شعروادب

یوں سرِ راہ کبھی مجھ کو پکارا نہ کرو

*زاویہ فکر* سلسلہ (27)

*ابوسعد وصیؔ معروفی*

یوں سرِ بزم مرے عشق کا سودا نہ کرو
عاشقی کھیل نہیں اس کا تماشا نہ کرو

خود ہی کہتے ہو زمانے سے ہمیں ڈرنا کیا
خود ہی کہتے ہو کہ تم پیار کا چرچا نہ کرو

جب یہ تسلیم ہے اے غیرتِ گل! خار ہوں میں
پھر تو لازم ہے کہ تم خار سے پردہ نہ کرو

کیا چلاجائے گا اک دید سے اے جانِ بہار
یہ تو کہتے نہیں تم جان کا نذرانہ کرو

کتنی گستاخ ہیں نظریں جو تجھے دیکھتی ہیں
کوئی سمجھائے ذرا ان کو کہ ایسا نہ کرو

یہ ادا سچ میں زمانے کو بری لگتی ہے
یوں سرِ راہ کبھی مجھ کو پکارا نہ کرو

دل کو بچوں کا کھلونا نہ سمجھنا یارو
اس میں رہتا ہے خدا بھی اسے توڑا نہ کرو

راستے اور بھی ہیں مجھ سے جدا ہونے کے
جان ہی لے لو مگر مجھکو اکیلا نہ کرو

کبھی سچائی بھی افسانہ نما لگتی ہے
بلا تحقیق کوئی فیصلہ اپنا نہ کرو

اشک بھی خون کے جوہر سے بنا کرتے ہیں
اک ستمگر کے لئے اس کو بہایا نہ کرو

حسن بڑھ جاتا ہے بکھری ہوئی زلفوں سے وصیؔ
میں تو کہہ دیتا ہوں رہنے دو سنوارا نہ کرو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker