ہندوستان

سینٹ جونس کالج آگرہ میں یاد سیماب اکبرآبادی دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا اختتام

ملک اور بیرون ممالک کے دانشوروں نے سیماب کی مختلف ادبی جہات کا کیا محاکمہ
آگرہ۔ ۱۳؍جنوری: (اظہر عمری) فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کے زیر اہتمام آگرہ کے سینٹ جونس کالج کے ہال میں یاد سیماب اکبرآبادی کے عنوان سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا کامیابی کے ساتھ اختتام ہو گیا۔دوسرا روز مقالوں اور محفل مشاعرہ کے نام رہا۔ملک اور بیرون ملک کی دانشگاہوں سے تشریف لائے دانشوروں نے اپنے مقالیپیش کئے۔ مقالوں کی کثرت کے پیش نظر سیمینار کو تین ادوار میںمنقسم کیا گیا تھا۔پہلے دور کی صدارت پروفیسر خواجہ محمد اکرام،دوسرے کی پروفیسر ابن کنول اور تیسرے دور کی صدارت پروفیسر مولا بخش نے کی۔سیمینار کے کنوینر پروفیسر شفیق احمد اشرفی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور مقالہ خوانوں کا یاد گاری مومنٹوں پیش کیا۔خصوصی طور پراردو دوست کالج کے پرنسپل پروفیسر آئی اے جوزف کوان کی ادب نوازی کے لئے نوازا گیا۔دوسرے روز کا آغاز کنوینر پروفیسر شفیق احمد اشرفی کے ابتدائیہ کلمات سے ہوا۔پروفیسر اشرفی نے کہا کہ فخر الدین علی احمد کمیٹی اور سینٹ جونس کالج دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں جن کے سبب یہ شاندار یاد سیماب سیمینار شرمندۂ تعبیرہوا۔انہوں نے کہا کہ آگرہ شہر اور اس کالج سے میرا رشتہ بہت گہرا ہے جو مجھے کسی نہ کسی صورت ان جگہوں سے مجھے جوڑے رہتا ہے۔یہ سیمینار بھی اسی کی کڑی ہے۔پہلے دور کے صدر پروفیسر خواجہ اکرام نے اپنے بیان سے قبل تمام مقالوں کا تجزیہ کیا اور عیوب و محاسن پر روشنی ڈالی ۔مصر سے آئے مصطفی علا الدین کی ستائش کی اور ان کی اردو دوستی کو قابل قدر بتایا۔ڈاکٹر وصی اعظم انصاری کے مقالے کے موضوع کی انفرادیت کی داد دی۔خواجہ اکرام نے سیماب اکبرآبادی کے اصلاح پسند مزاج اور زمانے کو اپنے رنگ میں رنگنے کی نفسیات پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ سیماب نے عوامی مشاعروں میں شرکت کی لیکن خود کو مشاعروں کی سطح پر کھڑا نہیں کیا بلکہ عوام کی ذہنی سطح اور ادبی ذوق کی تربیت کے لئے مشاعروں میں ادبی تقریر کا رواج قائم کیا۔سیماب کی شاعری کے موضوعات مختلف جہات لئے ہوئے ہیں لیکن ان میں عوامی موضوعات بھی شامل ہیں جو نظیر اکبرآبادی کی روایتی توسیع ہیں۔پروفیسر احمد محفوظ نے سیماب پر سیمینار کو بزرگوں کو زندہ رکھنے سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ سیماب ہمارے بہت بڑے شعرأ میرؔ و غالبؔ کی صف میں تو نہیں کھڑے ہوتے لیکن ان کے سبب میر ؔ و غالبؔ کی عظمت ضرور آشکار ہوتی ہے۔بڑے شاعر اپنے پیچھے شاعروں کاایک کثیر حلقہ پیدا کرتے ہیں جو ان کی معرفت کی ضمانت ہوتا ہے۔پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے طلبأ سے خطاب کیا اور ان کی کثیر تعداد میں موجودگی کو اردو زبان و ادب کی بقا کی علامت قرار دیا۔پروفیسر طارق سعید نے سیماب کی نظم شکستہ جنوں پر گفتگو کی اور عصر حاضر میں اس کی افادیت پر روشنی ڈالی۔اس دور کے مخصوص مقالہ خوانوں میں ڈاکٹر وصی اعظم انصاری جواجہ معین الدین جشتی یونیورسٹی،ڈاکٹر مصطفی علأ الدین مصر،ڈاکٹر مقیم احمد رہے۔دوسرے دور کی صدرات پروفیسر ابن کنول کی انہوں نے سبھی مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کی۔مصری مقالہ خوان میار ناصر کے مقالے کو سب نے پسند کیا۔انہوں نے کہا کہ زبان کی خدمت بے لوث ہو کر ہی کی جا سکتی ہے اور اس کی ایک مثال سیماب کی ذاتی گرامی ہے ۔انہوں نے کہا کہ رسالے جرائد ایڈیٹر کی زندگی تک زندہ رہے یہ امر بھی مشکل لیکن اس معاملے میں سیماب خوش قسمت ہیں ان کا نکالا ہوا رسالہ شاعر آج بھی نکل رہا ہے۔پروفیسر فخر عالم اعظمی نے کہا کہ سیماب نے نعت گوئی میں نئے باب وا کئے ہیں۔انہوں نے روایت کی پاس داری کے ساتھ ارتقائی منازل طے کی ہیں۔سراپا نگاری کے رنگ کے ساتھ سیرت کے خوبصور مرقعے نعت میں پیش کئے ہیں۔اس دور میں ڈاکٹر عذیر احمد نے دستور الاصلاح کا تجزیہ پیش کیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر مقیم احمد،سعدیہ سلیم،ڈاکٹر رشید اشرف خان نے اپنے مقالے پیش کئے۔آخری دور کی صدرات پروفیسر مولا بخش نے کی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ناقدوں نے سیماب کے ساتھ انصاف سے کام نہیں لیا اور مکمل مطالعہ کئے بغیر سیماب پر اقبال کی مقلدی کا الزام تراش دیا۔انہوں نے اردو شاعری پر ایک نظر کے باب صدائے باز گشت کے کوالے سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا مغربی بیانیہ کے مقابلے طور پر سیماب کا مشرقی بیانیہ رکھا جا سکتا ہے۔پروفیسر سراج اجملی نے تلمیحات اور سیماب کی غزل کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔انہوں نے سیماب کی شاعری میں تلمیحات کا محاکمہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سیماب کے یہاں مذہبی اور اساطیری تلمیحات زیادہ ہیں۔سیماب کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے روایتی تلمیحات کے رنگ کے ساتھ اصلاحی رخ پیدا کیا ۔ ان کی شاعری میںجناب موسی ٰ کی تلمیحات ان کے مرتہ کے مطابق ملتی ہیں۔ اس دور میں ڈاکٹر امتیاز احمد نے دبستان آکبرآباد کے متعلق اپنا مقالہ پیش کیا۔ڈاکٹر موصوف ممبئی یونیورسٹی نے سیماب کی متصوفانہ شاعری پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر نسیم بیگم کا مقالے نے شرکأ سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ثوبان سعید نے بڑی پر مغز نظامت کی اور اپنے نکات سے سیماب پر بحث کے نئے گوشوں کو کھولا۔کثیر تعداد میں طلبہ،طالبات،کالج کے اساتذہ اور معززین شہر نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker