ہندوستان

آل انڈیا ملی کونسل مہاراشٹر کے تنظیمی ڈھانچہ کی تشکیل کے لیے انجمن اسلام میں نشست منعقد

ریاستی ڈھانچہ کے لئے منتخب افراد کو ملی کونسل کے معاون جنرل سیکرٹری مولانا شاہ مصطفیٰ رفاعی جیلانی کے ہاتھوں تقرر نامہ تقسیم

ممبئی : 14 جنوری (بی این ایس)

ملک کی معروف ملی تنظیم، وحدت ملی کانقیب اور مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے والا تھنک ٹینک آل انڈیا ملی کونسل کی مہاراشٹر یونٹ کے تنظیمی ڈھانچہ کی تشکیل جدید کے لئے انجمن اسلام وی ٹی کے کریمی لائبریری میں ایک نشست منعقد کی گئی، نشست کی صدارت آل انڈیا ملی کونسل کے چیف معاون جنرل سکریٹری حضرت مولانا شاہ مصطفیٰ رفاعی جیلانی ندوی نے کی اور نظامت کے فرائض آل انڈیا ملی کونسل مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے کی، اس نشست میں ریاست بھر سے خصوصی مندوبین و مدعوئین حضرات نے شرکت کی، اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں مولانا مصطفیٰ رفاعی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات سے مسلمانوں کو قطعی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ایسے نازک حالات میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خالصتا اللہ کی جانب رجوع ہوں، کیوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح لفظوں میں اعلان کر دیا ہے کہ اگر تم ایمان پر ڈٹے رہے، اللہ پر کامل یقین کے ساتھ ایمانی تقاضوں کو پورا کرتے رہے تو یاد رکھو کہ تم ہی غالب ہو کر رہوگے، مولانا رفاعی نے کہا کہ یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ اللہ رب العزت کا فرمان عالی ہے اور دنیا کی ساری باتیں جھوٹی ہوسکتی ہیں لیکن کلام خداوندی اپنی جگہ اٹل ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہماری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنی پوری زندگی اللہ کے اسی فرمان کے مطابق گذاریں، مولانا رفاعی نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل ایک خالص ملی تنظیم ہے جس کا مقصد ہی ہندوستان کے مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا اور اسے اس بات سے آگاہ کرانا ہے کہ یہ ملک تمہارا ہے اور تم اس ملک کی قسمت بنانے میں برابر کے حصہ دار ہو، الحمدللہ آل انڈیا ملی کونسل اپنے قیام کے وقت سے ہی اپنے ان اھداف و مقاصد کے حصول میں سرگرم عمل ہے اور انشاء اللہ تاقیامت رہے گا، اس موقع پر آل انڈیا ملی کونسل مہاراشٹر کے صدر معرف عالم دین حضرت مولانا سید اطہر علی نے آل انڈیا ملی کونسل کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل کو اکابر ملت نے اسی لیے قائم کیا تھا کہ جہاں ایک طرف مسلمانوں کو ان کے واجب حقوق سے آگاہ کرایا جائے وہیں ملک کے دستور اور قانون کی حفاظت بھی کی جائے تاکہ کوئی بھی فسطائی ذہنیت رکھنے والا انسان ملک کے دستور سے چھیڑ چھاڑ نہ کرسکے، حضرت مولانا سید اطہر علی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حالات لاکھ بدتر ہوجائیں، ہمیں پھر بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت ہے، حالات آتے جاتے رہیں گے لیکن جب تک مسلمان اپنے قانون الہی کے مطابق زندگی گذارتے رہیں گے حالات ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اس موقع پر آل انڈیا ملی کونسل مہاراشٹر کے نائب صدر مولانا محمد شاہد ناصری حنفی نے کہا کہ ہمارے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ آج ہم ملک کی اس تنظیم سے جڑے ہوئے ہیں جسے اپنے وقت کے بزرگ اور اللہ والوں نے قائم کیا تھا، انہوں نے اپنی ایمانی بصیرت سے آنے والے حالات کو بھانپ لیا تھا اور اسی کی روشنی میں انہوں نے آل انڈیا ملی کونسل کو قائم کیا تاکہ مایوسی میں جی رہے مسلمان اور احساس کمتری کی شکار ملت اسلامیہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرایا جائے جہاں ان کی مایوسی کو ختم کرنے کی تدابیر کی جاسکیں اور انہیں احساس کمتری سے باہر نکالا جاسکے، مولانا ناصری نے کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں اب مزید وقت برباد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اب ہمیں اپنی پوری طاقت کو ملی کونسل کو مضبوط کرنے میں جھونک دینا ہے، اب صرف اور صرف عمل کی ضرورت ہے، مشہور ایڈووکیٹ یوسف حاتم مچھالہ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ ہندوستان کا دستور بہت ہی مضبوط اور سیکولر ہے، اسی لئے موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ دستور کو بدل دے، اس لئے ہمیں بہت زیادہ بیدار مغزی کا ثبوت پیش کرنا ہوگا، آل انڈیا ملی کونسل کا مقصد ہی مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے دستور کی حفاظت بھی ہے، اس لئے ہمیں سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہم ملک کو بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے، اس موقع پر نشست کو خطاب کرنے والوں میں بنگلور سے تشریف لائے مہمان خصوصی سید شاہد، ممبئی ملی کونسل کے صدر راشد عظیم، اقبال انصاری پونے، سعید خان، پرویز امید فاؤنڈیشن، محی الدین بابا وغیرہ قابل ذکر ہیں، آخر میں آل انڈیا ملی کونسل کے چیف معاون جنرل سیکریٹری مولانا مصطفیٰ رفاعی اور مولانا سید اطہر علی کے ہاتھوں تمام منتخب افراد کو تقررنامہ سونپا گیا، آخر میں صدر نشست مولانا رفاعی کی رقت آمیز دعا پر نشست کا اختتام ہوا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker