مضامین ومقالات

لوک سبھا انتخابات 2019ء کرناٹک میں نئے مسلم انتخابی حلقہ جات کی تلاش

قاضی ارشد علی (سابق رکن قانون ساز کونسل) ‘(بیدر )کرناٹک
جاریہ 16ویں لوک سبھا کی میعاد3؍جون2019ء کو ختم ہونے جارہی ہے ۔ا س طرح جون سے قبل نئی لوک سبھا کا تشکیل ہونا ضروری ہے۔ انداز ہ ہے کہ مارچ کے اوائل میں لوک سبھا انتخابات کا عمل جاری ہوجائے گا‘ اور مئی کے تیسرے ہفتے تک نتائج کا اعلان بھی ہوجائے گا۔ یعنی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت 17ویں بار ایک بڑے امتحان سے گزرنے والی ہے۔
انتخابات کی قربت کی وجہ سے سیاسی پارٹیوں میں اور کارکنان میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے ۔سیاسی اتحاد بنانے میں اور موجودہ سیاسی اتحاد بچانے میں طاقت صرف کی جارہی ہے ۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ 2019ء میں ہونے والے عام انتخابات ہندوستان کیلئے بہت اہم ثابت ہونے والے ہیں ۔ان انتخابات کے ذریعے 120کروڑ آبادی کا یہ ملک طے کرے گا کہ آنے والے دنوں میں یہاں پر فسطائی حکومت ہوگی یا آئین کی حکومت ہوگی۔گذشتہ پانچ سال سے بی جے پی کی قیادت میں چل رہی این ڈی اے حکومت نے ہر دن ‘ہر لمحہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ لوگ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں ۔ ہندو راشٹر کا مطلب صرف ہندوئوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ یہ ایک آئیڈیا لوجی ہے جس کے تحت اقلیتوں کے‘ غریبوں کے اور خواتین کے جینے کے حقوق تنگ کردئیے جائیں گے۔ پھر ملک میںوہی نظام قائم ہوگا جو آج سے ہزار سال قبل رائج تھا ۔اس لئے ان انتخابات کے ضمن میں بہت ہی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ خصوصا مسلمانوں ‘دلتوں اور کمزور طبقات کے لوگوں کو متحد ہوکر مودی سرکار کو دوبارہ حکومت قائم کرنے کا موقع نہ ملے ۔آج کے حالات میں یہ بات طے ہے کہ مسلمانوں کے روشن مستقبل کیلئے بی جے پی کو روکا جانا ضروری ہے ‘چاہے کسی بھی قیمت پر کیوں نہ ہو ۔
جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں بتایا گیا ہے ویسی ہی کوششیں ہورہی ہیں ۔اور مسلمان بڑی حد تک بیدار ہوچکے ہیں ۔اس بات کا علم سبھی کو ہے کہ جب ملک سے ملک میںبی جے پی ‘آر ایس ایس جیسی فسطائی طاقتوں کا عروج شروع ہوا ہے جب سے جمہوری اداروں میں یعنی پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی کم سے کم تر ہوتی جارہی ہے ۔آج لوک سبھا میں ارکان کی کل تعداد 543ہے جس میں صرف23مسلمان ہیں۔ ملک کی22ریاستوں میں سے ایک بھی مسلم نمائندہ ایم پی بن کر لوک سبھا نہیں پہنچا ہے‘جس میں ہماری اپنی ریاستِ کرناٹک بھی شامل ہے۔
ریاستِ کرناٹک میں28 لوک سبھا حلقہ جات ہیںجن میں سے پانچ ایس سی ‘دو ایس ٹی ریزرو ہیں۔ باقی 21حلقہ جات جنرل ہیں ۔جن میں سے ایسے حلقہ جات کی تلاش کی جارہی ہے جہاں سے مسلم نمائندہ کامیاب ہوسکے۔کرنا ٹک کے سیاسی حالات سے یہ بات عیاں ہے کہ صرف کانگریس پارٹی مسلم اُمیدوار کو کامیاب بناکر لوک سبھا بھیج سکتی ہے ‘لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ گذشتہ دو انتخابات میں کانگریس کی جانب سے دو دو اُمیدوار کھڑے کئے گئے تھے اور وہ دونوں ہار گئے۔ اور پھر ایک بار کانگریس کے سامنے یہ چیالنج ہے کہ الیکشن میں پھر مسلم اُمیدواروں کو ٹکٹ دے۔ اور کامیاب کرے ۔کیونکہ مسلمانوں کا صد فیصد ووٹ کانگریس کو جاتا رہا ہے ۔اور دوسری پارٹیوں میں طاقت یا حوصلہ نہیں ہے کہ کسی مسلم اُمیدوار کو لوک سبھا کیلئے کھڑا کریں اور کامیاب کرکے لائیں۔کرناٹک کے21جنرل حلقہ جات کے تعلق سے ڈیلمیٹیشن ( Delimitation)2008ء کے مطابق جو جغرافیائی اور سیاسی حالات بدلے ہیں اُن کے بموجب ریاست بھر میںایک بھی ایسا حلقہ نہیں ہے جہاں مسلم آبادی کے تناسب 30یا40فیصد ہو۔
کرناٹک میں مسلم آبادی12.9فیصدہے یعنی ایک کروڑ کے قریب مسلمان یہاں رہتے ہیں‘لیکن چونکہ مسلمان پوری ریاست بھر میں منقسم ہیں اسی لئے کہیں بھی مرکوزیت حاصل نہیں ہے۔2009ء کے پارلیمانی انتخابات کے وقت یہی سب کچھ ہوا تھا ۔کرناٹک کے روایتی مسلمان حلقہ جات دھارواڑسائوتھ‘بنگلور نارتھ کی شکل و صورت بدل دی گئی تھی ۔بنگلور سے جعفر شریف 8مرتبہ الیکشن جیت چکے تھے۔ ‘دھارواڑ سائوتھ سے ایف ایچ محسن 5مرتبہ ‘بی ایم مجاہد 2مرتبہ ‘آئی جی سندی 2مرتبہ اور عزیز سیٹھ ایک مرتبہ لوک سبھا انتخابات جیت چکے ہیں‘لیکن حالیہ ڈی لیمیٹیشن( Delimitation )میں ہوئی ناانصافی کی وجہ سے ایک بھی حلقہ ایسا نہیں بچا ہے کہ جہاں سے مسلمان اُمیدوار قطعی طورپر جیت سکے۔ ویسے کانگریس کی لہر جب جب رہی ہے بلگام سے محمد نبی نارنور ‘شیموگہ سے ایس ٹی قادری ‘گلبرگہ سے اقبال احمد سرڈگی بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔غیر کانگریس پارٹیوں کی جانب سے جے ایم امام صاحب 2مرتبہ اور قمر الاسلام ایک مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں ‘لیکن موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ مسلم اُمیدوار کامیاب ہوسکے ‘ایسے حلقہ جات کی تلاش کی جانی پڑ رہی ہے ۔آج سے10سال قبل راقم الحروف نے اس تعلق سے جائزہ لیتے ہوئے 5حلقہ جات کی نشاندہی کی تھی جہاں سے مسلم اُمیدوار کامیاب ہوسکتے تھے۔ دکشن کنڑا (منگلور) ‘بنگلور سنٹرل ‘ہاویری‘ دھارواڑ اور بیدر یہ وہ حلقہ جات ہیں جہاں مسلم آبادی اور دیگر پسماندہ طبقات کی آبادی کافی تعداد میں ہے۔ا س بار حلقہ جات کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
دکشن کنڑا (منگلور): دکشن کنڑا (منگلور) کرناٹک کے سب سے زائد مسلم آبادی یعنی24فیصد مسلم یہاں رہتے ہیں ‘کرسچین کی آبادی 8فیصد ہے ‘لیکن چونکہ کرناٹک کے ساحلِ سمندر سے لگے یہ علاقہ میں فرقہ وارانہ تصادم کاماحول بنا ہوا ہے ۔اس لئے دکشن کنڑا پارلیمانی حلقہ انتخاب سے کسی مسلم اُمیدوار کو ٹکٹ دینے کی ہمت کانگریس اور یا کسی اور پارٹی نے نہیں کی۔ ویسے بھی گذشتہ تین انتخابات میں یہاں سے کانگریس اُمیدوار کو شکست حاصل ہوتی رہی ہے۔اس لئے کسی مسلم اُمیدوار کو کھڑا کرنے کا تجربہ کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
بنگلور سنٹرل: شہر بنگلور کے8اسمبلی حلقہ جات کو ملاکر پارلیمانی حلقہ بنایاگیا ہے۔ یہاں پر سب سے زائد مسلم آبادی یعنی 6لاکھ مسلم رائے دہندے ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے ۔کرسچین آبادی بھی کافی تعداد میں ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ریاست ِ کرناٹک کے7مسلم ارکانِ اسمبلی میں سے تین ارکانِ اسمبلی جناب روشن بیگ‘ جناب ضمیر احمد خان اور جناب این اے حارث بنگلور سنٹرل پارلیمانی حلقہ میں آتے ہیں ۔واحد کرسچین نمائندہ مسٹرکے جے جارج کا حلقہ انتخاب بھی بنگلور سنٹرل کا سروجنیا نگر ہے ۔اور اتفاق سے کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مسٹر دنیش گنڈو رائو کا اسمبلی حلقہ انتخاب گاندھی نگر بھی بنگلور سنٹرل پارلیمانی حلقہ میں شامل ہے ۔ان سبھی باتوں کے باوجود ڈی لیمیٹیشن (Delimitation)کے بعد 2009ء اور2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس اُمیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ‘جس کی وجہ سے اس پارلیمانی حلقہ کے تین وہ اسمبلی حلقہ جات ہیں۔ گاندھی نگر‘ مہادیو پورم‘ راجہ جی نگر جہاںاپر کاسٹ ہندوئوں کی آبادی زیادہ ہے۔اب کی بار بھی مسلم قائدین کی کوشش ہے کہ بنگلور سنٹرل پارلیمانی حلقہ سے مسلم اُمیدوار کھڑا کیا جائے ۔
ہاویری حلقہ پارلیمان : ہاویری حلقہ پارلیمان جو کبھی دھارواڑ سائوتھ کے نام سے پہچانا جاتا تھا ‘جسے ایک روایتی مسلم حلقہ کانام دیا گیا تھا۔اُس حلقہ کو ڈیلیمٹیشن( Delimitation) کے وقت توڑ موڑ کر ایسا حلقہ بنادیا گیا ہے جہاں مسلم آبادی16فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ ڈی لیمیٹیشن (Delimitation) کے آخری آرڈر میں پہلے سے معلنہ دو اسمبلی حلقہ جات شیگائوں اور کندگول کو ہاویری سے ہٹاکر دھارواڑ حلقہ پارلیمان میں شامل کئے گئے ہیں ‘جس سے ہاویری کی شکل و صورت بدل گئی ہے۔کانگریس کی جانب سے 2009اور2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں سلیم احمد کو ٹکٹ دیا گیا تھا ‘لیکن بد قسمتی سے دونوں انتخابات میں سلیم احمد بڑے فرق سے شکست کھاگئے۔ دوبارہ ہاویری سے مسلم ٹکٹ دینا غلطی ہوسکتی ہے ۔
دھارواڑ حلقہ پارلیمان : دھارواڑ حلقہ پارلیمان گدگ اور دھارواڑ اضلاع کے8اسمبلی حلقہ جات کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ ہاویری کا شیگائوں حلقہ اسمبلی اس میںشامل ہے۔ مسلم آبادی کے تناسب سے یہ حلقہ تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ یہاں پر22فیصد مسلم آبادی ہے ‘لیکن ہبلی دھاڑ واڑ علاقہ پر ہمیشہ لنگایت طبقہ کا تسلط قائم رہا ہے ۔اس لئے دھاڑ واڑ سے مسلم اُمیدوار کو ٹکٹ دینے کے تعلق سے سوچا نہیں گیا تھا اب کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جن پارلیمانی حلقہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے اور مسلم اُمیدوار کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اس میں دھار واڑ حلقہ انتخاب بھی شامل ہے ۔
بیدر حلقہ پارلیمان : بیدر سابق ریاستِ حیدرآبادسے تعلق رکھنے والا حلقہ پارلیمان ہے ‘ اپنے منفردمسلم کلچر اور اُردو زبان کیلئے پہچانا جاتا ہے۔ اس حلقہ انتخاب میں6اسمبلی حلقہ جات بیدرضلع کے اور2حلقہ جات گُلبرگہ ضلع کے شامل کئے گئے ہیں ۔تاریخی اعتبار سے اہم مقام رکھنے والا یہ حلقہ انتخاب ان چند حلقہ جات میں سے ایک ہے جہاں سے پہلے عام انتخابات میں مسلم نمائندہ منتخب کرکے پارلیمنٹ بھیجا گیا تھا۔ 1952ء میںمنعقدہ پارلیمنٹ انتخابات میں ڈاکٹر شوکت اُللہ انصاری جو پنڈت جواہر لال نہرو کے دوست تھے کو بیدر سے کانگریس کا اُمیدوار بناگیا تھا ‘اُس انتخابات کے بعد بیدر کئی سال تک مسلسل ریزرو حلقہ رہا ۔2008ء کے ڈی لیمیٹیشن (Delimitation)کے آرڈمیں بیدر کو جنرل پارلیمانی حلقہ کو حیثیت سے متعارف کیاگیا ۔2009ء کے انتخابات میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلی جناب این دھرسم سنگھ کو کانگریس نے اپنااُمیدوار بنایا تھا وہ منتخب بھی ہوئے تھے ‘لیکن 2014ء کے الیکشن میںجناب این دھرم سنگھ کو شکست سے دوچا رہونا پڑا ۔حلقہ انتخاب بیدر میں19.69فیصدمسلمان ‘25فیصد ایس سی‘ 12فیصدایس ٹی اور تقریبا20فیصد او بی سی رہتے ہیں ۔6ماہ قبل ہوئے اسمبلی انتخابات میں بیدرحلقہ پارلیمان کے8حلقہ اسمبلی انتخابات میں سے 5پرکانگریس کا قبضہ ہوا تھا ۔دو سیٹ بی جے پی کو اور ایک سیٹ جنتادل(ایس) کوحاصل ہوئی تھی ‘ کانگریس نے45فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس طرح بیدر کانگریس کیلئے ایک آسان سیٹ ثابت ہوسکتی ہے ۔اگر اس مرتبہ بیدر سے مسلم اُمیدوار کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو کامیابی کی اُمیدکی جاسکتی ہے ۔
ریاستی سطح پر مسلم قائدین مسلم اُمیدوار وں کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں جن میں بنگلور سنٹرل‘دھارواڑ اور بیدر شامل ہیں ۔اب دیکھنا ہے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے ۔٭٭٭

(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker