جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

لوک سبھا الیکشن ۲۰۱۹ء

تو کیا مسلمانوں کے ووٹوں کے انتشار کا کھیل شروع ہوچکا ہے؟
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
لوک سبھا الیکشن 2019 کی تاریخوں کا اعلان ابھی ہوا نہیں ہے مگر مسلم ووٹوں کو ’منتشر ‘اور ’بے اثر‘ کرنے کا کھیل شروع ہو گیا ہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ اس ’کھیل ‘کے تمام شرکاء اس حقیقت سے واقف ہوں کہ وہ ایک بڑے ’گیم پلان ‘کی فقط ’کٹھ پتلیاں ‘ہیں ، رسی کسی اور کے ہاتھ میں ہے ۔ ممکن ہے کہ انہوں نے جو بات سامنے رکھی ہے وہ ’خلوص ‘کی بنیاد پر ہی ہو اور انہیں یہ اندازہ ہی نہ ہو کہ آنے والے الیکشن میں ’بھگوا دھاریوں ‘کی جیت کے لیے جو ہتھکنڈے ابھی سے اپنائے جارہے ہیں، ان کی بات بھی انہیں ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے ۔ ۔۔پیر کے روز چند اردو اخباروں نے یہ خبر شائع کی کہ ’مسلمانوں کے ایک حلقہ نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ لوک سبھا کے الیکشن میں ممبئی کے کسی بھی ایک حلقے سے مسلم امیدوار کو موقع دیا جائے ‘ ۔ مطالبہ تین اہم مسلم شخصیات کی جانب سے کیا گیا ہے جن میں رضا اکیڈمی ممبئی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری، علما کونسل کے ایک عہدیدار مولانا محمود دریابادی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن حافظ سید اطہر علی شامل ہیں ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آخر الذکر یعنی حافظ سید اطہر علی سماج وادی پارٹی ممبئی کے نائب صدر بھی ہیں! یہ سوال ان سے کوئی بھی دریافت کر سکتا ہے کہ جب آپ سماج وادی پارٹی میں ہیںتو پھر کانگریس سے کسی مسلمان کو امیدوار بنانے کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں ، آپ کی پارٹی خود کسی مسلمان کو امیدواری کیوں نہیں دے دیتی؟
مذکورہ مطالبے کیلئے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ بائیس سال قبل انجمن اسلام کے مرحوم صدر ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا کو کانگریس نے جنوب وسطی ممبئی پارلیمانی حلقے سے امیدوار بنایا تھا ۔۔۔واضح رہے کہ بائیس سال قبل جب جنوب وسطی ممبئی کے پارلیمانی حلقے میں کئی مسلم اکثریتی علاقے آتے تھے، تب ڈاکٹر صاحب مرحوم کو شکست ہوئی تھی اور آج صورت حال یہ ہے کہ اس حلقے سے کئی مسلم اکثریتی علاقے کاٹ دیے گئے ہیں ۔
لیکن ہماری بحث ’ہار اور جیت‘ کو لے کر نہیں ہے، بحث آج کے ’ماحول‘ میں ، جو ویسے ہی فرقہ پرستی کے زہر سے آلودہ ہے، الیکشن کو ’مسلم اور غیر مسلم امیدواروں ‘میں تقسیم کرنے پر ہے ۔ یہ بات بالکل سامنے کی ہے کہ ’مسلم امیدوار‘ کا مطالبہ ’فرقہ پرست ‘ ہندو ووٹروں کو مجتمع کرنے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کریں گے اور نتیجے میں الیکشن کے سارے عمل میں فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی شدت پر ہوگی ۔ مزید یہ کہ کانگریس سے ’مسلم امیدوار ‘ اتارنے کے مطالبے سے ایک عام پیغام یہ جائے گا کہ مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ دینا طے کرلیا ہے جبکہ ابھی ممبئی کے مسلمانوں کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ وہ کانگریس کو ہی ووٹ دیں گے ۔ این سی پی، سماج وادی پارٹی، ایم آئی ایم اور دیگر سیکولر پارٹیاں بھی ہیں، اگریہ پارٹیاں ’مہاگٹھ بندھن ‘میں شامل نہیں ہوتی ہیں تو میدان میں اتر سکتی ہیں ، یقینا ًان کے مسلم امیدوار بھی میدان میں ہی ہوں گے، تب کیا ہوگا، کیا تب مسلمانوں کے ووٹ منتشر اور بے اثر نہیں ہوں گے؟ اگر ’گٹھ بندھن ‘ہو گیا تب ’گٹھ بندھن ‘میں شامل سیاسی پارٹیوں میں حلقوں کی تقسیم ہو گی، اس وقت دوسری سیاسی پارٹیاں یہ کہہ کر کسی مسلمان کو امیدواری دینے سے انکار کر سکتی ہیں کہ ’ہم سے تو ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ‘۔ اور کانگریس بھی یہ کہہ کر دامن جھٹک سکتی ہے کہ ’جس حلقے سے مسلم امیدوار کی فتح ممکن تھی وہ اس کے پاس نہیں ہے ‘۔ اور یہ بھی صاف ہے کہ اس طرح کا مطالبہ یقینا ممبئی تک محدود نہیں رہے گا ۔ سارے مہاراشٹر میں اس طرح کے مطالبے شروع ہوجائیں گے ۔ اس مطالبے کے بل پر کچھ عناصر اپنی سیاسی دکان چمکانا چاہیں گے ، کچھ خالص دلال ہوں گے اورکچھ خالص چاپلوس اور کچھ وہ ہوں گے جو کسی ایسے سیاست داں کے اشارے پر یہ مطالبہ کررہے ہوں گے جو ا پنی سیٹ کے لیے اعلیٰ کمان کوبلیک میل کرناچاہتا ہو۔ فائدہ مسلمانوں کو نہیں ہوگا، فائدے میں فرقہ پرست ہی رہیں گے۔ یقیناً مسلمانوں کو امیدواری ملنی چاہئے مگر یہ بات بہت احتیاط سے کی جائے، اسے مسئلہ نہ بنایا جائے بلکہ بہتر یہ ہوگا کہ سیاسی پارٹیوں کو امیدواروں کے انتخاب کی پوری چھوٹ دے دی جائے۔ ایک آواز لوک سبھا سمیت دیگر ایوانوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافے کےلیے بھی اُٹھ رہی ہے۔ یقیناً یہ ا لمناک سچائی ہے کہ ہر گزرتے برس کے ساتھ لوک سبھا اور ملک کی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا فیصد گھٹ رہا ہے۔ اس پر غوروخوض ضروری ہے لیکن اس سچائی کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ مسلمانوں کی نمائندگی میں کمی کی بنیادی وجہ مسلمانوں کے ووٹوں کا انتشار ہے۔ کئی کئی مسلم امیدواروں کا ایک دوسرے کے خلاف کھڑا ہونا ۔ افسوس کہ یہ کام لالچ میں کیاجاتا ہے۔ فرقہ پرست سیاستدانوں کے اشارے پر سیکولر امیدواروں کو ہرانے کےلیے مسلم سیاست دانوں اور ووٹروں کا ’بکنا‘۔ ووٹ ڈالنے کےلیے ’رشوت‘ لینا۔ ذات پات اور مسالک کی بنیاد پر انتخابی مہم چلانا۔ یہ سب مسلم ووٹوں کے انتشار کی بنیادی وجوہ ہیں۔ مولانا سید سلمان ندوی نے ایک روز قبل ممبئی میں مسلم ووٹوں کے انتشار کو روکنے کی اور ساتھ ہی مسلم نمائندگی میں اضافے کی ایک مہم شروع کی ہے۔ حضرت مولانا کے خلوص پر ہم کوئی سوال نہیں اُٹھانا چاہتے لیکن ایک سوال پوچھنا ضروری ہے، یہ مہم ایک خاص سیاسی پارٹی کے ایک اہم ذے دار کے مکان سے کیوں شروع کی گئی؟ لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت مولانا اسی پارٹی کےلیے بات کررہے ہیں۔ اس سے مسلمانوں میں ایک طرح کا تذبذب پیدا ہوسکتا ہے اور ووٹ ضائع ہوسکتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ مہم کیسے چلائی جائے گی، مسلم امیدوار ہوگا توکیا اسے ووٹ دے کر اور ایک اچھے غیر مسلم امیدوار کو ووٹ نہ دے کر ووٹ منتشر کردئیے جائیں گے؟ ان سوالوں پر غور ضروری ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس تو چاہے گی کہ ’مسلم امیدوار‘ کی اور لوک سبھا میں مسلم نمائندگی بڑھانے اور ’اچھے برے امیدوار‘ کی بات کی جائے کہ اس سے وہ ’ہندو ووٹروں‘ کو اپنی طرف کھینچ سکے گی۔ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ علمائے کرام اور مسلم دانشوران سیکولر سیاسی پارٹیوں پر ’مہاگٹھ بندھن‘ کےلیے پریشر ڈالیں، اچھے امیدواروں کا مطالبہ کریں او ریہ دیکھے بغیر کہ امیدوار ہندو ہے یا مسلمان، فرقہ پرستوں کو ہرانے کےلیے اس کی بھر پور حمایت کریں۔ ۔۔فی الحال اس ملک کے مسلمانوں کو اس عذاب سے چھٹکارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے جو ان پر مسلط ہے؛ فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کا عذاب ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker