شرکت نہ ہو تو یہ خوشی ادھوری، ناتمام اور بے کیف معلوم ہوتی ہے، اسی طرح اگر انسان پر کوئی مصیبت آئے، اس کے درد پر آنسو بہانے والی کوئی آنکھ نہ ہو،اس کے غم کو بانٹنے والا کوئی دل نہ ہو اور اس کی تسلی و دلداری کرنے والی کوئی زبان نہ ہو تو رائی برابر مصیبت پہاڑ کی طرح معلوم ہوتی ہے، یہ انسانی فطرت ہے اور انسان کی نفسیات کا لازمی حصہ ہے، خاندان کی شرکت خوشی کو دوبالا اور غم کے احساس کو ہلکا کرتی ہے۔
اسی لئے قرآن مجید نے خاندان کے وجود کو اللہ تعالیٰ کے احسان میں شمار کیا ہے، بنیادی طور پر انسان تین خاندانوں کے درمیان ہوتا ہے، دادیہال، نانیہال اور سسرال، دادیہال اور نانیہال ماں باپ کی طرف سے اور سسرال شوہر و بیوی کی طرف سے، قرآن نے پہلے دونوں خاندان کو ’’نسب‘‘کے لفظ سے تعبیر کیا ہے اور تیسرے خاندان کو ’’صہر‘‘ کے لفظ سے: {وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّصِهْرًا ۭ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيْرًا} (الفرقان: ۵۴)اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خاندانی نظام انسانی سماج کے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اس میں انسان کا تحفظ ہے، اس میں اس کی کفالت کا انتظام ہے اور اس میں قلبی اور روحانی سکون کا سامان ہے؛ لیکن اسلام کا قانون میراث اور قانون نفقہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ خاندانی نظام میں اتنا پھیلاؤ بھی نہ ہونا چاہئے کہ انسان کے لئے اس کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا مشکل ہوجائے اورہر انسان کے اندر خلوت پسندی اور دوسروں کی مداخلت سے تحفظ کا جو جذبہ رکھا گیا ہے، وہ بھی مجروح ہوجائے؛ کیوںکہ اگر خاندان کی وسعت غیر محدود ہوجائے تو انسان گھر میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو بازار میں محسوس کرتا ہے اور مزاج کا اختلاف دوریاں پیدا کرنے کا اور ایک دوسرے سے اکتاہٹ کا سبب بن جاتا ہے؛ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کی بڑی اہمیت ہے؛ لیکن اس کے دائرہ کو اس حد تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسان بے سکونی محسوس نہ کرے۔
خاندانی نظام کی بنیاد شریعت اسلامی میں عدل و احسان پر ہے، عدل یہ ہے کہ جو آپ کے کام آتا ہے اورجتنا کام آتا ہے، آپ بھی اس کے کام آئیں اور اسی قدر آئیں؛ اسی لئے شریعت نے نفقہ کی ذمہ داری، حصۂ میراث کے تناسب سے رکھی ہے، اعزہ و اقارب کا نفقہ ان رشتہ داروں پر واجب ہوتا ہے، جو امکانی طور پر اس کے وارث ہونے کے اہل ہیں اور نفقہ بھی اتنی ہی مقدار میں واجب ہوگا، جتنا اس کا حق میراث ہوتا ہے، — احسان یہ ہے کہ جو آپ کے کام نہ آئے آپ اس کے کام آئیں، یعنی ایثار اور بے غرضی پر مبنی تعلق، اسی لئے جن لوگوں کا نفقہ کسی شخص پر واجب ہوتا ہے، وہ اس پر قرض نہیں ہوتا؛ بلکہ تبرع ہوتا ہے، یہ سمجھ کر رشتہ داروں کی خدمت کی جاتی ہے کہ ان کے لئے کھونا بھی پانا ہے؛ اس لئے اسلام میں خاندانی نظام کی بنیاد عدل و احسان یا انصاف و ایثار پر ہے۔
خاندان کی تشکیل میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، عورت ایک طرف اپنے بچوں کو سمیٹ کر رکھتی ہے اوردوسری طرف اپنے رشتہ داروں اور اپنے شوہر کے رشتہ داروں سے اپنی اولاد کو جوڑتی ہے، ماں کی ممتا اور بیوی کی محبت کا حق اسی وقت ادا ہوسکتا تھا، جبکہ وہ لطافت کا پیکر اور سراپا لطف و محبت ہو، لطافت کے لئے جسمانی نزاکت بھی ضروری ہے اور لطف ومحبت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر جذبات کا عنصر زیادہ ہو اور اس کا دل درد و محبت سے معمور ہو،اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک غیر معمولی خوبی ہے؛ لیکن دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس سے انسان کی قوت فیصلہ متأثر ہوتی ہے اور اس میں ذکاوت حس پیدا ہوجاتی ہے؛ اس لئے اسلام میں خواتین کے حقوق پر خاص طور سے زور دیا گیا ہے کہ مرد اس کی جسمانی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھائے اور اس کے جذبات محبت کا استحصال نہ کرے، رسول اللہ ا نے اسی لئے عورتوں اور غلاموں کے حقوق پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، اگر خواتین کو ان کے حقوق نہ دئیے گئے، انہیں برابر کی شریک حیات کا درجہ نہ دیا گیا ، انہیں اپنی ضروریات کے لئے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا گیا اور فرائض مادری ادا کرنے میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو یقینی طور پر خاندانی نظام بکھر کر رہ جائے گا۔
مغرب میں اس وقت یہی صورت حال ہے، مغرب نے مادی مفادات، زیادہ سے زیادہ افرادی وسائل کے حصول اورتجارتی ترقی کے لئے خواتین کو گھر سے باہر نکالا، انہیں تشہیر تجارت کا ذریعہ بنایا اور انہیں اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اس ذمہ داری کو بھی ادا کریں، جو فطری طور پر ایک عورت ہی ادا کرسکتی ہے اور کسبِ معاش کی جد و جہد میں بھی مردوں کے ساتھ شریک ہوں، اپنا بوجھ آپ اٹھائیں اور اپنی ضرورتیں آپ پوری کریں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میاں بیوی کے تعلق میں جذباتیت اور وفاداری کم ہوگئی، طلاق کے واقعات بڑھ گئے، بغیر نکاح کے زندگی گذارنے کو بہتر سمجھا جانے لگا، بچے والدین کے لئے بوجھ بن گئے، شرح پیدائش گھٹتی چلی گئی، زنا کی کثرت اور شناخت سے محروم بچوں کی بہتات ہوگئی، پُر سکون ازدواجی زندگی سے محرومی کی وجہ سے سکون حاصل کرنے کے لئے نشہ خواری زندگی کا حصہ بن گئی، والدین اور اولاد میں بھی محبت، وفاداری اور جذبہ خدمت باقی نہیں رہا اور خاندانی نظام پوری طرح بکھرکر رہ گیا، خاندانی نظام کے بکھراؤ سے مغربی سماج کو جو نقصانات پہنچے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
O بوڑھے اور ضعیف لوگوں کے لئے زندگی گذارنا دو بھر ہوگیا، اب ان کے لئے دو ہی راستے رہ گئے، یا تو وہ اپنے گھر میں تنہائی اور بے چارگی کی زندگی گذاریں، انہیں ایک گلاس پانی دینے والا اور ایک نوالہ کھلانے والا بھی میسر نہ ہو، یا وہ سن رسیدہ اور معمر لوگوں کے لئے بنائے گئے ہاسٹل میں رہیں اور ان کے بچے سال میں ایک دفعہ آکر انہیں گلدستہ پیش کردیں اور بس، یہ ایسی زندگی ہے جس میں انسان کو موت زندگی سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔
O دوسرا نقصان عورتوں کا ہوا، عورتوں کی صحت میں فطری طور پر جلد انحطاط پیدا ہوتا ہے، ولادت اور فطری عوارض تیزی سے ان کی صحت کو متأثر کردیتے ہیں اور عمر گذرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کی خوبصورتی کو گہن لگنے لگتا ہے؛ بلکہ ان کی قوت فکراور قوت عمل بھی تیزی سے متأثر ہونے لگتی ہے، اب جس معاشرہ میں عورت صرف مرد کے لئے ہوس کا سامان ہو، اس میں ایک ایسی عورت کی کیا قیمت ہوسکتی ہے، جس کا حسن و جمال ڈھل چکاہو؛ اسی لئے مغربی سماج میں عورتیں اپنے آپ کو بہت پریشان محسوس کرتی ہیں اور غالباً اسی باعث مغربی ممالک میں خواتین بہ مقابلہ مردوں کے زیادہ اسلام قبول کرنے پر مائل ہیں۔
O تیسرے: اس سے بچے متأثر ہوتے ہیں، جب زندگی میں ایک دوسرے سے جوڑ نہ ہو، زندگی کا مقصد صرف عیش و عشرت ہو تو وہاں انسان کے داد عیش دینے میں جو چیز بھی رکاوٹ بنتی ہے، وہ بوجھ بن جاتی ہے، بچے اس آزادی میں خلل انداز ہوتے ہیں، وہ ماؤں کے لئے ملازمت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شوہر وبیوی کے درمیان تعلقات میں بے وفائی کی وجہ سے یہ اندیشہ بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ اگر ہمارے راستے الگ ہوگئے تو ان بچوں کا بوجھ کون اٹھائے گا ؟ اس لئے مغربی سماج اولاد سے راہ فرار اختیار کررہا ہے اور جو بچے پیدا ہوجاتے ہیں، انہیں دیکھ بھال کے لئے پرورش گاہوں کے حوالے کردیا جاتا ہے، باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا انہیں ہفتہ میں ایک دو دن ہی مل پاتی ہے، اس طرح بچوں پر غیر معمولی نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔
O اس کا ایک بڑا نقصان اپنی شناخت سے محرومی ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ وہ اپنی پہچان کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے شہر کی، اس کے گھر کی، اس کے کاروبار کی اور اس کی اپنی پہچان ہو، سب سے زیادہ اس کو جو شناخت عزیز ہوتی ہے، وہ فطری شناخت ہے، یعنی ماں باپ اور خاندان سے اس کی نسبت، وہ اس کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے، جو لوگ اپنی شناخت سے محروم ہوتے ہیں، انہیں یہ محرومی ستاتی ہے، وہ نفسیاتی مریض ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ مجرمانہ حرکتوں میں مبتلا ہوجاـتے ہیں، خاندانی نظام کے بکھراؤکی وجہ سے نکاح سے گریز، زناکی کثرت اور اپنی شناخت سے محروم بچوں کی پیدائش مغربی ملکوں میں ایسے مجرموں کو پیدا کررہی ہیں۔
O انسان کو جو چیز سب سے زیادہ محبوب ہے، وہ ہے دل کا سکون، یہ سکون یا تو انسان کو تعلق مع اللہ سے ہوتا ہے، یا ایک انسان کو دوسرے انسان سے، بچوں کو اپنے ماں باپ کی گود میں جاکر جو سکون ملتا ہے، اس کی کسی بڑی سے بڑی نعمت سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی، نوجوان اولاد بوڑھے ماں باپ کے سر میں تیل لگائے اور پاؤں دبائے اس سے والدین کو جو خوشی ہوتی ہے اور قلب و روح کو جو تسکین حاصل ہوتی ہے، وہ سونے چاندی کی پلنگ پر سلانے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتی، شوہر و بیوی جیسے ایک دوسرے کے سکون کا ذریعہ ہیں، کوئی چیز اس کا متبادل نہیں بن سکتی، بھائی بہن کو ایک دوسرے کی محبت سے جس خوشی کا احساس ہوتا ہے، وہ کسی اور چیز سے نہیں ہوسکتا، جب خاندان بکھرتا ہے تو رشتوں کے آبگینے ٹوٹ جاتے ہیں، جیسے برقی سے محروم بلب سے روشنی حاصل نہیں کی جاسکتی، اسی طرح ان بے روح رشتوں سے انسان کو سکون کی غذا حاصل نہیں ہوپاتی، یہی وجہ ہے کہ مغرب اور مغرب زدہ معاشرہ میں بے خوابی،ڈپریشن اور خود کشی کے واقعات تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں؛ اس لئے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خاندانی نظام کا بقا انسان کے لئے بہت بڑی نعمت اور اس کا بکھرجانا بہت بڑی آزمائش ہے۔
گلوبلائزیشن کی بنیاد پر صرف مغرب کے تجارتی سامان ہی کا مشرقی ملکوں میں ایکسپورٹ نہیں ہورہا ہے؛ بلکہ مغربی افکار، مغربی تہذیب اور مغرب کا طرز زندگی بھی ہمارے سماج کے دروازوں پر دستک دے رہا ہے، نوجوان لڑکوں اورخاص کر لڑکیوں میں خاندان سے بے تعلق ہوکر ایسی زندگی گذرانے کا مزاج پیدا ہورہا ہے کہ جس میں انہیں نہ اپنے بڑوں کی خدمت کرنی پڑے اور نہ ان کا حکم ماننا پڑے، ماں باپ جن کے قدموں کے نیچے جنت رکھی گئی اور جن کو جنت کا دروازہ کہا گیا، وہ اولاد کے لئے بوجھ بنتے جارہے ہیں، خاندان کے بزرگوں کے تجربات پر مبنی مشوروں کو دخل در معقولات تصور کیا جارہا ہے، رشتۂ نکاح میں وفاداری کے بندھن کمزور ہوتے جارہے ہیں، اولاد سے فرار کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے، خاندان کے مجبور لوگوں کی کفالت اوران کی خدمت کی ذمہ داری لوگ اپنے آپ پر محسوس نہیں کرتے، غرض کہ ہمارا خاندانی نظام بھی شکست وریخت کے خطرہ سے دو چار ہے،ان حالات میں نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنے خاندانی نظام کو بچانے کی کوشش کریں اور اپنے سماج کو مغرب کے اس سیلاب میں بہہ نہ جانے دیں، جس نے خاندان کے تصور کو ایک فرسودہ روایت قرار دے دیا ہے اور چاہتا ہے کہ جیسے وہ خود خاندان کے بکھراؤ کی آگ میں جل رہا ہے، مشرقی سماج بھی اسی صورت حال کو قبول کرلے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker