ہندوستان

دہلی عالمی کتاب میلہ میں شائقین کی زبردست بھیڑ سوشل میڈیا بھی نہیں روک سکا نوجوانوں کو کتابیں خریدنے سے

دہلی :۱۳ /جنوری ( بی این ایس) دہلی میں ہر سال منعقد ہونے والے عالمی کتاب میلہ میں آج شائقین کتاب کی زبردست بھیڑ نظر آئی، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی کتابوں کے تئیں بڑھتی دلچشپی اور انہیں اپنے پسندیدہ مصنفین کی کتابیں خریدتے ہوئے ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے، شوسل میڈیا کے اس دور میں بھی کتابوں کے تئیں بڑھتی دلچشپی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ” برقرار ہے کالے حرفوں کا جادو” اس بار عالمی کتاب میلہ کی تھیم ” گرین انڈیا اور ماحولیاتی توازن و تحفظ” کو بنایا گیا تھا.ہال نمبر سات میں اس کے لیے خصوصی اہتمام کیا گیا تھا.ہال نمبر ۱۲ میں علاقائی و قومی زبابوں کے لیے مختص ہے، دیگر ہالوں میں انگریزی کتابوں کے اسٹال ہیں.میلے میں ہر موضوع و ہر قسم کی لاکھوں کتابیں ہر قدم کے شائقین کو دعوت نظراہ دیتی ہیں اور قاری کو اپنے طرف کھینچتی ہیں. میلہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر دھرم و مذاہب، ذات و سماج، پنتھ و گروہوں کے اسٹال ہیں، ہر ایک اپنے مذہب و دھرم کا پرچار و پرسار، دعوت و تبلیغ کر سکتا ہے، کسی طرح کی کوئی قید و بندی و پابندی نہیں، سناتن دھرم، ہندوں دھرم ، آر ایس ایس اور ہندتوا وادی نظریات و خیالات کے بے شمار اسٹال ہیں، اسی کے ساتھ کیمونسٹ و مارکسی نظریات و تحریکوں کے بھی دکانیں ہیں، سکھ دھرم کا بھی خاص اسٹال ہے، ایک خاص بات جو دیکھنے میں آئی وہ یہ کہ ہر دھرم و فرقہ کے اسٹالوں پر اپنے مذہب و نظریات کے پرچار کے لیے تعارفی لیثریچر مفت میں دیا جاتا ہے. اس میلہ میں جہاں اسلامی دعوتی اداروں کے اسٹال ہیں وہی دوسری طرف قادیانیوں کا بھی بہت بڑا اسٹال ہے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہیں، مرکزی مکتبہ اسلامی، طاہر القادری کا منہاج القرآن کا بھی بڑا اسٹال ہے اسی کے ساتھ قرآن دعوٰی سینٹر کا بھی اسٹال ہے جہاں غیر مسلموں کے لیے صرف دس روپیہ میں قرآن کریم مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں جسے کثیر تعداد میں غیر مسلم خریدتے ہیں.
میلہ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ بچوں کے لیے اور ان کی دلچشپی کا یہاں خاص خیال رکھا گیا ہے. بچوں کے لیے انگریزی میں بہت ہی بہترین و دیدہ زیب کتابیں سستی بھی ہیں اور مہنگی بھی. ایک بات جو ہر میلہ میں کھٹکتی ہے اور جس بات پر افسوس ہوتا ہے وہ یہ کہ اتنے بڑے عالمی کتاب میلہ میں مسلمان خال خال ہی نظر آتے ہیں میں گزستہ اٹھارہ سالوں سے دہلی کے قومی و بین الاقوامی تسلسل کے ساتھ شرکت کرتا آرہاہوں مجھے ہر بار مسلمانوں کی طرف سے کتابوں کے بارے میں مایوسی ہی رہی ہے، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے.کتاب میلہ میں اردو ناشرین کی شرکت بھی نہ کے برابر ہے جس کی خاص وجہ ہے کہ اردو کے خریدار بہت ہی کم ہوتےہیں جس کی وجہ سے ناشرین کا اسٹال کا کرایہ بھی نہیں نکل پاتا ہے، اس کے باوجود دہلی اردو اکیڈمی، قومی اردو کونسل، مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے علاوہ اردو بک ریویو، ایم آر پبلیکیشن، اسلامک بک سروس اور چلڈرن بکس کے اسٹال اس عالمی کتاب میلہ میں اردو کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker