آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

گناہ کے مضرات و نقصانات

آج کا پیغام

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اہل حق علماء اور اصحاب دل صوفیاء، اس امت کے روحانی مربی و معالج ہیں، ان کا وجود ہر دور اور ہر زمانہ میں خیر و برکت اور سعادت و تقوی کی باد بہاری کا باعث رہا ہے ۔ یہ وہ خاصان خدا ،اور اولیاء صادقین ہیں جن کا ظاہر شریعت کے مطابق اور باطن معرفت و سلوک اور تزکیہ و روحانیت کی روشنی سے منور ہوتا ہے یعنی

درکف جام شریعت در کفے سندان عشق

یہ وہ اہل حق علماء اور اہل دل صوفیاء ہیں جو ہر زمانہ میں دوائے دل کے راست باز و امانت دار تاجر ہیں ، اللہ کی کتاب اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اقوال و افعال کے عملی شارح و ترجان ہیں ،قران حکیم کی زبان میں یہ تزکیہ اور حدیث نبوی کی تعبیر میں احسان کا کام کرتے ہیں ۔ تعلیم کتاب کے ذریعہ قرآن و سنت اور شریعت مطہرہ کے احکام و تفسیر اور مسائل و قوانین کی توضیح کرتے ہیں ۔

ان علماء حق اور صوفیان باصفا کے ملفوظات و مواعظ اور اقوال و ارشادات بھی ہمارے لئے قیمتی روحانی سرمایہ ہیں حکمت و معرفت علوم و معارف سے لبریز اور خلوص و صداقت سے معمور ان ارشادات و ملفوظات میں ہماری رہنمائی اور رہبری کے لئے بہت کچھ سامان موجود ہیں ضرورت ہے کہ ہم قرآن و سنت کا گہرائ سے مطالعہ کریں ان کے معانی اور مفہوم کو سمجھیں اور عملی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزاریں ۔اس کے ساتھ ہی علماء کرام اور اور معرفت و سلوک کے ماہرین کی کتابوں، تحریروں اور ان کے اقوال و ارشادات کا بھی مطالعہ کریں کیونکہ ان کے ارشادات و اقوال میں وہ گرمی، حرارت اور نورانیت و اثر انگیزی ہے جو دلوں کو گرماتے ہیں اور روح کو ٹرپاتے ہیں اور نیک عمل پر مہمیز لگاتے ہیں ۔ ماضی قریب میں یعنی آج سے نصف صدی قبل مولانا اشرف علی تھانوی رح کی علمی مجالس ،ان کی تحریروں تقریروں اور ملفوظات و مواعظ نے ایک عالم کی اصلاح کی اور ہزاروں لوگوں نے ان کی تحریروں کو پڑھ کر اور ان کے مواعظ کو سن کر اپنی زندگی میں عظیم تبدیلی پیدا کی اور اپنے اندر ایک انقلاب برپا کیا ۔ اصلاح کے طالب کو ان کی تحریروں کا اور ان کے ملفوظات و مواعظ کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے ۔ ان کے سلسلہ وار رسائل و مواعظ سے استفادہ کرتے رہنا چاہیے ۔

آئیے آج ہم اپنے قارئین کی خدمت میں مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک رسالہ جزاء الاعمال)اعمال کا بدلہ دنیا و آخرت میں ) سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں ۔ یہ رسالہ طاعات اور نیکیوں پر ابھانے اور معاصی اور گناہوں سے بچانے کے سلسلہ میں نہایت مفید اور موثر ہے ۔ اس رسالہ میں ایک جگہ ایک ترتیب سے مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے گناہ کے نقصانات بیان کئے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں :

آدمی علم سے محروم رہتا ہے کیونکہ علم ایک باطنی نور ہے اور معصیت سے نور باطن بجھ جاتا ہے.

رزق کم ہوجاتا ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۰۰ ان الرجل لیحرم الرزق بالذنب یصیبه ۔ مسند احمد۔ بے شک آدمی گناہ کے سبب جس کو وہ اختیار کرتا ہے ،رزق سے محروم ہوجاتا ہے.

اللہ تعالٰی سے وحشت رہتی ہے

آدمیوں سے بھی وحشت ہونے لگتی ہے،خصوصا نیک لوگوں سے کہ ان کے پاس بیٹھ کر دل نہیں لگتا اور جس قدر وحشت بڑھتی جاتی ہے ان سے دور اور ان کے برکات سے محروم ہوجاتا ہے.

اکثر کارروائیوں میں دشواری پیش آتی ہے جیسے تقوی اختیار کرنے سے کامیابی کی راہیں نکل آتی ہیں، ایسے ہی ترک تقوی سے کامیابی کی راہیں بند ہوجاتی ہیں.

قلب میں ایک تاریکی سی معلوم ہونے لگتی ہے اور قلب کی اس تاریکی کا اثر آنکھ اور چہرے سے ظاہر ہونے لگتا ہے ،حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نیکی کرنے سے چہرے پر رونق ،قلب میں نور،رزق میں وسعت،بدن میں قوت اور لوگوں کے قلوب میں محبت پیدا ہوتی ہے اور بدی کرنے سے چہرے پر بے رونقی ،قبر اور قلب میں ظلمت ،بدن میں سستی ،رزق میں تنگی اور لوگوں کے دلوں میں بغض ہوتا ہے۔

(رسالہ جزاء الاعمال بحوالہ چراغ راہ صفحہ ۲۰۷)

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker