ہندوستان

ملک میں مظلوموں کو انصاف ملنا مشکل

دکھیاری مائیں فاطمہ نفیسہ اور سائرہ کا حج ہاؤس کی ایک تقریب میں بر ملا اعتراف
ممبئی۔ ۱۲؍جنوری: (نمائندہ خصوصی ) آج ملک میں مظلوموں کو انصاف نہیں مل رہا ہے بلکہ ظالموں کا ساتھ دیا جارہا ہے اور لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں مجھے ا بتک انصاف نہیں ملا ہے جنہوں نے میرے بیٹے کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا وہ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں ملک کے حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں یہاں انصاف ملنا مشکل ہوگیا ہے ظالموں کا راج ہے اور مظلوم انصاف کیلئے درد کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ اس قسمکا اظہار خیال آج یہاں حج ہاؤس میں منعقدہ نفرت کے خلاف ہم سب کی آواز کے موضوع پر دکھیاری ماں سائرہ نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی سے ہمیں امیدیں ہیں کیونکہ اللہ ہی ہمارا کارساز ہے ہماری جیسی ماؤں کا اعتماد بھی اللہ ہے وہ ہر کسی کا انصاف کرتا ہے ۔ کانگریس پارٹی ممبئی کے صدر سنجے نروپم نے کہا کہ ملک میں نفرت اور خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو خوفزدہ کر نے کا عمل جاری ہے ایک بچہ راتوں رات غائب ہوجاتا ہے اور اب تک کوئی سراغ تک نہیں لگتا ہے نجیب کی ماں اپنے بیٹے کیلئے انصاف مانگ رہی ہے لیکن بر سر اقتدار پارٹی کی کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے یہ کیسی بے حسی ہے یہ سب سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا جارہا ہے۔ اس سے یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر کوئی انصاف کیلئے کوشش کرے گا تو اسے غائب کر دیا جائے گا۔ نجیب کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ہر مسئلہ پر آوازبلند کرتا تھا ان حادثات کیلئے براہ راست سرکار ذمہ دار ہے یہ کھلی نا انصافی ہے جو عوام اب برداشت نہیں کریں گے سنجے نروپم نے یہ واضح کیا کہ جس دن ہماری سرکار آئے گی ہجومی تشدد کے مجرموں کو بخشا نہیں جائیگا ۔ نجیب کی والدہ فاطمہ نے بتایا کہ نجیب کو جس وقت ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تو میں اسی وقت خوفزدہ ہوگئی تھی وہ پولیس میں شکایت درج کروانے گیا اسوقت نجیب کو میں نے فون کیا اس نے گھبراہٹ کے عالم میں مجھ سے درخواست کی کہ آپ آجائیں میں جب ہوسٹل پہنچی تو مجھے وہاں نجیب نہیں ملا ایک گھنٹہ ہوا دو گھنٹہ ہوا لیکن نجیب جب نہیں ملا تو میں نے دریافت کرنا شروع کردیا میرے بچے کا موبائل بھی نہیں لگ رہا تھا میں پریشان ہوگئی لیکن اس وقت بھی میرےبچے کا کوئی پتہ نہیں چلا ۔ اپنے گمشدہ بیٹے نجیب کی گمشدگی اور اس پر ہونے والے مظالم اور تشدد کی داستان بیان کر تے ہوئے فاطمہ بی آبدیدہ ہوگئیں اور سسکیاں لیتے ہوئے کہنے لگیں کہ نجیب پر تشدد بھی برپا کیا گیا اور اب تک میرا نجیب مجھے نہیں ملا ہے سرکار نے بھی اس کی تلاش میں پوری طرح سے ناکام ہے اور سی بی آئی نے اس کیس کو بند کر دیا ہے یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سرکار اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے میں نے نجیب کی گمشدگی کے بعد پولیس اسٹیشن سے لے کر متعلقین تک جواب طلب کیا درخواستیں کیں لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا یہ تک معلوم نہیں ہوا ہے کہ نجیب کہاں ہے۔جئے ہو فاؤنڈیشن کے سر براہ افروز ملک نے بتایا کہ ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں ایسے میں نجیب اور حافظ جنید کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب تک ان دونوں کی ماؤں کو کوئی انصاف نہیں ملا ہے نجیب کا تو پتہ ہی نہیں لگ سکا ہے کہ وہ بقید حیات ہے یا نہیں اس لئے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان دکھیاری ماؤں کو انصاف دلانے اور حصول انصاف کیلئے تحریک چلانے میں آگے آئیں یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور ملکی فریضہ بھی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker