مضامین ومقالات

ایک شخص پورے شہر کو ویران کرگیا

 

عبدالخالق القاسمی
مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور پور

آج 6 جمادی الاولی بروز اتوار آٹھ بجے سوشل میڈیاپر بقیۃ السلف عارف باللہ حضرت مولانا زبیر احمدصاحب کے وفات کی خبرگردش کررہی تھی، اولا دیکھ کریقین نہ ہوا لیکن جب خبر تواتر کے ساتھ نشر ہوتی رہی تب یقین کرنا پڑاکہ اب حضرت دنیامیں نہیں رہے اناللہ واناالیہ راجعون۔ موت ایک ناقابل تردید حقیقت ہے جس کے سامنے شاہ و گدا,امیر غریب,عالم. جاہل,مسلم غیر مسلم ,مرد عورت ہرایک کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے,موت خوشی و مسرت,طرب و نشاط کی محفلوں کو یکلخت ماتم میں تبدیل کر دیتی ہے,اس دنیا میں. ہر روز آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے،اوریہ تاقیامت جاری رہیگا،مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنکی یادیں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتی ہے انہیں میں سے ایک حضرت مولانا کی شخصیت تھی, آپ کا چہرہ خوبصورت ،آنکھیں سرمگیں، پیشانی کشادہ اور انتہائی دلکش و جاذب نظر کے مالک تھے,آپ جید عالم دین کے ساتھ۔ایک کامیاب مدرس،عظیم محدث ،شاندار عربی ادیب میدان علم وفقہ کے مایۂ ناز اورعظیم شہشوارتھے، فقہ میں آپ کو خصوصی امتیاز اورملکہ حاصل تھا آپ پیچیدہ سے پیچیدہ فقہی مسائل منٹوں میں حل فرمادیتے تھے آپ کی اس غیر معمولی طرزتفہیم سے علماء حیران وششدر رہ جاتے تھے۔،اس کی ایک جیتی جاگتی تصویر فقہ اسلامی میں لکھے گئے آپ کے وقیع اورقیمتی مضامین ہیں ،آپ کی تصنیفات کاعلم تونہیں ہے لیکن اتنا. تویقین کے ساتھ کہ سکتاہوں کہ آپ نے اپنی تربیت میں ہزاروں ایسے بابصیرت علماء کی جماعت تیارکردی ہے جوفقہ وادب،نحووصرف،میں غیر معمولی پختگی اوردسترس رکھتے ہیں،آپ کے علمی فیض سے امت مرحومہ محروم ہوگئی, لیکن اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ آپ کی صحبت یافتگان کا علمی فیض انشاء اللہ صبح قیامت تک جاری وساری رہے گا،اوران کی عقیدت ومحبت اورخلوص وفا کاعظیم تحفہ آپ کی قبر کو گل وگلزار اورمشکبارکرتا رہے گا۔آپ ہندوستان کے عظیم اورمؤقر ادارہ جامعہ اشرف العلوم کنہواں کے ناظم اعلی تھے،آپ جامعہ کے مخلص،دیانت دار منتظموں میں سے ایک تھے،آپ کے دور انتظام میں کسی قسم کی ایسی کوئی بات کانوں تک نہیں پہنچی جس سے آپ کی شخصیت مجروح ہوتی ہو،آپ کثرت علالت کے باعث انتظامی امور سے کئی ایک بار سبکدوشی کی درِخواست پیش کی لیکن مجلس شوری نے قبول نہیں کیا،کیوں کہ آپ کا وجود مسعود طلبۂ جامعہ اورمنتظمین جامعہ کیلئے یکساں طورپرمفید اور سراپا خیر تھا آپ کے اس طویل دوراقتدار میں جامعہ نے غیر معمولی ترقی کی منزلیں طے کی ہیں،سرزمین بہار کیلئے یہ ادارہ ایک عظیم سرمایہ ہے ، طلبہ جامعہ دارالعلوم دیوبند میں ہمیشہ امیتازی نمبرات سے کامیاب ہوتے رہے ہیں جس سے یہاں کے اعلی نظام تعلیم اورمعیار کا بھی اس سے اندازہ ہوتاہے,آپ جامعہ ہذاکے ناظم ہونے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں مدارس و مکاتب اوردینی وملی وفلاحی ادارے کے سرپرست بھی تھے۔
آپ ایک صاف گواورصاف معاملہ انسان تھے جس کی وجہ سےہرشخص آپ کوعقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھتاتھا اور آپ کی موجود گی کو اپنی سعادت وکامیابی کی دلیل سمجھتا تھا,الغرض مرحوم بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے, اللہ تبارک وتعالی جامعہ ھذا کے اس عظیم خسارہ کا کوئی نعم البدل عطاء فرمائے اورپسماندگان کو صبرجمیل عطافرمائے اور مولانا کو اپنے فضل وکرم سے جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطافرمائے آمین ثم آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker