مضامین ومقالات

ایودھیا ہنگامہ نہ دو مذہبوں کا ہے اور نہ ہی مندر ومسجد کا

تحریر : کرشن پرتاپ سنگھ
ترجمہ: نازش ہماقاسمی
ملک کی جن نسلوں نے ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کو وشو ہندو پریشد کے ذریعے اکٹھا کی گئی شرپسند بھیڑ کے ہاتھوں ایودھیا میں موجود تاریخی بابری مسجد کی شہادت کے وقت ہوش سنبھال لیے تھے انہیں ۲۶ ؍ سال بعد یہ یاد رونگٹے کھڑا کردیتی ہے کہ اس تباہی نے امن وسکون کے پیرو کار عام آدمی کے ساتھ ان کی کوششوں کے رفیق کالم نویس، صحافی اور دانشوروں کو بھی کتنا تقسیم کرڈالا تھا۔ یا کیسے کچھ لوگ کہنے لگے تھے کہ اب آگے جب بھی ملک کی تاریخ لکھی جائے گی تو اسے چھ دسمبر کے پہلے اور بعد کے حصوں میں بانٹا جائے گا۔ تب اندیشے اس وجہ سے بھی زیادہ گہرے تھے کہ بابری مسجد کے بہانے انہدام کو نئے مذہب کے طو رپر مشہور کرنے کے چکر میں جنونیوں نے اس انہدام کی معرفت ہمارے آئین کے جمہوریت وسیکولرازم جیسے مقدس اقدار کے ساتھ قومی یکجہتی و عدلیہ کو نئے امتحان سے گزرنے کے لیے یقینا بہت سوچ سمجھ کر معمار آئین بھیم رائو بابا صاحب امبیڈکر کی یوم پیدائش کا دن منتخب کیا تھا اور ان کے اس انتخاب کے پیچھے کے منصوبے بہت خطرناک تھے۔
اس ملک کے عوام پر تھوپ دئیے گئے سانحے کو لے کر جیسا کہ بہت کچھ قدرتی تھا اب تک کالم نگاروں، صحافیوں اور دانشوروں کی کتابوں میں بے شمار افکار وتجزیے سامنے آچکے ہیں۔ ان میں سے کئی اس معنی میں بھی معمولی ہیں کہ وہ کثیر ناقابل یقین ثبوت ودستاویز کی بنا پر ۲۲۔۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ کی رات ایک سازش کے تحت رام للا کی مورتی کو بابری مسجد میں نصب کرکے اسے ان کے پرکٹ (ظاہر) ہونے کی بھر پور پول کھولتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کو ایودھیا میں جوانہونی ہوئی اس کے پیچھے ۲۲ ؍اور ۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ کی ہی سازش کارفرما تھی۔
ان کتابوں کی وجہ سے ہی آج یہ بات آئینے کی طرح صاف ہوچکی ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں جان بوجھ کر پیدا کیے گئے اس ہنگامے کو نئے سرے سے بھڑکانے کےلیے ۲۲؍۲۳ دسمبر کی درمیانی شب سازش میں ہندو فرقہ پرست جنونیوں کو شہ دینے اور حمایت کرنے میں ایمرجنسی کے دور میں اقتدار پر براجمان ہر شخص کے ہاتھ کالے ہیں۔ یہاں تک کی خود آزادی ہند کی جدوجہد میں خود کو تنہا وارث قرار دینے والی کانگریس کے پنڈت جواہر لال نہرو مخالف گروہ کے بھی،جس کے لیڈران پروسوتماداس ٹنڈنٹ اور گووند ولبھ پنت کی ان دنوں اترپردیش میں طوطی بولا کرتی تھی۔ ہاں نہرو سے ناراض کے کے کے نیئر نامی آئی سی ایس افسر کی بھی جسے سزا کے طو رپر دلی سے فیض آباد ٹرانفسر کردیاگیا تھا اور وہ ہر حال میں نہرو کو سبق سکھاناچاہتا تھا۔ لیکن ان کتابوں میں زیادتی کی دو بڑی حدیں ہیں پہلی یہ ہے کہ اس ہنگامے کو دو مذہبوں کے درمیان کے ہنگامے کے طو رپر دیکھتی ہیں اور دوسری یہ ہے کہ اسے ان دونوں میں سے کسی ایک یا کسی تیسرے خود غرض فریق کے زاویے سے متاثر کرتی ہے۔ کیا پتہ جان بوجھ کر یا انجانے میں مانتی نہیں کہ یہ ہنگامہ یقینی طو رپر نہ مندر اور مسجد کا ہے اور نہ مذہبی۔
یہ تو دراصل ہمیں ان بڑی طاقتوں کی سوگات ہے جو ہماری غفلت، لاعلمی، آلودہ فکروں سے متاثر ملک میں صرف جمہوریت کی دستک سے ہی ڈر گئی تھی اور اپنے غلبہ کی حفاظت کے لیے اسے لامحدود حصوں میں تبدیل کرنے کےلیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھی۔
ان طاقتوں کا شاطرانہ ایسا ہے کہ انہوں نے اپنی بالادستی کی حفاظت کی سیاست کےلیے ہندو مسلم دونوں مذہبوں کا ایسا استعمال کیا کہ تمام کے تمام الزامات ان مذہبوں کے سر منڈھ جاتےرہے اور فائدہ سیاستدانوں کو ملتا رہا جنہوں نے ہماری جمہوریت کو ہپوکریسی ودائوٹ لمیٹیشن بنائے بنا نہ تب چین تھا او رنہ اب ہے۔ اس لحاظ سے دیکھتے ہیں تو ایودھیا کے ہندی روزنامے جن مورچہ کے مدیر اور سینئر صحافی شیتلا سنگھ کی حال ہی میں شائع ’ایودھیا: رام جنم بھومی بابری مسجد کا سچ‘ نامی کتاب کو اپنے قاری کو اس زاوے سے واقف کراتی ہے کہ ایودھیا ہنگامے میں تمام کی تمام پیچیدگیاں سیاسی خودغرضی کےلیے اس کے بیجا استعمال سے پیدا ہوئی ہے ، ایک بڑی کمی کو مکمل کرتی ہے۔ اس ’بے جا استعمال‘ کی اکثریت: ساری پرتیں ادھیرتی ہوئی یہ کتاب اس کڑوے سچ کو سامنے لانے میں بھی کچھ اُٹھا نہیں رکھتی کہ یہ ہنگامہ صرف ایک وجہ سے ہنومان کی دم یا سرسا کے منہ کی طرف پھیلتا اور سلجھنے کے بجائے الجھتا گیا ہے کہ ایک جانب اسے دو مذہبوں کے مسائل بتا کر اسے حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، دوسری جانب سیاست اپنے نظر نہ آنے والے ہاتھوں سے ان کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکاتی رہی۔
وہ آج بھی اس سے باز نہیں آئی ہے۔اس سیاست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیتلا سنگھ کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’جب ایک پارٹی اپنے کو سیکولر، روایتی طور سے مختلف اور سائنسی نقطہ نظر سے انسانیت اور ترقی کو جاننے والی بتائے اور سماجی ریت ورواج کی امین قرار دے اور دوسری ہندو تو کو اپنا سمت قرار دے کر اور وقت کے چکر کے پیچھے کی جانب لے جانے کےلیے اتارو ہو لیکن ہنگامے میں دونوں ہی مل کر ایک دوسرے کا مکمل کردار ادا کرے تو کون اپنے آدرشوں کے تئیں وقف ہے اسے سمجھنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہاں بھلے ہی انہوں نے نام نہیں لیے ہیں سمجھا جاسکتا ہے کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی اور اشارہ کررہے ہیں آگے ان کی کتاب اس تفصیل سے بھی جاتی ہے کہ آزادی کے بعد کیسے کانگریس اس ہنگامے میں صرف ۱۹۹۰۔۱۹۹۲ کی بی جے پی بلکہ اس سے قبل جن سنگھ اور اس سے بھی پہلے ہندو مہاسبھا تک ہندو کارڈ کی چھینا چھپٹی کرتی رہی ہے۔
آج کانگریس گلہ کرسکتی ہے کہ ۱۹۹۰۔۱۹۹۲ میں وہ اس چھینا چھپٹی میں ناکام ہوگئی لیکن اس ملک میں اترپردیش ودھان سبھا سے قبل ضمنی الیکشن میں اس نے یہی ہندو کارڈ کا استعمال کرکے سماج وادی اچاریہ نریندر دیو کو نہ صرف چنائو ہرایا بلکہ ان کی مذمت کی تحریک بھی چلائی تھی۔
انہیں ہراکر منتخب کانگریس کے ایم ایل اے راگھو داس نےسرعام ۲۲۔۲۳ دسمبر ۱۹۴۹ کے سازش کاروں کی حمایت کی تھی۔
ہندو کارڈ کی چھینا چھپٹی کی اس سیاست میں یکم؍فروری ۱۹۸۶کو بابری مسجد میں بند تالے کھولے جانے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ۹؍۱۰ نومبر ۱۹۸۹ کو کیے گئے ’وہیں ‘ رام مندر کی تعمیر ’شیلا نیاس‘ میں بھی، ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کو انجام دئیے گئے انہدام میں بھی اور اس کے بعد قانون بناکر یا آرڈیننس لاکر مندر کے تعمیر کرانے کے وعدوں میں بھی۔
اس چھینا جھپٹی کا تسلسل یہ ہے کہ کانگریس صدر راہل گاندھی اپنے کو بہتر ہندو ثابت کرکے بی جے پی سے یہی کارڈ چھینناچاہتے ہیں۔ اس کتاب میں شیتلا سنگھ کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس ہنگامے کو نہ بی جے پی یا وشو ہندو پریشد کے پالے میں کھڑے ہوکر دیکھتے ہیں او رنہ ہی کانگریس یا دوسری بی جے پی مخالفین کے۔
’نہ کسی سے دوستی نہ کسی سے بیر‘ کی الگ الگ اسٹائل میں یکے بعد دیگرے ثبوتوں، واقعوں و دستاویزوں کو سامنے لاکر پردے کے پیچھے سے ہنگامے کو الجھاتی آرہی سازش و ان سے جڑی چوک سے واقف کراتے ہوئے وہ قارئین کو یہ بتانا بھی نہیں بھولتے کہ انہیں نہ مندر میں دلچسپی ہے او رنہ ہی مسجد میں۔
وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہنگامے کو ہمیشہ کے لیے ایودھیا کے مفاد کا دشمن بنے رہنے سے روکنے میں ممکن حد تک کوشش کرسکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب ۲۶؍سال پہلے بھی لکھ سکتے تھے لیکن اس لیے نہیں لکھی کہ نہ خود اس سےکوئی سیاسی یا پروفیشنل فائدہ لینا چاہتے تھے، نہ ہی کسی اور کو لینے دینا چاہتے تھے ، کسی کو نقصان پہنچانا بھی انہیں گوارہ نہیں تھا۔
بہرحال’دیر آید درست آید‘ ان کی کتاب کا سب سے اہمحصہ وہ ہے جس میں انہوں نے یکم فروری ۱۹۸۶ کو فیض آباد کی ضلع عدالت کے ذریعے بابری مسجد میں بند تالے کھولنے کے حکم دینے کے بعد کے حالات کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ ہنگامے کوناسور بنانے سے روکنے کےلیے ایودھیا کے شہریوں کے ذریعے نکالے گئے ’سبھی کو قبول حل ‘کے فارمولے آر ایس ایس کی قیادت نے اس لیے قبول نہیں کیا کہ اس ہنگامے کے بھڑکانے سے ہندوئوں میں پیدا ہورہے ’شعور‘ کو ملک کے اقتدار پر قبضے کے لیے استعمال کرنا تھا۔ بعد کے کئی اور مسئلے کے حل کی کوششوں کی بھی اس کے اس نقطہ نظر نےہی اہم رول نبھایا کہ کسی بھی صلح سمجھوتے میں دوسرے فریق کی مکمل دست برادری سے کم کچھ بھی قبول نہیں کرے گا، دکھ کی بات یہ ہے کہ اب جب ملک کی قیادت پر قبضہ کا اس کا نشانہ پورا ہوگیا ہے تو بھی وہ اس ہنگامے کو فساد کی جڑ ہی بنائے رکھنا چاہتا ہے۔
بہرحال یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں ہے جہاں جنوری میں اس کی شنوائی ہونی ہے پھر بھی کورٹ کے فیصلے سے قبل باہر بات چیت کےچیت کے ذریعے تصفیہ کی کوشش ہوتو ان میں اس کتاب کا یہ سبق بہت کام آسکتا ہے کہ ان کی کامیابی کی ایک ہی ضروری شرط ہے کہ اسے سیاست سے دور رکھا جائے۔
(بشکریہ: دی وائر ہندی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker