تاریخ و آثارمضامین ومقالات

فرعون کا دعوائے الوہیت حقیقی تھا یا مجازی؟

مولانا سراج اکرم قاسمی
(نائب مدیر، ومدیر التعلیم مدرسہ الہدایہ، کنشاسا، کانگو، افریقہ)

(واٹس ایپ کےایک ممتاز حلقے میں کسی صاحب نے یہ سوال کیا:کون کون سے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے خدائی کے دعوے کیے؟ اس کا جواب میرےایک فاضل دوست نے یہ دیا: نمرودبن کنعان،بخت نصر ـ مزید فرمایا کہ قرآن نے صرف دوایسے بادشاہوں کا ذکر کیاہے جنھوں نے الوہیت کا دعوی کیا ہے ـ اس پر بندے نے ان سے دوسوالات کیے:
(1) بخت نصر کی الوہیت کا دعوی قرآن کریم کی کس آیت سے ثابت ہے؟
(2) فرعون نے بھی توأَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ کادعوی کیاتھا؟
ان کے جوابات “انھوں”نے یہ دیے کہ “میں آئندہ فرصت سے ایک تفصیلی علمی مضمون تحریر کروں گا جس میں فرعون کے دعوائے الوہیت وربوبیت کی حقیقت واضح کروں گا، اور بخت نصر کے دعوی کی قرآنی دلیل بھی پیش کروں گا “ـ پھر” محترم” کا ایک تفصیلی مضمون فرعون کا دعوائے الوہیت کے عنوان سے شائع ہوا؛ لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس مضمون سے مجھے اپنے سوالات کے جوابات نہیں مل سکے؛ کیوں کہ بندے کے علم و مطالعے کے مطابق پورے مضمون میں کوئی ایسی آیت؛ بلکہ روایت بھی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ”بخت نصر”نے خدائی کا دعوی کیا تھا،اور رہی بات فرعون کے دعوائے الوہیت کی، تو موصوف نے اس کی حقیقت کو جمہور مفسرین کی راہ سے ہٹ کر واضح کیا ہے ـ
پیش نظر تحریر میں بندے نے اس حوالے سے اپنا معروضی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے)

فرعون کے دعوائے الوہیت کی حقیقت و نوعیت:
جمہور مفسرین نے «مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرِي» [القصص: 38] اور «أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ» [النازعات: 24] میں فرعون کے استعمال کردہ الفاظ “الہ اور رب”کو ان کے حقیقی معنی(معبود،خالق) میں رکھا ہے،انھیں سیاسی یامجازی معنی پہنانا، ان سے وائسرائے،فرماں روا، حکمراں اور مطاع مراد لینا یا عربی میں یہ کہنا کہ”هو يريد أنه المشرع الأعلي، وأنه وحده الذي يطاع وأن أوامره فوق كل أمر ” یہ سب عہد جدید کی ایجاد یا کم از کم جمہور مفسرین کی آرا کے خلاف ہے۔
وجہ یہ ہے کہ کسی شخص کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے وہ معانی مراد لئے جائیں گے جو اس شخص کے حالات و واقعات، افعال وکرداراور گردو پیش سے مناسبت رکھتے ہوں ـ فرعون کا ظلم و جبر اس کی تمردو سرکشی اور انانیت وتعلی عالم آشکارا ہے، خود قرآن اس کے بارے میں بتاکید گویا ہے «إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ …..إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ»[ القصص: 4] “واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی اختیار کر رکھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو فساد پھیلایا کرتے ہیں”، اور«إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيًا مِّنَ ٱلْمُسْرِفِينَ» [ الدخان: 44] “حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا سرکش،حد سے گزرے ہوے لوگوں میں تھا” ـــ ایسے میں اگر اس کی کبرو نخوت کو دیکھتے ہوئے رب اور الہ کے حقیقی معنی خالق اور معبود مراد لیے جائیں تو کیا اشکال رہ جاتا ہے؟! کیوں کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ حقیقی رب یاالہ تھا یانہیں؟ وہ اپنے آپ کو حقیقی رب اور الہ سمجھتا تھایا نہیں؟ بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اپنے لئے حقیقی الوہیت وربوبیت کا دعوی کیا تھا یانہیں؟ بلاشبہ قرآن کریم کو جوشخص بھی خالی الذہن ہوکر پڑھے گا یا سنے گا یقینا وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ واقعتاً اس بدبخت نے- خواہ مشرک رہاہو یا دہریہ- اپنے لیے حقیقی الوہیت وربوبیت کا دعوی کیا تھا،خواہ اس کی بنیاد اس کی جہالت ونادانی ،ضدہٹ دھرمی ذہنی الجھاواور حواس باختگی ہو یا تمردو سرکشی۔
دوسری بات یہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ فرعون نے جہاں کہیں بھی اپنے لئے الوہیت وربوبیت کوثابت کیا ہے وہ کوئی جملہ مستانفہ نہیں ہے؛ بلکہ حضرت موسی علیہ السلام کے جواب میں ہے، اور یہ بات طے ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام جس رب اورالہ کا تعارف کرارہے ہیں،جس کی عبادت کی اسے دعوت دے رہے ہیں وہ حقیقی ہے ،فرعون اسی حقیقی رب اور الہ کا انکار کرکے اسے اپنے لیے ثابت کرنا چاہتا ہے ـ
تیسری بات ذہن میں یہ بٹھائیے کہ قرآن کریم نے فرعون کے ان دعووں کو مدح وتوصیف اور تحسین وصدآفریں کےلیے ذکر نہیں کیا ہے؛ بلکہ اس کی مذمت وبرائی اور طغیان وسرکشی کے اظہار کےلیے بیان کیا ہے،اگرآپ “ربكم الأعلي اور الہ “سے مراد سب سے بڑا فرماں روا وغیرہ لیتے ہیں، تو پھر فرعون کی شناعت وقباحت کہاں ظاہر ہوگی؟وہ تو واقعی اپنے ملک؛ بلکہ اپنے عہد کا سب سے بڑا حاکم مطاع اور مطلق العنان بادشاہ تھاـ
چوتھی بات یہ یاد رہے کہ فرعون خود عابد تھا یا نہیں؟اس سلسلے میں روایات اور حضرات مفسرین کی آرا میں اختلاف ہے،البتہ اس کی معبودیت پر تقریبا تمام روایات متفق ہیں ـ اس نے اپنی قوم کی پوجا کےلیے چند چھوٹے چھوٹے معبود متعین کر رکھے تھے، جن کے بارے میں اپنی قوم سے یہ کہا کرتا تھا کہ یہ تمہارے رب ہیں اور میں ان کا اور تمہارا بھی رب ہوں ،انھی کے بارے میں اس کی قوم نےکہا ہے:« وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ »[الأعراف:127] کہ “وہ(حضرت موسی علیہ السلام ) آپ کو اور آپ کے تجویز کئے ہوےمعبودوں کو ترک کیے رہیں”(بیان القرآن) ظاہر ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے رب ،الہ یا صنم سیاسی معنی میں نہیں تھے؛ بلکہ مذہبی اور شرعی معنی میں تھے، لہذا بڑا رب اور الہ یعنی فرعون بھی سیاسی معنی میں نہیں ہوگا؛ بلکہ شرعی اور مذہبی معنی میں ہوگا ـ
اس پر بعض حضرات کا یہ اعتراض کہ اگرفرعون حقیقی الوہیت وربوبیت کا دعوی کرتاتو کوئی اس کی تصدیق نہیں کرتا اور ایسا دعوی تو کوئی پاگل ہی کر سکتا ہے. (تفسیر کبیر) یہ اور اس جیسے دیگر اعتراضات عقلی طور پر تو پیدا ہوتے ہیں کہ جسے ایک مکھی مچھر کی تخلیق پر بھی قدرت نہیں اس نے ربوبیت کا دعوی کیسے کردیا اور لوگوں نے اس کی بات مان کیسے لی؟مگر خارجی اور واقعاتی دنیا اس سے الگ ہے ـ تاریخ میں ایسے پاگل بہت سے ہوئے ہیں؛بلکہ بعض آج بھی پائے جاتے ہیں اور ان کے مؤ یدین بھی موجود ہیں ـ ماضی کی داستان تو چھوڑ یے، ابھی حال ہی میں 8نومبر2018 کو کذاب احمد عیسی کا ایک تفصیلی ویڈیو نشر ہوا ہے جس میں بدبخت نبوت کے ساتھ ساتھ خدائی کا بھی دعوی کر رہا ہے اور بہت سے لوگ اس کی تائید بھی کر رہے ہیں ـ صنم خانۂ ہند کو دیکھیےکہ وہاں لوگ یہ ماننے کے باوجودکہ فلاں، فلاں کے بیٹے ہیں اور فلاں، فلاں کی بیٹی ہیں، کیسے انہیں معبود ومسجود اور خالق قرار دے رہے ہیں؟دجال کا دعوائے خدائی اور اس کے ماننے والوں کا علم تو ہمیں حدیث سے یقینی طور پر ہوتا ہے،جب کوئی کاناشخص خدائی کا دعوی کرسکتاہے اور اس کے ماننے والوں کا تانتا لگ سکتا ہے، تو ایک صحیح سالم انسان اگر یہ دعوی کرے اور اس کے متبعین ومؤ يدين پیدا ہوجائیں تو کیا بعید ہے، جب کہ اس کے بارے میں خود قرآن کہتاہے: «فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ»[الزخرف: 54] “فرعون نے اپنی قوم کو بےوقوف بنایا اور انہوں نے اس کا کہنا مان لیا” ،اور مفسرین یہ اعتراف کرتے ہیں کہ”القوم كانوا في غاية الغباوة و الجهل وإفراط العماية والبلادة”[روح المعاني: 119/11] یعنی “قوم انتہائی کند ذہن،نادان،بےراہ رو اور کم عقل تھی “، یا “كان فيهم من ذوى العقول ……..(نفس المصدر)”ان میں بعض عقل مند تو تھے جوفرعون کی بکواس کو سمجھتے تھے؛ لیکن حرص وطمع یافرعون کی سطوت وجبروت اور ظلم و ستم کے خوف و ڈر کی وجہ سے وہ بھی نادانوں کی صف میں شامل تھے اوران میں ملعون کی مخالفت کی جرأ ت نہیں تھی ـ وكم رأينا عاقلاً وعالماً فاضلاً يوافق لذالك الظلمة الجبابرة، ويصدقهم فيما يقولون وإن كان مستحيلاً أو كفراًبالآخرة .(المصدر نفسه) “اور ہم نے بسا اوقات بہت سے عقلا اورارباب علم وفضل کو دیکھا ہےکہ وہ ظالم وجابر، صاحبان اقتدار کی موافقت اور ان کی باتوں کی تصدیق کر بیٹھتے ہیں اگرچہ وہ محال اور آخرت کے انکار پر مشتمل ہوں”۔

یہاں یہ پہلو بھی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے کہ قرآن مجیدکے الفاظ میں صرف کسی معنی کا احتمال کافی نہیں؛ بلکہ یہ دیکھنا پڑے گا کہ حضرات مفسرین نے یہ معنی مراد بھی لیے ہیں یانہیں؟اگر کسی مفسر نے وہ معنی مراد نہیں لیا ہے، تو ہم بھی نہیں لے سکتے، گو لفظ میں اس کا احتمال موجود ہو ،اور اگر مراد لیا ہے، تو پھر دیکھا جائے گا کہ سارے مفسرین نےیہ معنی مراد لیے ہیں یا ان میں اختلاف ہے ؟اگر سارے مفسرین نے ایک ہی معنی مراد لیے ہیں، تو پھر اس کی خلاف ورزی ہمارے لئے جائز نہ ہو گی،اور اختلاف کی صورت میں جمہور کے اقوال راجح ہوں گے،اسی کی پیروی ہمارے لیے اسلم اور احوط ہوگی ـ
ان اصولوں کی روشنی میں فرعون کے مقولے میں ذکر کردہ الفاظ رب اور الہ پر غور کیجیے تو واضح ہوگا کہ جمہور مفسرین انھیں حقیقی معنی میں رکھتے ہیں ،جب کہ مقتدر اعلی ،مدبر ومنتظم اور وائسرائے وفرماں روا کچھ ہی لوگ مراد لیتے ہیں ـ
معنئ ثانی کے سب سے بڑے داعی امام رازی رح خود یہ اعتراف کرتے ہیں ۔۔۔۔لا ماظنه الجمهور من إدعا ئه كونه خالقا للسماوات و الأرض(تفسیر کبیر )
امام صاحب کی بات سے اتنا تو واضح ہوگیا کہ (جمہور مفسرین کے نزدیک) یہاں رب اور الہ حقیقی معنی میں ہیں ـ رہے امام صاحب کے اعتراضات تو ان کی حقیقت اوپر واضح کردی گئی ہے کہ یہ محض عقلی اعتراضات ہیں، واقعاتی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں، کیوں کہ اب تک کی تاریخ رہی ہے کہ جوشخص بھی اپنےلیے الوہیت،نبوت،مسیحیت یا مہدویت کا مدعی ہواہے،وہ ان کے تمام لوازم وخواص اپنے لیے ثابت نہیں کرتا ہے؛بلکہ بزعم خویش ایک دو مجازی خواص ہی کی بناپر مطلق دعوی کر بیٹھتا ہے کہ وہ (معاذاللہ) خدا، نبی، مسیح یا مہدئ منتظر ہے ـ فرعون نے بھی یہی کیا کہ اپنی مجازی ملکیت کو حقیقی ملکیت اور ربوبیت کی دلیل سمجھ بیٹھا اور« مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرِي» اور«أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ»کا نعرۂ احمقانہ لگا دیا۔
شیطان بھی سمجھتا تھا کہ کم بخت فرعون نے حقیقی ربوبیت کادعوائے باطل کیا ہے، چنانچہ مذاق اڑانےیا اسے شرمندہ ولاجواب کرنے کےلیے “ابلیس مصر کے ایک حمام میں انسانی صورت میں نمودار ہوا، فرعون اسے نہیں پہچان سکا، اس پر ابلیس نےتعجب سے کہا کہ “آپ مجھے کیسے نہیں پہچان سکے ؟وأنت خلقتنى؟ جب کہ آپ ہی نے مجھے پیدا کیا ہے؟ألست القائل:أنا ربكم الأعلی کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ “میں تمہارا رب(خالق)اعلی ہوں؟

من هو فرعون؟ کے عنوان سے نیٹ پر ایک مضمون ہے جس میں أكفرالخلق بالله یعنی دنیا کے سب سے بدترین کافر سرکش فرعون کے مندرجۂ ذیل القاب ذکر کیے گئے ہیں: (١)الإله الطيب(٢)رب الأرضين(٣)رب السماء(٤)رب السماوات والأرض(٥)الحي الذي لايموت ٦)الخالق (٧)الباري(٨)الغني یہ سارے القاب بتاتے ہیں کہ بدبخت حقیقت میں الوہیت وربوبیت کا دعوی کرتا تھا ۔

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ ذکر کردہ سوال” کون کون سے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے خدائی کے دعوے کئے؟”کا صاف ستھرا سیدھا واضح اور صحیح جواب یہ ہوگا کہ قرآن کریم کی روشنی میں صرف دو ایسے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے خدائی کے دعوےکیے: (1)نمرودنے(2)فرعون نے ۔
بندےکےعلم کے مطابق بخت نصر کا دعوائے الوہیت نہ تو قرآن کریم کی کسی آیت سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی روایت سے اس کا پتہ چلتا ہے کہ اس نے خدائی کا دعوی کیا تھا ـ
واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب ـ
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker