مضامین ومقالات

تمنا کیسے کریں ،کس سے کریں؟۔

از قلم :مدثر احمد ، ایڈیٹر۔ روزنامہ آج کاانقلاب
کئی دنوں سے کچھ سوالات ذہین میں گھوم رہے تھے ، انہیں سوالات کو بنیاد بناکر آج کایہ مضمون لکھنے کی کوشش کررہاہوں ، چونکہ ہم اخبارات اور میڈیا سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے کچھ باتیں اخبارات اور میڈیا کے حوالے سے بھی بیان کرنا ضروری سمجھا۔ حالانکہ اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے بلکہ یہ اجتماعی مسئلہ ہے اس لئے قارئین کو اتنا پسند نہیں آئیگا۔ اردو اخبارات ہو یا اردو نیوز پورٹلس یہ تمام مسلمانوں اور اردو زبان کے ترجمان ہیں ۔موجودہ دور میں میڈیاکا قیام کرنا مشکل ترین مرحلہ ہے ، خصوصََا اردو میڈیا کا قیام جو ئے شیر لانے کے برابر ہے باوجود اسکے درجنوں ایسے صحافی ہیں جو اردو میڈیا میں ہی رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اسکے لئے وہ قارئین کی پسند کے مطابق اخبارات نکالتے ہیں، نیوز پورٹلس نکالتے ہیں تاکہ وہ حالات حاضرہ کی خبروں کے ساتھ ساتھ لکھنے والوں کے لئے پلاٹ فارم فراہم کریں اور پڑھنے والوں کو عمدہ مواد فراہم کریں ۔ انگریزی ، ہندی اور دیگر زبانوں کے مقابلے میں اردو زبان میں صحافت کرنا نہایت مشکل ترین کام ہے کیونکہ اس میڈیا کو عام قارئین نہیں ملتے بلکہ اردو قارئین ہی ملتے ہیں اور فی الوقت اردو قارئین مسلمان ہی ہیں ۔ جب بھی کسی مسجد کا معاملہ آئے ، مساجد کے تنازعے ہوں ، مدارس پر انگلیاں اٹھیں ، اسلام پر کسی نے سوال اٹھایا ، اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ایسی صورت میں دوسری زبانوں کی صحافت سے زیادہ اردو میڈیا نے ہی ان معاملات کو عوام کے سامنے پیش کیا۔ اردو اخبارات اور نیوز پورٹلس بھلے ہی محدودہیں لیکن وہ باقاعدہ قوم کی نمائندگی کررہے ہیں ۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قوم و ملت کی ترجمانی کررہے ہیں ۔ اداروں کی تشہیر ہو یا پھر اداروں کی پشت پناہی ، جماعتوں کی تائید ہو یا پھر انکی ستائش ، یہ سب کام اردو اخبارات اور پورٹلس ہی کرتے رہے ہیں ۔ اردو زبان کے مشاعروں کی خبریں ہو یا سمیناروں کے ۔ اردو اداروں کی خبروں کی بات کی جائے یا پھر اردو اکادمیوں کے کام و کاج کی تفصیلات فراہم کرنے کا کام بھی سوائے اردو اخبارات اور پورٹلس کے اور کوئی انجام نہیں دے رہاہے ۔ ایک طرف ہمارا رونا ہوتاہے کہ ہماری سرگرمیوں کی تشہیر نہیں کی جاتی ، ہماری آواز دوسروں تک پہنچانے کا کام نہیں ہورہاہے تو دوسری طرف اسی اردو میڈیا کو خود ہماری قوم محتاج بنائی ہوئی ہے ۔ جلسہ ، عرس، پروگرام ، مشاعرے ، سمینار، اسکولوں و کالجوں کے سالانہ تقریبات ، اکادمیوں کے پروگرام ، جلسہ دستار بندی ، بیداری ملت کے پر وگرام ، افتتاحی و اختتامی تقاریب پر ہماری قوم کے ذمہ داران لاکھوں کروڑوں روپیے خرچ کردیتے ہیں ۔ ہزاروں روپئے صرف سجاوٹ و نمائش پر خرچ کرتے ہیں لیکن چند ہزار روپئے کے اشتہارات نہ اردو اخبارات کی نظر کرتے ہیں نہ ہی اردو نیوز پورٹلس کو ۔ اسکے عوض انہیں مفت میں تشہیر ہوتی ہے وہ بھی خبروں کی شکل میں ۔ مفت میں خبریں شائع کرنے کے باوجود یہ مشورے آتے ہیں کہ آپ کو ایسی رپورٹنگ کرنی چاہئے تھی ۔ آپ نے اتنی چھوٹی رپورٹنگ کی ، ہماری رپورٹ فرنٹ پیج میں ڈالنا تھا، ہماری رپورٹ کی سرخی ایسی ہونی چاہئے تھی ، ہمارے مہمانوں کے ناموں کے سامنے جناب محترم و دیگر القاب لگانے چاہئے تھے ۔ غرض کہ ایسا برتائو کیا جاتاہے جیسا کہ انہوںنے اخبار یا نیوز پورٹل کو دعوت دے کر خرید لیا ہو۔ ایسے حالات کسی ایک جگہ یا کسی ایک ادارے کے نہیں ہیں بلکہ ملک کے ہر حصے کے ہیں جہاں پر اردو اخبارات کے ساتھ خود اردو والے اور مسلمان ہی دوغلا پن اختیار کرتے ہیں ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ دوسری زبانوں میں شایع ہونے والے اخبارات کو کئی ادارے باضابطہ طورپر سالانہ پیکیج دیتے ہیں تاکہ یہ اخبارات انکی خبروں کی اشاعت کریں ، انکی تشہیر کریں ۔ اس کام کے لئے سالانہ بجٹ بھی مختص کیاجاتاہے ۔ کئی اخبارات تو ایسے بھی ہیں جنہیں سنگھ پریوار کی جانب سے ماہانہ مالی امداد دی جاتی ہے تاکہ وہ سنگھ پریوار کی تائید کریں ، تائید نہ صحیح انکے تعلق سے منفی خبریں بھی نہ شائع کریں ۔ ہمارے اپنے شہر میں دو تین ایسے اخبارات ہیں جن کے لئے سنگھ پریوارکی جانب سے ماہانہ فنڈ دیا جاتاہے وہیں ہندوستان بھر میں اردو اخبارات کو فنڈ دینے والے کتنے ادارے ، کتنی تنظیمیں اور کتنی جماعتیں ہیں یہ بتائیں ۔ اصل میں علم و ادب ، صحافت اور ثقافت کو اہمیت اور عزت کرنے کا کام مسلمانوں کا تھا لیکن اسی کام کوغیر انجام دے رہے ہیں ۔ کسی بھی اخبار یا میڈیا کی ریڑھ کی ہڈی اشتہارات ہی ہیں لیکن اردو اخبارات و نیوز پورٹل کے لئے اشتہارات ایک نعمت سے کم نہیں ہے ۔ خود ہمارے ادارے دوسرے اخبارات میں اشتہارات شائع کروانے کے لئے لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہیں جبکہ سرکیولیشن ایک جیساہی ہوتاہے مگر گھر کی مرغی دال برابر۔ اردو اخبارات و پورٹل میں اشتہارات شائع کروانے کے لئے انکے پاس بجٹ نہیں ہوتا وہی دوسرے اخبارات میں اشتہارات شائع کروانے کے لئے وہ پیشگی بجٹ تیار کردیتے ہیں کیو نکہ انہیں معلوم ہے کہ اردو اخبارات والے انکی بلیک میلنگ نہیں کرتے جبکہ دوسرے اخبارات انہیں کہیں نہ کہیں ٹھوکیں گے ۔ ہندوستان کی نمائند ہ جماعتیں جمیعت العلماء ارشد مدنی ، جمیعت العلماء محمود مدنی ، جمیعت اہل حدیث ، جماعت اسلامی جیسی جماعتوں کی بھی بات کرلیں ، انکے قائدین کا ہر قول اردو اخبارات کے صفحہ اول پر ہوتا ہے وہ اس لئے نہیں کہ اردو اخبارات کے پاس خبریں نہیں ہوتی بلکہ اس لئے کہ وہ ہماری نمائند ہ جماعتیں ہیں ، ان نمائندہ جماعتوں سے اردو کے اچھے اخبارات کو کتنے اشتہارات ملتے ہیں ، کتنی تائید ملتی ہے خود ذمہ داران سوچیں ۔ جو قوم اردو اخبارات کو ایک اشتہار نہیں دے سکتی اور مفت میں پبلسٹی حاصل کرتی ہے اس قوم سے میڈیا ہائوز کی تمنا کیسے کی جائے ؟۔

(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker