شمع فروزاں

ارض مقدس میں چند ساعتیں (1)

قبلہ اول بیت المقدس، مسجد اقصٰی کے حالیہ سفر کی روداد

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

* سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

* بانی و ناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ(اللہ تعالیٰ ہر طرح کے شرور سے دونوں مقامات کی حفاظت فرمائے) کے بعد مسلمانوں کا تیسرا سب سے زیادہ قابل احترام مقام بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ ہے، یہ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ زندگی میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبلہ کی حیثیت دی اور اس طرح نماز ادا کرنے کا اہتمام فرمایا کہ کعبۃ اللہ اور بیت المقدس دونوں سامنے پڑیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی تو مکۃ المکرمہ اورمسجد اقصی کے دو مخالف سمتوں میں ہونے کی وجہ سے یہ بات ممکن نہیں تھی؛ چنانچہ تو سولہ سترہ ماہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کو قبلہ بنایااور مسلمان بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبلہ کی تبدیلی کا حکم آگیا، اور مدینہ کی ایک مسجد میں نماز کے درمیان ہی مسلمانوں کو قبلہ تبدیل کرنا پڑا، جس کی یادگار’’ مسجدالقبلتین‘‘ ابھی بھی مدینہ منورہ میں موجود ہے، مسجد اقصیٰ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ کعبۃ اللہ کے بعد وہ دنیا کی اولین مسجد ہے، حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام، میں نے عرض کیا: اس کے بعد؟ ارشاد ہوا: مسجد اقصیٰ، میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنی مدت کا فرق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال ،( مسلم، حدیث نمبر: ۵۲۰) جن تین مسجدوں کے لئے آپ نے خاص طور پر سفر کی اجازت دی، ان میں ایک مسجد اقصیٰ ہے، جو بیت المقدس میں واقع ہے،(بخاری، حدیث نمبر: ۱۱۸۹) حضرت میمونہ بنت سعدؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: کہ یہی حشرونشر کی زمین ہوگی، (مسند احمد: ۲۷۶۲۶) جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد حرام (مکہ مکرمہ) اور مسجد نبوی( مدینہ منورہ) میں نماز پر خصوصی اجر کا ذکر فرمایا، اسی طرح مسجد اقصیٰ میں بھی نماز ادا کرنے کو خصوصی اجر کا باعث قرار دیا کہ ایک نماز ادا کرنے پر پانچ سو نمازوں کا ثواب حاصل ہوگا، (مسند احمد، حدیث نمبر: ۴۱۴۲) اور بعض روایتوں میں اس سے زیادہ کا بھی ذکر ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے تین دعائیں فرمائیں، جن میں سے تیسری دعاء یہ تھی کہ جو شخص بھی اس مسجد میں نماز کے ارادہ سے آئے، جب وہ نماز پڑھ کر یہاں سے باہر نکلے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے ، جیسے آج ہی وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ دعاء بھی قبول ہوئی ہوگی۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۱۴۰۸)

مسلمانوں کے لئے اس مسجد کی فضیلت کا ایک خصوصی پہلو یہ بھی ہے کہ شب معراج کے موقع سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تمام انبیاء کرام کی امامت فرمائی ہے، اور یہیں سے آپ کا سفر آسمانی شروع ہوا۔

آپ نے بیت المقدس میں مقیم ہونے کی بھی فضیلت بیان فرمائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص بیت المقدس سے اتنا قریب رہتا ہوکہ وہاں سے مسجد نظر آتی ہو، تو یہ جگہ اس کے لئے دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، غرض کہ مسجد اقصیٰ کی ڈھیر ساری فضیلتیں منقول ہیں، اور خود قرآن مجید نے بھی کہا ہے کہ ہم نے اس کے گردوپیش میں برکتیں رکھی ہیں (بنی اسرائیل: ۱) یہ برکت روحانی بھی ہے اور مادی بھی، روحانی برکت یہ ہے کہ بہت سے انبیاء کرام اسی خطہ میں آسودۂ خواب ہیں، اور مادی برکتوں میں سے ایک اہم چیز ہرے بھرے اور گھنے باغات ہیں، ان نسبتوں کی وجہ سے عرصہ سے سینہ میں یہ آرزو مچلتی تھی کہ کبھی بیت المقدس حاضری کا شرف حاصل ہو جائے، اور تقریباََ ۳۰؍ سال پہلے جب یاسر عرفات مرحوم اسرائیل سے مصالحتی گفتگو کر رہے تھے تو سفر حج کے دوران خواب میں بھی دیکھا کہ میں نے مسجد اقصیٰ میں حاضر ہوکر نماز ادا کی ہے، اس خواب نے آتشِ تمنا کوشعلہ بنا دیا،اور امید پیدا ہوئی کہ شاید یہ آرزو بر آئے؛ مگر ۳۰؍سال تک اس کے شرمندۂ تعبیر ہونے کی صورت نہ بن سکی، بالآخر اللہ کی طرف سے جو وقت مقدر تھا، وہ آگیا،اور نظام سفر میں مختلف تبدیلیوں کے بعد ۴؍جنوری ۲۰۱۹ء کووینچر ٹوراینڈ ٹراویلس( حیدرآباد) کے تحت ۲۴؍افراد پر مشتمل ہم لوگوں کا قافلہ اردن سے گزرتے ہوئے بیت المقدس پہنچا، اور پھر ۱۴؍ جنوری کو مصر کے راستہ سے واپسی ہوئی، اس قافلہ میں تعلیم، سیاست اور تجارت سے مربوط اہم شخصیتیں تھیں، اور مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے حضرات تھے، ان میں ٹور آپریٹر عبدالوحید صاحب کے علاوہ جناب عبداللطیف خان صاحب (ڈائرکٹر ایم ایس گروپ آف اسکولس) ، جناب ایاز احمد (ڈائرکٹر انسانیت اسکول حیدرآباد وکریسنٹ اسکول کریم نگر) اور جناب احمد قادری (صدر مجلس اتحاد المسلمین کریم نگر) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔

اردن میں ہم لوگ ۶؍جنوری کو سیدنا حضرت شعیبؑ اور حضرت یوشعؑ نیز غزوۂ موتہ کے شہداء حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر طیار اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی مبارک قبروں نیز اصحاب کہف کے غار کی زیارت کرتے ہوئے دوپہر کو اسرائیل بارڈر پر پہنچے، جو ’’ اریحہ‘‘ نامی شہر میں واقع ہے، جس کو تورات میں ’’ جریکو‘‘ کا نام دیا گیا ہے، اور آج کل وہ اسی نام سے مشہور ہے، پہلے سے گائیڈ نے بتایا تھا کہ اسرائیلی بارڈر پر بہت پوچھ گچھ ہوتی ہے، اور پریشان کیا جاتا ہے؛ چنانچہ اس کا عملی تجربہ ہوگیا، پہلے تو سبھوں کی تلاشی لی گئی، پھر سامان ایک اسکرین مشین میں ڈالا گیا، جو ائیرپورٹ کی عام مشینوں سے کافی مختلف اور کافی بڑی تھی، پاسپورٹ کی پوری تفصیلات پہلے ہی منگوا لی گئی تھیں؛ لیکن پھر بھی گہرائی کے ساتھ تفتیش شروع ہوئی، تفتیش کے دوران ۱۴؍ لوگوں کو تو پاسپورٹ دے دیا گیا اور وہ باہر آگئے ؛ لیکن دس افراد روک لئے گئے اور ان سے مزید تفتیش کی گئی، ان سے جو سوالات کئے گئے، ان میں یہ بھی تھا کہ کیا آپ نے پاکستان کا سفر کیا ہے؟ یا کہیں آپ کی شادی پاکستان میں تو نہیں ہوئی ہے وغیرہ وغیرہ، اسرائیلی سیکوریٹی کا ایک خاص طرز عمل یہ تھا کہ انہوں نے لوگوں کو بٹھا لیا اور مسلسل ان کی حرکات وسکنات پر نظر جمائے رہے، تقریباََ چار پانچ گھنٹے ان حضرات کو اسی طرح بٹھائے رکھا، اور میرے بشمول بقیہ چودہ حضرات ایمیگریشن سے باہر بے چینی کے ساتھ وقت گزارتے رہے، کبھی کھڑے ہو کر، کبھی بیٹھ کر، کبھی چلتے ہوئے، ٹھنڈک اور اس کے ساتھ تیز ہوا کی وجہ سے سارے لوگ پریشان تھے، چار پانچ گھنٹے گزار کر تما م روکے ہوئے لوگوں کو جانے کی اجازت ملی، بظاہر اس کا مقصد آنے والوں کو ذہنی تکلیف پہنچانا اور ان کی آمد ورفت کی حوصلہ شکنی کرنا تھا،ویسے اسرائیل نے اس امیگریشن پوائنٹ کا نام شاجین( سابق فرمانروائے اُردن) کے نام پر رکھا ہے، اور ان کی متعدد تصویریں آویزاں کر رکھی ہیں۔

باہر نکل ہم لوگ بس میں بیٹھ گئے، پہلے اسی شہر میں کھانا ہوا؛ کیوں کہ ناشتہ کے بعد ہی سے سارے لوگ بھوکے تھے، یہ شہر بہت سرسبزوشاداب ہے، اور اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ بستی چھ ہزار سال قبل مسیح کی ہے، یہ بات بھی نقل کی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہیں کے ایک پہاڑ کے غار میں چالیس دن گزارے تھے، اور یہیں اندھوں کے بینا ہونے، برص زدہ شخص کے صحت مند ہونے اور مُردوں کے زندہ ہونے کامعجزہ پیش آیا، وہاں سے یہ قافلہ بیت المقدس کی طرف چلا اور تقریباََ رات کے دس ساڑھے دس بجے ہم لوگ بیت اللحم میں واقع اس ہوٹل میں پہنچے، جس کا ہم لوگوں کے لئے فلسطین کے گائیڈ نے انتظام کر رکھا تھا۔

۷؍جنوری کو ہم لوگ گائیڈ کی ہدایت کے مطابق ناشتہ کر کے ساڑھے آٹھ نو بجے روانہ ہوئے، پہلے ہمیں بیت اللحم میں واقع اس چرچ میں لے جایا گیا، جو عیسائیوں کے نزدیک ان کا سب سے مقدس مقام ہے، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہے، یہ ایک پُر رونق پہاڑی پر واقع ہے، جس جگہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے، وہ کافی گہرا تہہ خانہ ہے، اس کے اوپر علامتی طور پر ایک خوبصورت منڈپ بنا ہوا ہے، جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم علیھا السلام کے مجسمے ہیں، سطح زمین کے اوپر گول دائرے کی شکل میں ایک سوراخ ہے، جو عیسائی حضرات آتے ہیں، وہ اسی سوراخ سے اندر دیکھتے ہیں اور اسے بوسہ دیتے ہیں، یا اظہار عقیدت کے لئے پھول یا گڑیا اندر ڈالتے ہیں، ظاہری شکل بالکل سجدہ کی سی ہوتی ہے، وہیں سے ایک دو قدم کے فاصلہ پر ایک اور گہری سی جگہ بنی ہوئی ہے، جسے بچوں کا جھولا کہا جاتا ہے،لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا گہوارہ تھا، عیسائی حضرات ان مقامات پر موم بتیاں جلا کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش اور گہوارہ نشیب میں ہے، اوپر سے سیڑھیوں سے اُتر کر نیچے پہنچنا ہوتا ہے، باب الداخلہ کچھ اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ انسان کافی سر جھکا کر اندر داخل ہو سکے، محسوس ہوا کہ یہ قصداََ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فرضی شبیہ کے سامنے جھکنے کی ایک شکل پیدا کی گئی ہے۔

اس سے متصل کئی بڑے ہال ہیں، بہت خوبصورت اور دیدہ زیب ، ان ہالوں میں آمنے سامنے تین چرچ ہیں، مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایک ہی عمارت ؛ بلکہ ایک ہی ہال کے اندر تین چرچ کیوں ہیں؟ تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ عیسائیوں کے تین الگ الگ فرقے کیتھولک، پروٹیسٹنٹ اور آرتھوڈکس کے چرچ ہیں، میں نے سوچا لوگ مسلمانوں کے اختلاف کو اس قدر اُبھار کر پیش کرتے ہیں کہ گویا ہر مسلمان دوسرے کے خون کا پیاسا ہے؛ لیکن خود عیسائیوں کا حال یہ ہے کہ ایک ہی جگہ ایک دوسرے کے مدمقابل تین تین چرچ موجود ہیں۔

اس کے بعد ہم لوگ مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوئے، جس کا دیدۂ شوق کو شدت سے انتظار تھا، سیکوریٹی کے سخت انتظام کی وجہ سے خاصے فاصلہ پر واقع شارع عام پر بس سے اُتار دیا گیا اور یہاں سے یہ پورا قافلہ ان پگڈنڈیوں سے گزرتے ہوئے مسجد اقصیٰ تک پہنچا، جس کے دونوں طرف دوکانیں ہیں، اور جگہ جگہ غاصب اسرائیل کی سیکوریٹی فورس کے جوان مردوعورت گن تھامے ہوئے کھڑے ہیں، اور آئے دن فلسطینیوں پر ظلم کرتے رہتے ہیں، مسجد اقصیٰ کے باب الداخلہ پر ان سیکوریٹی والوں کو اجازت نامہ دکھا کر داخل ہونا پڑتا ہے، گائیڈ کو اپنا لائسنس ان کے پاس رکھ کر جانا ہوتا ہے؛ تاکہ وہ تمام افراد کی واپسی کو یقینی بنائے، سیکوریٹی والوں کے چہروں سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں مسلمانوں کے یہاں آنے پر سخت ناراضگی ہے، بیت المقدس پورا فصیل بند شہر ہے، اس کے اندر مسجد اقصیٰ کا احاطہ ہے،جو بتایا گیا کہ۳۶؍ ایکڑ کے قریب ہے، قبلہ کی مخالف سمت سے اگر احاطہ میں داخل ہوا جائے تو سیڑھیوں سے گزرنے کے بعد ایک وسیع وعریض صحن ہے،جو سطح زمین سے کافی بلندی پر واقع ہے، پھر جب آگے بڑھیں تو پہلے قبۃ الصخرۃ سامنے آتا ہے، ’’ صخرۃ‘‘ کے معنیٰ چٹان کے ہیں، یعنی یہ گنبد اس چٹان پر ہے، جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر معراج شروع ہوا تھا، اسی کے اوپر وہ خوبصورت سنہرا گنبد ہے، جو دور سے نظر آتا ہے، اور جس کو تصویروں میں مسجد اقصیٰ تصور کیا جاتا ہے،کہا جاتا ہے کہ اس گنبد میں ۲۰۰؍ کیلو سونا لگایا گیا ہے، اموی خلیفہ عبد الملک ابن مروان نے ۶۶ھ میں اس کی تعمیر شروع کروائی اور ۷۲ھ میں اس کے بیٹے ولید بن عبد الملک کے عہد میں اس کی تکمیل ہوئی، موجودہ عمارت سلطان عبد الحمید اور سلطان عبدالعزیز کی مرمت کے بعد کی ہے، سلطان عبدالحمید ثانی نے اس عمارت کے چاروں طرف سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ یٰس کی آیات خوبصورت پتھروں پر لکھوائی ہیں، یہ ہشت پہل عمارت ہے، اور ہر پہلو ۴۶؍ فٹ لمبا ہے، اس کا قطر ۴۴،۲۰ میٹر اور بلندی ۳۱؍ میٹر ہے، جس چٹان کی وجہ سے یہ گنبد بنایا گیا، وہ تو اس کے ایک حصہ میں اور تہ خانہ کے اندر ہے؛ لیکن یہ پوری عمارت ایک مسجد کی شکل میں ہے، جس میں پنچ وقتہ نمازیں ہوتی ہیں، پوری مسجد میں خوبصورت قالینیں بچھی ہوئی ہیں، اور نہایت مزین چھت ہے، جو کاریگری کا اعلیٰ نمونہ ہے، ہم لوگوں نے اسی میں ظہر وعصر کی نمازیں ادا کیں۔

قبۃ الصخرۃ کے پیچھے پھر ایک وسیع صحن ہے اور اس کے بعد مسجد اقصیٰ کی عمارت ہے، جس میں سرمئی رنگ کا گنبد ہے، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے فتح بیت المقدس کے موقع سے اس کی تعمیر کرائی تھی، مشہور جغرافیہ داں مقدسی (متوفی:۹۸۵ھ) نے اس کی لمبائی پندرہ سو فٹ اور چوڑائی ایک ہزار پچاس فٹ لکھی ہے، ۱۹۶۷ء میں جب اسرائیل نے اس پر غاصبانہ قبضہ کیا تو اس کے چودہ دروازے تھے، اس مسجد میںسات ہزار لوگوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے،رنگین شیشوں سے مزین ۱۲۱؍ کھڑکیاں،۴۵؍ ستون اور ۷؍ہال ہیں، مسجد کی موجودہ شکل میں ترکوں کا بھی حصہ ہے، اللہ جزائے خیر دے کہ انہوں نے چھتوں پر بڑی ہی دیدہ زیب مینا کاری کی ہے، یہ کئی ہالوں پر مشتمل ہے اور جیسے مسجد نبوی میں ترکوں نے چھوٹے چھوٹے گنبد بنائے ہیں، دونوں کنارے کے ہال ایسے ہی گنبدوں پر مشتمل ہیں، مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اسرائیلی غاصبین مسلسل نیچے کھدائی کر رہے ہیں، مسجد کو آگ بھی لگائی گئی، اور بارہا اسرائیلی فورسس کی طرف سے حملے بھی ہوئے؛ لیکن اس کے باوجود اس مسجد کے محفوظ رہنے کا ظاہری سبب کیا ہے؟ اس کا اندازہ مسجد کو دیکھ کر ہوتا ہے، اس کی دیواریں اتنی چوڑی اور اس کی بنیادیں اتنی مضبوط ہیں( جس کا اندازہ تہ خانہ میں اُترنے کے بعد ہوتا ہے) کہ خصوصی منصوبہ بندی کے بغیر اس کو منہدم کرنا دشوار ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے اور یہودیوں کے شر سے مامون رکھے، یہیں ہم لوگوں نے جماعت کے ساتھ مغرب وعشاء کی نماز ادا کی اور اللہ کی توفیق کے مطابق تمام ساتھیوں نے نماز، تلاوت اور دعاء کا اہتمام کیا، راقم الحروف نے اپنے ساتھیوں سے مسجد کے ایک گوشہ میں جوڑ کر مسجد اقصیٰ کی فضیلت اور اس میں کئے جانے والے اعمال کے بارے میں ضروری باتیں عرض کیں، مغربی ملکوں سے آئے ہوئے بعض اُردو داں حضرات بھی اس مجلس میں شریک ہوگئے۔

یہ تو دو مسجدیں ہوئیں ’’ قبۃ الصخرہ اور مسجد اقصیٰ‘‘ جو ہمیں نظر آتی ہیں، اگلے روز ہم لوگ پھر مسجد اقصیٰ آئے تو حقیقی مسجد اقصیٰ جو اُس نظر آنے والی مسجد کے نیچے کافی گہرائی میں بنی ہوئی ہے، اور جس میں صحن سے سیڑھیوں کے ذریعہ پہنچا جاتا ہے، وہاں پہنچنے کی سعادت حاصل ہوئی، یہ بھی بہت بڑی مسجد ہے اور یہ بھی دو تہوں میںہے، ایک اوپری حصہ ہے اور پھر اس سے نیچے اصل مسجد ہے، اس کے ستون پتھروں کے ہیں،اور گول شکل میں ہیں، اورا تنے چوڑے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہو تب بھی وہ ستون کو پکڑ نہ پائے، زمین سے لے کر چھت تک ایک ہی ستون ہے، اس طرح کے چار پانچ ستون بنے ہوئے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے جنات نے بنائے تھے؛ کیوں کہ قرآن مجید میں بھی اشارہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جِنوں سے کام لیا کرتے تھے، اُس دور میں نہ گاڑیاں تھیں، اور نہ وزنی چیزوں کو اوپر چڑھانے کی ترقی یافتہ ٹکنالوجی، اس وقت انسان کے لئے ایسے پتھر کو تراشنا اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور ان کے اوپر چھت کی تعمیر کرنا بظاہر عقل کے باہر ہے، واللہ اعلم

اس اصل مسجد اقصیٰ کی سمت قبلہ میں محراب بنی ہوئی ہے، کہا جاتا ہے کہ اسی جگہ وہ محراب تھی، جہاں حضرت زکریا علیہ السلام نے نماز پڑھائی اور دعاء کی تھی، ہم لوگوں نے بھی یہاں چند رکعات نفل ادا کرنے کا شرف حاصل کیا کہ شاید اللہ کے نبی کے نقش قدم کا لمس گنہگار پیشانیوں کے حصہ میں آجائے، دوستوں سے عرض کیا گیا کہ چوں کہ یہیں حضرت زکریا علیہ السلام نے اولاد کے لئے دعاء مانگی تھی اور ان کی دعاء قبول کی گئی؛ اس لئے جن حضرات کو اولاد نہ ہو یا ان کے متعلقین میں کسی کو اولاد نہ ہو تو انہیں یہاں اولاد کے لئے دعاء کرنی چاہئے، اس کے بائیں جانب ایک دو فٹ کی اونچائی پر ایک اور ہال ہے، اس میں ایک کنواںہے، اس کنویں کی اصل یہ ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر میں بیت المقدس نہ جا سکوں تو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیل بھیج دو، جس سے روشنی کا انتظام ہو جائے‘‘ وہاں کے لئے تیل بھیجنے والا وہاں جانے والے کی طرح ہے (ابن ماجہ باب ماجاء فی الصلاۃ فی مسجد بیت المقدس) ؛ چنانچہ لوگ بیت المقدس کے لئے تیل بھیجا کرتے تھے، اور اسی سے بیت المقدس میں روشنی کا انتظام ہوتا تھا، اور ۷۰۰؍ قندیل جلائی جاتی تھی،یہ تیل اسی کنویں میں ڈال دیا جاتا تھا، آج کل اس پر ایک لوہے کی جالی لگا دی گئی ہے، جھانک کر دیکھا جائے تو کوئی سیال چیز نظر آتی ہے شاید یہ تیل کی بقیات ہوں۔

اس سے اور نیچے دائیں جانب گائیڈ ہم لوگوں کو لے کر گیا اور ایک مقام کا مشاہدہ کرایا، جہاں ایک جھولا نما پتھر رکھا ہوا ہے، بتایا گیا کہ حضرت مریم علیہا السلام نے ولادت کے بعد یہیں توقف کیا تھا، یہیں صرف تین دنوں کی عمر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گفتگو کی تھی، اور حضرت مریم پر تہمت لگانے والوں سے کہا تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اللہ نے مجھ کو کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے، إني عبد اللہ آتانی الکتاب وجعلني نبیا (مریم: ۳۰)

۸؍ جنوری کو ہم لوگ صبح اپنی قیام گاہ سے نکلے اور ایک بار پھر اس راستہ سے مسجد اقصیٰ کی طرف گئے جس میںدیوار گریہ واقع ہے، سی دیوار کے پاس کھڑے ہو کر یہودی عبادت کرتے ہیں؛ کیوں کہ ان کے خیال میں تعمیر سلیمانی میں سے صرف یہی دیوار بچی ہوئی ہے، وہ اس کو دعاء کی قبولیت کی جگہ سمجھتے ہیں، یہ ایک بڑا صحن ہے اور اس کے بیچ میں جالیوں کے ایک طرف مرد کھڑے ہوتے ہیں، اور دوسری طرف عورتیں کھڑی ہوتی ہیں، جوعام طور پر لمبے سیاہ گون میں ہوتی ہیں، عجیب بات ہے کہ جو لوگ پوری دنیا میں عورتوں کی بے قید آزادی کا فتنہ پھیلا رہے ہیں اور مخلوط ماحول کی ترغیب دیتے ہیں، خود ان کے یہاں عبادت میں مردوں اور عورتوں کے الگ الگ رہنے کا تصور بھی ہے، اور اس پر سختی سے عمل بھی، یہ بات دیکھنے کو ملی کہ یہودی عوام بھی اور ان کی فوج اور پولیس کے لوگ بھی عام طور پر داڑھی رکھتے ہیں، اور ان کی مذہبی شخصیتیں –جو ’’ رِبی‘‘ کہلاتی ہیں –کی داڑھی تو سینے سے بھی نیچے تک ہوتی ہے۔( جاری)

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker