سیرت وشخصیاتمضامین ومقالات

وہ اک رہ نورد خود کو قافلہ بناگیا

عزیز الرحمن قاسمی (چندرسین پور)
ركن جامعۃ الفلاح للبنات
مقیم سلطنت عمان(0096894263966)
یہ دنیا دار فانی ہے۔یہاں کسی کو بقا نہیں ۔جو بھی آیا اسے جانا ہے ۔” کل من علیھا فان“۔ بقإ ابدی اور ہمیشگی کسی کو حاصل نہیں۔ اور نہ یہاں کسی کو قرار حا صل ہے انسانی زندگی کی اس بے یقینی اور بے ثباتی کا یقین کسے نہیں ہے، دنیا ایك لمحہ بھر میں کیا سے کیا ہوجاتی ہے اور اپنے اندر بے شمار تغیرات سمیٹ لیتی ہے
یوں تو دنیا میں ہر وقت ہر گھڑی انسان کی موت ہوتی ہے۔ اس سےكوئ گھڑی خالی نہیں اور نہ کسی کو راہ فرار ہے ۔ مگر بسا اوقات کسی شخصیت کی عظمت و اہمیت ذہن و دماغ پر اس قدر حاوی ہوتی ہے کہ ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے كی خبر سننے كے بعد ذہن مفلوج سا ہوجاتا ہے عقل حیران ہوجاتی ہے ان ہی باكمال لوگوں میں فقیہ ملت استاذ الاساتذہ حضرت مولانا زبیر احمد قاسمی صاحب كی ہے ،جو آج بروز اتوار بتاریخ 13 جنوری 2019 بوقت صبح ساڑھے سات بجے اس دار فانی كو الوادع كہہ گئے انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حضرت شمالی بہار كی عظیم درسگاہ مدرسہ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی كے طویل عرصہ تك ناظم رہے جس مدت میں ادارہ نے حضرت ناظم صاحب كی بے انتہاء انتظامی صلاحیت او رحضرت كے رفقاء كی دن رات كی محنت اور لگن سے ہر سمت میں بے مثال ترقی كی ، حضرت الاستاذ دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد كے ایك مدت تك شیخ الحدیث بھی رہے ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ واسلامک فقہ اکیڈمی كے ركن بھی تھے ، مدرسہ بشارت العلوم كھرایاں پتھرا وجامعۃ الفلاح للنات چندرسین پور مدھوبنی كے موجودہ سرپرست بھی تھے
نیز وہ اس کارواں کے بڑے شہ سوارمیں سے تھے جس کی قیادت فقیہ الاسلام قاضی مجاھدالاسلام قاسمی نے فرمائی تھی۔ ان کی قائم کردہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے تاحیات رکن رہے۔ متعدد علمی اور فقہی مقالات سے امت کی رہ نمائی کی، درس و تدریس ہی ان کا خاص میدان تھا۔ پوری زندگی اسی میں بسر کردی۔ تفہیم کا زبردست ملکہ انہیں ملا تھا۔ قابل فضلا کی ایک لمبی قطار کھڑی کردی۔
آپ کی ولادت 1935؁ میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہی گاؤں كے بڑے جلیل القدر عالم حضرت مولانا عتیق صاحب رحمۃ اللہ سے حاصل كی ، اپنی محنت اور لگن كی وجہ سےاپنے استاذ محترم كے بہت خاص شاگردوں میں شامل ہوگئے ، حضرت جامعہ میں اپنے گاؤں كے طالب علموں كے سامنے اپنے ابتدائی طالب علمی كے ایام بہت دلچسپی سے بیان كیا كرتے تھے، چندرسین پور سے تعلق ركھنے والے ہم جیسے جن طالب علموں كو حضرت سے براہ راست استفادہ كا موقع ملا وہ سب ان باتوں سے بخوبی واقف ہوں گے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلی تعلیم حاصل كرنے کےلئے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا ، اور وہیں سے فراغت حاصل کی۔
آپ علم وتقوی سے مزین ایک عالم ربّانی تھے ۔ آپ کے علم میں گہرائی وگیرائی تھی۔ آپ جب بھی کوئی بات کرتے؛ توقرآن وحدیث پیش کرتے۔ اپنی گفتگو کے دوران عربی کے امثال ومحاورے بھی پیش فرماتے۔ان کو علمی باتیں کرنا خوب پسند تھا۔ آپ جس مجلس میں ہوتے، میر مجلس کی حیثیت آپ ہی کوحاصل ہوتی۔ اِن سب باتوں کے باوجود، آپ کی زندگی سادگی اور تواضع وانکساری کا نمونہ تھی خاص طور پر کوئی اہل علم ملنے آتا تو آپ بہت خوش ہوتے۔
حضرت استاذ محترم کو علم فقہ پر خصوصی دسترس حاصل تھی، ،سمجھانے کا انداز بہت ہی نرالا تھا نہایت ہی سادہ الفاظ استعمال كرتے آپ كی زبان سے نكلے ہوئے كلمات بالكل موتی كی طرح خوب مربوط اور منظم ہوتے مثال بڑی آسان دیتے كتابوں سے ہٹ كر مثال دینے كی خاص كوشس كرتے طلبہ كے چہروں كا خوب گہرائی سے مطالعے كرتے جس سے آپ كو اندازہ ہو جاتا كہ طلبہ بات سمچھ چكے ہیں یا نہیں۔
آپ كی درسگاہ كی سب سے خاص بات یہ تھی كہ درسگاہ میں سب طالب علموں كو یكساں بیدار رہنا پڑتا تھا كیوں كہ جب آپ كسی مسئلہ كی تشریح كر رہے ہوتے تو آپ نصف كلام پر ہی خاموش ہوجاتے اور نصف كلام كی تكمیل طلبہ كی زبانی كروانے كی كوشس كرتے جس سےطلبہ كا بیدار رہنا بہت ضروری ہوا كرتاتھا۔
اشرف العلوم جیسے بڑے ادارہ كے ناظم ہونے كے باوجود ہمارے طالب علمی كے زمانہ میں عموما شرح تہذیب اور ہدایۃ النحو جیسی كتاب آپ سے متعلق تھی وہ روزانہ كی بنیاد پر سیكڑوں صفحات كا مطالہ بھی كیا كرتے تھے، اس كے علاوہ طلبہ بڑی تعداد بلا ناغۃ عبارت فہمی كی غرض سے تعلیمی اوقات كے علاوہ حضرت كے پاس آتے تھے اور حضرت ان كو بڑی دلچسپی سے عبارت فہمی كے گڑ بتلاتے، بہت كم مدت میں كمزور سے كمزور طالب علم عبارت پڑھنے اور سمجھنے كے قابل ہو جاتا جسے طلبہ اجراء اور تمرین كے نام سے جانتے تھے بندہ ناچیز كو بھی حضرت سے مكمل 4 سال 1999؁ تا 2003 ؁ اشرف العلوم میں رہ كر علمی استفادہ اور خدمت كا موقع ملا ۔ بعد نماز عصر جامعہ كے احاطہ میں اساتذہ كے ساتھ بیٹھ كر روزانہ علمی مذاكرہ كرتے جس میں اساتذہ بڑے بے باكی سے اپنی رائے ركھتے بسااوقات بحث بڑی دقیق اور دلچسپ ہواكرتی تھی۔
قاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحب کے قریبی احباب میں آپ کا شمار ہوتا تھا،آپ نے جامعہ رحمانی مونگیر میں، امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ کی نگرانی میں تدریس کی اہم خدمت انجام دی، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے تقریبا بیاسی سال کی عمر پائی، كم و بیش ساٹھ سال تك دین اور علم دین کی خدمت میں گذاری،
مولانا کی حق گوئی اور بے باکی بے مثال تھی، جوحق سمجھتے برملا اظہار کرتے، جو علمی موقف آپ كا رہتا وہ بہت ہی پر اعتماد اور ٹھوس انداز میں ركھتے اس سلسلے میں کسی مصلحت ، یا کسی شخصیت کی وہ پرواہ نہیں کرتے تھے ، فہی سیمینار میں شریك ہونے والے محاضرین علماء كرام اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے كہ حضرت كی زندگی كےتمام پہلوں كو ہم جیسے چھوٹے اور حقیر انسان كے لئےبیان كرنا ناممكن ہے اس كے لئے مكمل سمینار كی ضروت ہے ۔
اب اک ہجوم عاشقاں ہے، ہرطرف رواں دواں
وہ اک رہ نورد خود کو قافلہ بناگیا
دلوں سے وہ گزرگیا شعاع مہر کی طرح
گھنے اداس جنگلوں میں راستہ بنا گیا
اخیر میں یہی دعا ہے کہ اللہ پاک مولانا کی بال بال مغفرت فرماۓ ۔پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے آمین
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker