شعروادب

منظوم تعزیت نامہ برسانحۂِ ارتحال فاضلِ باکمال دانشورورہبرِقوم وملت حضرت مولانامحمد حسیب صدیقی صاحب دیوبندی رحمۃ اللّٰہ علیہ

 

 

*✍ازقلم: مفتی حفیظ اللّٰہ حفیظ قاسمی بستوی ناظم تعلیمات جامعہ سراج العلوم بھیونڈی وناظم تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر۔*
______________________________

*پیشکش: حضرت مولانا شمشیر احمد صاحب قاسمی اعظمی مدظلہ العالی(مالک مکتبہ عکاظ دیوبند)وحضرت محمد ابرہیم صاحب قاسمی مدظلہ العالی ناظمِ اعلٰی جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعۃ دیوبندیوپی*
_______________________________

صدحیف!وہ دلوں کا،سکندرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلاگیا۔

خوش پوش ہوکے،جب وہ مچلتاتھا،راہ میں۔
بجلی سی کوندجاتی تھی،ہرہرنگاہ میں۔ ہردل میں جوچھلکتاتھا،ساغرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جس حُسنِ پُروقارکے،چرچے تھےشہرمیں۔
پُرکیف جس کی جلوہ نمائی تھی،دہرمیں۔
بزمِ وفاسےآج،وہ دلبرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلاگیا۔

خوشبو سےجس کی،خوب مہکتی تھی انجمن۔
جواک حسیں گلاب،رہارونقِ چمن۔
مہکا،مشام جاں میں اترکرچلاگیا۔
تاریخ سازمردِقلندرچلاگیا۔

جس کی ادائےشوخ،رہی جاذبِ نظر۔
جوسوزوسازِعشق سے،رہتاتھاباخبر۔
واحسترتاہ!خوشنمامنظرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلاگیا۔

فنِّ معاش میں جسے،حاصل تھی دستگاہ۔
اسبابِ سرخروئی پہ رکھتاتھا،جونگاہ۔
نایاب دیوبند کا،گوہرچلاگیا۔
تاریخ سازمردِقلندرچلاگیا۔

ترویجِ علم وفن ہی رہی،جس کی جستجو۔
کانوں میں گھول دیتی تھی،رس جس کی گفتگو۔
ٹھاٹھیں جو مارتا تھا،سمندرچلاگیا۔
تاریخ سازمردِقلندرچلاگیا۔

جس نےترنگ دےکے،چمن کوہراکیا
جس گل نےعندلیبوں کو،نغمہ سراکیا۔
مضطرہےدیوبند،کہ خوشتر چلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلاگیا۔

یوں اہلِ دیوبند تھے،رقصاں *حسیب* پر۔
لوگوں کورشک ہوتاتھا،اس خوش نصیب پر۔
مایوس اہل شہر ہیں سرورچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جس شخصیت پہ شہر،سراپانثارتھا۔
ہرخویش واجنبی سے،ملاجس کوپیارتھا۔
انسان دوستی کا،وہ خوگرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جس پراکابرین کو،خوب اعتماد تھا۔
ہرکام جس کالائقِ تحسین وداد تھا۔
پاکیزہ پاکبازوہ،جوہرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلاگیا۔

کرگس کو جس نے،حُسن کاشہبازکردیا۔
ناآشنائےرازکو،ہمرازکردیا۔
وہ شاہراہِ عشق کا،رہبرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جس کی ادائےشوخ پہ،نازاں تھادیوبند۔
جوڈالتاتھا،دل کےنہاں خانےمیں کمند۔
ناگاہ بزمِ شوق سے،خودسرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

تازندگی جو،حامیِ دینِ متین تھا۔
ممتازاہلِ علم میں جو،شہ نشین تھا۔
وہ بحرِ معرفت کا،شناورچلا گیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جس نے فروغِ علم کا،سامان کردیا۔
پُرپیچ راہِ عشق کو،آسان کردیا۔
وہ رہنمائےملتِ مضطر چلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جس باغباں کےدم سے کھلےتھے،وفاکےپھول۔
جس کووفاکی راہ میں،چیلنج تھےقبول۔
لو!اب وہ سوئےداورِمحشرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جوخوشنماگلاب مہکتاتھا،روزوشب۔
ڈھاتاتھااپنی صورت وسیرت سے،جوغضب۔
گلشن اداس ہےکہ،گلِ ترچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

تنظیمِ فیضِ عام رہا،جس کامشغلہ۔
جس مردِشاہکارکاپیہم تھاغلغلہ۔
پُرجوش بہہ رہاتھاجو،ساگرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

پہنائیاں تھیں،جس قدوقامت میں جائےگیر۔
عشاق بیشمار تھے،جس حُسن کےاسیر۔
ڈھاکرستم دلوں پہ،ستمگرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

یارب تواپنا فضلِ مسلسل اتاردے۔
جنت بنادےقبرکو،پیہم بہاردے۔
بندہ تراتھا،تیرےہی درپرچلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

آؤ *حفیظ!* ہاتھ اٹھائیں دعا کریں۔
حق ہم پہ ہے *حسیب* کاآؤ!اداکریں۔
فریاد ہم کریں،کہ سخنور چلاگیا۔
تاریخ ساز مردِقلندرچلا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker