ہندوستان

جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور ودیوبند یونٹ کی جانب سے مولانا حسیب صدیقی کے انتقال پر تعزیتی اجلاس

اجلاس میں سبھی مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی اور ان کے انتقال کو ایک عظیم خسارہ قرار دیا
دیوبند،13؍ جنوری( رضوان سلمانی)مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے جنرل منیجر محسن دیوبند آل انڈیا اقتصادی کونسل کے چیئرمین اور جمعیۃ علماء ہند کے خازن مولانا حسیب صدیقیؒ کے اچانک سانحہ وفات پر پورے ملک میں تعزیتی میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے،اسی سلسلہ میں آج جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور اور دیوبند یونٹ کی جانب سے شیخ الہند ہال میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا ،جس میں دیوبند کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں،سیاستدانوں، ڈاکٹروں،انجینئروں،وکلاء ،مدارس کے اساتذہ وغیرہ نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت فدائے ملت کے مولانا اسعدمدنی ؒ کے صاحبزادے مولانا مودود مدنی نے کی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولاناقاری سید محمد عثمان منصورپوری نے مولانا حسیب صدیقی کی رحلت کو ایک عظیم ملی خسارہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ ان کی رحلت ایساناقابل تلافی خسارہ ہے جس کا بدل مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا،وہ ایک نہایت فعال، متحرک،معتمد اور بافیض انسان تھے، اکابر کی تحریک کی بنیاد پر 1961ء میں قائم مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے توسط سے انہوں نے قوم و ملت کے لئے جو مثالی اورنمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں اور اپنے حسن و تدبیر سے دیانت و امانت و غیر معمولی جدوجہد سے ادارہ کو ایک تناور شجر کی شکل میں ڈھالا اور لوگوں کو معاشی استحکام بخشا،یقینا یہ سب کارنامے مولانا مرحوم کے لئے ذخیرہ آخرت ثابت ہونگے، مولانا نے کہاکہ مرحوم نے جمعیۃ علماء ہند کے خازن کی حیثیت سے جو عظیم خدمات انجام دی ہیں وہ تاریخی حیثیت کی حامل ہیں، اپنی بہترین اور مناسب آراء کے لئے وہ ہمیشہ یاد کئے جاتے رہینگے۔ انہوںنے کہاکہ دراصل ایسے افراد اللہ کا انتخاب ہوتے ہیں ،سابق مہتمم مولانا مرغوب الرحمن ؒ کے زمانہ اہتمام میں دارالعلوم دیوبند کے مسائل کے حل بالخصوص بجٹ سے متعلق ان کی رائے و مشورہ بڑی اہمیت کے حامل ہوتے تھے، جن سے مولانا مرغوب الرحمن ؒ مسلسل استفادہ کرتے تھے۔ ان کا رخصت ہونا ہم سب کے لئے تکلیف کا باعث ہے لیکن اللہ کی امانت تھی اس نے لے لی ،ہم سب اس کی رضاء میں راضی ہیں ،اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔ اے ڈی ایم ڈاکٹر ہریش چندرا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ میں تقریباً دس قبل بحیثیت ایس ڈی ایم دیوبند آیا تھا پہلی ہی ملاقات میں مولانا حسیب صدیقی سے میں اس قدر متاثر ہوا تھا کہ مجھے ان میں اپنے والد کا عکس نظر آنے لگا تھا، کیونکہ ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ جس سے ملتے اور بات کرتے تھے اس کو اپنا بنا لیتے تھے اور نہایت سادہ مزاج انسان تھے، ان کا سب سے بڑا خاصہ یہ تھا کہ وہ حوصلہ افزائی بہت زیادہ کرتے تھے جس کے باعث ان سے ملاقات کرنے والوں کو ایک نئی جلاء ملتی تھی، ڈاکٹر ہریش نے کہاکہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں انہوں نے کہاکہ ایک شخص اس دنیا میں اتنے سال زندہ رہا کہ کوئی معنیٰ نہیں رکھتا بلکہ وہ دنیا میں لوگوں کے لئے کتنے سال جیا یہ معنیٰ رکھتاہے۔ انہوںنے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ عوام کی خدمت عبادت سے کم نہیں ہے اگ رہم سب ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے مشن کو آگے بڑھاتے رہیں اور یہی ان کے لئے سچی خراج عقیدت ہوگی۔ دارالعلوم دیوبند استاذ حدیث مفتی مولانا حبیب الرحمن نے مولانا حسیب صدیقی کے انتقال کو ملت کے عظیم خسارہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ مولانا مرحوم ایک دردمند دل رکھنے والے ایک عظیم شخص تھے ،ایسا مخلص شخص اور بہترین منتظم خال خال پیدا ہوتاہے، مرحوم اس قدر خوبیوں اور صفات کا مجموعہ تھے کہ ہماری نگاہ اور سوچ ان کی شخصیت کو اور عظمت کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔ مرحوم ایسا منصوبہ ساز شخص تھے جنہوں نے منصوبوں کے خاکے بھی بنائے اور ان میں بہترین رنگ بھی بھرے لیکن افسوس ہمیں ان کی جس قدر قدر کرنی چاہئے تھی وہ ہم نہیں کرسکے۔ دیوبند کے مشہور سیاسی رہنماء اور بی جے پی لیڈر ہلاش رائے سنگھل نے مولانا حسیب صدیقی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے اور ہندو مسلم ایکتا کو ملک کی سلامتی کے لئے ضروری سمجھتے تھے او ر ہمیشہ فکر مند رہا کرتے تھے ان کی زندگی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے، اسلئے ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک و ملت کی خدمت بلا تفریق کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مولانا ندیم الواجدی مولانا حسیب صدیقی کی وفات کو دیوبند کی علمی ادبی،سیاسی اور سماجی سطح پر عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے کہاکہ مولانا مرحوم ایک باوقار ملی ،قومی ،مذہبی اور سماجی شخصیت کے مالک تھے ،ان کی شخصیت بیک وقت متعدد پلیٹ فارموں پر کام کرتی تھی وہ ایک فعال و متحرک اور ملت کے لئے غمخوار فرد کے علاوہ ایک سنجیدہ سیاسی شخصیت کے بھی مالک تھے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مفتی محمد عارف قاسمی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مرحوم کی جانفشانی ،سخت جدوجہد ،اصول پسندی ،نظم و ضبط کی پابندی ان کاخاصہ تھی،انہوں نے مسلم فنڈ ٹرسٹ کے توسط سے عوام کے لئے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں ان سب کے احسانات کو چکایا نہیں جاسکتا۔ مولانا نے کہاکہ مرحوم ایک تاریخی حیثیت کے حامل شخصیت کے مالک تھے اسلئے انہیں محسن دیوبندکا خطاب دیئے جانے کے علاوہ کسی ادارہ کو بھی ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔ جمعیۃ علماء ہند کے قومی سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہاکہ مولانا حسیب صدیقی کی وفات بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کی باعث رنج و قلق ہے، انہوں نے کہاکہ ان کی وفات ایک عہد کا خاتمہ ہے وہ خانوادہ مدنی کے نہایت مخلص تھے جنہوں نے ہمیشہ جمعیۃ علماء کے امور کو پوری دیانتداری کے ساتھ انجام دیا۔ اب ہم سب لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کے چھوڑے ہوئے پروگراموں اور مشن کو آگے بڑھائیں ،اللہ تعالیٰ جمعیۃ کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ہندو مذہبی پیشوا پنڈت ستنیدر شرما اور گناّ سمیتی کے سابق چیئرمین چودھری پرمندر نے مولانا حسیب صدیقی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مولانا مرحوم سچے وطن پرست ،اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے امین اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی اور علمبردار تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی آپسی بھائی چارہ اور ہندو مسلم اتحاد کے لئے وقف کردی تھی، اسلئے ہم سب کو ان کے مشن کو آگے بڑھانا ہی سچا خراج عقیدت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker