ہندوستان

رام مندر کی تعمیرکے لیے جلد قانون بنایا جائے : وی ایچ پی

نئی دہلی۔ ۱۳؍جنوری: ایودھیا تنازعہ سے متعلق مقدمہ کے سپریم کورٹ میں طویل ہونے پروشوہندو پریشد (وی ایچ پی) نے نااتفاقی کا اظہارکیا ہے۔ وی ایچ پی نے نریندرمودی حکومت پردباوڈالتے ہوئےکہا کہ بھگوان رام کے جنم بھومی پرشاندارمندرکی تعمیرکی راہ ہموارکرنے کے لئے جلد قانون بنایا جائے۔پریاگ راج میں 15 جنوری سے شروع ہونے والے کمبھ میلے کے دوران رام مندرموضوع پراپنی آئندہ حکمت عملی طےکرنے کا اعلان کرتے ہوئے وی ایچ پی نےکہا ہے کوئی بھی عدالت یہ طے نہیں کرسکتی کہ پربھورام ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے یا نہیں ۔وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدروشنوسدا شیوکوکجے نے کہا “مذہبی آستھا کے معاملے عدالت کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتے۔ عدالت توقانون کے مطابق چلتے ہیں، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ایودھیا میں رام مندرکی تعمیرکے لئے حکومت جلد قانون بنائے۔مدھیہ پردیش اورراجستھان کے ہائی کورٹ کے سابق جسٹس نےکہا ‘کوئی بھی عدالت یہ طے نہیں کرسکتی کہ پربھورام ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے یا نہیں۔ اس لئے ہم شروع سے ہی کہہ رہے ہیں کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیرکے لئے قانون بنایا جائے۔ ورنہ اس معاملے کا ملک میں لامتناہی سلسلہ چلتا رہے گا ۔انہوں نے زوردے کرکہا کہ موجودہ حالات کودیکھتے ہوئے وی ایچ پی کولگتا ہےکہ عدالتی عمل کے ذریعہ ایودھیا تنازعہ کا جلد حل ممکن نہیں ہے۔ کوکجےنےکہا ‘ہمیں خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں بھی ایودھیا تنازعہ کا معاملہ سپریم کورٹ میں اسی طرح سے ملتوی ہوتا رہے گا، جس طرح اتنے دنوں سے ملتوی ہوتا رہا ہے ۔رام مندرکی تعمیرمیں رکاوٹ پیدا کررہی ہے کانگریسوشنوسدا شیوکوکجے نے یہ بھی بتایا کہ پریاگ راج کمبھ کے دوران 31 جنوری اوریکم فروری کو منعقدہ ‘دھرم سبھا میں وی ایچ پی سادھو سنتوں کے ساتھ رام مندرمعاملے میں غوروخوض کرے گی۔ سادھوسنتوں کی رہنمائی کی بنیاد پرہم رام مندرمعاملے میں اپنی آئندہ حکمت عملی طےکریں گے۔ کوکجے نےالزام لگایا کہ ووٹ بینک کی اپنی پرانی سیاست کے سبب کانگریس رام مندرکی تعمیرمیں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ہماچل پردیش کے سابق گورنرنےکہا ‘مسلمان بھی اجودھیا تنازعہ حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن رام مندرتعمیرمیں سب سے بڑی رکاوٹ اگرکوئی ہے، تووہ کانگریس ہی ہے۔ کانگریس سے منسلک وکیل الگ الگ ہتھکنڈے اپناکراجودھیا تنازعہ کے مقدمہ کوسپریم کورٹ میں طویل کھینچنا چاہتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker