روبروشخصیاتمضامین ومقالات

امیر شریعت منت اللہ رحمانی ؒ کی شخصیت اور خدمات پر ایک دستاویزی کتاب

نام کتاب : امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ
مرتب: حضرت مولانا عمید الزماں قاسمی کیرانویؒ
معاون مرتب: مولانا ڈاکٹر وارث مظہری قاسمی
بااہتمام : تنظیم ابنائے قدیم ، دارالعلوم دیوبند ، نئی دہلی
مبصر: شکیل رشید
ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز

امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ کی شخصیت کو اگر ایک جملہ میں بیان کرنا ہوتو حضرت مولانا افضال الحق جوہر قاسمی ؒ کا یہ جملہ کافی ہے ’’ وہ جن عناصر سے بنائے گئے تھے وہ خالص دینی تھے ۔ ‘‘ یقیناً حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ اسی لئے تو ’ امیر شریعت‘ تھے ۔ مولانا مرحوم کی خدمات بہت وسیع ہیں ، ملک وقوم ، اسلام اور مسلمان اور تعلیم وتربیت کوئی شعبۂ حیات ایسا نہیں ہے جو حضرت امیر شریعت ؒ کی خدمات سے بچا ہوا ہو ۔۔۔ امیر شریعت ؒ کے علمی وفکری نقوش بہت گہرے ، ملی واجتماعی جدوجہد انتہائی سخت اور دینی وروحانی خدمات بے حد وسیع وکنار تھیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک عرصے سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ امیر شریعت ؒ کی حیات وخدمات پر کوئی جامع کتاب آئے ، ایسی کتاب جس میں ان علمائے کرام اور دانشوران عظام کی تحریریں ہوں جنہوں نے امیر شریعت ؒ کو بہت قریب سے دیکھا بھی ہو اور ان کی مختلف تحریکوں میں ساتھ بھی رہے ہوں ، اور اگر ساتھ نہ بھی رہے ہوں تو کم از کم ان تحریکوں سے واقف اور قلبی طور پر وابستہ رہے ہوں ۔ حال ہی میں ایک ایسی کتاب آئی ہے ۔ ’ تنظیم ابنائے قدیم درالعلوم دیوبند، نئی دہلی‘ نے ’ امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ ، علمی وفکری نقوش ، ملی واجتماعی جدوجہد ، دینی وروحانی خدمات‘ کے نام سے جو کتاب شائع کی ہے وہ امیرشریعت ؒ کی حیات وخدمات ، افکاروخیالات ، خدمات وکارنامے اور نقوش وتاثرات کو چار ابواب میں پوری تفصیل کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کردیتی ہے ۔ کتاب کے مضامین دراصل مارچ ۲۰۰۵ میں امیر شریعت ؒ پر ہوئے سیمینار میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔ اس کتاب کا ’ پیش لفظ‘ حضرت مولانا افضال الحق جوہر قاسمی ؒ (مرحوم) کا تحریر کردہ ہے اور ’مقدمہ ‘ حضرت مولانا عمید الزماں قاسمی کیرانویؒ کا ، جو کتاب کی اشاعت سے قبل خالق حقیقی سے جاملے ، اللہ ان دونوں بزرگوں کی مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت دے (آمین) ’مقدمہ‘ میں مولانا کیرانوی ؒ کا یہ جملہ امیر شریعت ؒ کی شخصیت کو مکمل طور پر آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے ۔ ’’حضرت امیر شریعت ؒ کی سب سے بڑی خصوصیت مستقبل شناسی پر مبنی حرکیاتی (Dinamic) سوچ اور عملیت پسندی تھی ۔‘‘
کتاب کے ابتداء میں حضرت مولانا مرغو ب الرحمن ؒ (مہتمم دارالعلوم دیوبند) اور حضرت مولانا حمید الدین عاقل حسامی ؒ (ناظم دارالعلوم حیدر آباد) کے پیغامات اور مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ، مولانا محمد سالم قاسمی ، مولانا عمید الزماں کیرانوی ؒ ، اور مولانا قاضی زین الساجدین قاسمی کے ’خطبات‘ دیئے گئے ہیں ۔۔۔ باب اول ’ حیات وشخصیت ‘ میں کل آٹھ مضامین ہیں، ان مضامین میں امیر شریعت ؒ کی یادوں کی مہک ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا مضمون ’حضرت امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی کی شخصیت کے تشکیلی عناصر اور معاصرین میں ان کے امتیازات وتشخصات‘بڑی محنت سے تحریر کیا گیا ہے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے بقول امیر شریعت ؒ میں چھ صفات ایسی تھیں جو انہیں معا صر علما سے ممتاز کرتی ہیں ، (۱) جرات وہمت (۲) حکمت اور حسن تدبیر (۳) امت کی اجتماعیت کی فکر (۴) وسیع القلبی وفراخ قلبی (۵) تحفظ شریعت کی سعی بلیغ اور (۶) افراد سازی ومردم گری اس باب میں مولانا عزیز الحسن صدیقی غازی پوری نے اپنے مضمون میں امیر شریعتؒ کے مزاج وانداز پر اور انجینر شاہ محمد صدیقی (ایڈوکیٹ) نے مزاج ومذاق اور طریقۂ کار پر بات کی ہے ۔ مولانا جنید احمد بنارسی نے اپنے مـضمون میں ’ مولانا سید منت اللہ رحمانی کے ہم عصر علما سے تعلقات ، کا ذکر کیا ہے ۔ باب دوم ’افکاروخیالات‘ پر مشتمل ہے ، اس میں کل پندرہ مضامین ہیں ۔ لکھنے والوں میں مولانا محمد برہان الدین سنبھلی ، مولانا فضیل الرحمن ہلال عثمانی ، سید حامد ، شمس الرحمان فاروقی، مولانا مفتی عبداللہ مظاہری ، مولانا امین عثمانی ، پروفیسر بدرالدین الحافظ ، پروفیسر الطاف احمد اعظمی، مولانا سہیل احمد قاسمی وغیرہ شامل ہیں ۔ اس باب کے مضامین میں امیر شریعت ؒ کی حکمت وبصیرت ، علم وفقہہ، فکروعمل، تعلیمی نظریات ، سماجی نظریات ،سیاسی نظریات اور امیر شریعت ؒ کی اردو نثر کا جائزہ لیا گیا ہے ۔
باب سوم’ خدمات اور کارنامے‘ میں سولہ مضامین ہیں ، ان مضامین میں آپ کی دینی اور مذہبی خدمات کے ساتھ مدارس کے تئیں آپ کی محنت اور شریعت کی حفاظت کے لئے آپ کی جدوجہد اور جنگ آزادی میں آپ کے قائدانہ کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اور مسلم پرسنل لاء بورڈ سے آپ کا جو تعلق تھا اس کا بے حد مفصل تذکرہ کیا گیا ہے ۔ باپ چہارم ’نقوش وتاثرات‘ کے عنوان سے ہے ۔ یہ امیر شریعت ؒ کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے تاثراتی مضامین ہیں ۔ لکھنے والوں میں مولانا نور عالم خلیل امینی ، مولانا اسرارالحق قاسمی مرحوم اور مولانا ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی ودیگر شامل ہیں ۔ آخر میں ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی کی تحریر کردہ سیمینار کی رپورٹ ہے ۔۔۔ کتاب کا مطالعہ جہاں امیر شریعت ؒ کی شخصیت اور خدمات کو اجاگر کرتا ہے وہیں ان کے دور کے سیاسی اور سماجی حالات کو بھی عیاں کرتا ہے ۔ ۔۔ اور ہمارے سامنے یہ بات بھی آجاتی ہے کہ اکابرین نے شریعت کے تحفظ کے لئے کتنی بڑی لڑائی لڑی تھی۔۔۔۔ گویا یہ کتاب اپنے دور کی تاریخ بھی ہے ۔۔ کتاب انتہائی عمدہ کاغذ پر انتہائی خوبصورت انداز میں شائع ہوئی ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker