مضامین ومقالات

معروف عالم دین حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی کا انتقال، دعائے مغفرت کی درخواست

مفتی مجتبی حسن قاسمی
استاذ حدیث و فقہ دارالعلوم ماٹلی والا بھروچ گجرات
یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ ہندوستان کے نامور عالم دین، فقیہ ملت کے لقب سے مشہور، فخر بہار حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی کا طویل علالت کے بعدآج 13/جنوری، 2019ء ، بہ روز اتوار،ساڑھے سات بجے صبح (مدھوبنی میں)انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حضرت والا کو علم فقہ پر خصوصی دسترس حاصل تھی،حدیث اور علم حدیث کے بے لوث خادم تھے،سمجھانے کا انداز اس قدر نرالا تھا کہ ان کے شاگرد کہا کرتے تھے کہ مولانا چاہیں، تو ناواقف شخص کو بھی دقیق سے دقیق مسئلہ چٹکیوں میں سمجھا دیں، واقعی آپ کی تفہیم کا انداز بڑا نرالا تھا،موجودہ دور کے گرتے علمی معیار پر آپ کا دل بہت کڑھتا تھا۔ بجا طور پر آپ’’ فقیہ ملت ‘‘کے لقب سے ملقب تھے،قاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحب کے قریبی احباب میں آپ کا شمار ہوتا تھا،آپ نے جامعہ رحمانی مونگیر میں، امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ کی نگرانی میں تدریس کی اہم خدمت انجام دی، جاننے والے جانتے ہیںکہ جو امیر شریعت رابع کی خدمت میں رہ گیا، وہ ’’درِ آبدار‘‘ اور’’گوہر نایاب‘‘بن گیا۔
حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے تقریبا بیاسی سال کی عمر پائی، ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ؛ بل کہ پوری زندگی، دین اور علم دین کی خدمت میں گذدی، آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن تاسیسی رہ چکے ہیں، درالعلوم سبیل السلام حیدر آباد کے ایک عرصہ تک شیخ الحدیث بھی رہے،اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے بھی آپ رکن تاسیسی تھے۔ بہار کی مرکزی اور سوسالہ قدیم درس گاہ جامعہ عربیہ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی کےناظم تھے،انہوں نے اپنی بے پناہ انتظامی صلاحیت سےکنہواں کو ترقی کے اوج ثریا پر پہنچایا۔
مولانا کی حق گوئی اور بے باکی، بے مثال تھی، جوحق سمجھتے، برملا اظہار کرتے، اس سلسلے میں کسی مصلحت ، یا کسی شخصیت کی وہ پرواہ نہیں کرتے تھے۔
مولانا نے ، ناچیزکی مرتب کردہ فتاویٰ فلاحیہ پر بڑا مبسوط تبصرہ فرمایا، بہت دعائیں دیں،تحقیق وتعلیق کے کام اور اس کے نہج کو بہت سراہا، جب بھی ملاقات ہوتی، بڑی حوصلہ افزائی کرتے،اور فرماتے کہ علاقے کے علماء سے تعلق رکھو،اور علاقے کی ضرورت کو پیش نظر رکھو۔افسوس کہ ان کے انتقال سے ایسا خلا پید اہوگیاہے ،جو مستقل قریب میں شاید پُر نہ ہو۔مولانا اپنے پیچھے بیوہ سمیت پانچ لڑکے(مولانا و حافظ اویس صاحب قاسمی، حافظ اسید صاحب، جناب سجاد ، مولانا وحافظ ظفر صدیقی قاسمی،اور افضل) اور دو لڑکیاں، اور ہزاروں کی تعداد میں تلامذہ چھوڑ گئے۔
یقیناًان کے انتقال سے علمی حلقہ سوگوار ہے، اللہ تعالیٰ ، حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے، امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، اور پس ماندگان،متعلقین،تلامذہ اور تمام اہل تعلق کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔ایں دعاء از من واز جملہ جہاں آمین باد
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker