ہندوستان

رحمانی پروگرام آف ایکسلنس (رحمانی-30) کے سینٹرل زون کا ٹیسٹ بحسن وخوبی اختتام پذیر

مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ایم پی میں 9000سے زائد رجسٹرڈ اور واک اِن امیدواروں کی شرکت
پٹنہ/ ممبئی 13؍ جنوری (پریس ریلیز)رحمانی پروگرام آف ایکسلنس (رحمانی-30) کے 2019-21سیشن کی تیاری برائے آئی آئی ٹی، جے ای ای، میڈیکل، این ڈی اے کے لیے آج یہاں مہاراشٹر سمیت راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات کے 132سینٹروں میں منعقد انٹرنس ٹیسٹ میں دسویں کلاس کے 9000 سے زائد طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔ جن طلبہ وطالبات نے رجسٹریشن نہیں کیا تھا انھیں بھی بطورِ واک اِن امیدوار کے شرکت کی اجازت دی گئی۔ واضح رہے کہ رحمانی پروگرام آف ایکسلنس (رحمانی 30) کی شروعات 2008-09 میں دس طلبہ کے ذریعہ کی گئی تھی، جس کا سینٹر پٹنہ تھا۔ لیکن امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی صاحب رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وامیر شریعت امارتِ شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکنڈ نے محسوس کیا کہ یہ تعداد کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کے فضل سے مولانا کی انتھک کوششوں اور قوم کے دردمند ومخلص حضرات کی توجہات کی وجہ سے مولانا کے صاحبزادے جناب فہد رحمانی صاحب سی ای او رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کی ماتحتی میں رحمانی پروگرام آف ایکسلنس نے تیزی کے ساتھ اپنا دائرہ وسیع کیا۔ آج الحمد للہ رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کے ماتحت آئی آئی ٹی، جے ای ای، میڈیکل، این ڈی اے، سی اے، سی ایس جیسے اعلی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری پٹنہ کے علاوہ اورنگ آباد (مہاراشٹر)، اور بنگلور میں جاری ہے۔ جس میں تقریباً 500 کے قریب طلبہ وطالبات زیر تربیت ہیں۔ واضح رہے کہ رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کا مقصد قوم کے نونہالان کو اُن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پہنچانا ہے جسے سرکار نے آئی این آئی یعنی انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل امپورٹنس کا درجہ دیا ہے۔ جہاں سرکار تعلیمی بجٹ کا تقریباً 52؍ فیصد حصہ خرچ کرتی ہے، اور ایک طالب علم یا طالبہ پر اُن اداروں میں 17؍ لاکھ سے لے کر ایک کروڑ 70 لاکھ روپے تک کی رقم خرچ کی جاتی ہے۔ اِن آئی این آئی اداروں میں مسلمانوں کی نمائندی اُن کے تناسب کے اعتبار سے نا کے برابر ہے۔ ظاہر ہے کہ مسلم طلبہ وطالبات کو اُن اعلیٰ اداروں تک بھیجنے کے لیے قوم کے سارے افراد کو مل کر اور یک جٹ ہوکر کام کرنا پڑے گا۔ یہی خواہش اور فکر ہے مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی کی کہ قوم کے اندر کلی طور پر تعلیمی بیداری کیسے پیدا ہوسکے۔ ادارہ اہل خیر حضرات ، ذمہ داران اور اُن تمام سینٹرز کا شکر گذار ہے جنھوں نے رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کے انٹرنس ٹیسٹ کے لیے ہر طرح سے اپنی مدد فراہم کی۔ ادارہ کے سی ای او جناب فہد رحمانی کا یہ ماننا ہے کہ اِن حضرات کے ہر طرح کے تعاون کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہو سکا کہ پہلی مرتبہ رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کے ماتحت تین بچیوں نے نیشنل اسٹاک ایکسچنج کے لیے کوالیفائی کیا، اس کے علاوہ ایک طالبہ نے پہلی مرتبہ رحمانی پروگرام آف ایکسلنس کے بینر تلے KVPYمیں کامیابی حاصل کی۔ اور ایک دوسری طالبہ نے RMO میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ مذکورہ کامیاب بچیوں میں صوبہ مہاراشٹر سے نمائندگی قابل ذکر رہی۔ اِس کے علاوہ غیر معمولی پر طور سال گذشتہ ICAI (انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ) میں ملکی پیمانے پر پورے ہندوستان سے کل 3286 امیدوار کامیاب قرار دیے گئے، جس میں مسلمانوں کی تعداد کل 30تھی اور غیر معمولی بات یہ رہی کہ اِن 30 مسلمانوں میں اکیلے رحمانی پروگرام آف ایکسلنس سے کل 15امیدوار کامیاب ہوئے۔ جو کہ یقینا ایک بڑی کامیابی ہے، جس کا حصول تنہا رحمانی پروگرام آف ایکسیلنس کے لیے ممکن نہیں تھا جب کہ قوم کے دیگر حضرات کا تعاون حاصل نہیں۔ یقینا یہ سب اللہ کا فضل ہے۔ فی الحال رحمانی پروگرام آف ایکسلنس پٹنہ ، اورنگ آباد (مہاراشٹر) اور بنگلور میں کام کر رہا ہے۔ لیکن یقینی طور پر یہ دائرہ کافی نہیں ہے، امید ہے کہ مستقبل قریب میں دائرہ بڑھے گا۔ ان شاء اللہ۔ انٹرنس ٹیسٹ میں شریک طلبہ وطالبات RPE کی ویب سائٹ www.rahmanimission.org پر نظر بنائے رکھیں۔ نتیجہ کا اعلان ویب سائٹ پر ہی کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker