ہندوستان

تین طلاق بل مسلم عورتوں کے لئے ناقابل قبول، شریعت میں مداخلت برداشت نہیں

آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ چلائی گئی ٹوئیٹر مہم آج کے ٹاپ ٹین میں دوسرے نمبر پر

ممبئی :11؍جنوری(بصیرت نیوز سروس)

آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے سوشل میڈیاڈیسک کی جانب سے تین طلاق بل کے خلاف مشہورسوشل میڈیاپلیٹ فارم ٹوئیٹرپرچلائی گئی مہم کوزبردست کامیابی ملی،ہندوستانی مسلمانوں کے تمام طبقات کی جانب سے اس ٹوئیٹرمہم کاپرجوش استقبال کیاگیااورآج کے ٹاپ ٹین ٹویئٹرٹرینڈمیں تقریبا۳۰؍ہزارٹوئیٹس کے ساتھ دوسرے نمبرپررہا۔ٹوئیٹرپرچلائی گئی آج کی اس مہم کی سرپرستی آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری اورسوشل میڈیاڈیسک کے انچارج مولاناعمرین محفوظ رحمانی نے کی جب کہ اس مہم کوکامیاب کرنے میں سوشل میڈیاڈیسک کے تمام کارکنان وممبران پیش پیش رہے،ٹوئیٹرپراس مہم کی کامیابی کے بعدمولاناعمرین محفوظ رحمانی نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ چوں کہ موجودہ دورمیںسوشل میڈیاہی ایک واحدایساپلیٹ فارم ہے جواپنی بات کووسیع پیمانے پرپہونچانے کاسب سے مضبوط اورموـثرذریعہ ہے،جہاں قومی میڈیاکہے جانے والے تمام چینلس حکومت کی گودمیں جاکربیٹھ گئے ہیں ایسے میں مظلوم اورعام لوگوں کے لئے اپنی بات کومضبوط اورموثراندازمیں ایوان حکومت تک پہونچانے کاسب سے اہم ہتھیارسوشل میڈیاہے۔مولانارحمانی نے کہاکہ چوں کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ،ہندوستان کادستوراپنے تمام باشندوں کوبلاتفریق مذہب وملت آزادی کے ساتھ جینے کاحق فراہم کرتاہے ایسے میں ایک خاص ذہنیت رکھنے والی سرکارکاایک خاص طبقہ کوباربارنشانہ بناناجمہوریت کے ساتھ کھلواڑکرناہے اوردستورہندکوپامال کرناہے۔مولانارحمانی نے اپنے بیان میں کہاکہ حکومت نے اپنی عددی اکثریت کے نشہ میں لوک سبھاسے بل پاس کرانے کے بعدراجیہ سبھامیں ملی ناکامی سے بوکھلائی ہوئی ہے،ممکن ہے کہ وہ اس بل کوپاس کرانے کے لئے کوئی اورحربہ استعمال کرے،اسی لئے ہماری کوشش ہے کہ ہم اس ظالمانہ اورغیرمنصفانہ اورغیردستوری بل کے خلاف مسلسل آوازاٹھاتے رہیں گے،مولانارحمانی نے مزیدکہاکہ اس حکومت پرعددی قوت کانشہ اس قدرسوارہے کہ لوک سبھامیں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی مخالفت نے بھی اس پرکوئی اـثرنہیں کیا،بلکہ ان رہنماؤ ں میں کئی غیرمسلم خواتین رکن پارلیمان نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں تین طلاق بل کی زبردست مخالفت کی لیکن مودی حکومت نے اپنے غروراورگھمنڈکے نشہ میں کچھ بھی سننا گوارہ نہیں کیااوراس ظالمانہ بل کوپاس کرالیا۔

واضح رہے کہ ٹوئیٹرپرچلائی گئی مہم کومسلمانوں کی اکثریت نے سراہااورپرجوش طریقے سے اس مہم میں حصہ لیا۔شرکاء نے اپنے ٹوئیٹ میں تین طلاق بل ،مسلم پرسنل لاء اورشرعی قوانین کے بارے میں اپنی آمادگی کااظہارکیااوراس مہم کوٹاپ ٹین تک پہونچانے میں کلیدی رول اداکیا،شرکاء نے ٹوئیٹرپراظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ ہندوستان میں شریعت کی حفاظت کے لئے کمربستہ ہے،ساتھ ہی ملک کے دستوراورجمہوریت کوبچانے کے لئے بھی اپنی کوشش جاری رکھے گا، آج کی ٹوئیٹرمہم نے اس بات کوواضح کردیاکہ مسلمان پرسنل لاء کے ساتھ ہیں اوروہ اس ملک میں شریعت کی حفاظت کے لئے اپنی جان کی قربانی تک دینے کےلئے تیارہیں۔ایک مسلمان کے لئے شریعت سے زیادہ کوئی چیزعزیزنہیں ہے،آج کی ٹویئٹرمہم میں اکثرشرکاء نے اس عزم کااظہارکیاکہ ہم تین طلاق بل کویکسرمستردکرتے ہیں،ہمیں اپنی جان سے زیادہ شریعت عزیزہے اورساتھ ہی شرکاء نے یہ بھی کہاکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اوراس کادستورہرشخص کواپنے مذہب پرعمل کرنے کی کھلی آزادی دیتاہے اورجولوگ اس طرح کاظالمانہ قانون بنارہے ہیں وہ خوددستورہندکی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ٹوئیٹرمہم میں حصہ لینے والے اکثرشرکاء نے اپنے ٹوئیٹ میں حکومت کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ دراصل حکومت اپنی ناکامیوں پرپردہ ڈالنے کے لئے تین طلاق بل جیسے غیرضروری مدعوں کواچھال رہی ہے تاکہ عوام کاذہن اس طرف منتقل ہوجائے اورکوئی حکومت سے سوال نہ کرسکے اورمیڈیاحکومت کے اس کام میں اس کابھرپورساتھ دے رہی ہے۔بعض شرکاء نے تین طلاق بل سے زیادہ اس جانب توجہ دینے کے لئے کہاکہ پہلے آپ اپنی ان غیرمسلم عورتوں کوحقوق دلائیں جنہیں ان کے شوہروں نے بغیرطلاق دیئے ہوئے چھوڑرکھاہے،اسی طرح برنداون کی مظلوم عورتوں کوبھی انصاف دلائیں،سبری مالامندرمیں داخلہ کے لئے جوخواتین احتجاج کررہی ہیں انہیں ان کاحق دلوائیں،اسی طرح سینکڑوں ایسے اہم مسائل اس وقت ملک میں موجودہیں جوتین طلاق بل سے زیادہ اہم ہیں۔شرکاء نے اپنے ٹوئیٹ میں واضح طورپرکہاکہ تین طلاق بل مسلم عورتوں کے حق میں نہیں بلکہ یہ مسلم عورتوں کے حقوق کے خلاف ہے،اوریہ دراصل مسلم سماج اورمعاشرہ کوبربادکرنے کی سوچی سمجھی سازش ہے،آخریہ کہاں کاانصاف ہے کہ مردجیل بھی جائے گااوروہ اپنی بیوی کونان ونفقہ بھی دے گا،اس سے زیادہ احمقانہ قانون اورکیاہوسکتاہے۔شرکاء ٹوئیٹرنے باتفاق رائے اپنے ٹوئیٹ میں کہاکہ ہم لوگ سرے سے تین طلاق بل کومستردکرتے ہیں اورشریعت میں مداخلت کوہرگزہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔یادرہے کہ اس ٹویئٹرمہم میں حصہ لینے والوں میں مسلمانوں کے تمام طبقات سے خواتین ومردحضرات نے بڑی دلچسپی کے ساتھ شرکت کی اوراسے کامیابی کے ساتھ ٹاپ ٹین میں دوسرے مقام پرپہونچایا۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker