مضامین ومقالات

2019 الیکشن: شہ اور مات کا کھیل تو ابھی شروع ہو ا ہے

مرشد کمال
سیاست امکانات اور ممکنات کا بے کراں سمندر ہے۔ اس میں جتنی گنجائشیں اور متبادل ہوتے ہیں شاید عام انسانی ذہن اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ 2019 کی آمد سے قبل بی جے پی اُتر پردیش کے تعلق سے کافی مطمئن نظرآرہی تھی۔ تمام سروے اور میڈیا رپورٹس اُتر پردیش میں بے جی پی کی بڑی جیت کا دعویٰ کررہے تھے۔ ایس پی اور بی ایس پی کے اتحاد کو لیکر بھی ایک غیر یقینی صورتحال نے بی جے پی کے حلقوں کو اس با ت کا احساس کرادیا تھا کہ اُتر پردیش کے راستے 2019 میں مودی سرکار کی واپسی یقینی ہے۔ کہتے ہیں کہ دلی کے اقتدار کا راستہ اُتر پردیش سے ہوکر گُزرتا ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ جب لوک سبھا کی 543 نشستوں میں 15 فیصد یعنی 80 نشستیں اُتر پردیش سے آتی ہوں۔ پھر یہ خبر آئی کہ بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی میں سیٹوں کو لیکر سمجھوتہ قرار پا گیا ہے اور دونوں پارٹیوں نے برابری کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے 38 -38 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہوئی کہ اس اتحاد سے ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی کو الگ رکھا گیا۔ اتحاد کے اس اعلان سے نہ صرف اتر پردیش کا بلکہ پورے ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوتا نظر آیا۔ اس اتحاد کا سب سے زیادہ اثر فطری طور پر بے جے پی کے 2019 کے ممکنہ نتائج پر ہونا ہے اس لیے بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتوں میں کھلبلی مچ گئی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اورانتخابی ماہرین نے اس اتحاد سے بی جے پی کو بڑے نقصان کا دعویٰ کرنا شروع کردیا۔ لیکن کچھ حلقوں میں کانگریس کی عدم شمولیت والے اتحاد کے مستقبل کو لیکرنہ صرف اندیشوں اور وسوسوں کا اظہا ر کیا گیا بلکہ کانگریس کی تمام نشستوں سے علیحدہ انتخاب لڑنے کی صورت میں کانگریس اُمیدواروں او ر ایس پی –بی ایس پی کے اُمیدواروں کے درمیان سیکولر ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ ہونے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ اور پھر توقع کے عین مطابق کانگریس پارٹی نے خود کو ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد میں درکنار کیے جانے پر اُتر پردیش کی تمام نشستوں سے اپنے اُمیدوار کھڑا کرنے کا اعلان کردیا۔ اس
اعلا ن کی توقع تو مایاوتی اور اکھلیش کو یقیناً رہی ہوگی اور اُنھوں نے تمام جوڑ گھٹاؤ اور کانگریس کے اُتر پردیش میں زمین کمزور ہونے اور ووٹوں کے ٹرانسفر میں کانگریس کی اہلیت پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے ہی کانگریس کو اتحاد میں شامل نہیں کیا۔ لیکن جس بات کا اندازہ شاید اکھلیش یا مایاوتی کو بھی نہیں رہا ہوگا کہ اُتر پردیش میں اپنی کھوئی ہوئی زمین دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اور اتحاد کے فارمولے پر نئے سرے سے Negotiate کرنے کے لیے کانگریس نے ایک بڑا سیاسی داؤں کھیل دیا جسے کانگریس کا ماسٹر اسٹروک کہا جا رہا ہے۔ ایک عرصے سے کانگریسی حلقوں میں پرینکا گاندھی کی انتخابی سیاست میںداخلے کی مانگ اُٹھتی رہی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نہرو گاندھی فیملی میں اس وقت سب سے بااثر اور عوام میں مقبول اور منظور نظر چہرہ پرینکا گاندھی کا ہی ہے۔ پرینکا گاندھی کے سرگرم سیاست میں آنے سے کانگریس میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے اور کانگریس کے کارکنوں میں خاصہ جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔گرچہ یہ بات تو ابھی اعتماد کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ پرینکا گاندھی کے سرگرم سیاست میں داخلے سے کانگریس کو اُتر پردیش میں کتنے سیٹوں کا فائدہ ہوگا لیکن یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ کانگریس کے ووٹ کے تناسب میں قابل قدر اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ جس کا فائدہ با لآخر سیکولر ووٹوں کی تقسیم کی صورت میں بی جے پی کو ہی ملے گا۔ ایس پی – بی ایس پی اتحاد سے جو ایک نئی اُمید اُتر پردیش سے بندھی تھی وہ اب ایک با ر پھر ووٹوں کی تقسیم کی صورت میں بی جے پی کی راہ آسان کرتی دکھائی دے رہی ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ اگر اتحاد کی موجودہ شکل کو تبدیل کر کانگریس پارٹی کو ایک باعزت مقام نہ دیا گیا تو پارٹی اُتر پردیش کے تمام حلقوں سے پورے دم خم کے ساتھ میدان میں اترے گی اور اگر 2014 کی مودی لہر اور 10 سال کی Anti-Incumbency کے نتیجے میں کانگریس کی تاریخ کے سب سے خراب نتائج کو نظیر نہ بنایا جائے تو کانگریس 10 سے 15 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ جہاں خود اپنی سابقہ سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی پوزیشن میں ہوگی وہیں مغربی اُترپردیش کے قابل ذکر مسلم آبادی والے پارلیمانی حلقوں میں ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ بی جے پی کے کامیابی کا راستہ صاف کر دے گی۔ اور اگر کانگریس نے پرینکا گاندھی کو مُر اداباد یا اُس کے آس پاس کے حلقے سے اُمیدوار بنایا جس کا مطالبہ کانگریس کے کارکُنوں کے ذریعہ کیا جار ہا ہے تو ایس پی- بی ایس پی اتحاد کے لیے یہ ایک اور بڑا جھٹکا ثابت ہوسکتا ہے۔ جس کا اثر پورے مغربی اُتر پردیش کے انتخابی نتائج پر پڑنا لگ بھگ طئے ہے اور اس کا سب سے بڑا نقصان بھی ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد کو اور باالآخر مرکز میں غیر بے جے پی سرکار کی تشکیل پر پڑے گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 2009 اور 2004 کے عام انتخابات میں اُتر پردیش سے کانگریس کو باالترتیب 21 اور 9 نشستیں آئی تھیں اور 1999 کے عام انتخاب میں بھی کانگریس کو اُتر پردیش میں 10 نشستوں پر کا میابی ملی تھی۔ اس لیے کانگریس کے اثرا ور ووٹ بینک کو پوری طرح خارج کرنا اور کانگریس کی شمولیت کے بغیر کوئی اتحاد تشکیل دینا ایک احمقانہ فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ سیاست میں نفسیاتی داؤ پیچ اور دباؤ کے سیاست کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ خاص کر جب سیٹ بٹوارے کی بات آتی ہے تو کوئی بھی جماعت منصفانہ طریقے سے ا پنی اتحادی جماعت کو اُس کی عوامی مقبولیت اور پارٹی کے مرتبے کے مطابق سیٹ دینا نہیں چاہتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تمام پارٹیا ں اعصابی جنگ اور دباؤ کے حربے کو اپنا کر اپنی پارٹی کے لیے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اُتر پردیش میں مایاوتی اور اکھلیش کے درمیان طئے پایا معاہدہ بھی ہوسکتا ہے کہ کانگریس پر دباؤ بنانے کی ایسی ہی کسی کوشش کا حصہ ہو۔بہت ممکن ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں اندرونی طور پر اس بات پر اتفاق ہوگیا ہو کہ کانگریس کی اس اتحاد میں شمولیت کی صورت میں دونوں اپنے اپنے حصے کی پانچ پانچ نشستیں کانگریس کے لیے چھوڑ دیں گی۔ کیونکہ اگر وہ شروعاتی مرحلے میں کانگریس سے اتحاد کے لیے مزاکرات کرتیں تو کانگریس کے مزاکرات کا ر کسی بھی صورت میں برابری سے کم یعنی ۲۵ -۲۵سیٹوں کی تینوں پارٹیوں کے درمیان برابر تقسیم سے کم پر رضامند نہ ہوتے۔ لیکن کانگریس پارٹی نے پرینکا گاندھی کو پارٹی کا جنرل سکریٹری اور مشرقی اتر پردیش کا انچارج مقرر کرکے ایس پی ۔ بی ایس پی کے دباؤ کی سیاست کی نہ صرف ہوا نکال دی ہے بلکہ بال اُن کے کورٹ میں پھینک دیا ہے جہاں کانگریس کو اتحاد میں شامل کرنے کا دباؤ اب اُن کے اوپر آگیا ہے۔ ایسے میں اگر ایس پی۔ بی ایس پی۔ کانگریس اور نیشنل لوک دل کا عظیم اتحاد تشکیل پاتا ہے تو ایس پی۔لوک دل ۳۰ ۔ بہوجن سماج پارٹی ۳۰ اور کانگریس ۲۰ نشستوں پر رضامند ہوسکتی ہے۔اور اگر اس فارمولے پر بات بن گئی تو یہ تمام جماعتیں اپنے اپنے حصے کی بیشتر سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہوجائنگی اور بی جے پی کی قیادت میں مرکز میں حکومت سازی کے منصوبے کو اُتر پردیش میں ہی لگام لگ جائے گی۔ لیکن اگر خود غرض اور انا پرست سیاست نے ایسا نہ ہونے دیا تو
اُتر پردیش کے راستے مرکز میں بی جے پی کی قیادت میں۲۰۱۹ میں بھی حکومت بننا لگ بھگ طئے ہے۔ بہرحال شہ اور مات کا کھیل تو ابھی شروع ہوا ہے۔اب آگے آگے دیکھئے کہ:
زمینِ چمن گُل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker