ہندوستان

فقیہ ملت کا انتقال: ایک زبردست علمی حادثہ اور ایک عظیم ملی خسارہ

اراکین آل انڈیا المعہد الاسلامی العربی کی جانب سے خراج عقیدت
پٹنہ۔ ۱۳؍جنوری: آج ۷؍ جمادی الاولی ۱۴۴۰؁ھ مطابق ۱۳؍ جنوری ۲۰۱۹؁ ء ، بروز :اتوار ، بوقت: متصلًا بعد نماز فجر ، بمقام :مسجد حرام (مکہ مکرمہ)، جامعہ ربانیہ اشفاقیہ (انکھولی، بیلپکونہ، مظفرپور، بہار، انڈیا) کے دو معزز ومعظم اساتذہ کرام : ۱)جناب مولانا عبد اللطیف صاحب حفظہ اللہ ، ۲) جناب حافظ اسلام صاحب سلمہ اللہ نے بذریعہ واٹساپ، یہ غمناک ، کربناک وافسوسناک خبر دی کہ بِہار کے پر بَہار وقابل صد افتخار، عظیم وقدیم ادارہ اور ہند ونیپال کے مشترکہ علمی سرمایہ وگہوارہ، جامعہ اشرف العلوم (کنہواں، سیتامڑھی) کے ناظم اعلیٰ، اس کی بلندی واقبال مندی کی بنیاد وکلید اور ہندستان کے ممتاز ومایہ ناز فقیہ حضرت مولانا زبیر صاحب قاسمی، آج صبح سات بجے، اپنے وطن چندر سین پور میںاپنے مالک ومولی اور حاکم وآقا کے حضور چلے گئے، اور ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت مولانا زبیر صاحب قاسمیؒ بافیض، بہترین ومقبول ترین مدرس، انقلاب آفریں منتظم، دیدہ ور ودانش ور ، طاقتور ونامور عالم دین اور فقہ وفتاوی کے عظیم وبے نظیر شناور تھے، آل انڈیا فقہ اکیڈمی کے اساسی وبنیادی رکن تھے، فقیہ العصر اور ابوحنیفہ وقت حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کے عالی وقار ، با اعتبار وباعث صد افتخار فقہی دربار کے آپ گوہر وجوہر تھے، فقہی اعتبار سے آپ کی رائے بڑی وزنی اور محققانہ ہوتی تھی، حضرت قاضی صاحبؒ آپ کی بڑی قدر فرماتے اور بڑی عزت ومحبت سے فقہی سیمینار میں شرکت کی آپ کو دعوت دیتے ۔مختصر یہ کہ حضرت اقدس مولانا زبیر صاحب قاسمیؒ بڑی خوبیوں اور خوبصورتیوں کے حامل عالم دین تھے، آپ جیسے قابل وفاضل لوگ مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں، جو دل وجان سے طلباء وادارہ پر شیدا ہوتے ہیں، جو اپنا سب کچھ دیتے ہیں اور جائز حق کچھ ہی لیتے ہیں۔
جان کر منجملۂ خاصان میخانہ تجھے مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے
ہم اس زبردست علمی حادثہ وعظیم ملی خسارہ پر دلی درد وکرب کا اظہار کرتے ہیں، اور آپ کے تمام اہل خانہ، خصوصاً جامعہ اشرف العلوم کے تمام اساتذہ وطلباء، خصوصاً جامعہ کے ناظم مخدوم مکرم واستاذ محترم حضرت مولانا اظہار الحق صاحب کی خدمت میں مسنون تعزیت پیش کرتے ہیں، اور حرم محترم میں آپ کے لئے جنت ومغفرت کی دعا کرتے ہیں، اللہ آپ سے ہوجائے راضی، اور اشرف العلوم کو ملے آپ سے بہتر کوئی ناظم کوئی مدرس وقاضی، آمین ثم آمین
منجانب: محمد شرف عالم کریمی قاسمی، محمد حماد کریمی ندوی، اسامہ نظام الدین ندوی (اراکین آل انڈیا المعہد الاسلامی العربی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker