شخصیاتمضامین ومقالات

ایسے تھے مولانا……..

(تیسری قسط)

ایم ودود ساجد

2009 کے لوک سبھا انتخابات میں بہار سے کانگریس کو صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔۔ کشن گنج سے مولانا اسرارالحق قاسمی کامیاب ہوئے تھے۔۔۔دوسری سیٹ پر میرا کمار کامیاب ہوئی تھیں ۔۔مجھے معلوم ہے کہ کانگریس نے بصد اصرار مولانا کو ٹکٹ دیا تھا اور احمد پٹیل اور کے رحمان خان نے کافی مددکی تھی۔اس دوران نوشیر میرے پاس آتے رہے اور مولانا کو راضی کرنے کے لئے اصرارکرتے رہے۔آخر کار مولانا بادل ناخواستہ مان گئے۔۔۔وقت بہت کم تھا۔راتوں رات مولانا اور ان کے ہمراہیوں کو پٹنہ بھیجا گیا۔بالکل آخری وقت میں مولانا نے نامزدگی کے کاغذات داخل کئے۔مولانا کے الیکشن کے لئے پبلسٹی مواد تیار کیا گیا اور دہلی سے ہی چھپواکر کشن گنج بھیجا گیا۔

 

مولانا تہجد گزار تھے اور پابندی کے ساتھ شب بیداری کرتے تھے۔الیکشن کی مہم کے دوران مولانا صبح 6 بجے نکل پڑتے اور شب کے 12 بجے واپس آتے۔ اس دوران بھی وہ تہجد کے لئے ضرور اٹھتے۔لیکن یہ معمول مشکل تو ہو ہی گیا تھا۔جب وہ کامیاب ہوکر دہلی آئے تو گھر بھی آئے۔۔۔ کھانے کے بعد سب جمع تھے۔مولانا کی تقریر جاری تھی۔بتارہے تھے کہ الیکشن کی مہم کے دوران انہیں کس طرح کے مسائل پیش آئے۔سب سے زیادہ قلق انہیں تہجد اور قرآن پڑھنے کے لئے کم وقت کی فراہمی کا تھا۔وہ بار بار اپنے خادم نوشیر ‘اپنے داماد فیاض عالم اور دوسروں کا نام لے لے کر کہتے تھے کہ ان لوگوں نے مجھے پھنسوایا۔اس دوران میں نے بھی افسوس کا اظہار کرنے کے لئے ایک دوجملے کہہ دئے۔مولانا مجھ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ دیکھنے والوں کو یہ لگتا کہ وہ مجھ سے احترام سے پیش آتے ہیں۔لیکن جیسے ہی میں نے افسوس کا اظہار کیا مولانا مجھ پر بھی برس پڑے: اے بھائی بس رہنے دیجئے۔ آپ بھی پیش پیش تھے۔میرے بچے تو یہ سن کر ہنس پڑے لیکن میری اہلیہ سمجھ گئیں کہ مولانا کو معمولات کے چھوٹ جانے کا غم ہے۔۔۔۔

 

میں اِس گفتگو کو سیاسی عنصر سے بچاکر رکھنا چاہتا تھا۔لیکن یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ مولانا کو باوجود اس کے کہ ان کا حق بھی بنتا تھا اور سیاسی گلیاروں میں اس کی امید بھی کی جارہی تھی‘ انہیں کانگریس نے وزارت میں شامل نہیں کیا۔۔۔انڈین ایکسپریس The Indian Express کوئی غیر ذمہ دار اخبار نہیں ہے۔خود اس کی اُس وقت کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر (اِس وقت ڈپٹی ایڈیٹر ) سیما چشتی Seema Chishti نے یہ خبر لگائی تھی کہ مولانا کو وزیر بنانے کی بات چل رہی ہے۔یہاں تک کہ ان کے قلمدان پر بھی غور چل رہا تھا۔کہا جارہا تھا کہ انہیں وزارت برائے فروغ وسائل انسانی میں وزیر مملکت کا درجہ دیا جائے گا۔ یہی نہیں سابق وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ایم اے فاطمی تک نے مولانا سے ملاقات کرکے انہیں اس وزارت کی افادیت سے آگاہ کردیا تھا۔۔اس امید کا ایک بڑا سبب یہی تھا کہ این ڈی اے کی شکست کے بعد بہار سے کانگریس کو صرف دو سیٹیں ملی تھیں جس میں دوسری سیٹ پرکامیاب ہونے والی میرا کمار کو اسپیکر بنادیا گیا تھا۔بہار میں اسمبلی الیکشن بھی ہونے والے تھے۔۔۔کہتے ہیں کہ کانگریس کے ایک ‘ہیوی ویٹ‘ لیڈر نے مولانا کو وزیر بننے نہیں دیا۔۔۔۔کچھ اڑتی اڑتی سنی تھی کہ مولانا کی داڑھی آڑے آگئی۔میں نے اُسی وقت ایک مضمون لکھا تھا کہ “جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے صدر شیبوسورین کی اتنی لمبی اور بے ہنگم داڑھی انہیں وزیر بنانے کی راہ میں آڑے نہیں آئی مگر مولانا کی پُر نور داڑھی آڑے آگئی..”۔آخر کار گرد بیٹھ گئی اور مولانا نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔

 

گزشتہ ہفتہ Kalindi Hospital کے ڈائریکٹرڈاکٹر ریحان صاحب Md Raihan سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایاکہ میں نے مولانا سے کہا تھا کہ آپ کو وزیر ضرور بنایا جانا چاہئے تھا لیکن اس پر مولانا ناراض ہوگئے تھے اور کہا تھا کہ میں کروڑوں روپیہ کماکر کہاں سے دوں گا۔۔۔؟ اِس کی تصدیق تو میں بھی کرسکتا ہوں ۔۔۔مولانا نے مجھ سے بھی کہا تھا کہ جو ہوا اچھا ہوا ۔۔میں وہ کام نہیں کرسکتا جو وزیر بننے کے بعد کرنا پڑتا ہے۔۔۔وہ وزارت نہ ملنے پر اِس طرح اللہ کا شکر ادا کرتے تھے جس طرح دوسرے لوگ وزارت ملنے پر بھی شکر ادا نہ کرتے ہوں گے۔۔۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنی طبیعت پر جبر کرکے سیاسی زندگی گزار رہے ہیں ۔۔۔اکثر نوشیر ایسے واقعات کا ذکر لے کر بیٹھ جاتا لیکن مولانا اسے جھڑک کر روک دیتے۔۔۔پھر مجھ سے کہتے کہ یہ دنیا بے ثباتی کا کھنڈر ہے۔۔۔اس میں اتنا نہیں الجھنا نہیں چاہئے ۔۔۔مجھ سے کبھی کبھی کہتے کہ مجھے تو کبھی شرح صدر نہیں ہوا لیکن ان لوگوں کے دباؤ پر میں میدان میں کود پڑا ۔۔۔ہوسکتا ہے کہ اس کے بہانے میں اپنے لوگوں کی کوئی بھلائی کرسکوں۔۔۔۔اخبارات کی رپورٹیں اس کی شاہد ہیں کہ مولانا نے عام حالات میں بھی اور قدرتی آفات کے وقت بھی کس طرح کبھی ننگے پاؤں میلوں پیدل چل کر اور کبھی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھ کر حاجتمندوں کی مدد کی۔۔۔وہ میرے غریب خانے پر آکر سیاسی گفتگو سے مکمل احتراز چاہتے تھے۔۔۔لہذا گزشتہ آٹھ نو برس سے انہوں نے کسی کو بھی ساتھ لانا چھوڑ دیا تھا۔۔۔اب وہ تنہا آتے تھے۔۔۔اگر مجبوری میں کسی کو ساتھ لاتے بھی تو گھر کے دروازے پر آکر اسے واپس بھیج دیتے تھے۔۔۔

 

2009 میں وزارت کی تشکیل کے کچھ دنوں بعدایک شب بڑی تاخیر سے مولانا کا فون آیا۔میں بھی سفر پر تھا۔مولانا نے کہا کہ جہاز سے اتر کر سب سے پہلے آپ کو فون کر رہا ہوں۔ایک ضروری مشورہ کرنا ہے۔کانگریس کے فلاں صاحب کا فون آیا تھا۔وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ مرکزی حج کمیٹی کی صدارت قبول کرلیجئے۔میں نے ابھی حامی نہیں بھری ہے۔آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ جب آپ کو وزارت نہیں دی گئی تو آپ یہ بھی قبول نہ کیجئے۔میں نے کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ کانگریس بڑی عیاری سے آپ کے چاہنے والوں کو رام کرنا چاہتی ہے اور وزارت پر آپ کے حق کو اس طرح دبادینا چاہتی ہے۔حج کمیٹی میں اصلاح کے یوں تو بہت سے کام ہیں لیکن یہ ادارہ بڑا خراب ہوگیا ہے اور اس کو سنوارنے کے لئے شرفاء کی نہیں لٹھ برداروں کی ضرورت ہے۔لہذا یہ گناہِ بے لذت اب اپنے سر پر نہ لیجئے۔مولانا نے مشورہ قبول کرکے کانگریس قیادت کو اس سے آگاہ کردیا۔۔۔ کانگریس صدر کے سیاسی مشیروں کو مولانا کی یہ جرات پسند نہ آئی۔گوکہ اگلی باربھی کانگریس نے مولانا کو ہی ٹکٹ دیا اور مولانا جیت بھی گئے لیکن اس بار کانگریس ملک بھر میں بری طرح شکست کھاگئی۔یہاں تک کہ بہار سے میرا کمار بھی ہارگئیں اور صرف مولانا کی ہی سیٹ کانگریس کو مل سکی۔اس بار کانگریس کے پاس مولانا کو دینے کے لئے کچھ نہیں تھا مگر مولانا نے اس کے کشکول میں ایک سیٹ ڈال کر اس پر ایک اور قرض لاد دیا۔۔۔

 

سونیا گاندھی مولانا کی بہت عزت کرتی تھیں۔مولانا نے سونیا سے مل کرکشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر کے لئے جو کاوشیں کیں وہ تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں۔۔مولانا اُس دوران بہت متفکر اور پریشان نظر آتے تھے۔۔۔وہ کہتے تھے کہ اگر میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا تو میرے ایم پی بننے کا کوئی معنی نہیں ۔۔۔اگر مولانا نے دن رات ایک کرکے کوشش نہ کی ہوتی تو کشن گنج کا سینٹر بننا مشکل تھا۔۔۔اپنے ہی لوگ سازشیں بُن رہے تھے۔۔۔اس سلسلہ میں ان کا ساتھ وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے بھی دیاتھا جو بعد میں صدرجمہوریہ بنادئے گئے تھے۔مولانا بتاتے تھے کہ کس طرح کپل سبل اور سلمان خورشید ملی مسائل کے حل کیلئے کی جانے والی مولانا کی کاوشوں کا کبھی مذاق اڑاتے اورکبھی ناک منہ بناتے تھے۔۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے سلسلے میں مولانا ‘ کپل سبل اور سلمان خورشید کے درمیان جو کشاکش چلی اس کا ہر ایک کو علم نہیں ہے۔۔۔مولانا پارلیمنٹ میں کس طرح دوڑ دوڑ کر ان دونوں کے پاس جاتے اور انہیں نزاکتوں سے واقف کراتے۔۔۔لیکن دونوں مولانا کو دھوکہ دیتے رہے۔۔۔مولانا بہت غمزدہ ہوکر ان کی عشوہ طرازیوں کا شکوہ کیا کرتے تھے۔۔۔ایک بار تو مولانا کی جانب سے ان دونوں کو میں نے ہی ایک سخت خط انگریزی میں لکھ کر بھیجا تھا۔۔۔۔مولانا نے بتایا کہ ایک بار ان کے سامنے سونیا گاندھی نے کپل سبل کو بلاکر سخت سست کہا تھا لیکن کپل سبل پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ ۔۔

 

اس پہلو پر سینکڑوں افراد اپنی آراء کا اظہار کرچکے ہیں کہ مولانا نے اپنے حلقہ کشن گنج کے لئے بہت کام کیا۔لہذا اسے دوہرانے کی ضرورت نہیں۔لیکن ان کے حلقہ کے بعض مسلم لیڈروں کا مولانا کو ستانا یاد رہے گا۔۔۔کیا کیا نہیں کہا گیا اور کیا کیا نہیں اڑائی گئی۔ایک ولی صفت انسان پر ایسی ایسی تہمتیں لگائی گئیں کہ الاماں والحفیظ۔مگر مولانا صبر کا کڑوا گھونٹ پی کر رہ گئے اور کسی کا جواب تلخی سے نہ دیا۔۔۔بس ایک بار تڑپ کر یہ ضرور کہا تھا کہ ۔۔۔۔میں اس کا حساب قیامت میں لوں گا۔۔۔اتنا کہہ کر رونے لگے تھے۔۔۔

 

مولانا جب بہت پریشان ہوجاتے تھے تو فون کرکے کہتے تھے کہ ساجد صاحب! اسی لئے میں اس سیاسی چکر سے بچنا چاہتا تھا۔کبھی کبھی توبچوں کی طرح رودیتے تھے۔میں نے مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کا دور تو نہیں دیکھا لیکن ان کی پارلیمنٹ کی ممبری کے دور کے جو واقعات مولانا سناتے تھے ان کی روشنی میں مجھے یقین ہوگیا تھا کہ وہ ‘ مولانا سیوہاروی سے کم نہیں ہیں۔وہی سادگی‘وہی قناعت اور وہی دردمندی۔ہر ایک سے اسی انکساری کے ساتھ ملنا اور ہر ایک کے دکھ درد کو غور سے سننا۔مولانا کی شان بے نیازی اورزہد و تقوی کا اس سے بڑا مظہر اور کیا ہوگا کہ انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں میں سے کسی ایک کو بھی سرکاری مراعات کا فائدہ اٹھاکر کہیں SET نہیں کیا۔یہاں تک کہ جو تعلیمی وملی فاؤنڈیشن بنائی اس تک میں کوئی اہم عہدہ اپنے بچوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔۔۔مولانا بتاتے تھے کہ مولانا سیوہاروی جب پارلیمنٹ کے ممبر تھے تو ان کی تنخواہ مجاہدین آزادی کی بعض بیواؤں کو منی آرڈر بھیجنے میں ہی ختم ہوجاتی تھی۔۔۔یہ منی آرڈر مولانا ہی تیار کرتے تھے۔۔وہ بتاتے تھے کہ ٹرین کے سفر کے دوران مولانا سیوہاروی تکیہ کی جگہ اینٹ رکھتے تھے۔۔۔یہ اینٹ ان کے سامان میں ساتھ ساتھ چلتی تھی۔۔۔۔سچی بات یہ ہے کہ مولانا بھی اُسی عظیم مجاہد ملت کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔۔۔

 

مولانا نے دہلی میں قیام کے حوالہ سے ملت کو اپنے قیمتی پچاس سال دیدئے۔ملت کے لئے انہوں نے بچوں اور اہل خانہ کا بھی خیال نہ رکھا۔انہوں نے اپنے بیٹوں کو کوئی کاروبار بھی کراکر نہیں دیا۔بڑا بیٹا سہیل ان کے گاؤں ٹپو (کشن گنج) میں قائم اسکول میں انتظامی خدمات انجام دیتا ہے۔دوسرے نمبر کے بیٹے مولانا سعود عالم ندوی ازہری اسکول کے تعلیمی امور کے نگراں ہیں۔چھوٹا بیٹا فہد دہلی میں ان کی خدمت کرتا تھا۔اب یہ تینوں یتیم اور مسکین ہوگئے ہیں۔نہ والدکا سایہ نہ والدہ کا۔مولانا مرحوم کے دو بھائی موجود ہیں۔یہ اچھی بات ہے کہ آج تک مولانا اور ان کے دونوں بھائیوں کے خاندان کا چولہا ایک ہے۔میرا خیال ہے کہ مولانا کی علمی کاوشوں کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اور اہلیت ان کے بیٹے مولانا سعود عالم ندوی ازہری کے اندر بدرجہ اتم موجود ہے۔مولانا کے معاصرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے تینوں بیٹوں کی سرپرستی اور رہ نمائی کریں۔مولانا کی اہلیہ مرحومہ کی بھی بڑی قربانیاں تھیں۔انہوں نے یہ پچاس سال بڑے صبر وآزمائش میں گزارے۔بچوں کی پرورش میں انہی کا بڑا دخل رہا۔لیکن وہ مولانا سے کچھ سال پہلے اس دار فانی سے کوچ کرگئیں۔جب بھی ذکر آتا مولانا اپنی اہلیہ کی قربانیوں کی توصیف ضرور کرتے تھے۔

 

مولانا پارلیمنٹ میں کم وبیش دس سال رہے۔اس دوران کوئی ملی اور شرعی مسئلہ ایسا نہیں کہ جس پر انہوں نے ملت یا شریعت سے کوئی سمجھوتہ کیا ہو۔۔پارلیمنٹ میں وہ کتنا بولے اس پر اب بحث کا کوئی موقع نہیں ہے لیکن جب ضرورت ہوئی تو انہوں نے خود اپنی حکومت کے خلاف بھی پارلیمنٹ میں تقریر کی۔مسلمانوں کودرپیش مسائل پر پارلیمنٹ میں اظہار ناراضگی‘دراصل حکومت کے خلاف بولنا ہی ہے۔وہ پارلیمنٹ میں تقریر سے پہلے مجھ سے مشورہ ضرور کرتے تھے۔وقت کی پابندی کے سبب اکثر تو لکھی ہوئی تقریر پڑھتے تھے۔اور اس تقریر کو مجھے دیکھنے کے لئے ضرور بھیجتے تھے۔قضیہ طلاق پر بھی انہوں نے لکھ لیا تھا۔لیکن جب گھر آئے تھے تو کہا تھا کہ ساجد صاحب !میں شریعت کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ میری پارٹی کے کچھ لوگ دوسری لائن لے سکتے ہیں لیکن میں علماء کے موقف اور شریعت کے خلاف ہر گز نہیں جاؤں گا۔اب مولانا وضاحت کے لئے موجود نہیں ہیں۔لیکن طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں ایوان میں اُس روز جو کچھ ہوا وہ اس پر دلبرداشتہ تھے۔مگر اس کے بعد انہیں اخبارات اور سوشل میڈیا کے پہلوانوں نے جس طرح مطعون کیا وہ ان کی زندگی کا سب سے کریہہ باب بن گیا۔مولانا خوش قسمت رہے کہ کانگریس میں ان کے ساتھ وہ کچھ نہ ہوا جو ماضی میں مرحوم ضیاء الرحمن انصاری کے ساتھ ہوچکا ہے۔کانگریس نے ایسے بے باک‘جری اور ملی امور پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے والے نہ جانے کتنے مسلم قائدین کو ٹھکانے لگادیا۔مگر خدا کا شکر ہے کہ مولانا ایسا کوئی داغ لے کر نہیں گئے۔ان کے سیاسی حریفوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اب معاف کرنے کے لئے مولانا اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن خود اُن کے لئے توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہوا ہے۔۔۔

 

میں نے مولانا کے ساتھ کئی اندرون ملک اسفار بھی کئے۔ایک سفر یاد رکھنے کے لئے لایق ہے۔مولانا کودل کے عارضہ اور آپریشن کے سبب ڈاکٹروں نے بذریعہ کاربہت زیادہ سفر کرنے اورجلسوں میں تقریریں کرنے سے منع کردیا تھا۔لیکن مولانا نے کسی کو منع نہیں کیا۔چھوٹے سے چھوٹے مدرسہ میں بھی وہ چلے جایا کرتے تھے۔۔وہ خود اپنے صرفہ سے سفر کرتے تھے۔۔۔ایک سفر کے دوران رات کے 12بجے تک پروگرام میں رہے۔گرمیوں کے ایام تھے۔مولانا تین بجے پھر بیدار ہوگئے اور معمولات میں مشغول ہوگئے۔فجر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی پھر واپسی کا سفر شروع کردیا۔ میں مولانا کو بہت منع کرتا تھا۔شروع میں ‘میں یہی سمجھتا رہا کہ ان کے خادم نوشیر ہر مدرسہ کو وقت دیدیتے ہیں۔لیکن معلوم ہوا کہ مولانا خود ہی کسی کو انکار کرنے میں تکلف کرتے ہیں۔ایک روز گھر پر آئے تو میری اہلیہ نے ذرا سخت لہجہ میں کہا کہ آپ اتنے پروگراموں میں مت جایا کیجئے۔میری طرف دیکھ کر ہنس کرکہنے لگے کہ ہماری بیٹی کو اپنے باپ کی بہت فکر ہے’ اب میں کیسے بتاؤں کہ مجھے اپنی ملت کی فکر ہے۔۔۔میں جو کچھ ہوں مدرسہ کی وجہ سے ہوں۔۔۔ مجھے کسی مدرسہ کے پروگرام کو منع کرنے سے اللہ کا خوف روک لیتا ہے۔۔۔

 

مولانا ان تمام ملی مصروفیات میں سے وقت نکال کر مہینہ میں کم سے کم ایک بار ضرور گھر آتے تھے۔جب جی چاہتا میری اہلیہ کو فون کرکے کہتے کہ آج بیٹی کے ہاتھ کی دال روٹی کھانے کو جی چاہ رہا ہے۔اکثر ایسا ہوتا کہ میں گھر پر نہ ہوتا۔اہلیہ فون کرکے بتاتیں کہ آج مولانا آرہے ہیں‘آپ جلدی گھر آجائیے گا۔ مجھے معلوم تھا کہ مولانا سے میری کوئی شکایت ضرور کی جائے گی۔اور وہی ہوتا۔میری اہلیہ موقع پاکر کہتیں کہ دیکھئے اِن کے پاس نہ بچوں کے لئے وقت ہے اور نہ گھر کے دوسرے کام کاج کے لئے۔ان کو ذرا سمجھائیے۔کبھی کہتیں کہ غصہ بہت کرتے ہیں۔بچوں کو بری طرح ڈانٹتے ہیں۔مولانا مخمصہ میں پڑجاتے۔کس کو کہیں اور کیا کہیں۔مولانا میرے مزاج سے بھی واقف تھے۔اُدھر اپنی بیٹی کا دل بھی رکھنا ہوتاتھا۔ان کے سامنے تو کہتے کہ ’اے بھائی‘ذرا خیال رکھا کیجئے۔ہماری بیٹی غلط تھوڑے نا کہہ رہی ہے۔اور جب وہ خوش ہوکر باورچی خانہ کی طرف چلی جاتی تھیں تو مجھ سے کہتے تھے کہ ’اے بھائی برا مت مانئے۔‘آپ کو ڈانٹ نہیں سکتا اور اپنی بیٹی کی شکایت کو یکسر مسترد کرنہیں سکتا۔۔۔

 

مولانا بچوں میں بچے بن جاتے تھے۔میرے چاروں بچوں کا بچپن تو انہی کے سامنے گزرا ہے۔میرے بچے ان کے سامنے ابااور ان کی پیٹھ پیچھے مولانا اباکہا کرتے تھے۔پچھلے 13سال سے ان کا معمول تھا کہ وہ ہر عیدالفطر کے کچھ روز بعد گھر آتے اور بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے۔ممبر پارلیمنٹ بننے کے بعد بھی ان کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا۔بلکہ ایک تبدیلی یہ ہوئی کہ مولانا نے پارلیمنٹ جانے کے لئے جو نئی کار خریدی تھی اسے ذاکر نگر کے دفتر کے باہر ہی چھوڑ کرپیدل ہمارے گھرآتے۔نہ کوئی اردلی ساتھ اور نہ کوئی خادم۔مولانا کے دل کا آپریشن ہوا تو انہوں نے خود کو اتنے سخت پرہیز کا پابند کرلیا کہ کیا کوئی اور کرے گا۔دوچپاتی‘100گرام (ویج) سالن اور بس۔مولانا دم آخر تک اسی پر قائم رہے۔میرے پورے گھر کو اس بات کا صدمہ رہ رہ کر ستاتا ہے کہ اس بار مولانا اپنے معمول پر قائم نہ رہے اور عید کے بعد سے مسلسل جس طرح انہوں نے کشن گنج پارلیمانی حلقہ کے مسائل اوڑھ لئے تھے اس نے انہیں دہلی ٹِک کر رہنے نہ دیا۔وہ ہر15 بیس دن میں فون کرکے کہتے کہ ’میں تو یہاں کشنج گنج کا ہوکر رہ گیا ہوں۔اب جب دہلی آؤں گا تو گھر آؤں گا۔آخری بار انہوں نے انتقال سے 12روز پہلے فون کرکے کہا تھا کہ اب ذرا لمبے سفر پر جارہا ہوں ‘دعا کردیجئے۔۔پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران دہلی میں رہوں گا تو پھر آؤں گا۔۔۔یہ بھی کہا تھا کہ بہت دن ہوگئے ہیں آیا نہیں ہوں۔۔بیٹی سے شرمندگی ہے۔۔۔بہت ناراض ہوگی۔ذرا اس کو کہنا کہ معاف کردے۔۔۔میری اہلیہ بار بار پوچھتی تھیں کہ آپ نے مولانا کو فون کیا یا نہیں۔میں کہتا کہ بات ہوگئی ہے’ مولانا اب جب دہلی آئیں گے تو گھر ضرور آئیں گے۔لیکن میں یہ بتانے کی ہمت نہ کرسکا کہ مولانا نے یہ کہا ہے کہ بیٹی سے کہنا کہ معاف کردے۔کچھ باتیں سمجھنے کی کوشش کے باوجود سمجھ میں نہیں آتیں۔۔۔ولی صفت انسانوں کی باتوں کو سمجھنا گناہ گاروں کے بس میں نہیں ہوتا۔۔۔میں سمجھ ہی نہ سکا کہ اب مولانا نہیں آئیں گے۔۔۔۔۔

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker