جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

اورمودی جی نے پھر دیا انٹرویو!

سوالوں میں جواب کہیں کھوگئے !
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لا ئن)
کیاواقعی ہندوستان میں دودھ کی نہریں بہتی ہیں؟
وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے ایک ’انٹرویو‘کے ذریعے…..جسے Scriptedیعنی ’منظرنامے میں ڈھالاہوا‘قرار دیا جارہاہے…..ہندوستان کے حالات کچھ ایسے ہی دکھائے ہیں جیسے کہ ہندوستان تمام مسائل اورتمام مصائب سے چھٹکاراپاچکاہے۔’انٹرویو‘پرائیوٹ نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘کی ایڈیٹرسمیتا پرکاش کالیا ہوا ہے۔اس انٹرویوکی ’خوبیوں اورخامیوں‘پر ٹی وی چینلوں پر بھی کافی بحث ومباحثہ ہوچکا ہے اورپرنٹ میڈیا میں بھی بہت کچھ لکھا جاچکاہے۔کانگریس کے صدرراہل گاندھی کے ذریعے سمیتا پرکاش پرنکتہ چینی کے بعد بھی یہ انٹرویو موضوع بحث رہاہے اورآج بھی موضوع بحث ہے کہ اس کے حوالے سے اب یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ سمیتا پرکاش پر راہل کی نکتہ چینی(راہل نے انہیں لچکدار صحافی کہہ دیاتھا)کے بعدواویلا مچانے والے ’ہندوتوادیوں،بھاجپائیوں ‘اور’مودی توادیوں‘کوکیا مودی کے ایک وزیروی کے سنگھ کاوہ جملہ یادنہیں ہے جس میں انہوں نے صحافیوں کو Presstitudeکہہ دیاتھا جس کا ترجمہ’طوائف نماصحافی‘کیا جاسکتا ہے؟اوریہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ میڈیا خوداپنے گریبان میں جھانک کر کیوں نہیں دیکھتا کہ اب اس پر لوگ کیوں بھروسہ نہیں کرپارہے ہیں؟’گودی میڈیا‘کی اصطلاح اس ملک میں سرکاری اشارے پر ناچنے والے صحافیوں اورمیڈیا گروپوں کے لیے ہی استعمال کی جاتی ہے!اوریہ ’گودی میڈیا‘ہی ہے جو مودی کی بات کومن وعن یوں پیش کرتا رہاہے جیسے ’سچ ‘یا’سچائی‘اس کے سوا کچھ اورنہیں ہے۔خیر‘بات وزیر اعظم کے’انٹرویو‘کی ہو رہی تھی۔انٹرویو95منٹ طویل ہے،یعنی ڈیڑھ گھنٹہ پانچ منٹ کا۔ڈیڑھ گھنٹے میںتو بہت ساری باتیں کی جاسکتی تھیں،بہت سے مسائل اوران کے حل پر گفتگوہو سکتی تھی‘وزیر اعظم بہت ساری’غلط فہمیوں‘کاازالہ کر سکتے تھے‘لیکن سوالات کچھ اس طرح سے پوچھے گئے تھے کہ وزیر اعظم کے جوابوں میں وہ ’کھو‘سے گئے…..باالفا ظ دیگر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سمیتا پرکاش نے جو بھی سوال کیے،سوالوں میں یقیناً بہت سے ’تیکھے‘بھی تھے‘وزیر اعظم نے ان کے جواب وہی دئیے جو انہیں دیناتھے۔یعنی انہوں نے صرف’من کی بات‘کی۔نہ سمیتا پرکاش نے مودی کے جوابات پر سوالات کھڑے کیے اورنہ ہی مودی نے سمیتا پرکاش کے سوالوں کاسیدھا جواب دینے کی ضرورت محسوس کی۔بات گھماپھرا کر کی‘لہٰذا سوالات ان کے جوابوں میں کہیں’کھو‘کر رہ گئے۔سمیتا پرکاش کو اس بات کی تومبارکباد دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے کچھ ایسے سوالات بھی وزیر اعظم سے پوچھنے کی’جرأت‘کی جو پہلے کسی بھی صحافی نے ان سے نہیں پوچھے تھے،مثلاًنوٹ بندی،جی ایس ٹی اورمآب لنچنگ اورسبریمالہ مندر سے متعلق سوالات۔لیکن ان سوالوں کے جوابوں کو جس طرح سمیتا پرکاش نے بغیرجوابی سوالات کے قبول کرلیا‘اس کے لیے وہ کسی بھی طرح سے مبارکبادکی حقدار نہیں ٹہرتیں۔
پرشاید اس میں سمیتا پرکاش کابہت زیادہ قصورنہیں ہے۔
مودی ایک’روایت شکن‘وزیر اعظم ہیں۔انہوں نے سابقہ وزرائے اعظم کی طرح اب تک کوئی پریس کانفرنس نہیں لی‘بس گنتی کے چند صحافیوں کو ’انٹرویو‘دئیے۔جنہیں’انٹرویو‘دئیے ان کے تعلق سے کہا جاتاہے کہ وہ وزیر اعظم کے’پسندیدہ‘صحافی ہیں۔ویسے ان صحافیوں میں کرن تھا پرنہیں ہوسکتے!کرن تھاپرنے بھی مودی جی کا’انٹرویو‘لیاتھا اورچند سوالوں کے بعدمودی جی !کرسی چھوڑکر اٹھے تھے اورکرن تھاپر کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے واپس نہیں پلٹے تھے۔سمیتا پرکاش کے ذہن میں یہ بات رہی ہوگی اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے شعوری طور پر کوشش کی ہو کہ مودی جی مشتعل نہ ہوں اوروہ ان کا’انٹرویو‘مکمل کر سکیں۔’انٹرویو‘تومکمل ہوا پربے روح اوربے رس۔
اگر’انٹرویو‘کے مشمولات پرنظرڈالی جائے تویہ احسا س گہرا ہوجاتا ہے کہ مودی جی!کے کئی جواب تضادات سے پرہیں۔مثلاًسبریمالہ مندر میں عورتوں کے داخلے پرپابندی کو انہوں نے’پرمپرا‘یا’رواج‘قرار دیا اورکہا کہ کئی ایسے بھی مندرہیں جن میں مردوں کا داخلہ منع ہے۔اس کے مقابلے ’طلاقِ ثلاثہ‘کاذکر کرتے ہوئے ان کی زبان سے’صنفی نا برابری‘اور’سماجی انصاف ‘وغیرہ کے الفاظ نکلے،ان کازوراس بات پر تھا کہ ’طلاقِ ثلاثہ‘ کا معاملہ ’آستھا‘یعنی’عقیدے‘کانہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ کہہ کر وہ اپنی سرکار کے ’طلاقِ ثلاثہ مخالف بل‘کو ’صنفی نا برابری کے خاتمے کے لیے ایک ناگزیرقدم ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ اپنی بات میںزورپیدا کرنے کے لیے’مسلم ممالک‘کاذکر بھی درمیان میں لے آئے کہ’دنیا کے اندرجو اسلامک کنٹریز(اسلامی ممالک)ہیں،بہت میں ٹرپل طلاق نہیں ہے۔‘انہوں نے اپنی بات کے ثبوت میں کسی بھی اسلامی ممالک کانام نہیں لیا،لیکن’بہت میں ‘کہہ کر یہ تاثردینے کی کوشش کی جیسے کہ تمام ہی اسلامی ملکوں میں ’طلاقِ ثلاثہ‘کو’جرم‘کے زمرے میں ڈال دیاگیا ہے۔سمیتا پرکاش نے کوئی’جوابی سوال‘نہیں کیاکہ بھلا مندروں میں خواتین کے داخلے پر پابندی کیوں’صنفی نابرابری‘نہ سمجھی جائے‘اسے کیوں روایت،ریت ’پرمپرا‘مان کر خواتین کو مذہبی حق سے محروم رکھا جائے اوران سے’صنفی عصبیت ‘روا رکھی جائے؟
سبریمالہ مندرمیں خواتین کے داخلے پر پابندی کو ریت اوررواج قرار دینے کامودی کا جملہ کیا رنگ لا رہا ہے اس کا اندازہ کیرالہ کے تشد دسے خوب لگا یاجاسکتاہے۔اس جملے نے کیرالہ کے ان عناصر کو‘جو سبریمالہ مندر میں خواتین کے داخلے کے خلاف ہیں‘شرپسندی کی گویا چھوٹ دے دی ہے،لہٰذا ہو یہ رہاہے کہ کیرالہ میں ’بموں ‘کاآزادانہ استعمال شروع ہوگیا ہے اورعوامی زندگی تشدد کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔’انٹرویو‘میں’صنفی آزادی‘کی بات توکی گئی ہے…..طلاقِ ثلاثہ کے حوالے سے…..مگریہ سرکار’صنفی آزادی‘کی کتنی بڑی علمبردار ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ خواتین کے داخلے کے بعد سبریمالہ مندرکو دھو دھوکر ’پاک‘کیاگیا!کیا خواتین کاوجود’ہندوتوادیوں‘کی نظر میں’ناپاک‘ہے؟یہ سوال اس لیے اٹھا ہے کہ مودی کے دورمیں خواتین،بالخصوص بچیوں کے ساتھ ریپ کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے،بی جے پی کے کئی سیاست دان ریپ کے ملزم ہیں،کئی سادھو سنتوں پر ریپ کا الزام ہے،مودی سرکار میں یہ جو خواتین کی ناقدری ہو رہی ہے،ان کی عصمت وعزت کی جو پامالی کی جا رہی ہے،اس تعلق سے مود ی کا کوئی تسلی بخش جواب اس ’انٹرویو‘سے سامنے نہیں آپاتا ہے۔مآب لنچنگ کے تعلق سے سوال کے جواب میں وزیر اعظم ’ نےشانتی ہونی چاہیے‘کی بات کی‘یہ بھی کہا کہ مآب لنچنگ ،گئو رکشھا کے نام پردہشت گردی اوربلند شہرمیں پولس انسپکٹر کاقتل قابلِ مذمت ہیں‘لیکن نہ انہوں نے ’شانتی کیسے ہو سکتی ہے؟‘اس سوال کاکوئی جواب دیا اورنہ ہی یہ سوال ان سے دریافت کیا گیا۔
مآب لنچنگ پروزیر اعظم نریندرمودی سے جو سوالات دریافت کرنا تھے ان میں پہلا سوال تویہ ہوناچاہیے تھاکہ’مآب لنچنگ میں شامل ہندوتواوادیوں پر لگام کون کسے گااورکب کسے گا؟‘پھر ان سے یہ سوال پوچھناجاناچاہیے تھا کہ’مآب لنچنگ میں ملوث افراد کا ہارپھول سے سواگت کرنے والے بی جے پی کے سیاست دانوں کے خلاف کیا کوئی کارروائی کی گئی‘اوراگرنہیں کی گئی توکیا کوئی کارروائی کی جائے گی؟‘مودی جی!سے یہ سوال بھی دریافت کرناچاہیےتھاکہ’آپ ہمیشہ چپ کیوں رہتے ہیں،کیوں مآب لنچنگ کی کسی واردات کی نہ مذمت کرتے ہیں ،نہ افسوس اورنہ ہی مجرموں کو سزادینے یادلانے کی کوئی بات کرتے ہیں؟‘یہ تمام سوالات سمیتا پرکاش کی زبان پر ہونے تھے،پرنہیں تھے۔
مودی جی سے رام مندرکی تعمیر کے لیے آرڈیننس سے متعلق‘ایک سوال تھا،جواب سیدھاتھا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ آنے دیں،اس سے پہلے کوئی آرڈیننس نہیں لایاجائے گا۔پر سوال یہ بھی تھا کہ اگرواقعی ایسا ہے تو وہ بی جے پی کے ان لیڈروں پر اوران ہندوتوادی عناصر پر لگام کیوں نہیں کستے جو رام مندرکے لیے آرڈیننس لانے پر زوردے رہے ہیں اوراس کے نتیجے میں ملک میں فرقہ وارانہ اشتعال اورکشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں،یایہ سوال ہی پوچھ لیناچاہیے تھا کہ توپھر کیا اب انہیں خاموش رہنے کوکہا جائے گا جوآرڈیننس لانے کامطالبہ کر رہے ہیں؟ویسے مذکورہ سوالوں کے جواب مشکل نہیں ہیں،یقیناًمودی جی کسی کو بھی آرڈیننس کی بات کرنے سے نہیں روکیں گے۔2019 كے لوک سبھا الیکشن کے لیے بی جے پی کو ’ایودھیا‘کے تنازعے سے بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں،اسی لیے یقین کرلیں کہ آرایس ایس سرسنگھ چالک موہن بھاگوت سے لے کر بی جے پی کے چھوٹے بڑے لیڈر اورورکر رام مندرکے لیے آرڈیننس کی رٹ لگاتے رہیں گے اوربی جے پی کے لیڈران شاید یہ کہہ کر ماحول کو کشیدہ کرتے رہیں گے کہ’ہماری سرکار اگرپھر بن گئی تو رام مندربنانے کے لیے کسی آرڈیننس کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔‘
’انٹرویو‘میں مودی جی کوجن سوالوں پر’گھیرنے‘کی ضرورت تھی ان پر سمیتا پرکاش کے سوالات پھسپھسے تھے۔’نوٹ بندی‘پر سوال کے جواب میں مودی جی نے یہ تاثردینے کی کوشش کی کہ جیسے ملک کی ترقی کے لیے ’نوٹ بندی‘کافیصلہ بڑا ہی اہم تھا ۔مودی جی کاماننا ہے کہ’نوٹ بندی‘فیصلہ جھٹکانہیں تھا بلکہ ہم نے عوام کو سال بھرپہلے ہی یہ انتباہ دے دیاتھا کہ’کالادھن‘کوئی نہیں رکھ سکے گا۔‘گویا مودی نے’انٹرویو‘سے یہ تاثردینے کی یایہ ’جتانے‘کی کوشش کی ہے کہ ’نوٹ بندی‘کافیصلہ اس لیے اہم تھا کہ اس کی وجہ سے’کالادھن واپس آگیاہے!پرکیا یہ واقعی سچ ہے؟یہ سوال ان سے دریافت کیا جاسکتا تھا پرنہیں کیاگیا۔ان سے یہ سوال بھی پوچھا جاسکتا تھا کہ توکیا’نوٹ بندی‘کے سبب جو سوسواسوافرادمرے،مہنگائی بڑ ھی‘ تقریباًدوکروڑافراد کاروباراورروزگارسے محروم ہوئے اورجی ایس ٹی نے ان کی کمر توڑی‘کیا وہ سب’کالے دھن‘کی واپسی کے لیے ناگزیرتھا؟پر یہ سوال بھی نہیں پوچھاگیا۔کیا مودی جی سے یہ سوال نہیں پوچھاجاسکتاتھا کہ آپ کس ’کالے دھن‘کی بات کر رہے ہیں،بینکوں میں جو پندرہ لاکھ کروڑروپئے واپس آئے وہ تو’نوٹ بندی‘کے متاثرین کے تھے،اس میں بھلا’کالادھن‘کہاں ہے؟یہ اعداد وشمارریزروبینک آف انڈیا کے ہیں۔مودی جی نے’نوٹ بندی‘کوکامیاب توبتایاپرجوکروڑوں لوگ بے روزگارہوگئے اورکروڑوں ہی غریبوں کی جمع پونجی جونوٹ بندی کے نتیجے میں’ختم‘ہو گئی اس کاکوئی ذکرنہیں کیا۔نہ ہی جی ایس ٹی سے ڈوبنے والے روزگاروں کی بات کی۔ظاہر ہے کہ یہ باتیں وہ کرتے توکیسے یہ تاثردینے میں کامیاب رہتے کہ’ہندوستان میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں!‘
خیر‘’پھینکنے‘کی یہ عادت پرانی ہے۔بڑے بڑے وعدے’جملہ‘بن کر رہ گئے ہیں۔ایک وعدہ’بدعنوانی‘سے پاک سرکارکاتھا‘لیکن اب ان کی سرکار’رفائل سودا معاملہ‘میں پھنس کر رہ گئی ہے،صدرکانگریس راہل گاندھی خود’چوکیدار‘کو’چور‘کہہ رہے ہیں۔رفائل پر بھی سوال تھا لیکن وزیر اعظم سپریم کورٹ کے ذریعے’کلین چٹ‘کاپرفخر‘جواب دے کر خاموش رہ گئے۔بھلایہ کون بتائے گا کہ طیاروں کی تعداد 126سے36کیوں کردی گئی؟کیوں ایچ اے ایل کی جگہ ریلائنس کو ٹھیکہ دیاگیا؟کیوں طیاروں کی قیمتِ خرید میں تین گنا اضافہ کردیاگیا؟یہ وہ سوالات ہیں جوآج عوام کی زبان پر چڑھ گئے ہیں۔حالانکہ وزیر دفاع سیتارمن کادعویٰ ہے کہ ’بوفورس نے کانگریس کو ڈبویاتھا اوررفائل سودا مودی کو واپس لائے گا‘مگریہ دعویٰ حقیقت ثابت ہو‘حالات ایسے نظرنہیں آرہے ہیں۔کتنے ہی سوالات تھے جو پوچھے جاسکتے تھے اورکتنے ہی جوابات تھے جن پر جوابی سوالات کیے جاسکتے تھے‘پر’انٹرویو‘’کھودا پہاڑنکلی چوہیا‘ثابت ہوا۔ہاں ’انٹرویو‘نے یہ ضرورثابت کردیا کہ مودی جی‘خودکو ہندوستان سمجھتے ہیں،یاباالفاظ دیگرہندوستان کے سیاہ وسفیدکامالک۔ان کی زبان سے ’میں‘ہی’میں‘نکلتا رہا۔پرکیا یہ’میں میں‘انہیں2019ء کا لوک سبھا الیکشن جتا سکے گا؟یہ سوال اہم ہے،اس کا جواب بس چند مہینوں بعد ہی مل جائے گا۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker