جہان بصیرتحق گوئیمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

الیکشن، جملہ اور سیاسی بازیگری

 

نازش ہما قاسمی
(ممبئی اردو نیوز؍بصیرت فیچرس)
۲۰۱۵ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی ریزرویشن پر کہہ رہے تھے کہ میرے دلت بھائیو اور پچھڑی ذات کے لوگو! آپ کو پتہ ہے یہ سونیا گاندھی، لالو پرساد وغیرہ جو ریزرویشن دیتے ہیں وہ آپ کے حق کو مار کر کسی اور کو دیتے ہیں، آپ کا حصہ چالاکی سے دوسرے کو تھما دیتے ہیں۔ یہ الیکشن دیکھ کر اس طرح کرتے ہیں، تاکہ الیکشن میں فائدہ اٹھا سکیں۔۔۔اب مودی جی نے خود ہی اعلی ذات والوں کو دس فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا ہے جو لوک سبھا میں پاس ہوچکا ہے اور سنیچر کے روز صدرجمہوریہ کی منظوری سے قانونی شکل بھی اختیار کرگیا۔ اب یہاں یہ بھی دیکھنا ہے کہ الیکشن سے قبل مودی جی کا اعلی ذات والوں کو ریزرویشن سے نوازنا خود انہیں اپنی ہی عدالت میں مجرم ٹھہرا رہا ہے۔ وہ خود الیکشن کارڈ کھیل رہے ہیں ، وہ خود دلتوں اور دیگر پچھڑوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اعلی ذات والوں کو ریزرویشن دے رہے ہیں ایسا ریزرویشن جو ان اعلی ذات والوں کے بھی کسی کام کا نہیں سوائے لالی پاپ کے، لیکن اقتدار پر براجمان رہنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں، تاکہ الیکشن میں ان ’جملوں ‘کے بل بوتے پر فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ملک کے عوام کو یاد ہوگا کہ کس طرح ۲۰۱۴ میں مودی حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں جتاؤ! ہم بیرون ممالک جمع بلیک منی ہندوستان لائیں گے اور عوام میں تقسیم کردیں گے، جس سے ہر ایک ہندوستانی کے اکاؤنٹ میں پندرہ، پندرہ لاکھ روپیے آجائیں گے۔ کانگریس کے گھپلوں، گھوٹالوں سے عاجز عوام نے پندرہ لاکھ سوچ کر خوشی خوشی بی جے پی کو ووٹ دیا اور اس کے دوسال بعد ہی جتانے کا تحفہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی شکل میں مِلا۔ پندرہ لاکھ تو دور اپنے پندرہ کوڑی نکالنے کیلیے لائن میں مجرموں کی طرح لگنا پڑا، درجنوں جانیں گئیں، لیکن حکومت پر کوئی آنچ نہیں آئی۔ ملک کے سیدھے سادے عوام دھوکہ میں ہی رہے نوٹ بندی کی مار سے اٹھ بھی نہیں پائے تھے کہ جی ایس ٹی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔بڑے تاجروں کو تو اس سے خاطر خواہ نقصان نہیں ہوا، لیکن اوسط درجے کے تاجر سڑکوں پر آگئے۔ان کا کاروبار دیکھتے ہی دیکھتے ٹھپ ہوگیا، ہزاروں کی نوکریاں چھوٹ گئی، کئی گھروں کے چولہے بند ہوگئے۔عوام کی اس تباہی پر حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔نوٹ بندی کے وقت حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ اس سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی، مگر ہوا اس کے برعکس، اس دن سے لے کر آج تک دہشت گرد کشمیر میں دراندازی کرکے ہمارے فوجیوں کو شہید کررہے ہیں، کیا یہی کمر ٹوٹی؟ مودی جی نے کہا تھا کہ پچاس دن بعد اس کے فائدے دیکھنے کو ملیں گے، اگر فائدہ نظر نہ آئے تو مجھے چوراہے پر پھانسی دے دینا؛ لیکن عوام اب تک منتظر ہیں کہ کب وہ چوراہے پر آئیں اور ان کے قول کو پورا کیا جائے۔ مودی جی نے ملک کے نوجوان طبقے کو یہ کہہ کر بھی دھوکہ دیا تھا کہ ہم لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کو برسر روزگار کریں گے۔ دو کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے؛ لیکن اس حکومت میں بیروزگاری کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، جو برسرروزگار تھے وہ بھی بیروزگار ہوگئے۔ ہاں! اس حکومت نے ایک نیا روزگار ضرور پیدا کیا، ایک ایسا روزگار جس نے بہت سوں کو راتوں رات ایک مخصوص ذہنیت کے لوگوں کیلئے ہیرو بنا دیا، اور کچھ سیدھے سادے غریب گھروں کو اجاڑ دیا۔ وہ روزگار تھا ’’گئو رکشا” ‘‘۔ اس نام پر جب جسے، جہاں چاہو مار دو، کوئی سوال کرنے والا نہیں ہے۔۔۔خیر اب الیکشن قریب آتے ہی پھر مودی جی نے اپنے جملۂ اعظم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جملہ بازی شروع کردی ہے، عوام کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جملے بھی محض اقتدار کی حصولیابی کے لیے بولے جارہے ہیں عوام کا اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ وہ ہندو مسلم کی خلیج کو بڑھا کر صرف اپنی سیاسی روٹی سینک رہے ہیں وہ ریزرویشن کا لالی پاپ دے کر محض اعلی ذاتیوں کو خوش کررہے ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ یہ ریزرویشن بھی ایسا معمہ ہے جو نہ سمجھنے کا ہے نہ سمجھانے کا ، ریزرویشن کیلئے جو معیار متعین کیا گیا ہے اس اعتبار سے ملک کی 90 فیصد آبادی، بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی اس زمرہ میں شامل ہوجاتی ہے۔ اور اس سے اہم بات یہ ہے کہ ریزرویشن کن چیزوں میں ملے گا ، نوکری میں ریزرویشن کیسے مل سکتا ہے؟ کیوں کہ یہاں تو نوکری ہی نہیں ہے، جب تک نوکری نہیں بڑھائی جائے گی اس وقت تک اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مودی جی کا ہی بیان ہے کہ الیکشن کے درمیان بولے جانے والے جملوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے وہ ووٹروں کو لبھانے کیلیے بولے جاتے ہیں اور امیت شاہ نے تو ایک انٹرویو کے دوران برملا اظہار کیا تھا کہ وہ سب ایک “انتخابی جملہ” تھاـ اب عوام کو چاہیے کہ وہ انتخابی جملوں پر بھروسہ کریں، کالے دھن کو ہندوستان لانے والی حکومت جس نے لاکھوں کروڑوں وائٹ دھن یہاں سے باہر کیا ہے اسے سپورٹ کریں اور مزید غربت پسماندگی کی زندگی خوشی سے جینے کے لیے تیار رہیں ۔۔۔یا پھر پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن سے کچھ سبق حاصل کرکے بی جے پی مکت ہندوستان بنائیں اور اپنے حسین خواب، خوف و دہشت سے دور رہ کر آپسی بھائی چارے اور گنگا جمنی تہذیب کے سائے میں پورا کریں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام صرف خود میڈیا پر منحصر نہ ہوں، کچھ اپنی ذمہ داری بھی نبھائے، اور حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker