جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

شاہ فیصل کا استعفیٰ مودی سرکار کی ایک اور ناکامی

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کا استعفیٰ ثبوت ہے کہ کشمیر کا نوجوان حالات کی المناکی اور سنگینی سے بے چین ہے۔ اوریہ کوئی عام سی بے چینی نہیں ہے؛ یہ بے چینی تشویشناک ہے۔ تشویشناک اس معنیٰ میں کہ کشمیر کا نوجوان سارے سسٹم اور سارے نظام پر سے اپنا اعتماد کھوچکا ہے۔ اب وہ یہ یقین کرنے کےلیے تیار نہیں ہے کہ اس کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے۔ اسے یہ لگ رہا ہے کہ اس ملک میں اسے امن وچین سے جینے نہیں دیاجارہا ہے۔ شاہ فیصل کوئی معمولی نوجوان نہیںہے، وہ آئی اے ایس ٹاپر ہے، اس نے اپنی آنکھوں میں نہ جانے کتنے حسین خواب سجارکھے ہوں گے۔۔۔ایک آئی اے ایس کی حیثیت سے اس کے دل میں کشمیر کے حالات میں تبدیلی لانے کی آرزو رہی ہوگی، اس کی تمنا رہی ہوگی کہ کشمیری نوجوان اس کے نقش قدم پر چلیں او راپنی بھی کشمیر کی بھی او رملک کی بھی تاریخ کو تبدیل کریں، امن وامان کے قیام کو ممکن بنائیں۔ لیکن اس نے استعفیٰ دے دیا کیوں کہ اس نے جنت نشان کشمیر کو تباہ وبرباد ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ شاہ فیصل نے استعفیٰ کی جو وجوہ بتائی ہیں ان سے کوئی بھی باہوش انسان آنکھیں نہیں پھیر سکتا۔ شاہ فیصل نے اپنے استعفیٰ نامے میں تحریر کیا ہے کہ وہ کشمیر میںہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے او رمرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر میں اعتماد سازی کی کوئی پہل نہ کرنے پر احتجاجاً مستعفی ہو رہے ہیں۔
یوں تو گزشتہ ۳۰برسوں سے کشمیر میں آگ لگی ہوئی ہےلیکن بی جے پی کی مودی سرکار میں کشمیر کے حالات بد سے بد تر اور بدتر سے بدترین ہوئے ہیں، نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد فورسیز کی گولیوں کی شکار ہوئی ہے، احتجاجات اور ہڑتالوںکا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہے۔ رات دن کے کرفیو نے عوام کو بدحالی کی عمیق کھائی میں ڈھکیل دیا ہے، کشمیری نوجوان ملک کے عام نوجوانوں جیسی زندگیاں گزارنے سے محروم کردئیے گئے ہیں۔ فوج اور پولس یا تو لاٹھی کی زبان جانتی ہے یا بندوق کی۔ اور اس بار تو ایسی پیلٹ گنوں کا استعمال کیاجارہا ہے جس کے چھرّوں نے نہ جانے کتنے نوجوان اور کمسن بچے اور بچیوں کی آنکھوں کی روشنیاں چھین لی ہیں۔
جب مودی سرکار آئی تھی تب یہ اُمید بندھی تھی کہ شاید کشمیر کے حالات کچھ تبدیل ہوجائیں گے۔ آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی بی جے پی کے ہی تو تھے، انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے آگرہ میں ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی سمت ایک پرخلوص قدم بڑھایا تھا۔ یہ توقع تھی کہ بی جے پی کے یہ دوسرے وزیر اعظم نریندر مودی ، واجپئی کے نقش قدم پر چل کر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش کریں گے اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم کشمیر میں امن وامان کا قیام تو ہو ہی جائے گا۔ لیکن مودی کے دور میں مسئلہ کشمیر مزید سنگین ہوگیا۔ محبوبہ مفتی سے بی جے پی کی قربت بھی وادی میں نوجوانوں کی ہلاکتوں کو نہیں روک سکی۔ اور محبوبہ مفتی اور بی جے پی میں دراڑ کے بعد تو وادی کے حالات بدترین ہوگئے۔
کشمیر کے محاذ پر مودی سرکار پوری طرح سے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ صرف ناکام ہی نہیں اس کے اقدامات نے کشمیری نوجوانوں کے غصے کو مزید ہوا دی ہے، انہیں بے چین کیا ہے۔ شاہ فیصل اس بے چینی کے نتیجے میں مستعفی ہوا ہے۔شاہ کا استعفی ان نوجوانوں کو جو اس کے نقش قدم پر چلنے کےلیے ذہنی طو رپر تیار ہورہے تھے آگے بڑھنے سے روک دے گا۔ وہ نوجوان جو کشمیر اور ملک کی بھلائی کا کام کرسکتے تھے مرکزی سرکار کی غلط کشمیر پالیسی اور فوج کو دی جانے والی بے انتہا چھوٹ کے سبب انتہاپسندی کی سمت مائل ہوجائیں گے۔ یا مائل ہوسکتے ہیں ۔ یہ مودی سرکار کی مزید ایک ناکامی ہوگی۔ شاہ فیصل کا سیاست میں آنے کا ارادہ ہے حالانکہ آج کی سیاست بڑی گندی ہوگئی ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ شاہ فیصل کوئی کرتب دکھادے! مودی سرکار کے پاس ہنوز موقع ہے۔ وہ شاہ فیصل کے استعفے کو قبول کرنے سے انکا ر کرسکتی ہے اور وادی میں قیام امن کی کوششوں کےلیے پرخلوص کوشش کرسکتی ہے۔ اسے یہ سب کرناہی چاہئے تاکہ شاہ فیصل جیسے کشمیری نوجوانوں کا ملک کے نظام اور حکومت پر سے ا عتمانہ نہ ٹوٹے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker