روبروشخصیاتمضامین ومقالات

علامہ شبلی نعمانی ؒ کی ’عظمت‘ کو اجاگرکرتی ایک اہم کتاب

نام کتاب : عظمت ِشبلی
مصنف: مولانا ضیاء الدین اصلاحی ؒ
مرتبین: ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی اور محمد معتصم اعظمی
صفحات: 521۔ قیمت: 500/- روپئے
ناشر: اصلاحی ہیلتھ کیئر فاؤنڈیشن ، نئی دہلی
مبصر: شکیل رشید
ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز

دنیا میں کتابوں کے جو ڈھیر ہیں ان میں بے شمار اچھی اور بری کتابیں مل جاتی ہیں ، لیکن اچھی اور بری کتابوں کے ساتھ کچھ کتابیں ’ کما ل‘ کی بھی ہوتی ہیں ، ایسی کتابیں جن سے بار بار استفادے کا دل چاہے ، ہر مطالعہ کوئی نیا علمی نکتہ سامنے لائے اور ہر بار ذہن کے پردے سے کوئی ایسی غلطی جوبرسہابرس سے دوہرائی جاتی ہو‘ مٹ جائے ، حضرت مولانا ضیاء الدین اصلاحی ؒ کی کتاب’عظمت ِشبلی‘ ایک ایسی ہی کتاب ہے ۔۔۔ حقیقتاً یہ مولانا مرحوم کی کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو انہوں نے ایک یا چند نشستوں میں بیٹھ کر مکمل کی ہو، یہ ان کے ان بکھرے ہوئے مضامین کی ’ جمع وترتیب‘ ہے جو انہوں نے وقفے وقفے سے علامہ شبلیؒ کی حیات وخدمات پر تحریر کئے تھے ، ان مضامین کو جمع کرنے اور ترتیب دینے کا کام ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی اور محمد معتصم اعظمی نے کیا ہے ۔۔۔ اور اسے زیورِ طبع سے آراستہ ’ اصلاحی ہیلتھ کیئر‘ فاؤنڈیشن نئی دہلی ، نے کیا ہے ، اللہ رب العزت ان سب کو اس خدمت کے لئے اجرِعظیم عطا فرمائے ۔ یہ ایک طرح کی خدمت ہی ہے کیونکہ اگر ان مضامین کو جمع نہ کیا جاتا تو ، جس طرح بہت سارے اکابرین ، علمائے دین اور دانشوروں کی تحریریں ضائع ہوئی ہیں ، یہ تحریریں بھی ضائع ہوجاتیں ۔
حضرت مولانا ضیاء الدین اصلاحی ؒ کی شخصیت برصغیر ہندوپاک میں محتاجِ تعارف نہیں ۔ آپ ۱۹۵۷ء میں شبلی اکیڈمی سے وابستہ ہوئے اور زندگی بھر اکیڈمی کی خدمت کرتے رہے ، مختلف موضوعات پر خوب لکھا ، علامہ شبلی ؒ پر آپ کی تحریریں ، بقول مرتبین ’’مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ یوں کہیں کہ شبلیات پر لکھنے والوں میں آپ ’ ختم الرسل‘ہیں۔‘‘ اس مجموعے میں علامہ پر مولانا مرحوم کی ۲۱چھوٹی بڑی تحریریں جمع کی گئی ہیں ، مقالات کی ترتیب سنِ اشاعت پر رکھی گئی ہے ۔ ۔۔
کتاب کا نام چونکہ ’عظمتِ شبلی‘ رکھا گیا ہے اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ مولانا اصلاحی ؒ کے نزدیک علامہ شبلی ؒ کن معنوں میں عظیم تھے اور ان کی عظمت کی وجوہ کیا تھیں ۔ ایک مضمون کا عنوان ہی ہے ’ علامّہ شبلی کی عظمت وجامعیت‘ ۔ مولانا مرحوم نے ۱۸۵۷ء کی ناکام جنگ آزادی کے حوالے سے انگریزوں کے جذبۂ انتقام کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ دارالعلوم دیوبند اور سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک نے بالترتیب عقائد وایمان کی حفاظت اور مسلمانوں کی اصلاح وترقی اور ان کا مستقبل درخشاں اور تابناک بنانے کا بیڑا اٹھایا ۔سرسید کے مشن میں علامہ شبلی نعمانی ؒ بھی شریک تھے ۔ علمائے دین ، عیسائی مشنریوں اور آریہ سماجیوں کے اعتراضات کی دھجیاں تو اڑاسکتے تھے مگر مستشرقین کی فتنہ پردازیوں کا جواب اس لئے نہیں دے سکتے تھے کہ ’’مغربی زبانوں سے واقفیت‘‘ نہیں تھی۔ علامّہ کی ’عظمت‘ یہ ہے کہ ’’قدرت نے یہ دونوں خصوصیات اس وقت مولانا شبلی کی ذات میں جمع کردی تھیں ، انہوں نے قدیم طرز کے علما سے دینی تعلیم حاصل کی تھی، لیکن جدید طبقے کے لوگوں سے بھی ان کا اختلاط تھا ، ان کو دونوں طبقوں کے فضلا کی صحبتوں میں رہنے کا اتفاق اور ان کے خیالات سے مستفید ہونے کا موقع ملا تھا، ان میں جہاں اصل اسلامی روح اور صحیح دینی بصیرت موجود تھی اور وہ اسلامی علوم پر مکمل عبور اور اسلامی تاریخ وتہذیب پر گہری اور وسیع نظر رکھتے تھے ، وہاں نئے حالات ورجحانات تازہ افکار وخیالات اور جدید مسائل وتحقیقات بھی ان کے لئے اجنبی اور ناموس نہیں تھے ، چنانچہ ان کے زمانے میں مستشرقین جو اعتراضات بڑے شدومد سے کررہے تھے وہ ان سے واقف تھے اور ان کے بڑے مدلل اور محققانہ جواب دیئے اور اسلام ، اسلامی علوم ونظریات اور اسلامی تاریخ وتمدن کو ایسے پُر اثر اور دل نشین انداز میں پیش کیا کہ معترفین ومخالفین بھی ان کی عظمت وبرتری ماننے کے لئے مجبور ہوگئے ۔ ‘ ‘علامہ شبلی نعمانی ؒ نے’ ’ مستشرقین کے حوالوں ، استنباط اور نتائج وتحقیقات کی غلطیاں اور کمزوریاں دکھاکر اور ان کی تدلیس وملمع کاری کا پردہ چاک کرکے واقعات وروایات کو ان کی اصل شکل اور صحیح صورت میں سامنے کردیا اس سے ان کی ساری بدنمائی اور کراہت دور ہوئی اور فضلائے مغرب کا جعل وفریب واضح ہوگیا ۔ ‘‘
یہ فضلائے مغرب کا جو جعل وفریب ہے ا س کو اجاگر کرنا علامِہ شبلی نعمانی ؒ کی ’عظمت‘ کا زندہ جاوید ثبوت ہے ۔ کتاب کے چار مضامین ’’الفاروق کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ ’’ علامہ شبلی اور علم حدیث‘‘ ’’علامہ شبلی کے بعض جاوداں کارنامے‘‘ اور ’’علامّہ شبلی اور سیرت نبویؐ کی تالیف مقدمہ سیرت پر ایک نظر‘‘ میں علامہ شبلی ؒ کی اسی ’ عظمت‘ کو مزید حوالوں اور شواہد کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے ۔ مثلاً الفاروق کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے مولانا مرحوم بتاتے ہیں کہ علامہ شبلی ؒ نے ’’ واقعات میں اسباب وعلل کے سلسلے پیدا کرنے کی کوشش میں یوروپ کی بے اعتدالی سے احتراز کیا ہے ، اس میں قیاس واجتہاد سے چارہ نہیں لیکن اس کو واقعہ میں اس قدر مخلوط نہیں کیا ہے کہ دونوں کو الگ نہ کیا جاسکے ۔ ‘‘ درایت کے منضبط اصول وقاعدے اپنائے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ متد اول تاریخوں میں غیر قوموں کی نسبت حضرت عمرؓ کے نہایت سخت احکام جو منقول ہیں وہ اس لئے کہ ’’ یہ تصنیفات اس زمانے کی ہیں جب مسلمانوں میں تعصب پیدا ہوگیا تھا ، دوسرے یہ کہ قدیم ترین تصنیفات میں اس قسم کے واقعات بالکل نہیں ہیں یا بہت کم ہیں ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر تعصب آتا گیا اسی قدر روایتیں خود بخود تعصب کے سانچے میں ڈھلتی گئیں ۔‘‘ باقی کے تینوں مضامین میں بھی مولانا مرحوم نے علامہ شبلی ؒ کی کتابوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ کس مدلل انداز میں علامّہ نے مستشرقین کے جھوٹ کے پردے چاک کئے ہیں۔ جھوٹ چاہئے نبی رحمت حضرت محمدؐ کی ذات پاک کے تعلق سے رہا ہو ، چاہے قرآنِ پاک یا احادیث مبارک کے تعلق سے۔۔۔
کتاب میں علامہ شبلی ؒ کے ادبی پایے پر بھی بات کی گئی اور ان کی ادبی رعنائی وگل کاری کو جاگر کیا گیا ہے ۔ ایسے دومضامین ہیں ’’ سیرۃ النبی ؐ میں علامہ شبلی کی ادبی رعنائی وگل کاری ‘‘ اور ’’مولانا شبلی کا ادبی پایہ‘‘۔۔ مولانا اصلاحی ؒ کے بقول ’’درحقیقت وہ (علامہ شبلی ؒ) فطری ادیب اور انشاپرواز تھے ۔‘‘ کتاب کے دیگر مضامین میں دو مضامین تقابلی ہیں’’مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شبلی ‘‘ اور ’’علامہ شبلی اور مولانا آزاد‘‘ ایک مضمون کتابوں سے علامہ کی دلچسپی پر ہے ۔ ایک مضمون ’’ علامہ شبلی اور اعظم گڑھ‘‘ ہے ۔ ’شعر الحجم‘ کے حوالے سے ایک مضمون ہے ۔ ایک انتہائی دلچسپ مضمون ’’ مولانا شبلی اور ان کی سیرۃ النبیؐ پر تعجب خیز تنقیدیں ‘‘ ہے ۔ ان مضامین کو پڑھتے ہوئے نئی باتیں سامنے آتی ہیں ، پہلے سے معلوم بات اگر ادھوری ہے تو مکمل ہوجاتی ہے یا اس میں نقص ہے تو وہ دور ہوجاتا ہے ۔ ان مضامین کوپڑھ کر علامہ شبلی ؒ کی کتابیں پڑھنے کے لئے دل بے تاب ہوتا ہے ۔ الفاروق اور’ سیرۃ النبیؐ ‘ کا تعارف مولانا اصلاحی ؒ نے ایسے لاجواب انداز میں کرایا ہے کہ ان کتابوں کو پڑھنے کے لئے دلچسپی بڑھ جاتی ہے ۔ ظاہر ہے یہ مولانا مرحوم کے مضامین کی کامیابی ہے ۔
مرتبین نے مضامین کی تعداد ۲۱؍ بتائی ہے ،لیکن مضامین کی کل تعداد ۲۳ ہے جس میں سے ’مقدمہ‘ اگر نکال دیا جائے تو مضامین کی تعداد ۲۲ رہ جاتی ہے ! کیوں؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی اور نہ ہی ’ مقدمہ‘ میں اس پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ’ مقدمہ ‘ مختصر ہے یہ بات کھلتی ہے ، جہاں مضامین کے تعلق سے بہت سے سوالوں کے جواب ’ مقدمہ‘ میں دیئے جاسکتے تھے وہیں حضرت مولانا ضیاء الدین اصلاحی ؒ کے اندازِ تحریر، اور ان کے ادبی قد پر بھی روشنی ڈالی جاسکتی تھی، امید ہے کہ’ مرتبین‘ آئندہ کی اشاعت میں اس پر توجہ دیں گے ۔ کتاب میں ’ مرتبین‘ کا تعارف بھی نہیں دیا گیا ہے حالانکہ یہ ضروری تھا کیونکہ ’ مرتبین‘ نے بڑی ہی محنت سے مضامین جمع کئے ، ترتیب دیئے اور عرق ریزی سے حواشی کا التزام کیا ہے ۔۔۔ کتاب بے حد خوبصورت شائع ہوئی ہے ، اچھے کاغذ کا استعمال کیا گیا ہے ۔۔ یہ کتاب ’شبلیات‘ میں ایک اہم اضافہ ہے ، مرتبین اور ناشر، اصلاحی ہیتلھ کیئر فاؤنڈیشن نئی دہلی ، اس کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker