مسلم پرسنل لاءمضامین ومقالات

تین طلاق بل –  غو روفكر كےچندگوشے

ڈاكٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندوی

استاذ:جامعہ اسلامیہ كیرال

          تین طلاق بل  كے بارے میں بہت سارے لوگوں  كی  بہت ساری مُلی جُلی  رائیں  سامنے  آرہی ہیں ،كچھ موافق  اور كچھ مخالف  اوركچھ بین بین ، ان ہی كے بیچ میں اہل دانش  وخرد كے لئے غور وفكر كے چند  گوشےنكل كر سامنے آرہے ہیں ، اوروہ یہ ہیں :

                ۱–  سوال یہ ہے كہ  حكومت كو مسلم عورتوں كے ساتھ  ہمدردی  جتانے  كی كیا ضرورت  پڑی ہے ، جبكہ ہندو اور دوسری قوموں كی عورتوں كے ساتھ كچھ زیادہ ہی ظلم  ہورہا ہے، ان كے یہاں طلاق كی شرحیں بھی زیادہ ہیں ؟

اس سوال كے جواب میں بعض د وسری سیاسی پارٹیوں كا بیان ہے:برسراقتدار پارٹی  بی جے پی  یہ سمجھتی ہے كہ سنگھ پریواركے ووٹ تو ہمارے لئے بینك بیلینس ہیں ہی ، ہندو دوسری ذاتوں  كی اكثریت  كے ووٹ بھی كہیں جانے كو نہیں ،اب رہے مسلمان، تو  ان كا ووٹ كیسے حاصل كیا جاسكے؟ اس مقصد كے لئے مسلم عورتوں كو ہمدردی  كا جھانسا دےكر  ووٹ حاصل كرنا چاہتی ہے؛ لیكن یہ مقصد حاصل نہیں ہوگا؛ كیونكہ مسلم عورتیں اچھی طرح سمجھ رہی ہیں كہ  حكومت كا  یہ رویہ  ہمارے ساتھ خیرخواہانہ  نہیں ہے  بلكہ ظالمانہ ہے،حكومت ہمارے آئینی حقوق كو چھیننا چاہتی ہے اورہمیں یكا وتنہا بے سہارا بنانا  چاہتی ہے۔

۲–  جناب   بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر كل ہند مجلس اتحاد المسلمین وركن پارلیمنٹ حیدرآباد نے مسلم خواتین(شادی سے متعلق حقوق كا تحفظ) سے متعلق بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس بل كی مخالفت كی اور  اس بل كو اسٹینڈنگ كمیٹی سے رجوع كرنے كا مطالبہ كرتے ہوئے كہا كہ یہ قانون مسلم خواتین كو انصاف نہیں  فراہم  كرےگا بلكہ مردوں كو موقع فراہم كرےگا كہ وہ مزید ناانصافی كریں اور موجودہ حكومت كا جو خواب ہے كہ زیادہ مسلمانوں كو جیلوں میں ڈالا جائے وہ خواب پورا ہوگا، حكومت اسی خواب كو پورا كرنے كی كوشش كررہی ہے ۔ مزید انہوں نے كہا كہ یہ قانون مسلم خواتین كو انصاف نہیں فراہم كرےگا بلكہ مزید ناانصافی میں اضافہ كرےگا، وہ اس بل كی مخالفت اس لئے كررہے ہیں كہ مسلم خواتین كو تین طلاق كے خلاف ایف آئی آر درج كرانے كا مشورہ دیا جارہا ہے ، اس طرح سے مسلم مردوں كو موقع دیا جارہا ہے ،وہ یہ كہےگا كہ تین طلاق تو ختم ہوچكے ہیں اس لئے وہ ۹۰ دن انتظار كرے گا اب ۹۰ دن كے بعد كیا ہوگا كوئی نہیں جانتا ۔(روز نامہ اردو  اخباراعتماد حیداآباد،جمعہ، مؤرخہ:۱۰/ربیع الثانی/۱۴۳۹ھ مطابق ۲۹/دسمبر ۲۰۱۷ء)۔

۴ –  جو جنتادل كے بھرت ہری مہتاب نے كہا كہ اس میں بہت سی غلطیاں ہیں ؛ لہذا اس پر دوبارہ غوركرنا چاہئیے، كبھی گھریلو اختلافات بھی ہوسكتے ہیں  اور اندرونی اختلافات بھی ممكن ہے؛  لہذا سب كو جرم قرار نہیں دیا جاسكتا ہے۔(روز نامہ اردو  اخباراعتماد حیداآباد،جمعہ، مؤرخہ:۱۰/ربیع الثانی/۱۴۳۹ھ مطابق ۲۹/دسمبر ۲۰۱۷ء)۔

 ۳ –  غورو فكر كا مقام ہے كہ   انڈیا ایك جمہوری ملك ہے؛ اسی لئے یہاں كے  ملكی دستور و آئین میں ہر مذہب وملت  كے ماننے والوں كی رعایت ركھی  گئی ہے  اور ہر شہری كواپنے مذہب  پر عمل كرنے كی مكمل آزادی حاصل ہے ؛ چنانچہ ہندوستانی دستور میں درج Fundamental Rights كے مطابق ہر مذہبی كمیونٹی كو اپنے مذہب كے مطابق زندگی گذارنے كی آزادی ہے اور دستور كی دفعہ 25سے 28 كے تحت تین چیزوں كی اصولی آزادی حاصل ہے:         

۱–   مذہب  (Religion)                         ۲ –   تہذیب  (Culture)              ۳ –   تعلیم    (Education)

تین طلاق بل كے ذریعہ  قانونی طور پر دی گئی مذہبی آزادی مسلمانوں سے چھیننے كی ایك  كوشش  ہے ، مسلم خواتین كے دستوری حقوق كو چھیننے كے مترادف ہے اور مسلمانوں كی اسلامی شریعت میں مداخلت ہے  ، یكساں سول كورٹ كی   طرف بتدریج  قدم بڑھانے كی ناپاك  كوشش كا ایك حصہ ہے اور  مسلم پرسنل لا كے قوانین كو برخاست كرنے كی سمت پہلا قدم ہے  جس كی ضمانت دستور كی دفعہ20 كے تحت دی گئی ہے ۔

                ۴–   جب انڈیا ایك جمہوری ملك ہے ، اور انتخاب جمہوریت كی بنیاد پر ہوتا ہے ، نیچے سے لے كر اوپر تك تمام عہدوں كے امیدوار وں كا انتخاب جمہوریت كی اساس پر ہوتا ہے ، جس كے حق میں اكثری ووٹ آتا ہے وہ جیتتاہے ، كم ووٹ پانے والا ہارتا ہے اور وہ اپنے ہار كو تسلیم كرتا ہے ، تو اس  سے پہلے چار كروڑ مسلم عورتوں نے ایك درخواست پر دستخط كرتے ہوئے وزیر اعظم سے  كہاتھا كہ ہمیں تین طلاق بل منظور   نہیں ، ہم اپنی اسلامی شریعت پر چلنا  چاہتی ہیں ، ہمیں اپنی شریعت پر عمل كرنے میں كوئی دقت نہیں ہے ۔اتنی  بڑی اكثریت  كی مانگ كونظر انداز كرنا گنتی  كےچند نام نہاد مسلم عورتوں كےمطالبہ كو پورا كرنا، جمہوری طرز  ووٹنگ  كے خلاف ہے؛كیونكہ حق تو یہ تھا كہ جب دستخط كے ذریعہ   بھاری اكثریت مسلم عورتوں نے تین طلاق بل  كو مسترد كردیا   تو وزیر اعظم جمہوری آئین كے مطابق اكثریت كے حق میں فیصلہ كرتے اور تین طلاق منسوخیت كا قانون سازی كی كوشش سے باز آجاتے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہےكہ سركار كے یہاں دوسرے معاملات میں اكثریت  كی اہمیت ہوتی ہے اور تین طلاق بل كے معاملہ میں اكثریت كی اہمیت كیوں نہیں ہوتی ، یہاں جمہوریت كہا ں چلی جاتی ہے ؟؛ اس لئے جس نے كہا بجا كہا كہ تین طلاق بل دراصل دوسرے الفاظ میں  مذہبی اور جمہوری حقوق  كا قتل ہے،اور اس كی منظوری كی  كوشش اور اقدام غیر دستوری ہے ۔

                ۵–   یہ كہا جاتا ہے كہ تین طلاق بل  كا مقصد مسلم عورتوں كو بااختیار بنانا ہے ؛ لیكن  ہر ذی ہوش انسان اور دانا بینا شخص بآسانی  سمجھ سكتا ہے كہ  اس بل كا مقصد  مسلم خواتین كو  بااختیار بنانا  نہیں بلكہ مسلم مردوں كو سزا دینا ،اور مسلم مردوں كو سزا دے كر مسلم فیملی  اور خاندان كو برباد كرنا اور معیشت كے اعتبار سے  انہیں كمزور كرنا ہے ؛ تاكہ مسلمان روٹی ، كپڑٰ اور مكان میں پھنس كر رہ جائیں  اوراس سے  آگےسوچنےكا انہیں موقع  ہی نہ ملےاور دوسرا مقصد مسلم فیملی كے درمیان نزاع ،نفرت  اور اختلاف كو بڑھانا ہے   ۔

۶– یہ ایك بڑا ہی خطرنا ك بل ہے  جس میں ایك دیوانی مسئلہ كو فوجداری  قرار دیا گیا ہے حالانكہ انڈین پینل كوڈ كےدفعات موجودہیں كہ طلاق كے دیوانی اقدامی كو فوجداری نہیں قراد دیا جاسكتا؛ كیونكہ فوجداری كے لئے قانون موجود ہے۔ جناب   بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر كل ہند مجلس اتحاد المسلمین وركن پارلیمنٹ حیدرآباد  كا بیان ہے :انڈیل پینل كوڈ كی498 اور گھریلو تشدد ایكٹ كی دفعہ 20  اور 22   اور سیكشن125 موجود ہے۔ من مانی طور اس بل میں تین سال كی سزار ركھی گئی ہے ۔ اسلام میں شادی ایك سول معاہدہ ہے، دیوانی معاہدہ كی خلاف ورزی پر فوجداری قانون كی سزا نہیں دی جاسكتی۔۔(روز نامہ اردو  اخباراعتماد حیداآباد،جمعہ، مؤرخہ:۱۰/ربیع الثانی/۱۴۳۹ھ مطابق ۲۹/دسمبر ۲۰۱۷ء)۔

                ۷–    یہ كہا جاتا ہے كہ گذشتہ ایك سال میں تین طلاق كے واقعات ۴۷۷ پیش آئے ہیں ۔ اس  سلسلہ میں پہلی بات تو یہ ہے كہ اس میں كتنی صداقت ہے ، ایك مستقل مسئلہ ہے ، اور قابل تحقیق ہے ، اور اگر اس رپورٹ كو  مان بھی  لیا جائے كہ تو اتنی بڑی آبادی میں ۴۷۷ كیسس كوئی معنی نہیں ركھتا ہے ۔ نیز ان میں بھی كوئی ضروری نہیں ہے كہ ہر جگہ مرد ہی كی غلطی ہو ، بلكہ اس میں كبھی عورت كی بھی غلطی ہوتی ہے جس كی وجہ سے تین طلاق كی نوبت آتی ہے ،معلوم ہے كہ عورت فطری طور پر ضدی واقع ہوئی ہے ، وہ بعض مرتبہ جب طلاق كا مطالبہ كرتی ہے تو تین سے نیچے اترنے كے لئے تیار ہی نہیں ہوتی ہے ۔ كبھی وكیل صاحب اور نكاح خواں قاضی كی غلطی ہوتی ہے، وہ ناواقفیت میں ایك طلاق نامہ بنانے كے بجائے تین كا ہی طلاق نامہ بناتے ہیں ـــــ دوسری بات یہ ہے كہ  ہندو قوموں میں تو  ہر سال اس سے زیادہ ہی واقعات پیش آتے ہیں  اور اس كی وجہ سے  بہت ساری ہندو  مطلقہ عورتیں خودكشی كرلیتی ہیں، اگر اس تعداد كو تین طلاق بل  بنانے لئے  وجہ جواز  اور دلیل بناتی ہے تو ہندو عورتیں زیادہ مستحق ہیں كہ ان كی راحت رسانی اور ان كو جانوں كی حفاظت   كے لئے ان كے لئے بھی  قانون بنایا جائے۔

                ۸–   اگر ہندو مرد اپنی بیوی كو طلاق دیتا ہےتو اس كو ایك سال كی سزا ، اور مسلم مرد طلاق دہندہ كو تین سال كی سزا ، ایك ہی ملك میں  اور یكساں واقعہ میں  ایك  شہری كو تین سال كی سزا  اور دوسرے شہری كوصرف ایك  سال كی سزا ، آخر ایسا وجہ امتیاز كیوں ؟ یہ دہرا رویہ كیوں؟

                ۹–  یہ مسئلہ مہیلاؤں سے متعلق ہے ،آخر ہندو اور دوسری قوموں كی عورتوں كی فكر كیوں نہیں  ہوتی ؟ كیا وہ ہمدردی  كی جانے كی مستحق نہیں ہیں ؟ كیا ان كو انصاف نہیں چاہئیے ؟

۱۰-   سپریم كورٹ میں تین طلاق كوغیر قانونی  مانا اور قرار دیا گیا ، اور ظاہر ہے كہ  جب سپریم كورٹ كے فیصلہ كے بعد تین طلاق خود بخود غیر قانونی  بن چكی ہے، یعنی اگر مسلم مرد اپنی بیوی كو تین طلاق دیتاہے تو  سرے سے طلاق ہی نہیں واقع ہوگی ،تو اس پر تین سال جیل كی سزا  كیوں ہوگی ؛ اس لئے كہ سزا كسی جرم كے ارتكاب  پر ہوتی ہے ، یہاں جب طلاق ہی واقع نہیں ہوئی  تو جرم ثابت نہیں ہوا ، یہ ایك عجب غیر معقول قانون دِكھ رہا ہے ۔

                ۱۱ –   دوسرے ملكوں كا حوالہ دیا جاتا ہے كہ  وہاں تین طلاق  دینا جرم ہے،اور وہ اسلامی ملك ہیں ۔

 اس سلسلہ میں پہلی بات یہ ہے  كہ وہ حقیقت میں اسلامی ملك نہیں ؛ كیونكہ وہاں  پورے طور پر اسلامی قانون نافذ نہیں ہیں۔

  دوسری بات یہ ہے كہ اگر تین طلاق بل كے جواز  پر وہاں كا حوالہ دیا جاتا ہے تو وہاں اور بھی دوسرے قوانین  ہیں ، جیسے  شادی شدہ  زانی مرد اور عورت كے لئے سنگسار كی سزا  اور چور كے ہاتھ كاٹنے  كی سزا وغیرہ وہ بھی ہندوستان میں لے آئیے اور نافد كیجئے بہتر ہوگا اور ملك  كا ماماحول پاكیزہ ہوگا اور  امن قائم ہوگا ۔

 تیسر ی بات یہ ہے كہ ہماری شریعت كوئی اسلامی ملك نہیں ہے  بلكہ قرآن وحدیث اور ان دونوں سے كشید كیا ہوا فقہ اسلامی ہے ، ان كے حوالہ  سےكوئی بات كہی جائے تو معقول  ومقبول  ہوگی ؛ كیونكہ مسلمان وہ ہیں جو ان تینوں كو  تسلیم  كریں  اورمانیں۔

چوتھی بات یہ ہے كہ ہمیں بنگلہ دیش، انڈونیشیا،ملائشیا،تیونس، مصر ،  پاكستان ، ایران، افغانستان ، تركی اور سعودیہ عرب سے كیا مطلب ہے ، ہم جہاں رہتے ہیں اور جس ملك میں رہتے ہیں ، وہاں سے مطلب ہے  اور وہاں كے قانون سے مطلب ہے ، اور ہمارا ملك ایك سیكولر ملك ہے ، ہمارےجمہوری ملك نے  ہمیں اپنے مذہب پر  عمل كرنے  كی  مكمل آزادی دی ہے ، اور تین طلاق بل  كے ذریعہ ہم مسلمانوں سے مذہبی آزادی چھینی جارہی ہے ۔

۱۲–  دوسری قوموں كی عورتوں كے مقابلہ میں مسلم عورتوں كا اپنے گھروں میں سكون  اور بہتر زندگی  گذارنا اور ان كا اپنے مذہب  پر عمل كرنا اسلام دشمن عناصر  كو پسند نہیں ،بلكہ حسد وجلن ہے ؛ اس لئےتین طلاق بل كے ذریعہ  مسلم گھروں  میں نفرت  كا ماحول پیدا كرنا چاہتے ہیں ،ان كے بُیچ میں نزاع كھڑا كرنا چاہتے ہیں  اور ان كو اپنے پُر بہارعزیز  مذہب اسلام سے دور كرنا چاہتے ہیں اور گندگی زندگی كی طرف دھكیلنا چاہتے ہیں ؛ اس لئے كہ وقوع طلاق كا ثبوت مرد كے اقرار اور بیّنہ كے ذریعہ سے ہوتا ہے،اب اگر مرد طلاق دینے سے  انكار كردے ،یا كہے كہ اس نے ایك طلاق دی ہے تین نہیں دی ہے ، ایسا محض جیل كی سزا سے بچنے كے لئے كرتا ہےتو اس كی زندگی گناہ میں گذرے گی اور حرام نسل  چلے گی ، اس كا ذمہ دار كون ہوگا؟ انكار كی صورت میں تین طلاق كو ثابت كرنا آسان نہیں ۔

                بہر حال  تین طلاق  بل كی منظوری  اور قانون سازی كی كوشش اور اقدام حقیقت میں مسلم عورتوں كے احساسات وجذبات  اور ان كی مذہبی آزادی  كا قتل ہے ، ان كے حق میں سراسر ظلم وزیادتی  اور ان كے وقار كو مجروح ومخدوش كرنا ہے ،مزیدان كی زمدگی میں الجھا ؤپیدا كرنا ، ان كو مظلومیت كی طرف دھكیلنا انصاف  ومساوات كا نعرہ دے كر ان كے مقام ومرتبہ كو مزید گھٹا نا ہے ۔

(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker