جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

’مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی خطرناک وتشویشناک لہر‘

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
کیا ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم ’ایمان کی حرارت ‘ سے مفقود ہوتے جا رہے ہیں؟
یہ سوال ایک ایسی ’جانکاری ‘کے بعد اٹھا ہے ، جس نے دل دہلا دیا ہے ۔ بات گزشتہ ہفتے کی ہے ، قوم کے لئے ہمدردی اور خلوص رکھنے والے ایک ’ورکر ‘سے ملاقات ہو گئی ۔ انتہائی نیک انسان ہیں او رہمہ وقت اس فکر میں رہتے ہیں کہ قوم کیسے ترقی کرے ؟ تعلیمی محاذ پر بھی سرگرم ہیں اور اقتصادی محاذ پر بھی ۔ قوم کے نوجوانوں کو اچھی ملازمتیں مل سکیں اس کے لیے بھی وہ سرگرداں رہتے ہیں اور اس سلسلے میں باقاعدہ پروگرام بناتے رہتے ہیں ۔ کسی کو میڈیکل ضرورت ہے تو اس کےلیے بھی پریشان رہتے ہیں۔ کہنے لگے کہ پتہ ہے قوم کی کتنی بچیاں ’غیرمسلموں‘ سے شادیاں کر رہی ہیں ؟ میں نے سوال کیا کہ کیا کوئی خاص بات ہوگئی ہے؟ تو بتانے لگے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کورٹ میں لگے نوٹس بورڈوں کو پڑھتے رہتے ہیں ، ان ہی کے ذریعے انہیں پتہ چلتا ہے کہ ’کورٹ میرج‘ کے لیے کتنی درخواستیں دی گئی ہیں ۔ بتانے لگے کہ گزشتہ مہینے میں ایسی ۳۵؍درخواستیں تھیں جن میں لڑکیاں مسلمان اور لڑکے غیر مسلم تھے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لڑکیوں میں سے زیادہ تر مسلم اکثریتی علاقوں کی ، مسلم ماحول میں پلنے اور بڑھنے والی لڑکیاں تھیں ۔ ان مسلم لڑکیوں میں سنی لڑکیاں بھی تھیں ، شیعہ بھی اوربوہرہ فرقہ کی بھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی ٹیم نوٹس بورڈوں پر اس لیے نظر رکھتی ہے تاکہ جنہوں نے درخواستیں دے رکھی ہیں ان کے والدین سے ملاقات کی جا سکے انھیں بتایا جاسکے کہ دیکھئے ایسا معاملہ ہے اور آپ ابھی بھی روک سکتے ہیں تو اپنی لڑکیوں کو روک لیں۔
میرا سوال تھا کہ کیا آپ ان لڑکیوں کے گھر گئے، اور گئے تو کیا ہوا؟
بتانے لگے کہ گھر جا کر ملاقات کی، کئی جگہ تو والدین سر پکڑ کر بیٹھ گئے، ایک باپ ایسا غمزدہ ہوا کہ غش کھاکر گرپڑا۔ کئی جگہ رد عمل یہ رہا کہ والدین نے کہا کہ بچی اب ایک غیر مسلم کے ساتھ چلی گئی تو اب بچا ہی کیا ہے ، جانے دیں ، وہ خود بھگتے گی۔۔۔ والدین اس کےلیے تو تیار ہیں کہ ’لڑکی بھگت لے‘ لیکن وہ اسے یہ بتانے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ’ایمان‘ سے ہٹنا کیا معنی رکھتا ہے ۔
بڑے ہی غمزدہ لہجے میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی والدین نے فخریہ لہجے میں کہا کہ ’ان کی بیٹی نے جس سے شادی کی ہے اسے مسلمان کرلیا ہے‘ ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اچھے خاصے مذہبی گھرانوں کی، ایسی بچیوں کے نام بھی کورٹ کے نوٹس بورڈ پر نظر آتے ہیں جو پردے میں گھروں سے نکلتی ہیں۔ میرا سوال تھا کہ مہینے میں ایسے کتنے واقعات آپ کی نظر میں آتے ہیں؟
انہوں نے بتایاکہ ’کم سے کم تیس‘۔
کم سے کم تیس یعنی بارہ مہینے یا ایک سال میں ۳۶۰ واقعات! وہ بھی صرف ایک شہر میں۔ اور ملک میں تو بے شمار شہر ہیں اور اس طرح کی خبریں ، جو کبھی کبھار باہر آپاتی ہیں، ہر شہر سے آتی ہیں لہٰذا سال بھر میں پورے ملک میں ایسی کتنی مسلمان لڑکیاں ہوں گی جو غیر مسلموں سے شادیاں کرتی ہوں گی؟ کیا یہ تعداد ہزاروں میں ہے؟
جواب جو بھی ہو پر یہ ایک خطرناک اور تشویشناک ’لہر‘ ہے۔ اس کی وجوہ جو بھی ہوں، سنگھ پریوار چاہے جس قدر سرگرم ہو، پر سارا قصور تو ہمارا ہی ہے کہ ہم ’ایمان کی حرارت سے اس قدر محروم ہو چکے ہیں کہ اپنے بچوں کو یہ بھی نہیں سمجھا سکتے کہ ایک مسلمان کے لئے سب سے بڑی دولت ’ایمان ‘ ہی کی دولت ہے ۔۔۔وہ جو ’ایمان ‘کی دولت کو ’دولت‘ نہیں مانتے اگر وہ یہ سب کر رہے ہیں تو افسوس کی بات نہیں ، افسوس کی بات یہ ہے کہ ان گھروں میں بھی یہ ’لہر ‘ہے جو خود کو ’ایمان ‘کی دولت سے مالا مال قرار دیتے ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker