زبان وادبشعروادب

پشیمان(افسانہ)

محمد اسلم آزاد
پرنسپل الحرا پبلک اسکول ہنوارہ گڈا
8210994074
رات کے تقریبا ڈھائی بج رہے تھے ۔گھپ اندھیری سرد رات تھی جس میں صرف کتوں کے بھونکنے کی مسلسل آوازیں آرہی تھی ۔سامنے والے گھر کا ڈور بیل تقریباًپچھلے دس منٹ سے کوئی مسلسل بجائے جارہاتھا ۔ بیچ بیچ میں دروازے پر زور زور سے ہاتھ پیٹنے کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی ۔ شاید کوئی سخت پریشانی میں مبتلا ہوگا یا پھر ہوسکتا ہے سردی میں ٹھنڈسے بچنے کیلئے کوئی مسافر رات گزارنے کی ٹوہ میں ہو ۔ میں نے کہا ۔ تو روبی نے کہا کہ شاید فرحان ہی ہوگا ۔ ہوسکتا ہے زیادہ کام کی وجہ سے لیٹ ہوگیاہو ، ویسے بھی تو وہ اکثر ۹ بجے کے آس پاس گھر آتا ہے۔پر میں روبی کی باتوں سے متفق نہیں تھا ۔ کچھ دیر بعد ڈور بیل اور دروازے پر تھپ تھپ کی آواز بھی بند ہوگئی ۔
صبح جب میں برش کرتا ہوا اپنے بالکونی میں نکلا تو یکایک میری نظر فرحان کے دروازے پر پڑا ایک ادھیڑ عمرشخص نظر آیا جو زمین پر نڈھال پڑا تھا ۔ اسکے جسم پر چادر تو تھا پر اسکا بدن ڈھنکا ہوا نہیں تھا ۔ میں بغیر کسی تاخیر کے دانتوں میں برش دبا ئے دوڑتا ہوا وہاں پہنچاں تو برجستہ میری زبان سے آہ کی آواز نکل آئی۔ اور مارے شرمندگی کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ مجھے لگ رہا تھا کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی اور کوتاہی ہے جس کا کبھی ازالہ نہیں کیا جاسکتا ۔ میں پشیمان تھا خود پر ۔ اس شخص سے میری ملاقات تقریبا دو سال قبل ہی محلے کی مسجد میںہوئی تھی ۔ جب وہ یہاں اپنے بیٹے سے ملنے آئے تھے ۔ اسی نے تو میری ملاقات کرائی تھی فرحان سے ۔ اب اس شہر میں فرحان میرا سب سے بھروسے مند دوست ہے ۔ جو ایک نجی کمپنی میں ملازم ہے ۔
اس کے بعد جب بھی وہ شہر آتے میرے گھر ضرور آتے تھے ۔ حنیف چاچا میرے گھر کے ایک فرد کی طرح تھے ۔جو ہمیشہ مجھے اچھی اچھی باتوں اور اپنے قیمتی مشورے فیض یاب کرتے آئے تھے ۔ گذشتہ دو سال میں ہی ان کے ساتھ میرا اٹوٹ رشتہ بن چکا تھا ۔ ایک مہینہ قبل بھی تو آئے تھے جب مغرب کی نماز کے بعد میری خیریت پوچھی تھی اور دعاؤں سے نوازا تھا ۔ شاید میں ان کے قیمتی صلاح اور دعاؤں کا قرض دار ہوگیا تھا
میں نے زور سے فرحان کو آواز لگایا کئی بار آواز دینے پر فرحان نے دروازہ کھولا تو اسکی نظر دروازے پر جمع بھیڑپر پڑی وہ ابھی تک کچھ سمجھ نہیں سکا تھا ۔ اسکی آنکھیں جیسے کہ بھیڑ سے یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ یہاں کیوں جمع ہیں ؟ میں نے فرحان کو جھکجھورتے ہوئے حنیف چاچا کی طرف اشارہ کیا تو اسکے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ۔ اسکے حواس باختہ ہوگئے ۔ فرحان کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسؤوں کا سیلاب امڑ آیا ۔ کچھ لوگوں کی مدد سے میں نے جنازے کو اٹھا کر گھر کے اندر رکھا ۔
پر فر حان اب اکیلا ہوچکا تھا ۔ آج جیسے کہ اسکی ساری دنیا اجڑ چکی تھی اب اسے ڈانٹنے والا کوئی نہیں تھا بیٹا کہہ کر پکارنے والا اسے چھوڑ گیا ۔ اس پر ناز کرنے والا کوئی نہیں تھا ،رشک کرنے والا نہیں تھا ، کوئی ایسا نہیں تھا جو بغیر کسی ذاتی مفاد اور بلا واسطہ دلی محبت کرنے والا ہو ۔ ماں تو چار سال قبل ہی اللہ کو پیاری ہو چکی تھی اور اب والد بزرگوار بھی، پل بھر میں ہی فرحان کے گھر میں ماتم پسر گیا اوراب گھر میں اگر بتی کی خوشبو مانو ہر کسی کو موت کی یاد دلا رہی تھی ۔ پورے محلے کے لوگ اس حادثہ سے واقف ہوچکے تھے دوچار گھر کے لوگ تسلی دیکر واپس جاچکے تھے۔ پر فرحان ابھی بھی بڑبڑائے جارہاتھا ۔ اسکے رونے کی آواز میں اسکا کوئی لفظ ڈھنگ سے ادا نہیں ہو رہاتھا ۔ وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔
میں نے فرحان کے رشتہ ناتوں میں خبر کر کے اگلے دن ظہر کے بعد مٹی کا اعلان بھی کروادیا ۔ادھر پورے محلہ میں ساری باتیں چھوڑ کر محض اس بات کا چرچہ ہو رہاتھا کہ فرحان کے والد صاحب کا انتقال دروازے پر کیسے ہوا ؟ وہ کب آئے تھے ؟ اچانک ایسا کیا ہوگیا ؟ کیا فرحان اور اسکی اہلیہ کو ان کے آمد کی خبر نہیں تھی؟ فرحان اور اسکی بیوی روما کہاں تھی؟ وغیرہ وغیرہ
فرحان کے والد حنیف صاحب جنہیں میں چاچا کہہ کر بلایا کرتا تھا ساری زندگی اپنے اکلوتے بیٹے کی پرورش اور تعلیم وتربیت میں صرف کردی تھی ، اپنی محنت کی کمائی اور بہترین تعلیم وتربیت سے آراستہ کیا تھا اپنے لاڈلے کو ؛انجینئر بنایا تھا اسے ، حنیف چاچا نے اپنے بیٹے کی تعلیم وتربیت میں کوئی قصر باقی نہیں چھوڑاتھا ،انہیں اپنے انجینئر بیٹے پر بیحد رشک تھا ،وہ ہمیشہ اسکی تعریف کیا کرتے تھے ، انہیں ناز تھا اپنے لاڈلے پر ، فرحان ہمیشہ اس بات کا اعتراف بھی کیا کرتا تھا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہے محض اپنے والد کے دم پر ہے ۔ جس نے نہ جانے کتنی صعوبتیں برداشت کی محض میری تعلیم کی خاطر ، فرحان کو اس بات کا بھی بیحد ملال تھا کہ انکی والدہ ان کو انجینئر کے طور پر نہ دیکھ سکیں ۔
حنیف چاچا گذشتہ دوسالوں سے دل کے مرض میں مبتلا تھے ، فرحان انکا علاج شہر کے اچھے اور نامور ڈاکٹر سے کرارہاتھا ۔
پچھلے مہینہ جب وہ یہاں آئے تھے تو میں نے اور فرحان نے ان سے بڑی ضد کی تھی کہ وہ یہیں رہیں پر حنیف چاچا نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ انہیں شہر کی زندگی راس نہیں آتی ، یہاں دم گھٹتا ہے میرا ،یہاں مجھ سے بات کرنے والا کوئی نہیں ، کوئی اپنا نہیں ،خبر خیریت لینے والا کوئی نہیں ہے ۔ بیٹا فرحان :میں گاؤں میں ہی خوش ہوں وہاں ہماری پشتینی زمین اور مکان بھی تو ہے اور پھر وہاں سب لوگ تمہارے بارے میں پوچھتے بھی ہیں بس ۔ہاں!بس کبھی کبھی ملنے آجایا کرونگا تم سے اور تمہارے بال بچوں سے ۔ اپنے والد کی بات سن کر اس دن فرحان رو پڑا تھا ۔
ظہر بعد تدفین سے فارغ ہوکر جب میں گھر آیا تو فرحان بھی میرے پیچھے پیچھے آیا۔میں روبی کو چائے بول کر آیا ، اور خاموش ہوکر کرسی پر بیٹھ گیا ۔ فرحان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہا تھے، میں نے آگے بڑھ کر جیسے ہی اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھا وہ زور زو سے بچوں کی طرح رونے لگا ،میں نے بہت سمجھایا۔ پروہ چپ کہاں سے ہوتا جب کہ میں خود بھی روئے جا رہاتھا ۔ روبی چائے لے آئی اور ٹیبل پر رکھ کر واپس ہوگئی ،میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی چائے کی پیالی اٹھائی اور فرحان کو پکڑادیا ، اس نے منع کیا پر میرے ضد کرنے پر مان گیا ۔ چائے پیتے ہوئے دوبار اسکی آنکھوں سے آنسو گر کر چائے میں سما گئی جس کا فرحان کو خبر تک نہیں ہوا ۔ دراصل فرحان کو اس بات کی فکر ستا رہی تھی کہ اسکے والد کی ا س طرح کی موت پر لوگ اسے کیا کہینگے ؛ کس کس طرح کے خیالات پالیں گے ۔اس کے بارے میں کیا سوچینگے ۔ اس سے بھی زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ اسکے رہتے ہوئے اسکے والد کی موت گھر کے دروازے پر ہوگئی ۔پر فرحان پوری طرح سے شرمندہ تھا حالانکہ اسکے والد کی موت اسکے گھر کے باہر ہونا محض ایک اتفاق تھا پروہ پشیمان تھا اپنے آپ پر ۔ اپنی نیند پر ،اپنے دیر رات تک کے کام پر جسکی وجہ سے ڈور بیل سے بھی اسکی نیند نہ کھل سکی ۔
میں نے فرحان کو دلاسا دیتے ہوئے گھر بھیج دیا ، حنیف چاچا کی موت اتفاقی ضرور تھی پر موت دروازے پر ہونے میں میں بھی اتنا ہی ذمہ دار اور قصوروار تھا جتنا کہ فرحان ۔ اب میری نظریں بار بارفرحان کے دروازے کے آگے اس چھوٹی سے سیڑھی نما جگہ پر جا رہی تھی جہاں حنیف چاچا نے دروازہ نہ کھل پانے کی وجہ سے دم توڑ دیا تھا ، اور میرا ذہن بارباحنیف چاچا کی ان باتوں کو یاد کر رہاتھا جب انہوں نے کہا تھا کہ شہر میں کوئی ان سے بات کرنے والا نہیں ہے ، شاید انہوں نے شہری زندگی کی صحیح تعبیر کی تھی کیونکہ اس رات بھی کو ئی حنیف چاچا کا پرسان حال نہ ہوا ۔۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker