مضامین ومقالات

مسلم لڑکیوں میں ارتداد کا بڑھتا ہوا فتنہ

از: عبدالعزیز بدوی
نائب صدرمجلس شوریٰ جامعہ اسلامیہ انعام العلوم نائیگائوں

محترم قارئین !حضرات و خواتین !اس افسوس ناک اور اظہر من الشمس حقیقت میں کوئی شک اور دو رائے نہیں کہ اُمت مسلمہ اور دنیائے انسانی تاریخ عالم کے بدترین اور نہایت سنگین مرحلہ سے نبر د آزما ہے ،اور مختصر لفظوں میں صورت حال کایہ دل دوز منظر ہے ۔
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے ۔ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی ایسے خوش بخت انسان روئے زمین پر ملنا مشکل ہے جو ظاہری طور ہر اور باطنی لحاظ سے ہر طرح مطمئن اور خوش و خرم ہو اور حضرت عبداللہ ابن مبارک کی مبارک زبان حقیقت ترجمان سے نکلے ہو ئے الفاظ کو وہ بھی اپنی زبان (حال یا قال) سے یہ کہہ سکے کہ ’’من لم ید خل جنتہ الدنیا لم ید خل جنتہ الاخرہ ‘‘(جو بد قسمت دنیا کی جنت میں نہیں داخل ہوسکا وہ آخرت والی جنت میں بھی داخل نہیں سوسکتا )حقیقت یہ ہے کہ کہ کامل ایمان اور مکمل اسلام و ہ نعمت ،وہ لذت ،وہ راحت اور وہ بیش بہا دولت ہے جو کسی کو حاصل ہوجائے تو اس کیلئے آخرت کی جنت سے بھی پہلے دنیا ہی میں نقد جنت موجود ہے ۔دنیا اور اسباب دنیا کی صحیح تعریف و حقیقت سے بے خبری نے نسل آدم کو مشرق سے مغرب تک غلط فہمیوں اور غلط کاریوں مںے بُری طرح پھنسا رکھا ہے بلکہ خطرناک جال میں ایسا جکڑ دیا ہے کہ نہ وہ جال ٹوٹ رہا ہے نہ ہی شکار چھوٹ رہا ہے ،سچ ہی کہا ہے ؎
افسوس ہم چلے نہ سلامت روی کی چال یا بیخودی کی چال چلے یا خودی کی چال
جب فکر وعمل میں اعتدال ‘ توازن اور سلامت روی نہیں ہوگی تو ا نکے بالمقابل بے اعتدالی ‘ عدم توازن‘ اور کجروی ہوگی‘ اور جب کیفیت یہ ہوگی تو ’’ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس۔۔ الخ۔۔۔۔ کا قیامت خیز منظر ہوگا ، نفسی نفسی ‘ آپادھاپی ‘ اورشورش وفتنہ سراٹھائیں گے اورطرح طرح کے ہولناک طوفان ‘ مہلک سیلاب ‘ قاتل وبائیں ‘ بے رحم جنگیں ‘ اور عالمگیر قتل وغارت نمودار ہوںگے‘ شہروں اورصوبوں کو نہیں ملکوںاورسلطنتوں کوتہس نہس کیا جائے گا اور اس سب کے باوجود انسانی ضمیر فولاد اورچٹان کی طرح سخت اپنی جگہ مست رہے گا‘ قوموں کی قومیں اور نسلیں اورفصلیں تاخت وتاراج کرکے نیست ونابود کردی جائے گی۔ نہ کسی کو پرواہ ہوگی نہ کہیں سے آواز آئے گی ۔
قارئین ! بتائو کہ یہ سب کچھ کیوں ہوگا؟ کب تک ہوگا؟؟
قرآن وحدیث ‘ سیرتؐ وتاریخ اسلام کا معمولی ادنیٰ طالب علم بھی بحسن وخوبی جانتا اورمانتا ہے کہ یہ سب ہولناکیاں بلاوجہ بے سبب ہرگز وجود میں نہیں آئیںگی بلکہ ’’بماکسبت ایدی الناس‘‘ (انسانوں کے ہاتھوں کی کمائی ) کے انجام بد کے طورپر یہ سب کچھ ہوگا۔ ’’شامت اعمال ماصورتِ نادر گرفت‘‘
ہماری کن بداعمالیوں کی یہ شامت ہے جس نے مشرق ومغرب عالم کو خراب کررکھا ہے؟ ایک ننھا قرآن پاک کا طالب علم بتادے گا کہ یہ سب کچھ اللہ رب العالمین احکم الحاکمین مالک الملک ‘ خالق ارض وسما کے کلام مقدس ‘ پیام حق وصداقت اور دارین کی صلا ح وفلاح کے ضامن دستورِ اخیر کو پس پشت ڈال دینے کا نتیجہ ہے۔ اس کلام الٰہی میں وہ طاقت وقوت ہے ‘ وہ دبدبہ وشوکت ہے جس کا موازنہ اورمقابلہ اللہ کے علاوہ کائنات کی کسی اور طاقت وشوکت سے بالکل نہیں کیا جاسکتا ۔ اسکی تاثیر ‘ اس کا جادو اس کی حکمت ‘ اس کا علم اس کی فصاحت ‘ اس کا زور بیان ‘ اس کی بلاغت ‘ اس کا اسلوب ‘ اس کی صداقت ‘ اس کا چیلنج ‘ اس کی گہرائی اسکی بلندی ‘ الغرض کیا ہی جمال وجلال اور حسن وکمال کا یہ لاجواب شاہ کار ہے کہ چٹانوں کی سی صلابت کا حامل عمر ؓ سنتے ہی موم وشمع کی مانند پگھل جاتا ہے ‘ ابوجہل ‘ ولید اورابوسفیان جیسے شدید دشمن پوری مخالفت وعداوت کے باوجود لگاتار تین تین رات چھپ چھپ کر قرآن حکیم کو سننے کے لئے بے خود ہوکرپہنچ جاتے ہیں قرآن کی تعلیمات ‘ اور اسکے پیش کردہ اخلاق ہی تو وہ بے ضرر ہتھیار تھے جنھوں نے ساری دنیا فتح کی تھی ‘ آج ان دونوں کے فقدان اور ان سے روگرداں انسانیت نے پھر دنیائے انسانی کو چھٹی صدی عیسوی کے دورجاہلیت میں پہونچادیا ہے بلکہ وہ جاہلیت جہالت کا نتیجہ تھی‘ اوریہ جدید جاہلیت علم وترقی کی پیداوار ہے جو انتہائی مسموم‘ بے حد خطرناک ‘ ناقابل یقین تباہی کا ذریعہ بن چکی ہے۔
حضرات!
قرآن وحدیث پر ایمان اور ان کی تعلیمات پر عمل ہی دونوں جہاں کی کامیاب کا واحد راستہ ہے ورنہ آخرت تو مرنے کے بعد تباہ ہوگی‘ دنیازندگی ہی میں برباد ہوجائے گی۔ آج انسان اور خود مسلمان ایسا ظاہرپرست اور مادہ کا پجاری ہوچکا ہے کہ اس نے مال ودولت ‘ سیاست وحکومت شہرت ورعونت ہی کو معراج کمال ‘ اور ترقیٔ لازوال سمجھ رکھا ہے ‘ اس تکون(مثلث) کو حاصل کرنے میں نہ اس کی صحت وجان کی پرواہ ہے نہ انسانیت وایمان کی قدر واحساس ! اس حد تک معاملہ پہنچ چکا ہے کہ عالمی پیمانہ پر دین اسلام کے ماننے والے دین حق کو چھوڑ رہے ہیں ‘ مرتد ہورہے ہیں ‘ عیسائی اورملحد بن جارہے ہیں ‘ ملک شام کی تباہی کے بعد ملک چھوڑ نے والے لاکھوں لوگوں کو عیسائی ممالک میں پناہ دی گئی ‘ انسانیت وہمدردی کے نام پر ۔۔۔۔۔ ان کا عقیدہ ومذہب چھین لیا گیا ‘ کئی ممالک ہیں جہاں مسلمان نہ صرف اقلیت میں ہیں بلکہ بری طرح تعصب وعدم مساوات کا شکار ہیں ‘ ا نکا قرآن واسلام سے نام کا رشتہ حالات کے مقابلہ میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔ اوردہشت گردی کے نام پر لادی گئی جبری جنگوں میں جو اتھل پتھل ہوئی عالم الغیب )(اللہ تعالیٰ ) ہی بہتر جانتا ہے کتنے انسان دہریت‘ الحاد‘ عیسائیت ‘ یہودیت اور دیگر نام نہاد مذاہب اور دھرموںکی جھولیوں میں جاگرے ۔
ہمارے ملک ہندوستان میں جہاں ہر قوم وملت اپنے اپنے مذاہب دھرم کو سینہ سے لگانے میں بڑی سخت جان ہے‘ قوم مسلم میں بھی تزلزل پیدا ہوا۔ کچھ علاقوں( آگرہ ‘ مظفر نگر‘ ۔۔۔۔) میں جبری شدھی کرن کے دلدوز واقات سامنے آئے کئی صوبوں میں مبینہ تشدد اور بھیانک تعصب ‘ ڈر اور خوف پیدا کرنے والے بیان اور دھمکیاں ہجومی تشدد اور کئی معصوموں ‘ نہتوں کو گائے کے نام پر قتل وخونریزی ‘ ایسے سنگین جرائم وحادثات ہیں جن کا براہِ راست مسلمان ہی زیادہ شکارہوئے ہیں ۔ اس کا ایک ہی مقصد تھا‘ مسلمان اسلام سے دستبردار ہوجائیںداڑھی ٹوپی لباس اور اسلامی تشخص کو ترک کرکے ماڈرن اسلام پر راضی ہوجائیں ۔ قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ قرآن وحدیث والے مستند صحیح سچے اسلام کو ترجیح دینے کے بجائے اکبر بیربل والے دین الٰہی اور ’’رستے الگ الگ ہیں ٹھکانہ تو ایک ہے ‘‘ پر یقین وعمل کرنے والے بن جائیں ۔
قصۂ مختصر ! موجودہ حالات نہایت فتنہ انگیز ہیں ‘ ایمان اور اسلام پر ڈاکہ ڈالنے سے بڑھ کر اورکیا فتنہ ہوسکتا ہے‘ تمام فتنوں اور گمراہیوں اور ضلالتوں سے بچنے کا واحد راستہ صرف اور صرف یہی ہے کہ امت مسلمہ کتاب اللہ سے اپنا تعلق علم وعمل کی بنیاد پر مضبوط اور مستحکم کرلے‘ تمام ذمہ داریوں اور معمولات میں ترجیحی طورپر قرآن کریم کو اولین درجہ پر رکھے ‘ سنت نبویؐ پر عمل پیراہوں۔
جب امت کے اکثر افراد اس نہج پر آجائیں گے تو ان میں کوئی صدیقی عزائم کا حامل ہوگا کوئی رگِ فاروقی رکھتا ہوگا‘ بعض اوصافِ عثمانی کے وارث ہوںگے تو بہت سے حیدرکرّار کے صفات وکمالات کے امین ۔
امت مسلمہ اس وقت ارتداد کے نرغے میں ہے۔ حالات ابتری اور انتشارکا شکار ہیں۔ اجتماعیت منتشر ہوتی چلی جارہی ہے۔ جبکہ انتشار وافتراق کو اجتماعیت واتحاد کی لڑی میں پرونا اور سمیٹنا لازم وواجب ہے۔
ان احوال ناگفتہ بہ میں تاریخ اسلام سامنے آکر شہادت دینی اور رہنمائی کرتی ہے کہ امت کہ ذمہ دار اور مخلص اور ہمدرد اہل علم واصحاب فکر فوراً سامنے آئیں اور اس کردار اور رول کو ادا کریں جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فتنۂ ارتداد کے مقابلہ کے وقت ادا کیا تھا‘ مانعین زکوٰۃ کے فتنہ کے وقت جو عزیمت آپ ؐ نے پیش فرمائی تھی ۔ سخت فتنوں اور شدید انتشار کو آپؓ کے صدیقی عزم‘ اور ایمانی ولولے نے عزیمت وحکمت کے ساتھ رفع دفع کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ‘ آپ ؓ کے عزم واستقلال اور غیرت اسلامی اور حمیت ایمانی سے بھرپور اس جادوبھرے الہامی جملہ کو تاریخ اسلام کے صفحات نے بہت عظیم امانت کی طرح سنبھال کر رکھا ہے ۔ آئیے ہم اور آپ بھی آج اس کو تازہ کریں ‘ اور زندگی بھر کے لئے اس کو اپنے حق میں ایک پیغام عمل کی طرح گرہ میں باندھ لیں جب کچھ لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تو آپ ؓ نے فرمایا تھا :’’جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک رسّی دیتا تھا اگر آج وہ اس رسّی کے ٹکڑے کو بھی دینے سے انکار کرے گا تو ابوبکر اس کے خلاف جہاد کرے گا‘‘۔ ’’أینقص فی الدین وأنا حیّ ؟ ‘‘ کیا میرے جیتے جی دین میں کتر بیونت ہوگی ؟‘‘
برادران ِ اسلام ! آج احکامِ دین وتعلیمات اسلام میں کتر بیونت تک معاملہ نہیں رہا ‘ بلکہ خود امت مسلمہ مجموعی طورپر قرآن مجید وفرقان حمید سے علمی عملی اور دیگر لحاظ سے دور چلی گئی ہے‘ اور اتنے دور نکل چکی ہے کہ عربوں کی نسلیں اور ہندوستانی حمیت والی قوم اور بیٹیاں اس آسانی اور سادگی سے مرتد ہورہے ہیں کہ گویا کچھ بھی نہیں ہوا ؟
یادرکھو! ہماری ذمہ داری تو گمراہوں کوراہِ ہدایت دکھانا تھا ، ہم کامل داعی نہ بن کر کہیں مکمل مدعو تو نہیں بن رہے ہیں ؟ کتابِ ہدایت اوررسولِ ہادی ؐ کو چھوڑ دینے کے بعد بھلا اس کے علاوہ اور راستہ ہی کون سارہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مکمل ہدایت کی کامل طلب نصیب فرمائے اورہماری نسلوں کی اللہ گمراہی اور ارتداد سے حفاظت فرمائے۔

(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker