شمع فروزاںمضامین ومقالات

مالی معاملات میں اختلاف سے بچنے کی تدبیریں

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
دنیا میں بہت سی مخلوقات ایسی ہیں کہ وہ اپنے باقی رہنے میں اپنی ہم جنس کی محتاج نہیں ہیں، جیسے درخت ہے، درخت کو اپنے ہی جیسے درخت کی ضرورت پیش نہیں آتی، بلند وبالا پہاڑ اپنے باقی رہنے میں دوسرے پہاڑ کے محتاج نہیںہیں؛ لیکن جاندار اور خاص کر انسان اپنی زندگی میں اپنی ہم جنس مخلوق اور انسان کے محتاج ہیں، ماں باپ کا ’بوڑھاپا ‘بال بچوں کے بغیر گذارے نہیں گذرتا، بچے باپ کی شفقت اور ماں کی ممتا کے بغیر بچپن سے جوانی تک کا سفر طئے نہیں کرسکتے، ایک خاص عمر کو پہنچنے کے بعد ہر شخص کو ایک رفیق کی ضرورت پیش آتی ہے، جو شوہر و بیوی کی شکل میں مہیا ہوتا ہے، یہ ضرورتیں تو چھوٹے سے خاندان سے متعلق ہیں، اس سے باہر نکلئے تو ضرورتوں کا دائرہ اور وسیع ہوجاتا ہے، تاجر و گاہک ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور آجرو مزدور کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
سماج کے دویا اس سے زیادہ افراد کے درمیان باہمی احتیاج و ضرورت کی بناء پر جو مالی تعلق قائم ہوتا ہے، اسی کو فقہ و قانون کی زبان میں ’’معاملہ‘‘ کہتے ہیں، معاملات میں بعض دفعہ ’’ادھار‘‘ کی بھی نوبت آتی ہے اور مہلت کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق اداکئے جاتے ہیں، ایسے وقت میں خاص کر باہمی نزاع کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے، عام طور پر معاملات میں جو اختلافات پیدا ہوتے ہیں، وہ بڑی شدت اختیار کرجاتے ہیں؛ اس لئے کہ مال کی حرص اور مال کے سلسلہ میں بخل انسانی فطرت میں داخل ہے، ایسے اختلافات محبت کے رشتوں کو کڑواہٹوں میں تبدیل کردیتے ہیں، کینہ و کدورت کی آگ سینوں کو سلگاکر رکھ دیتی ہے؛ یہاں تک کہ لوگ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں، اور قتل و قتال تک نوبت آجاتی ہے، — یہ اختلاف عام طور پر دو اسباب کی وجہ سے رو نما ہوتا ہے: ایک: بد دیانتی، دوسرے: معاملات میں ابہام۔
بد دیانتی اور خیانت کے واقعات تودن رات پیش آتے رہتے ہیں؛ اس لئے کہ بد دیانتی آج کی دنیا میں جرم کی بجائے آرٹ بن چکا ہے اور بعض لوگ ایسی حرکتوں کو ہوش مندی اور عقل مندی باور کرتے ہیں؛ لیکن بہر حال جو لوگ دین و شریعت سے جڑے ہوئے ہیں، نماز و روزہ کے پابند ہیں اور اسلامی وضع قطع رکھتے ہیں، وہ بڑی حد تک اس سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؛ لیکن معاملات میں ابہام اور صفائی و وضاحت کا نہ ہونا ایسی بیماری ہے، جس میں یہ طبقہ بھی گرفتار رہتا ہے، قرآن مجید کی سب سے بڑی آیت سورۃ البقرہ کی آیت نمبر: ۲۸۲ ہے، جو آیت ’’مداینت‘‘ کہلاتی ہے، اس میں قرض کا ایک اہم حکم بتایا گیا ہے اور خاص طور پر ایسے معاملہ کو لکھ لینے کا حکم دیا گیا ہے، عدّاء بن خالد بن ہوذہ ص کے پاس خرید وفروخت کی ایک دستاویز تھی، جو رسول اللہ ا نے تحریر کرائی تھی، اس میں خریدار کی حیثیت سے عدّاء ص کا نام تھا اور فروخت کنندہ کی حیثیت سے رسول اللہ ا کا (سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی کتابۃ الشروط،حدیث نمبر: ۱۲۶۰)، اس سے معلوم ہوا کہ خرید و فروخت نقد ہو تب بھی لکھ لینا بہتر ہے۔
خرید و فروخت کی ایک صورت یہ ہے کہ قیمت نقد ادا کردی جائے اور خریدی جانے والی شئ ادھار رکھی جائے، اس کو شریعت کی اصطلاح میں ’’سَلم‘‘ کہتے ہیں، رسول اللہ ا جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں ایسی خرید و فروخت کا عام رواج تھا، آپ ا نے اس کی اجازت دی؛ لیکن فرمایا کہ پیمانہ متعین ہونا چاہئے، وزن متعین ہونا چاہئے اور مدت متعین ہونی چاہئے: ’’من أسلف في شیء ففی کیل معلوم، ووزن معلوم، إلی أجل معلوم‘‘ (صحیح البخاري، کتاب السلم، باب السلم في وزن معلوم، حدیث نمبر: ۲۲۴۰)، فقہاء نے اس سلسلہ میں مزید تفصیل کی ہے کہ چوںکہ شریعت کا منشاء نزاع کو روکنا اور جھگڑے کا سد باب کرنا ہے؛ اس لئے ان تمام چیزوں کا متعین اور واضح ہونا ضروری ہے، جن کے بارے میں آئندہ اختلاف پیدا ہوسکتا ہے، جو شئ ادھار ہے، وہ بھی متعین ہو، جیسے چاول، گیہوں، پھر اس کی قسم بھی متعین ہو، جیسے باسمتی چاول، کوالیٹی اور کیفیت میں بھی ابہام نہ ہو، جیسے اعلی درجہ، درمیانی درجہ وغیرہ، سامان کی ڈیلیوری کی جگہ بھی مقرر ہو، مثلاً یہ چیز فلاں شہر میں مہیا کی جائے گی، وغیرہ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ص نے قرض و ادھار کی تمام صورتوں کے بارے میں اصولی بات فرمائی ہے کہ ادائیگی کی مدت واضح اور متعین ہونی چاہئے، کوئی شخص کہے کہ کھیت کی کٹائی یا فلاں شخص کے دینے تک کے لئے ادھار ہے، تو اس کا اعتبار نہیں؛ بلکہ مدت یا ادائیگی کا وقت کسی ابہام کے بغیر مقرر ہونا چاہئے: ’’لا تسلف إلی العطاء ولا إلی الحصاد، وأضرب أجلا‘‘ (إعلاء السنن: ۱۴/۳۸۱، بہ حوالہ: مصنف ابن أبي شیبۃ)۔
آج کل دار الافتاء، دار القضاء اور محکمۂ شرعیہ وغیرہ میں متعدد ایسے معاملات آتے رہتے ہیں، جن میں آ پسی جھگڑے کی بنیاد معاملات کا واضح نہ ہونا ہے، اس وقت اس کی چند صورتوں کا ذکر مناسب محسوس ہوتا ہے۔
بعض اوقات والد ایک کاروبار شروع کرتے ہیں، اس وقت بچے چھوٹے ہوتے ہیں، بچے جیسے جیسے بڑے ہوئے ان میں سے بعض والد کے ساتھ کاروبار میں لگ جاتے ہیں، بعض ملک یا بیرون ملک میں اچھی ملازمتیں حاصل کرلیتے ہیں، ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے لڑکے تو کاروبار میں شامل ہوگئے؛ تاکہ تجارت کو فروغ دیں اور اس کی وجہ سے وہ آگے تعلیم حاصل نہیں کرسکے، چھوٹے بھائیوں نے تعلیم حاصل کی اور اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہوگئے، اب والد کے انتقال کے بعد جب ترکہ کی تقسیم کا مسئلہ آیا تو جس بھائی نے کاروبار میں تعاون کیا تھا، وہ چاہتا ہے کہ اس کو اس کی محنت کا معاوضہ ملے، اورچھوٹے بھائیوں کا مطالبہ ہوتا ہے کہ ترکہ برابر تقسیم کیا جائے، بعض دفعہ اس میں اُن بھائیوں کے ساتھ بظاہر ناانصافی ہوتی ہے، جنہوں نے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے خود الگ سے کوئی ملازمت نہیں کی یا اپنی تعلیم کو قربان کیا، بعض دفعہ اس کے برعکس صورت حال بھی پیش آتی ہے کہ جو بھائی کاروبار میں شریک تھا، وہ پورے کاروبار پر قابض ہوجاتا ہے،اور دوسرے بھائی بہنوں کو بے دخل کردیتا ہے، — اگر والدین بچوں کو کاروبار میں شریک کرتے ہوئے وضاحت کردیں کہ تمہاری حیثیت پارٹنر کی ہوگی اور تم اس میں اتنے فیصد کے مالک ہوگے، یا تمہاری حیثیت ملازم کی ہوگی اور تم ماہانہ اتنی تنخواہ کے مستحق ہوگے، یا تم میرے معاون و مددگار ہو، الگ سے تمہارا کوئی حصہ نہیں ہوگا تو بعد کو چل کر اس طرح کا اختلاف پیدا نہیں ہوگا۔
عملی تعاون ہی کی طرح بعض دفعہ مالی تعاون میں بھی یہ صورت پیش آتی ہے، جیسے والد کی تجارت میں ان کے مطالبہ پر یا بلا مطالبہ بعض بچوںنے مختلف موقعوں پر پیسے دئے، یہ سرمایہ کاروبار کا حصہ بن گیا؛ لیکن یہ بات متعین نہیں ہوئی کہ سرمایہ لگانے والوں کا کاروبار میں خصوصی شیئر ہوگا، یا ان کی یہ رقم قرض ہے جو بعد میں ادا کی جائے گی، یا اپنے والد کا تعاون ہے؟ یہ عدم وضاحت پھر بعد میں بڑے جھگڑے کا سبب بنتی ہے، جن لڑکوں نے رقم دی تھی، وہ زائد حصہ چاہتے ہیں، اور دوسرے بھائی پورے کاروبار کو والد کا ترکہ قرار دیتے ہیں۔
ایسابھی ہوتا ہے کہ ایک بھائی نے کاروبار شروع کیا، سب لوگ مل کر رہ رہے تھے، مختلف بھائیوں نے حسب گنجائش موقعہ بہ موقعہ کاروبار میں رقم لگائی، بعض نے نہیں لگائی، بعض محنت میں شامل ہوئے، بعض نہیں ہوئے، اب ہوتا یہ ہے کہ جس بھائی نے کاروبار شروع کیا تھا، وہ سمجھتا ہے کہ یہ پورا کاروبار تنہا اسی کی ملکیت ہے، اور دوسرے بھائی اپنے حصہ کے دعویدار ہوتے ہیں، یہ بات اس وقت زیادہ پیش آتی ہے،جب والد کی زندگی میں اس نوعیت کا کاروبار شروع ہوا ہو، کبھی کبھار وہ بھی دوکان پر بیٹھ جاتے ہیں، یا تجارت شروع کرنے والے بچے نے اپنے والد کے نام سے تجارت شروع کی، اگر شروع ہی میں یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ کاروبار مشترک ہے، یا جس بھائی نے شروع کیا ہے، اس کا ہے اور جن دوسرے بھائیوں نے کچھ پیسے لگائے ہیں یا محنت کی ہے، وہ تعاون ہے یا قرض ہے یا شرکت ہے؟ اور اگر اسی کاروبار سے گھر کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں تو یہ بہ طور شرکت کے ہے،یا جس کا کاروبار ہے، اس کی طرف سے تبرع و احسان ہے؟ تو بعد میں اختلاف پیدا نہ ہو۔
٭ اسی طرح کی صورتحال بعض دفعہ اراضی کی خریداری میں پیش آتی ہے، ایسا ہوتا ہے کہ بعض لڑکے بیرون ملک ملازمت کررہے ہوتے ہیں، وہ زمین یا مکان کی خریداری کے لئے رقم بھیجتا ہے، اب والد نے اس رقم سے اپنے نام مکان یا زمین خرید کرلی، یا اپنے کسی ایسے لڑکے کے نام خرید کردی جو ہندوستان میں ہے؛ حالاںکہ پیسے بھیجنے والے کا مقصد اس کے لئے جائداد خریدنا ہے اور والد کی بھی یہی نیت ہے، بھائیوں کو معلوم ہے؛ لیکن جب والد کا انتقال ہوا تو نیت بدل گئی اور اصل صاحبِ حق کا نقصان ہوگیا؛ اس لئے اولاً تو خود رقم بھیجنے والے لڑکے کو چاہئے کہ اپنے والد پر اس بات کو واضح کردے کہ اس کی نیت خود اپنے لئے زمین خرید نے کی ہے اور والد کو بھی چاہئے کہ اس کی نیت دریافت کرکے اس کے نام سے زمین خریدے، اوراگر اس میں کوئی قانونی دقت ہو تو اپنے نام سے خرید کر اس لڑکے کے نام ہبہ نامہ بنادے،یا اس کو پاور آف اٹارنی دے دے، یا کم سے کم اپنا یہ اقرار نامہ رجسٹرڈ کرادے کہ یہ زمین حقیقت میں میرے فلان لڑکے کی ملکیت ہے، میں اس کا مالک نہیں ہوں اور میرے دوسرے ورثہ کا بھی اس سے حق متعلق نہیں ہے۔
اسی طرح کا اختلاف بعض اوقات مکان کی تعمیر میں بھی پیدا ہوتا ہے، جیسے والد نے مکان کی تعمیر شروع کی اور بعض لڑکوں نے اس میں پیسے دئے؛ لیکن ان کا پیسہ دینا کس حیثیت سے ہے؟ یہ واضح نہیں ہوتا، بعد میں پیسہ دینے والے لڑکے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس مکان میں اس کا خصوصی شیئر ہو اور دوسرے لڑکے پورے مکان کو والد کا ترکہ قرار دیتے ہیں، یہی صورت حال اس وقت بھی پیش آتی ہے، جب اتفاق و اتحاد کے ماحول میں کوئی بھائی مکان کی تعمیر شروع کرتا ہے، اب کئی بھائیوں میں سے ایک دو کچھ پیسے لگادیتے ہیں، کوئی اپنا وقت دے دیتا ہے، اور یہ بات طئے نہیں ہوتی کہ اس مالی اور عملی تعاون کی حیثیت کیا ہوگی؟ اگر یہ شروع میں طئے پاجائے تو نہ دل کے آبگینے ٹوٹیں گے نہ کینہ وکدورت کی آگ سلگے گی۔
ایک قابل توجہ بات تقسیم میراث کی ہے، جیسے ہی مورث کا انتقال ہوا، اس کے ترکہ سے تمام ورثہ کا حق متعلق ہوجاتا ہے، اور ترکہ میں مرنے والے کی تمام چیزیں شامل ہیں، مثلاً اگر ایک لڑکا مرنے والے کے ساتھ اس مکان میں مقیم تھا، اب والد کی وفات کے بعد تنہا اس مکان کو یا والد کی دوسری اشیاء کو استعمال کررہا ہے تو اپنے شیئر سے زیادہ حصہ جو اس کے استعمال میں ہے، وہ اس کے حق میں گناہ اور حرام ہے، پھر تقسیم میں جتنی تاخیر ہوتی جاتی ہے، الجھنیں بڑھتی جاتی ہیں اور اختلاف کے مواقع بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں؛ اس لئے شریعت کا مقرر کیا ہوا اصول یہ ہے کہ مرنے والے کے گذرنے کے بعد جلد سے جلد ایک دو دنوں کے اندر تمام ورثہ بیٹھ کر شریعت کے حکم کے مطابق اپنے حصے تقسیم کرلیں اور اس تقسیم میں ہر چیز کو شامل کریں؛ کیوںکہ قرآن مجید میں ترکہ کے لئے ’’مَا تَرَکَ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں،یعنی مرنے والا جو بھی چھوڑ جائے؛ اس لئے گلاس اورپلیٹیں بھی ترکہ میں شامل ہیں، ہاں، اگر مرحوم کی بعض اشیاء کے استعمال کے بارے میں ورثہ کا اتفاق ہوجائے کہ یہ چیز فلان کے استعمال میں رہے گی تو حرج نہیں ہے؛ کیوںکہ یہ دوسرے حقداروں کی طرف سے اس کے حق میں ہبہ ہے۔
یہ اور اس طرح کے معاملات میں جہاں وضاحت ضروری ہے، وہیں یہ بھی مناسب ہے کہ ان معاملات کو تحریر میں لے آیا جائے اور اس تحریر پر تمام متعلقہ لوگوں اور کچھ گواہوں کے دستخط ہوجائیں؛ تاکہ آئندہ طے پانے والے امور کے سلسلہ میں کوئی اختلاف پیدا نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ اگر معاملات کی اچھی طرح وضاحت ہوجائے اور اسے تحریر میں لایا جائے تو زمین وجائداد کے پچاس فیصد جھگڑے ختم ہوجائیں اوراختلاف کی نوبت ہی نہیں آئے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker