جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

مسلم وزیر کی’ پوجا وارچنا ‘اور دانشورانہ فرمودات

شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
آج ایک تصویر دیکھی اور ہا تھ مل کر رہ گیا!
اب بس میں صرف ہاتھ ملنا ہی رہ گیا ہے! اور لگ یوں رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہاتھ ملنے کے عمل میں تیزی آئے گی۔ کیوں؟ اس سوال کے جواب سے پہلے تصویر کی بات کرلی جائے۔ تصویر راجستھان کی گہلوت کابینہ کے واحد مسلم وزیر صالح محمد کی ہےجو ایک صوفی غازی فقیر کے صاحبزادے ہیں۔ یہ حضرت جب اپنے اسمبلی حلقے پوکھرن پہنچے تو جیسلمیر کے ایک مندر میں پہنچ گئے او روہاں کوئی ڈیڑھ گھنٹے تک ’پوجا ارچنا‘ کی۔ ’پوجا ارچنا‘ کے بعد جب ان سے اخباری نامہ نگاروں نے دریافت کیا کہ وہ تو مسلمان ہیں، پھر انہوں نے پوجا کیوں کی؟ انہوں نے دل مسوس کر رہ جانے والا جواب دیا ؛ کہا ’دیوی دیوتائوں، کی کوئی ذات نہیں ہوتی، یہ ہندو مسلم والی بات نہیں ہے، ہر ایک کا اپنا عقیدہ ہے، ہم گنگا جمنی تہذیب میں بھائی چارہ سے رہتے ہیں، یہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے، بابا رام دیو کے مندر سے ہندو اور مسلمان دونوں بڑی عقیدت رکھتے ہیں اور مندر میں ’پوجا ارچنا‘ کےلیے آنا میرے ذاتی عقائد کی بنیاد پر ہے‘۔
یہ جواب سن کر یقیناً انہوں نے خود کو دانشور سمجھا ہوگا! یہ وہی صالح محمد ہیں جنہیں راجستھان کی سرکار میں اقلیتی امور کا وزیر بنایاگیا ہے۔ جب انہیں یہ وزارت سونپی گئی تھی تب مسلمانوں کی طرف سے سخت ناراضگی کا اظہار کیاگیا تھا اور یہ مطالبہ کیاگیا تھا کہ صالح محمد جیسے سینئر اور تجربے کار سیاست دان کو کوئی زیادہ اہم وزارت سونپی جانی چاہئے تھی۔ شاید وزارت داخلہ۔
ایک سوال کے جواب کی آج تک تلاش ہے کہ بھلا عام مسلمان کیوں ان مسلم لیڈوں سے، جن کی زندگیاں کھلی کتاب ہیں، بہتری کی امیدیں لگائے اور ان کی ترقی کےلیے سرکاروں سے مطالبے کرتے اوراحتجاجات کرتے رہتے ہیں؟ صالح محمد کی ’پوجا وارچنا‘ پر کچھ نہیں کہنا ہے یہ ان کا اپنا ’عقیدہ‘ ہے کہ دیوی دیوتائوں اور اوپر والے کی کوئی ذات پات یا دھرم نہیں ہوتا، پر یہ سوال ضرور کیاجائے گا کہ کسی ایسے سیاست داں پر کوئی مسلمان اور کوئی غیر مسلم ووٹر کیسے بھروسہ کرسکتا ہے جو صرف اپنے ’سیاسی مفادات‘ کےلیے اپنا ’دھرم‘ اور اپنا ’مذہب ‘ تک گروی رکھنے کےلیے تیار ہوجائے ؟ صالح محمد الیکشن مہم کے دوران بھی کئی بار مندر گئے اور ماتھا ٹیکے تھے، ظاہر ہے کہ یہ سب خود کو ’ہندو پرست‘ بتانے کےلیے کیاگیا ہوگا۔ اب ایسے شخص کو مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے مسائل سے متعلق وزارت سونپی گئی ہے؛ کیا کوئی ایسا شخص جو اپنے مذہب کے تئیں مخلص نہیں ہے۔( واضح رہے کہ توحید یعنی اللہ کے ایک ہونے پر ایمان ، ایک مسلمان ہونے کی شرط اول ہے) وہ بھلا کیسے اپنے حلقے کے مسلمانوں کا مخلص ہوسکتا ہے! گنگا جمنی تہذیب او ربھائی چارے کا مطلب ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام ہے ایک دوسرے کی ’پوجا ارچنا‘ یا ’عبادات‘ میں شریک ہونا نہیں ۔ اس طرح کی ’عبادات‘ اور ’پوجا ارچنا‘ کوسوائے ڈھونگ، فریب اور دھوکہ دہی کے کچھ اور نام دیا جاسکتا ۔ اور اس ملک میں بے شمار ایسے مسلمان لیڈر ہیں جو روزانہ ہی اس طرح ڈھونگ ، فریب اور دھوکہ دہی کے عمل میں جٹے رہتے ہیں۔ اور شاید آنے والے دنوں میں ایسے سیاست دانوں کی تعداد اور بڑھ جائے۔ ہاتھ ملنے کےلیے تیار رہناچاہئے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker