ہندوستان

ایس ڈی پی آئی شہریت ترمیم بل2016 کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ آسام سمجھوتے کو نفاذ کیا جائے

نئی دہلی :13/جنوری( بی این ایس)
سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)نے شہریت ترمیم بل 2016کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے آسام کے ثقافتی ورثہ کو کمزور کرنے اور بھارت کے آئین کے روح کے خلاف لیا گیا انتہائی فرقہ وارانہ فیصلہ قراردیاہے۔ اس کے علاوہ اس کو آسام سمجھوتے 1985کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس میں تمام متعلقین نے اتفاق کیا تھا۔ اس ضمن میں اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کی وجہ سے آسام اور ملحقہ شمال مشرقی ریاستوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مجوزہ شہریت ترمیم بل خطے کے عوام کے مرضی کے خلاف ہے۔ ایم کے فیضی نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ایوان میں دیئے گئے بیان کو بھی مسترد کیا ہے جس میں انہوںنے کہا تھا کہ مذکورہ بل صرف شمالی مشرقی علاقوں کیلئے مخصوص نہیں ہے بلکہ پورے ہندوستان میں لاگو ہوتا ہے۔ ایم کے فیضی نے وزیر داخلہ کو یاددہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ تقسیم کے بعد سب سے زیادہ منتقلی شمال مشرقی علاقوں ہوئی تھی ۔ خاص طور پر سب سے زیادہ منتقلی بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام کی بنیاد پر ہوئی تھی اور افغانستان اور پاکستا ن سے منتقلی تو نہ کے برابر تھی۔ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ اس بل کو ایوان میں پیش کرنے سے پہلے مرکزی حکومت نے آسام اسمبلی انتخابات 2016سے قبل ہندو بنگالی بولنے والے ووٹروں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک گیزٹ نوٹیفکیشن لا یا تھا۔اس وقت بھی بنگالی ہندو سمیت تمام نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل سے افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہندو، سکھ ، جین،بدھ مت اور عیسائی مظلوم اقلیتوںکوہندوستان کی شہریت عطاکرنے کا اہتمام ہے جبکہ دوسری طرف میانمار اور سری لنکا سے مسلم مظلوم اقلیتوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے کس معیار یا اصولوں کی بنیاد پر میانمار جیسے قریبی پڑوسی ملک کے مسلم اقلیتوں کو شہریت دینے سے انکار کیا ہے جن کو اقوام متحدہ نے دنیا میں سب سے زیادہ پریشان اقلیت قرار دیا ہے۔ یہ شمال مشرقی بحران کے تئیں حکومت کا جانبدارانہ رویہ اور فرقہ وارانہ نظریہ کا کھلا ثبوت ہے۔ ایم کے فیضی نے صاف طور پر کہا ہے کہ آسام سمجھوتہ پر عمل درآمد ہی آسام اور شمال مشرقی علاقے کے اس طویل مدتی مسئلہ کا حل ہے اور اگر علاقے کے ثقافتی ،مذہبی ، لسانی آبادیات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے پورے ملک کی سلامتی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بل کے منظور ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر تشدد ، احتجاجات اور سیاسی بدلائو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اپنے تنگ نظریے، فرقہ وارانہ اور فسطائی رویہ کے ذریعے جلے میں تیل چھڑ ک رہی ہے۔ایم کے فیضی نے سوال اٹھایا حکومت اپنے پانچ سالہ مدت کے آخری ایام میں ایسے بل کیوں منظور کررہی ہے جس کیلئے وسیع بحث کی ضرورت ہے۔ حکومت کا اس بل کا منظور کرنا یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو صرف ووٹ بینک سے مطلب ہے اور حکومت کو اس بل سے ہندوستانی شہریوں کو بعد میں ہونے والے اثرات کے تعلق سے کوئی فکر نہیں ہے۔ بل سے منتخب تارکین وطن کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی بھی تنقید کی ہے کہ جبکہ بل کی منظوری سے ریاست میں احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں تین ممتاز شخصیات کو بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے زیادہ تر ارکان اس بل میں مذہبی معیاروں کو ختم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے اس کی مخالفت کررہے ہیںاس کے باوجود حکومت کااس بل کا منظورکرنا حکومت کے آمرانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے اور یہ سراسر جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بل کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور این آر سی مکمل ہونے تک انتظار کیا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آسام سمجھوتہ 1985کے ہدایات کے مطابق لوگوں کے شہریت کو یقینی بنانے کیلئے مختلف ٹریبونل قائم کیا جائے۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker