ہندوستان

انڈین نیشنل سائنس کانگریس کا 106واں سیشن مضحکہ خیز تھیٹر کے مترادف ۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی :12/جنوری( بی این ایس)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے پھاگوارو، جالندھر، پنجاب میں حال ہی میں منعقد انڈین نینشنل سائنس کانگریس کے 106واں سیشن کو مضحکہ خیز تھیٹر اور “انڈین سائنس سرکس “قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ انڈین نیشنل سائنس کانگریس کو فوری طور پر بند کرکے ایک ایسا نیا ادارہ جو خالص سائنٹیفک ہواور حکومت کا اس میں کم مداخلت ہو قائم کیاجانا چاہئے۔عبدالمجید نے کہا کہ انڈین نیشنل سائنس کانگریس کے سیشن کے دوران آندھر اپردیش یونیورسٹی کے وائس چانسلرناگیشورا رائو نے مضحکہ خیز دعوی کیا ہے کہ مہا بھارت کے کورواس اسٹم سیل ریسرچ اور ٹیسٹ ٹیوب فرٹیلائزیشن کے عمل سے پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ روان کے پاس 24سے بھی زائد قسم کے طیارے تھے اور پشپک ومان صرف ان میں سے ایک ہے۔ عبدالمجید نے کہا ہے کہ وائس چانسلر کے اس دعوی سے سائنس دان کمیونٹی حیرت زدہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ آندھر اپردیش یونیورسٹی کے وائنس چانسلر نے ایک ہی جھٹکے میں نریندر مودی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جنہوں نے ایک بار یہ کہا تھاکہ ہندوستان سائنس میں بہت عرصے قبل بھی ترقی پذیر رہا ہے اور ہندوستانی سائنس دانوں نے ایک آدمی کے جسم میں ہاتھی کا سرلگایا تھا۔ جس کو آج ہندو قوم لارڈ گنیش کے طور پر پوجا کرتے ہیں۔ ناگیشور رائو نے وزیر خارجہ اور طبیعیات کے لیکچر راج ناتھ سنگھ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے کیونکہ وہ بھی اس طرح کے مضحکہ خیز بیانات کیلئے مشہور ہیں۔ راج ناتھ سنگھ نے ایک مرتبہ Heisenbergکے Uncertainty principleکو ویداس پر مبنی قرار دیا تھا۔ لہذا وائس چانسلر ناگیشور رائو اچھی صحبت میں نظرآرہے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے ان 37 ممتاز سائس دان اور مواصلات کے طرف سے دستخط کردہ مشترکہ خط کو سراہا ہے جس میں سائنس دانوں نے امسال انڈین سائنس کانگریس میں کئے گئے ناقابل یقین دعوئوں کی مخالفت کی ہے۔ سائنس دانوں نے انڈین سائنس کانگریس کے جنرل صدر کو خط بھیج کر ان جھوٹے اور بے بنیاد دعوے جن میں روایتی قصوں کو سائنس قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ممتاز سائنس دانوں نے بچوں کے سائنس کانگریس میں پیش کردہ سائنسی پیشکش پر تشویش کا اظہار کیا ہے نوجوان او ر متاثر کن دماغوں کے سامنے کہ اس طرح کے دعوئوں سے عالمی سطح پر ہندوستانی سائنسی تصور کو مسخ کرتی ہے اور ساتھ ہی ہندوستان کے عظیم سائنس دانوں کے حقیقی شراکت اور ساکھ کو بھی کمزور کرتی ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے مزید کہا ہے کہ وائس چانسلر کا سائنس کانگریس میں اس طرح بات کرنا نہایت ہی مضحکہ خیز ہے۔ان کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ روایتی قصوں کو سائنس کے ساتھ جوڑ کر پیش کریں؟۔ہندوستان میں بہت سارے عظیم سائنس دان موجود ہیں اور اس طرح کے غیر سائنسی بکواس کرنے والوں کو سائنس کانگریس میں بات کرنے کی اجازت دینا تشویش کا باعث ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آندھر ا پردیش کے وائس چانسلر جیسے لوگ جو ایک ذمہ دار اور اثر و رسوخ عہدے پر فائز ہیں لیکن ان کے عقائد ہندو روایتی قصوں کو اونچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ اس طرح کے ناقابل یقین، غیر منطقی،غیر ذہین افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس طرح کا دعوی آندھرا یونیورسٹی کا کوئی چپراسی کرتا تو شاید اس کو معاف کیا جاسکتا ہے اور مگر ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا ایک سائنس کانفرنس میں اس طرح کا دعوی پیش کرتا ہے تو ہندوستان میں اعلی تعلیم ، سائنس اور تیکنالوجی کی ترقی کی کوئی امید نہیں ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ناگیشور رائو کو کس نے وائس چانسلر منتخب کیا ہے اور کن خصوصیات کے بنیاد پر یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کا تقرر کیا جاتا ہے؟۔عبدالمجید نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین سائنس کانگریس کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے اجلاس میں کس مقرر کو مدعو کریںتاکہ بھارتی تعلیمی اداروں کی جگ ہنسائی نہ ہوسکے۔آندھرا پردیش یونیورسٹی کے طالب علم قابل رحم ہیں کہ ان کے ڈپلوما سرٹیفکیٹس پر ناگیشور رائو جیسے وائس چانسلر کے دستخط ہونگے۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker