مضامین ومقالات

سازشوں کے جال میں عالمِ اسلام اور بے حس مسلمان!

سمیع اللّٰہ خان
جنرل سیکرٹری: کاروانِ امن و انصاف
” یہ وہ رقم ہے جو تم لوگوں (تمہارے آبا و اجداد حکمرانوں) نے ہم سے جزیہ کے طورپر وصول کی تھی، اب ہم اسی کو واپس لے رہےہیں ” یہ ذلت آمیز جملہ تاریخ میں رقم کیا گیا ہے، جسے کہنے والا مغرور صلیبی صہیونی حکمران موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہے اور اس کے سامنے ہاتھ باندھے اس گالی کو سننے والے عربی ممالک کے گیدڑ حکمران تھے، یہ واقعہ گذشتہ چند مہینوں پہلے پیش آیا تھا جب خلیج کے عربی حکمرانوں نے آل سعود کی سربراہی میں امریکہ کو خطیر رقم پیش کی تھی، آج ایک ذلت آمیز اور ہزیمت سے بھرپور خبر نے پھر اس کی یاد دلا دی _
خبر آرہی ہیکہ جزیرۃ العرب (تبدیل شدہ نام، سعودی عرب) کے مرکزی خطے سے ایک خاتون رھف محمد نامی مرتد ہوکر فرار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا اس کو پناہ میں لینے کے لیے چیخ پڑی، ہمدردی کی ایسی صدائیں بلند ہورہی ہیں گویا پوری دنیا میں اسوقت ہمدردی کا کفارہ ادا ہورہا ہو، لیکن دراصل یہ سب انتقامی کارروائی کانتیجہ ہے، اور منصوبہ بندی کے ساتھ دنیا کو اسلام سے آزاد کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے، رھف القنون کا کینیڈا میں استقبال کیا انسانیت کے بدترین دشمن اور شیطان کے نمائندہ طارق فتح نے اور اس پر بغلیں بجانے والا آسٹریلوی امام توحیدی نامی زہریلا اسکالر ہے، اس پورے پس منظر میں سب کچھ عیاں ہورہا ہے کہ یہ اب کہاں سے اور کیوں مانیٹر کیا جارہاہے! اب دیکھنایہ ہےکہ سعودی عرب کے بےغیرت حکمرانوں کی حس اس پر کسقدر پھڑکتی ہے! یقیناﹰ اس منصوبے میں باطل کامیاب نہیں ہوسکتا، لیکن بخدا موجودہ دور کے اکثر مسلمان اس جنگ میں ناکام ہوچکےہیں، صلیبی اور یہودی گٹھ جوڑ پوری طرح سے عالم اسلام کو چوہوں کی طرح کھدیڑ رہاہے، اور مسلمان اب اقدام اور دفاع سے بہت دور جان بچا کر بھاگتا نظر آتاہے، شاید وہ دور آچکاہے جس کے متعلق آقاﷺ نے فرمایا تھاکہ: ” مسلمانوں پر ایک وقت ایسا آئے گا جب ان پر کفّار ایسے ٹوٹ پڑینگے جس طرح بھوکے لوگ دسترخوان پر ٹوٹ پڑتےہیں، صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ کیا اسوقت مسلمان تعداد میں کم ہوں گے؟ میرے آقاﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: نہیں بلکہ ان کو ” وھن ” کی بیماری لگ جائےگی اور وھن کہتےہیں ” حب الدنیا و کراھیة الموت ” دنیا سے محبت اور موت سے ڈرنے کو ”
آج بظاہر سرحد کی جنگیں ہیں، آج بظاہر نسوانیت کی آزادی اور حقوق انسانی کے نعرے ہیں، آج بظاہر دہشتگردی کے خلاف محاذآرائی ہے، آج بظاہر دلکش و دلفریب نظریات اور فلسفوں کی بھرمار ہے، لیکن درحقیقت ان سب کی حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ پوری دنیا حتیٰ کہ نام کے مسلمان بھی اسلام سے بدظن و متنفر ہوجائیں، پوری دنیا میں انسانی قدروں کا جو کمرشلائزیشن کیا گیا ہے، پوری دنیا کو جس طرح گلوبلائزیشن میں جکڑا گیا ہے ان کا ہدف ایک ہی ہے، شیطان کی خوشنودی اور رحمٰن سے جنگ، گذشتہ سینکڑوں سالوں سے اس کے لیے دجال کے اتحادی مثلث نے ایسی جدوجہد کی ہے جسے بلا شک و شبہ تاریخ انسانی کی بڑی جدوجہد قرار دیا جاسکتاہے، ایسی جدوجہد جس نے پوری دنیا کو پلٹ کر رکھ دیا، یہ ہم ان سے متاثر ہوکر رقمطراز نہیں ہیں بلکہ بدلتے نقشوں کی تاریخ سے ان حقائق کا ادراک کیا ہے، سینکڑوں سالوں کی عظیم طاغوتی جدوجہد اب اپنا منہ کھول رہی ہے کیونکہ اسے پھل چاہیے، *موجودہ دنیا کی بساط پر مسلمان ظاہری اسباب کی روشنی میں انہی کے رحم و کرم پر ہیں، پورا عالم اسلام کٹھ پتلی ہوچکا ہے، اور یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بے غیرت و اسپانسرڈ مسلم حکمرانوں نے ارض مقدس تک کا سودا کرلیاہے، عالم عربی کے شاہی محلات پوری طرح تیسری آنکھ کے کنٹرول میں ہیں، جادوئی حربوں سے لیکر ٹیکنالوجی کی طاقت کے ذریعے زیراثر و استعمال کیا جارہاہے،*
علمی زوال، تہذیبی شکست، ہنر کی رسوائی، فنون میں پسپائی، معاشی و اقتصادی افلاس، بے روزگاری کا بھوت، منشیات کا چلن، جرائم پسندی، وقتی ہدف، عارضی تلذذ، جسم و جان اور مال و متاع کی ہوس، غرض پوری طرح مادیت ہی مادیت، یہ ہوگئی ہے ایک روحانی وجود رکھنے والی قوم کی پہچان، طویل المیعاد منصوبے تو دور اب عالم اسلام کی زار و نزار صورتوں پر گفتگو کے لیے بھی ہمارے پاس فرصت نہیں، *عالمی ایمانی جسم ٹوٹ گیا ہے، اور عالم کفر ہم پر متحد ہوچکاہے، ایسے ایسے گھیر کر قتل عام ہورہاہے کہ زمین و آسمان لہو زار ہیں لیکن عالم اسلام کا ضمیر موت کی نیند سوچکا ہے، علم و تحقیق کے رکھوالے نت نئے نکات و علمی موشگافیوں کے وارثین اب مادی فلسفوں کے آگے ڈھیر ہورہےہیں کیونکہ ان کی دوڑ بسس چند نعروں اور سیکولر لبادوں میں قید ہوگئی ہے، تلواروں کی جھنکار میں پلنے والے زمین و آسمان کو للکارنے والے ٹیلیویژن سے جی بہلاتے ہیں چیونٹیوں سے خوفزدہ رہتےہیں آپس میں تو کشت و خون کرلیتے ہیں لیکن ظالموں کے آگے لب کشائی کی جسارت نہیں رکھتے، وقتی اہداف جن میں باطل الجھا رہاہے ہم الجھ رہےہیں دیرپا مقاصد پر سر جوڑنے کے لیے کوئی تیار نہیں، وہ مسائل و آلام وہ روکاوٹیں جو خود ایک غیر انسانی، غیر فطری نظام کی پیداوار ہے ان کے پیچھے کئی کئی نسلیں ہر ملک میں قربان کی جارہی ہیں، اسلافِ علم و نظر، زندہ دل مشائخ اور ہلالی پرچم کے نگہبانوں کی تاریخ یکسر محو کردی گئی ہے، گذشتہ سو ڈیڑھ سو سال جوکہ دراصل گلوبلائزیشن کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد کا مرحلہ ہے اس سے پہلے کے بزرگوں اور اسلام کے جانبازوں کی تاریخ بھی نہیں معلوم!*
یہ ہم کیسے مسلمان ہوگئےکہ کسی کو
اسلام ہی پیش نہیں کرتے؟
اسلام کی پرکشش و جاذب تعلیمات بھی نہیں بتاتے، اسلیے کہ وہ لبرل ہے؟ وہ جدت پسند اور ماڈرن ہے؟ ہم انسانوں بلکہ اپنے ہی مسلمانوں سے اسلئے نفرت کرنے لگتے ہیں کہ وہ ہمارے افکار و خیالات سے اختلاف کرتاہے! ہم ہر نئی بات ہر وہ سوچ جو ہماری فکر سے متصادم ہے اس پر کافر کافر چلانے لگتے ہیں! جبکہ ہمیں تو ہندوستان جیسے ملک میں ہزاروں گالیوں کے باوجود اسلام کی دعوت دینی تھی، یوروپ کے گمراہوں کو اسلام کی صحیح تعلیمات پیش کرنی تھیں، لیکن جب ہم اسلام کو ان کے سامنے پیش کرنے کے بجائے ان سے لڑنے کے طورپر سیکھنے لگ جائیں تو پھر مسلمان ہونے کا بنیادی مقصد کہاں باقی رہ گیا؟
وہ کونسے انسان ہیں جن کی تاریخ ہم پڑھتےہیں اور اپنے اسٹیجوں کی رونق بڑھاتے ہیں کہ فلاں بزرگ صاحب کو قتل کرنے کے لیے آنے والا، فلاں عالم و فاضل کو مارنے آنے والا مسلمان ہوجاتا ہے! کیا یہ واقعات و حکایات صرف لفاظی کے لیے رہ گئے ہیں؟
اسلام کے داعی بھی نہیں ہیں اور طاقتور مؤمنین کی کھیپ بھی نہیں رہی، اس کا بھی اندازہ نہیں رہا کہ عالم کفر ان کے خلاف متحد ہوچکاہے، ہماری مسجد اقصیٰ کے تلے سرنگیں کھودی جارہی ہیں، ہندوستان میں اسپین کا پیشگی منظر تیار ہورہاہے، کم از کم اتنی غیرت تو ہونی چاہیے تھی کہ جب ٹرمپ نے کھلے عام جزیے کے انتقام پر زندگی کی بھیک دی تھی اسی وقت کوئی اس مردود کی زبان کھینچ لیتا، ائے کاش کوئی ہوتا جو اس لڑکی کو صحیح اسلام پیش کرتا اور اسے مرتد ہی نہیں ہونے دیتا، ائے کاش کوئی ہوتا جو اس مرتد لڑکی کے ساتھ متحد ہوکر اسلام کو منہ چڑانے والی اس دوغلی دنیا کو تھپڑ رسید کرتا، ائے کاش کوئی تو ہمارے رفیع الشان، بلند مقام ہلالی پرچم کی روایتوں کا امین ہوتا، لیکن کہاں سے ایسے شاہین و عقاب آئیں؟ شہوت پرستی، حلقہ سازی، وقتی اور جزوی اہداف پر زندگیاں ضائع کرنے والے لوگ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوسکتے، ہاں وہ سوشل میڈیا کے کھلونے پر سوار ہوکر دنیا ضرور فتح کرسکتےہیں، افسوس کہ ” رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی ” لیکن خوب یاد رہے: یہ نیلگوں آسمان گواہ رہے، یہ سنگلاخ و سرسبز زمین گواہ رہے،کہ: اسلام سربلند ہوگا، دنیا امن و امان کے گیت گائے گی، شیطنت سرنگوں ہوگی، کیونکہ الله کو اپنے دین کے لیے آپکی یا میری ضرورت ہرگزنہیں!
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker